بالوں کا گرنا، گنجاپن کیوں؟
تحریر: ڈاکٹر نسرین صدیق
بالوں کے گرنے یعنی گنجے پن کو انگریزی میں ایلوپیشیا (Alopecia)بھی کہتے ہیں۔ اس سے مراد ہے کہ سر سے یا جسم کے کسی دوسرے حصے سے بالوں کا گر جانا۔ عام طور پر اس کے زمرے میں سرکا گنجا پن آتا ہے۔ بال گرنے کا عمل جسم کے ایک چھوٹے سے حصے سے لے کرپورے جسم کے بالوں کے گرنے تک پھیلا ہو سکتا ہے لیکن اس طرح بالوں کے گرنے میں سوزش یا انفکشن وغیرہ کا زیادہ تر عمل دخل نہیں ہوا کرتا اور بعض لوگوں میں بالوں کے گرنے کا بہت بڑا نفسیاتی ردعمل دیکھنے کو ملتا ہے۔
گنجے پن کی سب سے عام شکایت مردانہ طرز سے بالوں کا گرنا یا مردوں کا گنجا پن کہلاتی ہے اور یہ عام طور پر موروثی ہوا کرتی ہے۔ اس میں بال اُگتے کم ہیں اور جھڑتے زیادہ ہیں۔ یہاں تک کہ سربالکل صاف چکنا نکل آتا ہے۔ یہ گنجے پن کی مستقل صورت ہوا کرتی ہے جس میں دوبارہ بال اُگنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ جسم پر بالوں کی تعداد کم ہونے لگتی ہے جس کی وجہ سے سر کے بال بھی کم ہو جاتے ہیں۔ بالوں کے گرنے کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں مثلاً موروثیت، ہار مونز کی تبدیلیاں، طبی وجوہات اور ادویات وغیرہ وغیرہ ۔ اس صورتحال سے عورتیں، مرد اور بچے بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔ بہت سے عوامل ایسے ہوتے ہیں جو بالوں کے گرنے کے عمل میں معاون ہو سکتے ہیں مثلاً فیملی ہسٹری، غذائی قلت، بڑھتی ہوئی عمر وغیرہ وغیرہ۔
اگر وجوہات پر آئیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ابھی اس بارے میں ہمارا علم ادھورا ہے لیکن جس قدر وجوہات کے بارے میں معلوم ہے اس کے مطابق بال گرنے کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں اور اس میں بالوں کے گرنے کی قسم یا طریقہ بھی اہم ہوتا ہے جیسا کہ مردوں کے گنج میں وراثت اور مردانہ سیکس ہارمون کو مورد الزام ٹھہرایا جاتا ہے۔ خواتین کے گنج کی طرز یا طریقہ کے بارے انفکشن بھی کہی جاتی ہے۔ انفکشن میں جلد کی انفکشن ہو سکتی ہے۔ سر اور جسم پر فنگس لگ سکتی ہے۔بہت سی ادویات کی وجہ سے بھی عارضی یا مستقل طور پر بالوں کا جھڑنا سامنے آتا ہے جن میں بلڈ پریشر، شوگر، دل کے امراض اور کولیسٹرول کو کنٹرول کرنے والی دوائیں شامل ہیں۔
اس کے علاوہ جو ادویات انسانی جسم کے ہارمونز پر اثر انداز ہوتی ہیں وہ بھی بالوں کے گرنے میں معاون ثابت ہوتی ہیں مثلاً مانع حمل گولیاں، کسی بیماری کے علاج میں ہارمونز کا استعمال، سٹرائیڈز اور کیل مہاسوں کے لئے جو ادویات استعمال کی جاتی ہیں ان کی وجہ سے بال بہت تیزی سے گر سکتے ہیں۔ کینسر کے علاج میں کیموتھراپی سے بھی بال جھڑ جاتے ہیں۔ اگر کسی وجہ سے بالوں پر کھنچائو پڑے مثلاً بالوں کو بعض خواتین بہت کھینچ کر چوٹی کرتی ہیں یا ہیر بینڈ وغیرہ سے کھنچائو پڑتا ہے یا کچھ لوگوں کو پنے بال کھینچنے کی عادت ہوتی ہے۔ ان تمام سے بال جھڑنے لگتے ہیں۔ بالوں میں بہت تیزی سے برش کرنا، سٹائل بنانے کیلئے ہیر ڈرائیر کا استعمال کرنا، بہت زور سے تیل مالش کرنا وغیرہ سے بھی بالوں کو شدید نقصان پہنچتا ہے اور اس کی بیرونی پرت جھڑ جاتی ہے۔ اس سے پہلے تو بال پتلے ہو جاتے ہیں اور پھر جھڑنے لگتے ہیں۔ بعض اوقات بچے کی ڈلیوری یا کسی میجر سرجری سے یا زہر خورانی سے اور شدید تفکر اور پریشانی سے بھی بال جھڑسکتے ہیں۔
بڑھتی عمر کے ساتھ ساتھ بالوں کی موٹائی کم ہوتی جاتی ہے اور یہ ایک قدرتی عمل ہے جس میں کسی بیماری یا دوا کا ہاتھ نہیں ہوتا ۔دراصل بڑھتی عمر کے ساتھ بالوں جڑوں کے غدود کی نشوونما رک جاتی ہے اور وہ ریسٹ یعنی سکون کی حالت میں آ جاتے ہیں جس کی وجہ سے بال چھوٹے اور تعداد میں کم ہونے لگتے ہیں۔ ماحولیاتی اثرات بھی بالوں پر بہت زیادہ اثر انداز ہوتے ہیں جن کی وجہ سے بال باریک ہو کر جھڑنے لگتے ہیں مثلاً ہوا اور پانی میں کثافتیں، زہریلے مرکبات کی موجودگی سے بھی بالوں کی خرابیاں بڑھنے لگتی ہیں۔ کسی انسان کے سر پر بالوں کی تعداد ایک سے ڈیڑھ لاکھ تک ہو سکتی ہے۔ ہر انسان کے سر سے روزانہ اوسطاً سو کے قریب بال جھڑ جاتے ہیں لیکن قدرتی طور پر جتنے بال روزانہ جھڑتے ہیں اتنے ہی نئے اگ آتے ہیں۔ بال جھڑنے کا احساس زیادہ تر برش کرنے یا نہانے کے دوران ہوتا ہے۔ شیمپو کے دوران زیادہ بال نکل جاتے ہیں۔
ایک تحقیق کے دوران یہ انکشاف ہوا ہے کہ چالیس برس کی عمر سے پہلے مردوں میں بالوں کا گر جانا اور سفید ہو جانا دراصل کسی بھی دوسرے مرض سے زیادہ ممکنہ دل کے عارضے کی نشاندہی کرتے ہیں۔بال جھڑنے کے عمل کو روکنے کیلئے یا اس سے بچائو کے لئے وجوہات کا پتہ چلانا ضروری ہے تاکہ مرض کی وجہ کے مطابق علاج کیا جا سکے۔ کچھ ادویات ایسی ہیں جو مردوں کی طرز یا طریقے سے ہونے والے گنج میں کار آمد پائی گئی ہیں۔لیکن ان کا استعمال اپنے ڈاکٹر کے مشورے سے کرنا چاہئے۔ اگر سر سے یا جسم کے کسی دوسرے حصے سے بال ایک دھبہ کی صورت میں غائب ہوں تو اس کیلئے سٹرائیڈز کا ٹیکہ لگوانا کارآمد ہوتا ہے یہ ٹیکہ بالوں کے جھڑنے والی جگہ پر جلد کے نیچے لگایا جاتا ہے اور عموماًتین چار ہفتوں کے بعد دھرایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اگر جسم پر کافی جگہوں سے بال دائروں یا دھبوں کی صورت میں غائب ہو جائیں تو سٹرائیڈز کی گولیاں بھی استعمال کی جا سکتی ہیں لیکن ہر دو صورتوں میں علاج کا دورانیہ کئی مہینوں پر محیط ہوتا ہے اسی طرح خواتین میں زنانہ سیکس ہارمونز کا استعمال کرکے بالوں کو جھڑنے سے نجات حاصل کی جا سکتی ہے۔
آج کل تو سرجری سے بھی نئے بال اُگانے میں کامیابی حاصل کر لی گئی ہے۔ سرجری میں ہیئر ٹرانسپلانٹ کیا جاتا ہے یہ ایک ایسا عمل ہے جس میں سر کے پچھلے حصے سے صحت مند بال لیکر گنج والے حصوں پر لگا دیئے جاتے ہیں۔ ایک بار ٹرانسپلانٹ کے عمل کے دوران آٹھ گھنٹے تک کا وقت درکار ہوتا ہے اور ایسے کئی سیشن درکارہوتے ہیں۔ جلد ہی نئے بال اگ آتے ہیں جو مستقل اور مضبوط ہوتے ہیں۔ نئے بالوں کی کوالٹی جانچنے کے لئے چھ تا آٹھ ماہ کا وقفہ درکار ہوتا ہے۔ ہیئر ٹرانسپلانٹ کے علاوہ اور بھی کئی طرح کی سرجری سے گنج کا علاج کیا جاتا ہے۔
نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔


