نظم ۔ ۔ ۔ کنیز بتول نجمہ
شاعرہ: کنیز بتول نجمہ
ساقی ہے آج رند کو آیات کی طلب
مردہ زمین کو جیسے ہو برسات کی طلب
ساقی تیری قسم نہیں کچھ اور مانگتی
دل کو امام۔ سے ہے ملاقات کی طلب
آدم صفی ہیں یا کہ نجی دیکھتی ہوں میں
یا مصطفیٰ کا عکس جلی دیکھتی ہوں میں
مسجد میں قادیان کی مہدی ہیں یا کہ پھر
مسند۔ پہ معرفت کی علی دیکھتی ہوں میں
توحید کبرہا صحیفہ سلام ہو
یکتا پرست دل کا وظیفہ سلام ہو
آنکھیں ترس گئیں تھیں تیری دید کے لئے
اے ارض پر خدا کا خلیفہ سلام ہو
اب لیجئے ناں ہاتھ میرا دست وقار میں
حسرت یہی ہے آقا دل بے قرار میں
کب اپنا ہاتھ دیں گے تیرے دست کریم میں
گزری ہیں میری نسلیں اسی انتظار میں
اے کبریا کے ہاتھ تیرا ہاتھ نور ہے
تیرا ہر ایک لفظ ہی جام طہور ہے
پکڑا ہے ہاتھ جب سے خدا ہم کلام ہے
یہ ہاتھ ہے تیرا یاکہ پھر جبل طور ہے
ظلمات میں چراغ ہدایت سلام ہو
تجھ پر درود۔ اور نہایت سلام ہو
نجمہ کو اتنا کہنا ہے خدمت میں آپ کی
اے رب ذوالجلال کی آیت سلام ہو


