//حرف دعا – توبہ استغفار کی ضرورت
دعا

حرف دعا – توبہ استغفار کی ضرورت

. کرونا وائرس کی وباء جس طرح پاکستان سمیت دنیا بھر میں پھیل رہی ہے، ایسا لگنے لگا ہے کہ ابھی دم گھٹ جائے گا اور ہم سب مر جائیں گے۔سورہ بقرہ میں اللہ تعالیٰ ایک جگہ فرماتا ہے کہ’’عقلمندوں کیلئے ضرور نشانیاں ہیں اور کچھ لوگ اللہ کے سوا اور معبود بنا لیتے ہیں کہ انہیں اللہ کی طرح محبوب رکھتے ہیں اور ایمان والوں کو اللہ کے برابر کسی کی محبت نہیں اور کیسے ہواور اگر دیکھیں ظالم وہ وقت جبکہ عذاب ان کی آنکھوں کے سامنے آئیگا اس لیے کہ سارا زور خدا کو ہے اور اس لئے کہ اللہ کا عذاب بہت سخت ہے‘‘۔

یہ کرونا وائرس ایک عذاب کی طرح ہی پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہے۔ سوچئے!ہم کتنے گناہ گار ہیں ہم نے کیا کیا گناہ کیے ہیں ہم فیس بک کو ہی لے لیں یا گوگل کو ہم چیز کچھ کھولتے ہیں ہمارے سامنے آتا کچھ ہے۔ ایک طرف قرآنی آیات ہوتی ہیں تودوسری طرف نازیبا وڈیوز یا تصاویر…المیہ ہے کہ ہوس کے مارے لوگ معصوم بچوں تک کو نہیں چھوڑ رہے، کشمیر پر سالوں سے ظلم ہورہا ہے اور ہم سب دیکھ رہے ہیں، مگر ہم اس قدربے بس ہیں کہ کچھ کرنہیںسکتے، کیونکہ وہ ظلم ہم پر نہیں ہورہا۔

اللہ کی طرف سے آنے والی تکالیف اور پریشانیوں میں ہم ہفتہ دو ہفتہ، توبہ استغفار کرتے ہیں۔ اللہ کی عبادت کرتے ہیں پھر واپس اپنے گندے اور غلیظ کاموں کی طرف لوٹ جاتے ہیں اورگویا اپنے ربّ کوہی بھول جاتے ہیں، معاشرتی برائیاں ہماری زندگی میں بُری طرح داخل ہوچکی ہیں، زنا اتنا عام ہوگیا ہے کہ جیسے کوئی بات ہی نہ ہو، شراب اتنی عام ہے، لگتا ہی نہیں کہ اللہ نے اسے ’’حرام‘‘ قرار دیا ہے،لہو روزانہ بے گناہوں کا کتنا بہتا ہے،یہ سبھی ہماری آنکھوں کے سامنے ہوتا ہے لیکن ہمیں اب کوئی فرق نہیں پڑتا، ہمیں گناہ گناہ نہیں لگتا، ہمیں اس گناہ میں لذت محسوس ہوتی ہے اس لیے ہمیں کچھ اور سجھائی نہیں دیتا، ان ساری خرابیوں کی وجہ سے ہم آج یہ سب بھگت بھی رہے ہیں،ہم مسلمان کہلاتے ہیں لیکن ہمارا کردار و عمل دیکھ کر ہمیں اپنے آپ سے گھن آنے لگی ہے۔

ہمارا جذبہ ایمانی یہ ہے کہ آج ہم اپنے اپنے گھروں میںمقیدہو کر بیٹھے ہیں کہ کہیں ہم کرونا وائرس کا شکار ہی نہ ہوجائیں۔ اللہ قرآن میں ایک جگہ فرماتا ہے کہ اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی مول لی۔تو آپ کا کیا خیال ہے ہم گمراہی کے راستے پر نہیں چل رہے۔۔؟

سوال یہ ہے کہ کیا ہم نیکو کاروں میں سے ہیں، کم ازکم میں نہیں مانتی کہ ہم نیک لوگ ہیں ہم اپنی نظریں خود سے بھی نہیں ملاسکتے کہ ہم اچھے لوگ ہیں۔قرآن میں لکھا ہے کہ ’’اور اللہ دوست نہیں رکھتا ظالموں کو۔۔۔‘‘یقینا ہم بھی اسی لائن میں کھڑے ہیں۔ہم اپنے معاملات کاجائزہ لیں تو یہ بات طے ہے کہ آج ہم مظلوم ہر گز نہیں، بلکہ ہم ظالموں میں سے ہی ہیں۔قرآن میں لکھا ہے ’’اور عنقریب اللہ شکر والوں کو صلہ دے گا اور کوئی جان خدا کے حکم کے بغیرمر نہیں سکتی، موت سے فرار ممکن نہیں۔ اللہ نے سب کا وقت لکھ رکھا ہے۔ ربّ کائنات نے قرآن میں تو صاف صاف ہر بات لکھی ہے کہ ہم سے پہلے امتوں پر ربّ نے کیا کیا عذاب دئیے۔ اے ربّ بخش دے ہمارے گناہ، اور قرآن میں یہ بھی لکھا ہے کہ بے شک اللہ پسند کرتا ہے توبہ کرنے والوں کو اور بخشنے والا مہربان ہے۔کرونا وائرس کی وباء آنے کے بعد سے ہر دوسرا بندہ اپنے اپنے فلسفے سے لوگوں کو روشناس کرانے میں لگا ہے۔

