نظم
دیا جیم
سنورتی شام اور بارش کا منظر
نکھرتی شام اور بارش کا منظر
ہمارے درد کو بہلا رہا ہے
ابھرتی شام اور بارش کا منظر
نئی صورت بنانے لگ گیا ہے
ٹھہرتی شام اور بارش کا منظر
بھلا کس کو سکوں دیتا ہے جاناں
اترتی شام اور بارش کا منظر
لگا ہے دل کو پھر مجروح کرنے
مکرتی شام اور بارش کا منظر
نجانے کس گلی میں لے چلا ہے
ابھرتی شام اور بارش کا منظر
دیا دل کا جلانے لگ گیا ہے
گزرتی شام اور بارش کا منظر

