//خواتین کے بارے میں تعلیمی مغالطے
taleem niswan

خواتین کے بارے میں تعلیمی مغالطے

تحریر ڈاکٹر عارفہ سیدہ

تعلیم کا پہلا اور مرکزی وظیفہ زندگی کا اجتماعی شعور پیدا کرنا ہے ۔ تعلیم کے حوالہ سے ہمیں زندگی کے متعلق جو کچھ اطلاع اور خبر ملتی ہے اسے مکمل ہونا چاہئے ۔ مکمل ہونے سے مراد یہ نہیں ہے کہ صرف ہر پہلو او ر ہر زاویئے کے متعلق جان لیا جائے ۔ بلکہ تعلیم تعصب سے بالکل پاک ہو۔ جب تعلیم میں صنف ، جغرافیہ اور زبان جیسے تعصبات دخل پا جائیں تو وہ تعلیم مکمل تعلیم نہیں رہتی ۔ ادھوری رہ جاتی ہے ۔ ادھورا علم مرد کی تربیت پوری طرح نہیں کر سکتا اور ادھوری تربیت کسی بھی مرد کو مکمل انسان نہیں بنا سکتی۔ نظریاتی طور پر جاننے اور سیکھنے کا سارا عمل اس بات پر دارومدار رکھتا ہے کہ ہر فرد کو اپنے منصب اور اپنے فرائض کا شعور ہو۔ اس طرح ہر فرد ، معاشرے کے لئے ایک صفاتی ، مفید اور ذہنی طور پر کشادہ وحدت کا کام دیتا ہے۔ جب تعلیم افراد کو متحرک کرنے کی بجائے جامد اور ان کا دائرہ کا ر بڑھانے کی بجائے محدود کر دیتی ہے ۔ اس وقت تمام وسائل ، محنت اور نظریات کا ر آمد اور مفید ہونے کی بجائے محدود کر دیتی ہے ۔ اس وقت تمام وسائل ، محنت اور نظریات کا رآمداور مفید ہونے کی بجائے غیر موثر اور بے معنی ہو کر رہ جاتے ہیں۔ اسی لئے تعلیم ایک اہم ذمہ داری ہے اور ایک حساس معاملہ ہے ۔

عورتوں کی تعلیم دنیا کے تمام معاشروں کے لئے ایک بنیادی اور حساس معاملہ رہا ہے۔ یہ ضرورت ہمیشہ محسوس کی گئی کہ عورتوں کو معاشرے کا فعال اور متحرک حصہ بنایا جائے ۔ تاکہ معاشی اور معاشرتی ترقی کے تمام عوامل اپنی قوت کے ساتھ تعمیر و تہذیبی پس منظر میں جاننے اوراپنے فکری ماحول کے حوالے سے اس مسئلہ کو حل کرنے کی کو شش کی جائے، اور آج تک ان کوششوں کو پرکھنے اور جانچنے کا سلسلہ جاری ہے ۔ ترقی یافتہ معاشروں نے منفی تعصب اور ناہمواریوں کو شعوری طور پر ختم کرنے کی کوشش کی ہے لیکن ابھی تک اس منزل کو نہیں پاسکےجس کا وعدہ تعلیم نے ہم سے کیا ہے ۔ ہمارے ملک میں بھی تعلیم کا عمومی اور عورتوں کی تعلیم کا خصوصی معاملہ کچھ ایسا ہی ہے۔ یہ احساس تو گہرا ہوتا جارہا ہے کہ معاشرے کے آدھے جیتے جاگتے حصہ کو بے خبر اور جاہل نہیں رکھا جا سکتا ۔ لیکن اس کے باوجود یہ صورت حال ابھی تک واضح نہیں ہوئی ہے کہ عورتوں کو معاشرے کا ایک فعال اور مساوی طور پر متحرک فرد بنانے کےلئے اسے کن خطوط پر تعلیم دی جائے ۔ معاشرے کی تعمیر اور ترقی میں عورتوں کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کا شعور بھی موجود ہے۔ لیکن اس کو عملی طور پر مفید ثابت کرنے کےلئے معاشرتی منشاء کی ضرورت ہے۔ معاشرہ فرد کو کس منصب پر دیکھنا چاہتا ہے اور اس سے کس طرح کے فرائض کی توقع کرتا ہے؟ یہ معروضی زاویۂ نظر ابھی تک تعلیم کے اصول اور حصول پر اثر انداز نہیں ہو سکا ۔

عورتوں کی تعلیم ، اس کے مناسبات اور متعلقات کا جائزہ لینے کے لئے اس ماحول پر ایک نظر ڈالنا ضروری ہو جاتا ہے کیونکہ وقت کے ساتھ ساتھ یہ ماحول فکر کا حصہ رہا ہے اور اسی سے معاشرتی منشاء کی ساخت و پرداخت ہوتی رہی ہے۔ یہ تصور تو ہمارے عام یقین کا حصہ ہے کہ عورتیں مردوں کے مقابلے میں کمزورسمجھی جاتی ہیں۔ اور اس لئے وہ مردوں کے مقابلے میں کم تر بھی ہیں۔ ان کی پرورش اور تربیت کی ذمہ داریاں انہیں ایثار اور قربانی ہی سکھاتی ہیں۔ اسی لئے عورت کا منصب گھر اور اس کے مناسبات سے متعین کر دیا گیا۔ اس کا فرض خدمت اور اطاعت ٹھہرا ۔ جبکہ مردوں کےلئے خدمت کروانا اور اطاعت گزار رکھنا مخصوص سمجھا جانے لگا۔ زندگی شراکت کا نام ہے۔ لیکن یہاں شراکت کی بجائے الگ الگ دائرہ کا رمیں مصروف رہنا زندگی سے تعبیر کر دیا گیا۔ ایک طرف نسوانیت آئیڈیل ٹھہرائی گئی لیکن دوسری طرف، معاشرے کی بہت سی سطحوں پر انسانیت کا حق بھی اسے نہیں  دیا گیا۔ وہ حق جو اسے مذہب اور اخلاق کے حوالے سے ، پیدائشی طور پر میسر ہے۔ محنت و مشقت کرنے والے طبقہ میں توعورت، زندگی کی مشقت میں برابر کی شریک رہی، لیکن متوسط طبقے میں عزت اور ساتھ کا یہ تصور ابھرا کہ عورتیں گھروں میں رہیں اور حصول معاش کی مصروفیت مردانگی کا جوہر سمجھی گئی۔ دنیا میں اس صنعتی اور کاروباری طرز زندگی کے اثرات انیسویں صدی سے ظاہر ہونے شروع ہوئے جبکہ ’’گھراور کاروبار کے درمیان فاصلہ بڑھا۔ زرعی معیشت میں فرائض اور مصروفیت کا ایسا فاصلہ نہیں تھا۔ اس لئے وہاں مرد اور عورت دونوں اپنی اپنی ذمہ داریاں نبھاتے چلے آرہے تھے۔ اور یہاں ’’گھر ‘‘ یا ’’باہر‘‘ کی کوئی ایسی تفریق بھی نہیں تھی۔ زندگی کی تیز رفتاری نے گھر میں رہنے والی عورت کو بھی روزگار کی ضرورتوں میں شامل کیا۔ انہوں نے اپنے گھروں میں رہ کر ایسے کام کرنے شروع کئے جن سے انہیں آمدنی ہو سکتی تھی او ریہ سلسلہ آج تک چلا آتا ہے۔ سلائی ، کڑھائی، بنائی ، بنائی آج تک و ہ ذریعہ روزگارہیں جنہیں عورتیں گھر اور بچوں کی مصروفیتوں کے ماسوا استعمال کرتی چلی آرہی ہیں ۔ عورت کی نسوانیت کے لئے یہ لازم ہو گیا کہ وہ گھر کی سہولتوں اور آرام میں جس طرح ہو سکے کوشاں رہے ۔ کیونکہ اس کا بنیادی فرض یہی ہے ۔ لیکن یہ تصور ہر عورت کا نہیں تھا۔ اس تصور کے تعین میں بھی طبقاتی شعورکی جھلک ملتی ہے ۔ اپنے ہاتھوں سے، اپنے خون پسینہ سے گھر کی حالت بہتر کرنے والی یہ عورت اچھی محنتی عورت تھی۔ لیکن ’’خاتون‘‘ اور ’’بیگم‘‘ تو ایک اور عورت تھی جو مہذب اور تعلیم یافتہ بھی تھی اور جو اپنے گھر میں ’’راج‘‘ کرتی تھی۔

تعلیم یافتہ متوسط گھرانوں میں ’’خاتون خانہ‘‘ گھر کے کام کاج کو ہاتھ نہیں لگاتیں۔ ان کے کام کرنے کو ملازم اور نوکر موجود ہیں ۔ تعلیم کا مطلب یہ ہو ا کہ اپنا کام اپنے ہاتھ سے نہ کیا جائے ، اور ساری صلاحتیں صرف دوسروں پر حکم چلانے میں صرف کر دی جائیں۔ اس صورت حال نے بعض ایسے تضادات کو جنم دیا جنہوں نے معاشرتی زندگی کی بے چینیوں میں اضافہ کیا۔ زندگی کے لئے سہولتوں اور آسائشوں کا جو معیار مقرر کیا گیا وہ متوسط آمدنی کے اختیار میں نہیں تھا اور دوسری طرف یہ تعلیم یافتہ ’’خاتون‘‘ آمدنی میں اضافہ کےلئے کوئی کام نہیں کر سکتی تھی۔ کیونکہ اس سے اس کے منصب اور گھر کی آن پر حرف آجاتا ۔ وہ تعلیم جو اس وقت انہیں میسر تھی وہ کسی صورت ان کے ذہن میں کشادگی اور نظر میں وسعت پیدا نہیں کر پاتی ، کہ تعلیم کا مقصد محدود ہونا نہیں بلکہ اپنے آپ کو زندگی کی ترقی کے عمل میں زیادہ سے زیادہ شریک کرنے کا نام ہے ۔ آخر پڑھی لکھی عورتیں اس سطح پر سوچنے سے کیوں قاصر رہیں کہ وہ بھی اپنی صلاحتیوں کو بروئے کار لا سکتی ہیں تاکہ معاشرے کے اضطراب اور دباؤ میں کمی ہو سکے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تعلیمی نصاب تو مردوں اور عورتوں کے لئے مشترک ہی رہے ، لیکن عورتوں کی فکری صلاحیتوں کی ضرورت کا احساس نہیں کیا گیا۔ یہ خیال آج بھی موجود ہے کہ فکر اور دانش عورت کو سجتی نہیں ۔ اس لئے اس بات کی کبھی توصیف و تعریف بھی نہیں کی گئی۔ کہ عورتوں کی فکری صلاحیتوں کو نکھرنے بلکہ پنپنے کا ہی موقع دیا جائے۔ آج بھی یہ تصور مٹا نہیں ہے کہ دانش عورتوں کی نسوانیت کی کشش کو ختم کر ڈالتی ہے ۔ گوکہ یہ بات واضح ہے کہ صلاحیتوں کے عطا کرنے میں قدرت نے کوئی تفریق نہیں برتی، یہ تو ماحول پر منحصر ہے کہ وہ فرد کو کس طرح پھلنے پھولنے کے مواقع  مہیا کرتا ہے ۔ تعلیم کے اس نمائشی حصول نے عورتوں کی فعالیت کو اور بھی محدود کیا ، اور انہیں ایسے سطحی تصورات پر یقین کرنے پر آمادہ کر لیا جن کی وجہ سے زندگی کی اصلی صورت حال کو دیکھنے اور سمجھنے کے باوجود انہیں یہ خیال رہا کہ وہ ان مسئلوں کے حل میں شریک نہیں ہو سکتیں ۔ حالانکہ تعلیم اگر ان معاشرتی  روایتوں میں دھندلی نہ کر دی گئی ہوتی تو وہ انہیں زندگی کا خاموش کردار بننے کی بجائے کشمکش اور جدو جہد سے براہ راست مقابلہ کرنے کےلئے تیار کرسکتی تھی۔

اس پس منظرمیں ہمارے ملک میں تعلیم اور عورتوں کےلئے اس کی افادیت کا سوال پیدا ہوتا ہے ۔ تعلیم کو وقت اور زندگی کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کےلئے سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ نصاب تعلیم پر پوری توجہ دی جائے۔اس بات پر توجہ دی جائے کہ یہ نصاب عورت اور مرد کے سوال سے قطع نظر ایک فرد کو زندگی کے تقاضوں کو پورا کرنے کےلئے کس حد تک تیار کرتا ہے ، یہی وہ نقطہ ہے جہاں تعلیم کے معروضی خد و خال واضح کئے جاسکتے ہیں تاکہ عورتوں کےلئے اپنا راستہ متعین کرنے اور معاشی عمل میں اپنی جگہ تلاش کرنے کا مسئلہ آسان ہوسکے۔ یہ مشورہ بات کو ٹالنے یا مسئلہ کی شدت کی نوعیت سے نظریں چرانے کے لئے نہیں ہے ۔ اس کی وجہ وہ سنجیدہ خیا ل ہے کہ تعلیم اگر افادیت نہیں رکھتی ، تو وہ ہمارے وسائل پر ایک بوجھ ہے، جو  زندگی کے آتش دان پر نمائشی پیکر سجا رہی ہے ۔ پانی اب سر سے گزر چکا ہے ، اب زندگی کے مسئلوں کا مداوا کرنا ہے ، اب ہم اس عیاشی کے متحمل نہیں ہو سکتے ۔ نصاب تعلیم کی  پہلی ضرورت  یہ ہے کہ وہ عصری تقاضوں سے باخبر ہو۔ پامال اور فرسودہ نصاب، جو ہماری ضرورتوں کے تناظر میں اندھے اور گونگے ہوں ، ہماری تعمیر اور ترقی میں مدد گارنہیں ہو سکتے ۔ تکلیف دہ صورت حال یہ ہے کہ تعلیم جس کا بنیادی وظیفہ تعصبات اورتفریقات کو مٹانا ہے ۔ وہ تعصب اور تفریق کو بڑھانے کا آلہ کار ہوتی جارہی ہے ۔ حوالے کے لئے سکولوں میں پڑھایا  جانے والا اسلامیات کا نصاب  دیکھا جا سکتا ہے ۔ تعلیمی اداروں میں سرکاری اور نجی اداروں کا جو فرق ہے وہ کسی سے چھپا ہوانہیں ہے۔ ’’خاتون‘‘اور ’’بیگم‘‘ بنانے والے نجی تعلیمی اداروں میں ’’اچھی اور محنت کرنےو الی عورتیں‘‘ تعلیم و تربیت حاصل کر رہی ہیں ۔ یہ تفریق صرف طبقاتی نہیں ہے بلکہ زندگی کے بنیادی رویوں کا فرق ہے ۔ ہم اپنی آبادی کو خود بے خبر رکھے ہوئے ہیں۔ یہ دو طبقے جو تعلیم کے حوالے سے شاید لاشعوری طور پراپنے لئے الگ الگ راستہ اختیار کر رہے ہیں اور معاشرے کو کمزور کرنے میں مدد گار ہیں ۔ ایک طبقہ تعلیم حاصل کرنے کے بعد خود کو اس طرح ارفع و اعلیٰ سمجھنے لگتا ہے کہ زندگی کے مسئلوں کو حل کرنا ان کے خیال میں ان کی ذمہ داری نہیں ہے ۔ دوسرا و ہ طبقہ جو ایک احساس محرومی کے ساتھ اس تعلیم کو قبول کرتا ہے ۔ جس کے علاوہ کوئی اور وسیلہ اسے میسر نہیں ہوتا۔ خود کو زندگی کے مسئلوں  کے سامنے بے بس پاتا ہے ۔ نتیجہ یہ کہ دونوں سطحوں پر تعلیم افراد کو موثر معاشرتی وحدت بنانے میں ناکام ہو رہی ہے۔

جب تعلیم زندگی کی ضرورتوں سے نبرد آزما ہونے کےکام نہ آسکے ۔ تو پھر یہ بات اپنی اہمیت کھو دیتی ہے کہ جو کچھ سکھایا جارہا ہے ، وہ کیا ہے؟ کیا ہماری زندگی سے مطابقت رکھتا ہے ۔ یا مفروضوں اور نظریوں کو ذہن نشین کرلینا ہی تعلیم یافتہ ہونے کو کافی ہے ۔ جب تک تعلیم کو زندگی کی ضرورت نہ سمجھا جائےا ور اس رعایت سےنصاب مرتب نہ کئے جائیں اس وقت تک یہ توقع صرف دل بہلاوا ہے کہ یہ تعلیم ہمارے لئےترقی اور استحکام کی راہ متعین کرے گی۔ اور افراد کو اس طرح باشعور اور ذی ہوش بنا سکے گی ۔ کہ وہ زندگی کے مسئلوں اور ان کے حل  کو تعلیم سے مطابقت دےسکیں گے اور ان دونوں کے درمیان کے رشتہ اور تعلق کو محسوس کرکے خود کو تیار کر سکیں گے ۔ رویوں کی اس سطحیت  نے تعلیم کو عمومی سطح پر ہماری آبادی کا مقدر نہیںبننے دیا ۔ عورتوں میں 26فیصد خواندہ شمار کی جاتی ہیں ۔ اس کا معیار یہ ہے کہ وہ عورت جو قرآن پاک صرف حروف پہچان کر پڑھ  سکتی ہے وہ خواندہ ہے ۔لیکن اردو یا علاقائی زبان کا ایک جملہ بھی نہیں پڑھ سکتی ۔ باقی بنیادی لکھائی اور حساب سے واقفیت کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ تعلیم کے مسلمہ معیار یعنی پڑھنے لکھنے اور بنیادی حساب جاننے کی میزان پر شاید صرف 6فیصد خواتین شمار کی جاسکیں ۔ یہ حتمی اعداد و شمار نہیں ہیں ۔ یہ ایک محتاط اندازہ ہے جو صورت حال کے غیر جذباتی تجزیہ کے طور پر سامنے آیا ہے ۔ جس ملک کا مسئلہ افراط زر، مہنگائی اور آبادی کے بے اختیار اضافہ کی تہہ داری سے ہر آنے والے دن کے ساتھ سنگین ہوتا جاتا ہو، وہاں تعلیم کے  معاملے میں یہ صورت حال روشنی کی کرن بھی نہیں دکھاتی۔

آبادی کے اس تشویشناک اضافہ پر قابو پانے کےلئے عورت کے شعور کو بیدار کرنا اور اس کو اپنی  معاشی اور معاشرتی ضرورتوں سے آگاہ کرنا صرف تعلیم ہی کے ذریعہ ممکن ہے ۔ جب تک تعلیم اسے یہ اطلاع اور اعتماد مہیا نہ کرے کہ معاشرے میں اس کے منصب کا اعتبار اس کے متحرک ، فعال ، حساس اور باخبر فرد ہونے پر ہے ۔ اس وقت تک وہ اپنی شخصیت کو ان ہی روایتی تصورات کے حوالے سے پہچانتی رہے  گی جو معاشرتی منشاء میں حکم کا درجہ پا چکے ہیں ۔عورتوں کو ان تصورات پر پورا اترنے کےلئے تمام تر کوشش اور توجہ زندگی بھر صرف کرنا پڑتی ہے ۔ تھوڑی دیر کو اگر خود کو یوں فریب دے لیا جائے کہ زندگی کے مسئلوں کو سلجھانے اور معاشرتی منشا ء میں صحت مند تبدیلی لانے کےلئے عورت کی شرکت ہر گز ضروری نہیں ہے ۔ تو کیا آبادی کے اضافہ کے سوال پر بھی ہم یہ فرض کر سکتے ہیں کہ عورت کو وقت کی مناسبت اور حالات کی مطابقت سے تعلیم دئیے بغیر ہم افلاس ، مجبوری اور بیچارگی سے اپنے آپ کو اجتماعی طور پر محفوظ رکھ سکیں گے؟ جسے حالات کی نوعیت کی خبر نہیں ہوگی، وہ تبدیلی کے عمل میں کیونکر شریک ہو سکتی ہے؟ یہ فلسفیانہ موشگافیاں نہیں ہیں اپنی زندگی کو پہچاننے اور اسے باشعور فرد کی طرح گزارنے کا سوال ہے ۔ ترقی کے راستہ کا کلیدی لفظ احتیاط ہے۔ اس لئے کہ ترقی کی رفتار کا ساتھ احتیاط کے سوا کسی اور طرح نہیں دیا جاسکتاہے ۔ باموقعہ اور بر محل تعلیم احتیاط کے اس رویئے کی نشو ونما کرتی ہے ۔ ہمارے تعلیمی نظام میں انتخاب  او رقبول کے ایسے پیمانے مدنظر نہیں ہیں جو وسائل اور وقت دونوں کو احتیاط سے استعمال کر سکیں ۔ وہ خوش نصیب عورتیں جو اعلیٰ تعلیم حاصل کرلیتی ہیں انہیں اپنے علم اور ہنر کو برتنے کا موقع نہیں ملتا ۔ اس لئے کہ تعلیم نے انہیں خاص طور پر زندگی کےلئے تیار نہیں کیا ۔ وہ اس بات سے باخبر نہیں ہوتیں کہ ان کی تعلیم ان کو ملازمت کے علاوہ بھی کچھ اور مہیا کر سکتی ہے ۔ بات پھر وہیں جاپہنچتی ہے کہ جو کچھ انہوں نے سیکھا وہ زندگی سے براہ راست تعلق نہیں رکھتا اورتعلیم نے انہیں اس  صف میں لا کھڑا کیا۔ جہاں زندگی کو اپنی سمجھ اور اپنی ضرورت سے گزارنا ان کا منصب نہیں بن سکا۔ یہ اختیار اور انتخاب اب بھی کسی اور کا رہا۔ معاشرے میں زمہ داری کا احساس ، فرد کے وجود کی افادیت کو قائم رکھتا ہے ۔ اگر ہمارے تمام نصاب بھی  اس شعور کو پیدا نہ کر سکیں تو پھر تعلیم کا کیا فائدہ متعین کیاجاسکتا ہے ؟

اعلیٰ تعلیم کے تجربے نے عورتوں کے لئے ملازمت کے دروازے کھولے اور عورتوں کا آمدنی کےلئے کام کرنا معاشرے میں کسی حد تک قبولیت کا درجہ پا سکا۔ لیکن ابھی بھی ملازمت پیشہ خواتین کو وہ مقام میسر نہیں ، جو امیر گھرانوں کی بے فکر خواتین کا حصہ ہے ۔ ماضی  قریب تک عورتوں کے لئے قابل قبول معزز ، پیشے استاد اور ڈاکٹر بن جانے کے تھے ۔ اب اعلی ٰ سرکاری ملازمتوں میں ان کا داخلہ ممکن ہے ۔ لیکن کلیدی آسامیوں پر تقرری ابھی بھی ان کا حق نہیں ہے ۔ معاشرتی منشاء ابھی بھی ان خواتین کو فوقیت دیتی ہے جو تعلیم حاصل کر لیں مگر معاشی مصروفیت  میں شامل نہ ہوں ۔ اس کی وجہ وہ طبقاتی تفریق ہے جہاں تعلیم کو صرف ’’ضرورت‘‘ پوراکرنے کےلئے استعمال کیا جا سکتا ہے اور تعلیم خود ایک ضرورت نہیں ہے ۔ معزز ہونے کے لئے جو فہرست معاشرے نے ترتیب دی ہے اب اس میں تعلیم بھی شامل ہے ۔ لیکن اس تعلیم کا فکر و عمل کےلئے شمار کیا جانا ابھی بھی اس فہرست سے خارج ہے ۔ گو کہ تعلیمی اعدادو شمار اس بات کے گواہ ہیں کہ عورتیں قابلیت ، لیاقت  اور محنت میں مردوں سے آگے ہیں۔

یہ تقابلی جائزہ اس بات کا ثبوت ہےکہ اگر تعلیم کو زندگی کے عملی پہلو سے زیادہ سے زیادہ مطابق کرنے کی کوشش کیجائے تو عورتیں زیادہ فعال ، متحرک اور فیصلہ کن کردار ادا کر سکتی ہیں ۔ ایک محدود پیمانے پر یہ بات سامنے آئی ہےکہ مقابلے کی سخت گوشی سے عورتوں کی صلاحتیں کم نہیں ہوتیں ۔ تو یقیناً انہیں ایسی تعلیم بھی دی جا سکتی ہے جہاں ہمارے وسائل اور وقت کا ضیاع نہ ہو، فرد کی صلاحیتوں کا اعتراف ، اور ان کو اجتماعی زندگی میں شامل کرنےکا خیال ہمارے مذہب اور اخلاق کا حصہ ہے ۔ متصادم قوتیں تو وہ ہیں جو روایتی طور پر معاشرتی منشا کی تشکیل کرتی چلی آرہی ہیں۔ معاشرے میں مذہبی تصورات سے زیادہ قوی نظر آتے ہیں ۔ تعلیم کی بدولت ہی یہ صورت حال شفاف ہو سکتی ہے کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط ؟ اگر ہم عورتیں حقیقتوں کی ترجمان تعلیم حاصل نہیں کر سکیں گی۔ تو مفروضات پر مبنی روایات ہمارا راستہ روکتی رہیں گی۔ عورتیں زندگی  کی برابر کی شریک ہیں جب اس زندگی کے متعلق علم میں بھی وہ اتنی ہی قوت سے شریک ہو ں گی تب ہم اپنی تقدیر لکھ سکیں گے۔

لیکن یہ ذرا پھر سے کہنے اور سننے کے لیے وقت انتظار تھوڑا کرتا ہے وه تو چلا جاتا ہے سرپٹ اب سوار گرے سنبھلے اس کی بلا سے ۔۔۔۔ندی کو اپنی تیزی پر غرور ہوتا ہے اور سمندر کو اپنی گہرائی پر ۔۔۔۔ اسی طرح مجھے بھی جب چھوٹے ابا جی نے میری نوجوانی کی کسی حرکت پر برا بھلا کہا تو میں بھڑک اٹھا کہ ان کو کیا پتہ اب زمانہ بدل چکا ہے اور دوستوں کے سامنے بچوں کو بُرا بھلا نہیں کہتے۔۔۔ چھوٹے اباجی نے اپنی شرمندگی چھپانے کو کہا یہ کی ہے تمھاری تربیت ۔۔۔۔۔ توپیچھے کھڑے ابا جی کی نو گز انا پھنکار کر اٹھی اور آنا فانا گھر میں دیوار اٹھا دی دیوار کے اس پار آپا کی سسکیاں گونجتی چارپائیاں اندر باہر کرتے نجانے کتنی راتیں انہوں نے بے دھیانے ابا جی کو آواز دی کہ ابا جی حقہ ادھر اندر رکھ دیا ہے اور اباجی جواب نہ دیتے لیکن برآمدے میں حقے کی مخصوص جگہ پر جا کر دیکھتے ضرور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔مجھے ابا جی نے باہر بجھوا دیا تو چھوٹے ابا جی کی اَنا  نے سر اٹھایا اور انہوں نے سولہ سال سات ماه کی مانو کو اپنے خالہ زاد کے گھر بیاه دیا ابا جی اٹھتے بیٹھتے تن فن کرنے لگے اور تب باقی سب کے ساتھ مانو کو بھی دفنا دیا۔۔۔۔ اس خالہ زاد کے ساتھ بھی جینا مرنا ختم کردیا اور کل جب میں برسوں بعد گھر لوٹا تو دیوار پر لگے کلر نے بتایا کہ یہ تو دیوار گریہ بن چکی تھی ادھر چھوٹے ابا جی کے آپا کے آنسو اور ادھر اماں اور ابا جی کے ۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن انا ہار نہیں مانتی تھی ۔۔۔آج اسی خالہ زاد کی وفات کا سن کر ابا جی نے سوٹی پکڑی اور ان کے گھر کی طرف چل دئیے بھرجائی کے سر پر ہاتھ بھی رکھا اور اس کا بیٹا جو غاصب لگتا تھا اسے بھی مل لئے اور مانو کے ساتھ بھی لگ کر بلک بلک کر روئے دونوں کے نجانے کس کس دکھ کے کتنے بین تھے کتنے سالوں کے روکے ہوئےآنسو چھلکے اور کسی کا نام لے کر اپنے اپنے دکھوں پر دونوں چچا بھتیجی خوب روئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بجلی آ چکی تھی میں اپنے ماضی کے سفر سے باہر آیا تو دیکھا ابا جی اپنی سوٹی پکڑ رہے ہیں پاؤں  دوباره نیچے اتارے اور “موت واقعی بڑی طاقتور ہے بیٹا غرور ،غصہ اور انا ہر چیز کو مٹی کے ساتھ مٹی کر دیتی ہےاُٹھ شام تو ہو چکی کہیں رات نہ ہو جائے۔۔۔انہوں نے صافے سے آنسو پونچھے اور دیوار گریہ بنی روکاوٹ  کوڈھانے چل پڑے۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ تعلیم کا معاملہ وقت کی رعایتوں کےپس منظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے ۔ا گر ہمیں اپنی بقاء عزیز ہے تو ایک لمحہ بھی ضائع  کئے  بغیر عورتوں کو ایسی تعلیم مہیا کرنا ہوگی جو انہیں فائدہ مند شہری بنا سکے تاکہ وہ معاشرتی بہتری کے ساتھ ساتھ معاشی  طورپر مدد گار ثابت ہو سکیں ۔ ہمارے نظام تعلیم کو ایک سنجیدہ تنظیم کی  ضرورت ہے ۔ ایسے مضامین ، جن کی تعلیم کےلئے مخصوص ادارے موجود ہیں ۔ انہیں عام نصابات میں شامل نہ کیا جائے تاکہ وقت اور وسائل ہمارے وقت کی طرح بیش  قیمت ہیں اور ہماری صورت حال میں ہم اس تن آسانی اور بے  فکری کے متحمل نہیں ہو سکے۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ بات غور کرنے کے قابل ہے کہ اس طرح نصابات زیادہ منظم ہو جائیں گے اور بے کار کی تکرار سے بچ سکیں گے۔ یہ تکرار تعلیم کے مقاصد کو  کم اعتبار کرتی ہے اور مجموعی طور پر قومی تقاضوں کی مطابقت سے اس تعلیم کا بھر پور فائدہ نہیں اٹھایا  جاسکتا ۔ عورتوں کےلئے بے مقصد ،بے نشان او ربے منزل تعلیم ایک مجموعی نقصان ہے ۔ ہمیں تعصب سے بلند ہو کر معاشرے کے ہر فرد کی طرح عورت کو بھی زندگی کا شعور اوراس کی قدر و قیمت سے باخبر کرنا ہے ۔