٭کوئی کہتا ہے چائے پیو تین ٹائم تو کرونا وائرس ختم ہوجائے گا۔

٭کسی نے کہا کہ لیمو کا پانی پیجیے۔

٭کسی نے کہا کہ پیاز کھائیے۔

٭کسی نے کہا کہ پانی کی تین ٹائم بھاپ لی جائے تو وہ اس سے ختم ہوجائے گا۔

حد ہے کہ ہم اپنی اپنی سوچ و فکر کے مطابق لوگوں کو مشوروں سے نواز رہے ہیں۔لیکن زیادہ انحصار ٹوٹکوں پر ہی ہے۔ یہ وقت خوف و ہراس پیدا کرنے کی بجائے اللہ سے رجوع کرنے کا ہے۔ یقین جانیے اپنے اللہ پر پختہ ایمان رکھیئے، اتنا پختہ کہ سامنے موت کھڑی ہوتو آپ یہ کہو کہ میرا اللہ !مجھے بچا لے گا، بات توتب ہے۔ موجودہ حالات میں مسلمانوں کا ایمان اتنا کمزور ہوگیا ہے کہ خدانخواستہ اس وقت اگر ہمیں کوئی آکر یہ کہہ دے کہ مجھ پر ایمان لے آئیے، میں آپ کو اس بیماری سے نجات دلادوں گا تو شاہد لوگ یہ بھی کر لیں۔ یہ وہ بات ہوئی کہ سانپ نے کہا کہ میرا زہر اتنا خطرناک ہے کہ لوگوں کو ایک بار ڈس لوں تو لوگ مر جاتے ہیں۔ مینڈک نے کہا کہ تمہارا زہر خطرناک نہیں، تمہاراتو خوف خطرناک ہے۔پھر دونوں نے یہ طے کیا کہ ایک کو سانپ کاٹے گا اور مینڈک سامنے آئے گا اوردوسرے کو مینڈک کاٹے گا اور سانپ سامنے آئے گا،پھردونوں چھپ کر بیٹھ گئے اور ایک راہگیر کوسانپ نے چھپ کر کاٹ لیا اور مینڈک اچھل کر سامنے آگیا۔ راہگیر نے کہا کہ خیر ہے مینڈک ہی نے کاٹا ہے کچھ نہیں ہوگا اور وہ چلتا بنا۔تھوڑی دیر بعد مینڈک نے چھپ کر کاٹا اور سانپ نے سامنے آکر پھن پھلا دیا، بندہ خوف کے مارے اسی وقت مر گیا کہ مجھے سانپ نے کاٹ لیا ہے۔

بیشک! اللہ کا بڑا احسان ہوا مسلمانوں پر کہ ان میں انہیں میں سے ایک رسولؐ بھیجا جو ان پر اللہ کی آیتیں پڑھتا ہے اور وہ انہیں پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب وحکمت سکھاتا ہے اور وہ ضرور آپؐ سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے۔ ہمارا ایمان ہے کہ ہمیں جتنی پریشانیوں اور مصائب وآلام کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہ سبھی اللہ کی طرف سے ہی آتی ہے، اور ان کا مقصدہمیں توبہ و استغفار کا موقع فراہم کرنا ہی ہوتا ہے۔ بے شک اللہ سب کچھ کرسکتا ہے۔ سورہ آل ِعمران کی ایک آیت کا ترجمہ ہے’’یہ جو ہم پریشان ہیں کہ اللہ نے ہم پر عذاب مسلط کردیا تو یہ ہمارے ہی گناہوں کی بدولت ہے۔ اللہ نے تو ابھی عذاب دیا ہی نہیں ہے ہلکی سی جھلک دکھلائی ہے اور ہم خوف سے گھروں میں چھپے بیٹھے ہیں

واہ رے انسان! آج آپ کی دعائیں کہ یااللہ! ہمیں ایسی موت نہ دینا کہ جس کا نمازِ جنازہ بھی نہیں، کفن دفن بھی نہیں،یہ سب ہمارے کمزور ایمان کی نشانیاں ہیں۔ اب بھی وقت ہے کہ ہم لوٹ جائیںاپنے رب کی طرف۔۔ کیونکہ وہ ہی بخشنے والا مہربان ربّ ہے۔ضرور ت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے ربّ کے حضور حاضر ہو کر صدقِ دل سے اپنے گناہوں اور کوتاہیوں کی معافی مانگیں، وہ بڑار حمن و رحیم ہے، وہ یقیناہمارے گناہ معاف کردے گا اور ہمیں کرونا وائرس جیسے مرض سے چھٹکارا دلا دے گا۔ آمین