نعت
نعت
کب روح کو تھا چین ترے نام سے پہلے
بوجھل تھے یہ دِن رین ترے نام سے پہلے
تھیں صبحیں اندھیروں میں تو راتیں بھی گھنیری
بے نور تھے دارین ترے نام سے پہلے
تم وجہ ہو تخلیق جہاں کی مرے آقا
بن پائے نہ کونین ترے نام سے پہلے
اک اسم محمد سے محمد سے سکوں ملتا ہے دل کو
ناپید تھے سکھ چین ترے نام سے پہلے
چھائی ہیں زمانے میں اخوت کی بہاریں
دشمن تھیں یہ طرفین ترے نام سے پہلے


