حسنِ سلوک مثالی شوہر اور باپ کی پہچان
نبی کریم ﷺ ہر زمانے والوں کیلئے امام و اسوہ ہیں۔ آپ ﷺ ہر صاحب شرف و فضل اور عقل مند کیلئے اسوہ ہیں۔ قیامت تک ہر جود و سخا اور عزت کا سرچشمہ آپؐ ہی ہیں۔وہ ان تمام مراحل سے گزرے جن سے دوسرے لوگ گزرتے ہیں اور زندگی کے وہ سارے طور طریقے اختیار کئے جو لوگوں کو پیش آ تے ہیں۔چنانچہ آپ ﷺ نے شادی کی اور آپ کی اولاد بھی ہوئی۔ آپ ﷺ نے اپنی بیویوں کے ساتھ نہایت اچھا برتائو کیا۔ ان کی عزت و تکریم کا خیال رکھا۔ عدل و انصاف کے تقاضے پورے کئے اور نہایت حسن سلوک میں ان کی سرپرستی کی تاکہ آپ جہان والوں کے لئے اسوہ و نمونہ اور تمام لوگوں کے لئے پیشوا بنیں۔
آپ ﷺ نہایت نیک و پارسا اور صلہ رحمی کرنے والے تھے۔ آپ ﷺ کی شادی میں کئی عظیم حکمتیں اور جلیل القدر اسرار و رموز تھے تاکہ آپ ﷺ کی سیرت سوال کرنے والوں کے لئے نشانی اور اس راہ کے مسافروں کے لئے واضح راستہ ہو۔ آپ ﷺ کی ازدواجی زندگی باری تعالیٰ کے اس حکم کی تعمیل کا عملی نمونہ تھی۔’’ اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہارے لئے تمہاری ہی جنس سے بیویاں پیدا کیں تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو، اور اس نے تمہارے درمیان محبت اور مہربانی پیدا کر دی‘‘( الروم 21:30 )۔
آپﷺ نے پہلی شادی سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے پچیس سال کی عمر میں کی جبکہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی عمر چالیس برس تھیں، وہ بیوہ اور تجارت پیشہ تھیں۔نہایت عقل مند، ذہین و فطین، راست باز، مجاہدہ، صبرو شکر کرنے والی، وفادار اور نہایت اچھی مشیر تھیں۔جب سیدہ خدیجہ ﷺ وفات پا گئیں تو آپ شدید غمزدہ رہے یہاں تک کہ ان کے سال وفات کو عام الحزن کہا جانے لگا۔ پھر آپ ﷺ نے سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی۔ وہ بھی شروع ہی میں اسلام لائی تھیں ۔ ان کے بعد آپ ﷺ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی جو نوجوان اور نہایت ذہین و فطین تھیں۔ بعد ازاں وہ امت کی فقیہہ اور مفتیہ بنیں۔ آپ ﷺ نے ان کے ساتھ نہایت خوبصورت زندگی گزاری۔ بے شمار ذمہ داریوں اور مصروفیات کے باوجود آپﷺ نے سب بیویوں کو ان کے حقوق دیئے اور اپنی مصروفیات کو ان کے حقوق کے درمیان حائل نہ ہونے دیا، آپ ﷺ تاریخ انسانی کے سب سے افضل شوہر ہیں۔
آپ ﷺ ہنستے مسکراتے اپنی بیویوں کے پاس آتے تھے۔ گھر آپ کی آمد سے فرحت و مسرت اور خوشی سے بھر جاتا۔ آپ داخل ہوتے وقت انہیں سلام کرتے اور ان کے لئے خیر اور بھلائی کی دعا کرتے ۔آپﷺ ان کے ساتھ نرمی اور مسکراہٹ سے بات کرتے اور انہیں دلی خوشی اور سرور پہنچاتے۔ان کی ضروریات اور شکوے سنتے اور حلم و برد باری سے کام لیتے۔ پوری توجہ سے ان کی بات سنتے، ان کے ساتھ تبادلہ خیال کرتے اور نہایت نصیحت آموز قصے، حکمت و فوائد سے بھرپور باتیں اور خوبصورت واقعات بھی سنتے سناتے۔
اولاد کی بات کی جائے تو اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو بیٹوں اور بیٹیوں سے نوازا اور سوائے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے سب آپﷺ کی زندگی میں ہی اس دنیا سے چلے گئے۔ زمانۂ جاہلیت کے اعتقادات اور بیٹیوں کے حوالے سے بت پرستوں کے نظریات کے باوجود آپؐ دنیا کے سب سے عزت والے، رحیم و شفیق والد تھے۔ زمانہ جاہلیت کے لوگ بیٹیوں کو زندہ درگور کر دیتے اور ان کی پیدائش پر صف ماتم بچھ جاتی جبکہ لڑکوں کی پیدائش پر خوشی کا اظہار کیا جاتا تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔
’’اور جب ان میں سے کسی کو بیٹی کی خوشخبری دی جائے تو اس کا چہرہ سیاہ پڑ جاتا ہے اور وہ غم و غصہ سے بھرا ہوتا ہے۔ وہ اس عار کے باعث لوگوں سے چھپتا پھرتا ہے جس کی اسے خوشخبری دی گئی ہے۔ سوچتا ہے کیا اپنی توہین کے باوجود اسے باقی رکھے یا اسے مٹی میں دبا دے؟ آگاہ رہو! بہت برا ہے جو وہ فیصلہ کرتے ہیں‘‘۔(النحل58:58:16)۔
آپﷺ نے سب سے پہلے بیٹیوں کو عزت دی۔ ان کی ولادت پر خوش ہوئے اور ان سے پیار محبت اور لطف و کرم سے پیش آئے۔ آپؐ اپنی بیٹیوں کے نہایت شفیق باپ تھے۔ اپنے خاندان کے نہایت نرم دل، محبت کرنے والے اور لطف و کرم کرنے والے والد تھے۔آپﷺ کے رحم دل باپ ہونے اور اچھی تربیت کرنے کی دلیل یہ ہے کہ آپؐ نے اپنے بچوں اور بچیوں کے نہایت خوبصورت نام رکھے، حالانکہ معاشرے میں عجیب و غریب ناموں کا رواج تھا۔ آپ ﷺ نے اپنے بچوں کے نام قاسم، عبداللہ، ابراہیم، زینب، رقیہ، ام کلثوم اور فاطمہ رکھے۔ اور جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں پہلے بچے کی ولادت ہوئی تو آپؐ نے ان کا نام حسنؓ رکھا اور دوسرے کا نام حسینؓ اور تیسرے کا نام محسنؓ رکھا۔ آپؐ نے ہمیشہ احسن اور نہایت خوبصورت نام کا انتخاب کیا۔
آپﷺ نے سب سے پہلے اس حکم کی تعمیل کی کہ اپنی بیٹیوں کی شادی کا اہتمام کیا۔ ان کے حق مہر نہایت مناسب اور آسانی سے ادا ہونے والے رکھے اور ان کیلئے ان کے معیار کے رشتے پسند کئے۔سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کی شادی ابوالعاص بن ربیع رضی اللہ عنہ سے کی جو ان کی خالہ ہالہ بنت خویلد کے بیٹے تھے۔ وہ مکہ کے چند نہایت عقلمند اور امانت دار لوگوں میں شمار ہوتے تھے۔ نبی اکرم ﷺ نے ان کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا:’’ اس نے مجھ سے بات کی تو سچ بولا اور مجھ سے وعدہ کیا تو اسے پورا کیا‘‘(صحیح البخاری، فرض الخمس، حدیث3110)
ابوالعاص نے غزوۂ بدر کے بعد نبی اکرم ﷺ سے وعدہ کیا تھا کہ وہ مکہ واپس جا کر آپ کی بیٹی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کو آپ کے پاس مدینہ بھیج دے گا تو انہوں نے اپنے وعدے کے مطابق ایسے ہی کیا۔ ان کے سچے دل سے قبول اسلام کا خوبصورت پہلو یہ ہے کہ جب وہ سفر شام سے واپس آئے تو انہوں نے سیدہ زینب رضی اللہ عنہا سے امان کی درخواست کی۔ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کی موجودگی میں انہیں امان دے دی اور آپ نے ان کی سفارش قبول فرمائی۔ آپﷺ نے ان کے اسلام قبول کرنے کے بعد پہلے نکاح ہی کی بنیاد پر سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کو ان کے ساتھ بھیج دیا۔ آپ ﷺ نے اپنی بیٹی کی خوشی اور دلداری کو ملحوظ رکھا۔
جہاں تک سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کا تعلق ہے تو آپ ﷺ نے ان کے لئے امیر المؤمنین، خلیفۂ راشد سخی و باحیا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا انتخاب کیا۔ جب وہ فوت ہو گئیں تو اپنی دوسری بیٹی سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا کا نکاح سید نا عثمان رضی اللہ عنہ سے کر دیا۔ سید نا عثمان رضی اللہ عنہ کو ذوالنورین اسی وجہ سے کہا جاتا ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی دو بیٹیوں سے شادی کی۔ تاریخ میں سید نا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے علاوہ دوسرا کوئی فرد ایسا نہیں جس نے یکے بعد دیگر کسی نبی کی دو بیٹیوں سے شادی کی ہو۔جہاں تک سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا تعلق ہے تو رسول اللہ ﷺ نے ان کی شادی امیر المومنین سید نا ابوالحسن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے کی۔ وہ نوجوانوں میں سب سے پہلے مسلمان ہوئے۔
نبی اکرم ﷺ کے ہاں انہیں وہی مرتبہ حاصل تھا جو سید نا ہارون علیہ السلام کو موسیٰ علیہ السلام کے ہاں تھا۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ کی سب سے پیاری بیٹی تھیں۔ آپﷺ کے وصال کے بعد یہ اکیلی ہی زندہ تھیں۔
آپ کو اس عظیم باپ اور کریم نبی ﷺ پر حیرت و تعجب کا حق حاصل ہے جنہوں نے اپنی بہت زیادہ مصروفیات، دعوت دین اور تبلیغ رسالت کی ذمہ داریوں کے باوجود اپنی بیٹیوں کا خیال رکھا۔ ان کی شادیوں کے بعد بھی ان سے ملنے جاتے، خاص طور پر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہما سے ملنے کا ضرور اہتمام کرتے۔ اگر وہ آپ ﷺ کی زیارت کے لئے نہ آتیں تو آپؐ چلے جاتے۔ یہ آنا جانا محض رسمی نہ تھا بلکہ نہایت محبت، چاہت اور عزت کی زیارت ہوتی۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا جب آتیں تو رسول اکرم ﷺ ان کی پیشانی پر بوسہ دیتے اور انہیں اپنی جگہ بٹھاتے۔
نبی اکرمﷺ جب ان کے ہاں تشریف لے جاتے تو وہ بھی آپؐ کی پیشانی پر بوسہ دیتیں، اپنی جگہ بٹھاتیں اور باپ بیٹی دونوں پوری توجہ سے ایک دوسرے سے باتیں کرتے۔ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے کسی کو نہیں دیکھا جو چال چلن، عادات و خصائل اور اٹھنے بیٹھنے میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ فاطمہ رضی اللہ عنہا بنت رسول ﷺ سے زیادہ مشابہ ہو۔ وہ جب رسول اللہ ﷺ کے پاس تشریف لاتیں تو آپؐ اٹھ کر ان کی طرف بڑھتے انہیں بوسہ دیتے اور انہیں اپنی جگہ پر بٹھاتے۔
اور جب آپؐ ان کے ہاں تشریف لے جاتے تو وہ اپنی جگہ سے اٹھتیں، آپؐ کا بوسہ لیتیں اور آپؐ کو اپنی جگہ پر بٹھاتیں۔(جامع الترمذی، ابواب المناقب، حدیث:3872)
ہم میں سے کون اپنی اولاد کے ساتھ اس طرح کرتا ہے حالانکہ رسول اللہ ﷺ کی نسبت ہماری مصروفیات اور کام کہیں تھوڑے ہیں۔کون سا لیڈر، قائد یا رئیس یہ جرأت کر سکتا ہے کہ لوگوں کو جمع کرے اور منبر پر کھڑے ہو کر اپنی بیٹی کے بارے میں کہے:
’’فاطمہ رضی اللہ عنہا تو میرا جگر گوشہ ہے۔ جو چیز اسے پریشان کرتی ہے، وہ مجھے بھی کرتی ہے اور جو اس کیلئے تکلیف دہ ہے، وہ میرے لئے بھی باعث اذیت ہے‘‘۔(صحیح البخاری، النکاح، حدیث5230)۔یہ کریم نبی اور عظیم باپ ﷺ کی طرف سے اپنی بیٹی کیلئے انتہائی شفقت و رحمت اور محبت کا اظہار ہے۔
اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو بطور شوہر اور باپ اپنے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ کی اطاعت اور فرمانبرداری کی توفیق عطا فرمائے۔
بشکریہ: دنیا نیوز
نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔


