ایک ہا ہمت ماں ایک باہمت عورت
تحریر: قرآةالعین منور
ماں ایک ایسی نعمت ہے جو اولاد کی تمام مشکلات اپنے دامن میں چپھا لیتی ہے، ماں کے وجود کی ٹھنڈی چھاوں اولاد کے وجود کو سیراب کر دیتی ہے اور اولاد اس میں چھاوں اور مسرت محسوس کرتی ہے۔ ماں کا نعم البدل کوئی نہیں۔ بہت سی مائیں ہیں جنہوں نے اس رشتے کو اور معتبر بنا دیا ہے، میری امی محکمہ تعلیم سے پینتیس سال کی ملازمت کے بعد ریٹائرڈ ہو چکی ہیں
زندگی کے پینتیس سال انہوں نے انتھک محنت ، مشقت اور کھٹن گزارئے۔ ان کے ہاتھوں پہ پڑی چھائیاں اور لکیریں ان کی ساری زندگی کی تکھن کو بیان کرتی ہیں۔ ایک نڈر باپ کی بیٹی، اپنے سب بھائی بہنوں سے بڑی آپ کے والد نے آپ کو اس وقت سکول میں بیھجا جب لڑکیوں کی تعلیم بلکل رواج نہیں تھی۔ آپ کے والد خود بھی پڑھے لکھے تھے۔ میری والدہ نے بی اے ، بی ایڈ ، سی ٹی اور پی ٹی سی کی تعلیم حاصل کی۔ آپ جب سکول میں تعینات ہوئیں تو اپنے والد کے لئے مضبوط کندھا ثابت ہوئیں ۔خود اعتمادی اور حوصلہ آپ کو اپنے والد سے ملا ۔ گھر کی ضروریات میں اپنے والد کا ساتھ دیا۔ سکول سے واپس آکر آپ اپنی والدہ کی مدد کرتیں۔ اس وقت گھر میں پانی کا انتظام نہ تھا اپ دور کنویں سے پانی لینے اپنی امی کے ساتھ جاتیں۔ آپ کے والد کی زمینیں ہیں جن میں کاشت کے لئے بھی آپ اپنی والدہ کے ساتھ ساتھ رہیں ۔
شادی کے بعد آپ پر مزید ذمہ داریوں کا انبار لگ گیا۔ میں نے جب سے آنکھ کھولی ہے اپنی ماں کو کبھی سست نہیں پایا۔ آپ ایک مشین کی طرح کام کرتیں کبھی میں نے آپ کو دن کی روشنی میں آرام کرتے نہیں دیکھا ۔فجر کی نماز سے پہلے اٹھ جاتیں سیاسی اثرو رسوخ کی وجہ سے آپ کا تبادلہ و تقرری دور دور سٹیشن پر ہوتی رہی آپ کی پینتیس سال کی سروس میں آپ نے تھکا دینے والے سفر کی جو مشکلات دیکھی ہیں وہ ناقابل بیان ہیں۔ آپ نے دور دراز علاقوں کے بے شمار ایسے سکولوں میں تدریس کے فرائض انجام دئیے جہاں لڑکیوں کی تعلیم عام نہیں تھی مگر آپ نے اس کے فروغ کے لئے کے لئے عملی اقدامات کئے والدین کو قائل کیا کہ بچیوں کا سکول میں داخلہ کروائیں ۔ سرکاری سکول میں فیسیں نہ ہونے کے برابر تھیں مگر جو والدین
فیس کی وجہ سے بچیوں کو سکول نہ بھیجتے تھے آپ خود ان طالبات کی فیس ادا کرتی رہیں۔ آپ کی بےشمار طالبات اس وقت مختلف عہدوں پہ فائز ہیں ۔ ایک دفعہ آپ بازار پیدل چل رہی تھیں کہ بہت سی گاڑیاں رک گئیں اور ایک خاتون منسٹر نے اپنی گاڑی سے اتر کر آپ کو سلام کیا اور بتایا کہ میں آپ کی شاگردہ ہوں اور آپ کو کہا کہ میں آپ کو چھوڑ کر آؤں مگر آپ نے معزرت کر لی ایسا آپ کے ساتھ بہت دفع ہوتا ہے کے آپ کے شاگرد آپ کو دیکھ کر رک جاتے ہیں ۔ میں نے بہت دفعہ دیکھا ہے بہت سی طالبات آپ کا ہاتھ چوم کر اپ سے ملتیں اور بر ملا اظہار کرتیں کہ آج ہم جو ہیں آپ کی وجہ سے ہیں۔ آپ نے جس جس سکول میں خدمات انجام دیں وہاں کی طالبات اور عملہ اپ کے حسن اخلاق ، ہمت اور محنت کا قائل ہے۔ بہت سے کٹھن مرحلوں کا دلیری سے مقابلہ کیا۔ آپ کا اردو اور انگریزی کا تلفظ بہت اچھا ہے آپ نویں اور دسویں جماعت کو انگلش کا مضمون پڑھایا کرتی تھیں اور مسلسل پانچ سال بورڈ کا نتیجہ سو فیصد آنے پر آپ کو ؤزیراعظم آزاد کشمیر کی طرف سے اعزاز سے بھی نوازا گیا۔ غریب گھر کی بچیوں کو کتابیں اور یونیفارم مہیا کرتیں۔ فلاح و بہبود کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصئہ لیتی ہیں۔بہت سے لوگوں کی اپ مدد کرتیں مگر ظاہر نہیں ہونے دیتیں۔ میری والدہ کبھی اپنی نیکی اور احسان کو نہ گنواتیں ہیں نہ کبھی جتلایا نہ کبھی تذکرہ کرتیں۔ پینتیس سال کی نوکری اور ہو بھی طویل مسافت یہ ایک عورت کے لئے کوئی معمولی بات نہیں۔ ایک تنگ نظر معاشرئے میں ایک باہمت عورت کا سکول تین گھنٹے دور کی مسافت پہ ہو اور روز تین گھنٹے آنا اور جانا سوچ کر بھی انسان تصور نہیں کر سکتا۔ کم و بیش سکول ایسے تھے جہاں آپ نے سروس کی جس میں ایک گھنٹے سے کم کا راستہ ہوا ہو۔آپ مضبوط چٹان کی طرح کھڑی رہیں اور پانی کی تیز لہروں سے ڈریں نہیں مگر کبھی تھکن کا اظہار نہ کرتیں۔ آپ کی جب انیسویں سکیل میں پروموشن ہوئی تو آپ کی سورس کے آخری چھ سال باقی تھے۔ آپ کی طالبہ کی بورڈ میں پوزیشن آئی تو ضلع بھر کے تعلیمی و سیاسی حلقوں میں آپ کو سراہا گیا۔ اپ اپنے عہدئے کے لئے ہمیشہ دعا کرتیں کہ خدا تعالی حلال رزق کمانے کی ہمت دئے۔ کبھی کسی طالبہ کے ساتھ زیادتی نہ ہونے دیتیں۔ طالبات کے ساتھ بہت پیار اور محبت کا رشتہ قائم رکھا پوا تھا
یہی وجہ ہے کہ آپ کی ریٹائرمنٹ پر ہر طالبہ اشک بار تھی۔ آزاد کشمیر بھر
کے محکمہ تعلیم کے جس جس بندے سے آپکا واسطہ رہا وہ آپ پر رشک کرتا ہے۔ عدل و انصاف کے ساتھ اپ نے اپنی ملازمت اور عہدئے کو خوش اسلوبی سے نبھایا۔
پانچ پچوں کی ماں جس کے لئے سب کچھ اس کی اولاد ہے۔ اپنی ذات پر کبھی پیسے خرچ نہ کرتیں کہ یہ میرئے بچوں کے کام آئیں گے ۔ ٹوٹی ہوئی جوتی کی بار بار مرمت کروا کر وہی پہن لیتیں اور کم و بیش ہی نئے کپڑئے سلواتیں۔ مگر اپنی اولاد کو ہر سہولت مہیا کی ۔سادہ زندگی پسند کی۔ میری والدہ کا قرآن کا تلفظ بھی بہت اچھا ہے ۔ملازمت کرنے کے باوجود آپ پورا دھیان رکھتیں کی بچے سکول جاتے اور پھر قرآن پڑھنے کے لئے میرئے بھائیوں کو بیجھتیں ، ہم دونوں بہنوں نے اپنی والدہ سے ہی قرآن پڑھا اور سیکھا ہے۔ ہم سب بہن بھائیوں کو سب سے اچھے سکولوں سے تعلیم دلوائی۔ ہمارا رحجان ہمیشہ کاپی پینسل کی طرف رکھا۔ کبھی اپنی اولاد کو وڈیو گیمرز یا مہنگے کھلونوں کا شوق پیدا نہیں ہونے دیا بلکہ وہ کھلونے اور انڈور گیمز لے کردیں جس سے تعلیم حاصل کرنے کا شوق مزید بڑھتا رہے۔ ہمیں مختلف ایسے کھیل سکھائے جس میں لکھنے کا شوق پیدا ہو اور جرنل نالج میں اضافہ ہو۔ سکریبل مونپلے لڈو یہ سب ہمارئے ساتھ کھلتیں۔ ہم نے کبھی کسی مہنگی چیز کے لیے ضد نہیں کی مگر امی پوری کوشش کرتیں میری اولاد کے پاس سب کچھ ہو۔ بچبن میں ہمارئے گھر میں ایک بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی ہوتا تھا جس مین انٹینا لگا ہوتا اور ہم بس پی ٹی وی دیکھا کرتے تھے۔ ہر قومی دن پر ہمیں اس کی اہمیت بتاتیں۔ آپکا تاریخ کا علم بہت اچھا ہے یہی وجہ ہے ہم بہن بھائی بھی تاریخ سیاست فن و ادب میں بہت دلچسپی رکھتے ہیں۔ ہم سب بہن بھائیوں کو تلاوت نظم تقاریر کے مقابلوں کی طرف بچپن سے ہی توجہ دلائی ہمیشہ کہتیں خود مضمون لکھو ۔ اسی وجہ سے میرئے ،میرئے بھائی اور بہن کے بہت سےانٹرنیشنل میگزین میں مضامین شائع ہو چکے ہیں۔بچبن سے ہم ہر کلاس میں پوزیشن لیتے اور جب بھی کسی مقابلے کو جیت کر انعام گھر لاتے تو امی کی خوشی دیکھنے والی ہوتی۔
آپ نے اولاد کے لئے اپنی ساری جوانی قربان کر دی اور بڑھاپے تک اولاد کی خوشی کے لئے لگی ہوئی ہیں ۔ملازمت سے والپس آکر کھانا پکاتیں گھر کے سب کام خود کرتیں۔بہت سے دکھ اور درد آپ ہمیں نہ بتاتیں بہت عرصہ ہم نے سفید پوشی میں گزرا کیا۔ کرائے کے مکانوں میں ہم نے اپنا بچپن گزرا مگر
امی کبھی احساس نہیں ہونے دیتیں۔ ہمارئے سامنے ہنستیں، میں نے بہت دفعہ چھوٹے ہوتے ہوئے اپ کو تہجد کے وقت بہت اونچی آواز میں روتے ہوئے بھی سنا۔ آپ کو اکثر جب بھی کوئی پریشانی ہوتی تو روزہ رکھ لیتیں۔ کبھی مایوسی کی بات نہیں کرنے دیتیں۔ آپ بچوں کی کوئی تکلیف برداشت نہیں کرتیں۔ آپ نے پانچوں بچوں کو اعلی تعلیم دلوائی۔ آپ کے دو بڑئے بیٹے جرمنی میں مقیم ہیں۔ پاکستان میں آپ کا ایک بیٹا ڈاکڑ ہے ایک بیٹی ایم ایس ان الیکٹریکل انجینئر ہےاور ایک بیٹی نے ایم فل کیا ہے۔ آپ ہمیشہ کہتی ہیں کہ میری اولاد کی ڈگریاں، مختلف ایوارڈز، نیشنل اور انٹرنیشل سرٹیفکیٹ یہ سب میرا اثاثہ ہیں۔ ہم سب بڑئے ہوگئے ہیں مگر ماں کی فکر ابھی بھی اپنی اولاد کے لئے ویسی ہی ہے وہ ظاہر کریں یا نہ کریں اب ہم سمجھ جاتے ہیں۔ زندگی کی ہر سہولت ہمارئے پاس موجود ہے، اپنا گھر ہے، ہرچیزخدا کے فضل سے موجود ہے یہ سب ہماری ماں کا ہم پہ احسان ہے۔ سر سے لے کر پاؤں تک ہر چیز کے لئے میں اپنی ماں کی مقروض ہوں۔ میری ماں شدید موسم کا خیال تک نہ کیا چلچلاتی دھوپ میں اپ کا دست شفقت شجر سایہ دار کی طرح اولاد کو سکون کا احساس دلاتا رہا
خود بے شک کانٹوں پر چلتی رہی ہیں ، مگر اولاد کو ہمیشہ پھولوں کے بستر پر سلاتی رہی ہیں اور دُنیا جہاں کے دکھوں کو اپنے آنچل میں سمیٹے لبوں پر مسکراہٹ سجائے رواں دواں رہتیں۔ اِس سے زیادہ محبت کرنے والی ہستی دُنیا میں پیدا نہیں ہوئی ،آندھی چلے یا طوفان آئے، اُس کی محبت میں کبھی کمی نہیں آئی۔ وہ نہ ہی کبھی احسان جتاتی ہیں اور نہ ہی اپنی محبتوں کا صلہ مانگتی ہیں بلکہ بے غرض ہو کر اپنی محبت اولاد پر نچھاورکرتی رہتی ہیں۔ اب وہ ملازمت سے ریٹائرڈ ہو کر گھر پہ ہوتی ہیں مگر پھر بھی اپنے آپ کو کام میں لگائے رکھتی ہیں۔ ۔ کبھی خود بیمار ہو جائیں تو بہت کم آرام کرتی ہیں۔ میں جب بھی ان کی پاس بیھٹتی ہوں وہ ہمیشہ ایک لمبی سانس لیتی ہیں اور خدا کا شکر ادا کرنے لگتی ہیں زندگی کے نشیب و فراز اور تھکن ان کی آنکھوں میں جھلکتی ہے مگر بیان نہیں کرتیں، ہزار بار پوچھنے پر بھی وہ اپنا درد یا تکلیف نہیں بیان کرتیں۔ اب جب میں اپنے پچپن ، سکول و کالج، یونیورسٹی کے دور سب پر غور کرتی ہوں تو اب جا کر اندازہ ہوتا ہے کہ امی نے اپنی اولاد کے لئے کیا کیا قربانیاں دی ہیں۔ بہت سے واقعات ہیں جو ایک مضمون میں بیان کرنا ممکن نہیں ہیں۔ خدا تعالی سے دعا ہے کہ وہ ہماری
والدہ کا سایہ ہم پہ سلامت رکھے انہیں صحت و سلامتی والی لمبی عمر عطا کرئے ان کی اطاعت و فرمانبرداری کی توفیق عطا فرمائے جو مشکلات اولاد کی خاطر آپ نے برداشت کیں ہیں اس صبر اور ہمت کا خدا تعالئ آپکو نیک صلہ دئے آمین
یہ تحریر مضمون نگار کے ذاتی خیالات اور رائے پر مبنی ہے، ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔


