//اسلامی اخلاق (قسط دوم)

اسلامی اخلاق (قسط دوم)

. حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کا واقعہ تو آپ کو معلوم ہے۔ ماں نے بیٹے کو سچ بولنے کی تلقین کی۔ ڈاکوں نے آپ کے قافلہ پر حملہ کیا۔ سب کو لوٹا اور آپ کو لوٹنے کے لئے بھی آئے۔ پوچھا لڑکے تمہارے پاس کیا ہے؟ آپ کے پاس جو کچھ تھا وہ سب کچھ آپ نے بتادیا اور اس بات سے نہ ڈرے کہ اگر میں نے بتا دیا تو یہ سب کچھ مجھ سے لوٹ لیں گے۔ ڈاکوئوں پر آپ کی سچائی کا اتنا اثر ہوا کہ انہوں نے اپنی بُری حرکات سے توبہ کرلی۔ غرض سچائی کی اصل آزمائش اس وقت ہوتی ہے جب انسان خطرات کے اندر بھی سچ بولے۔

صبر : مصیبتوں اور تکلیفوں میں پامردی دکھانا شہوات اور خواہشات میں اپنے دامن کو بچا کر رکھنا صبر کہلاتا ہے۔

صبر کے آپ کو بے شمار نمونے معلوم ہوں گے۔ میں صرف دو مثالوں پر اکتفا کرتی ہوں۔

طائف میں آنحضرتؐ کے ساتھ جو سلوک دشمنوں نے کیا وہ تاریخ کا ایک کھلا ورق ہے۔ لیکن جب فرشتے نے ان کو کہا کہ ان کے لئے بد دعا کریں اور وہ دعا قبولیت میں ایک لمحہ کے لئے بھی تاخیر نہ کرے گی تو آپ نے فرمایا کہ اگر یہ لوگ میری دعا سے تباہ ہوگئے تو پھر مجھے مانے گا کون؟ میں تو یہ دعا کرتا ہوں کہ یہ لوگ اچھے ہو جائیں اور نہ صرف اچھے ہو جائیں بلکہ دین و دنیا کی نعمتوں سے ان کے گھر بھر جائیں۔

دوسری مثال: حدیثوں میں یہ واقعہ بھی آپ نے پڑھا ہوگا کہ ایک شخص محبت کے ہاتھوں مجبور ہو کر اور شہوت سے مغلوب ہو کر بدکاری پر آمادہ ہوا جس سے وہ محبت کرتا تھا وہ اس کی رشتہ دار تھی۔ قحط کا زمانہ تھا وہ بھوک سے مجبور ہو کر اس کے پاس آئی اور مدد کے لئے التجا کی۔ اس نے اس شرط پر اسے امداد دینا منظور کیا کہ وہ اس کی بری خواہش کو پورا کرے۔ وہ مجبور تھی مان گئی لیکن جب جذبات اپنی انتہا پر تھے اس لڑکی نے اس کو کہا کہ دیکھو خدا کا حکم ہے کہ تم ایسا نہ کرو۔ اس پر وہ ڈر گیا۔ اس نے صبر کیا اور بُرے ارادہ سے باز آگیا۔ خواہشات کو صبر کے ماتحت قابو میں رکھنے کی یہ مثال بھی ایک بے نظیر مثال ہے۔

غصہ : تمام فسادات کی جڑ غصہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ قابل تعریف وہ لوگ ہیں جو غصہ کو پی جاتے ہیں اور لوگوں کو معاف کردیتے ہیں۔ والکاظمین الغیظ و العافین عن الناس۔

کہتے ہیں کہ حضرت علیؓ نے ایک جنگ میں ایک زبردست دشمن کو گرالیا۔ دشمن نے اپنے آپ کو بے بس پا کر حضرت علیؓ پر تھوک دیا۔ آپ کو سخت غصہ آیا لیکن اسی وقت حضرت علیؓ نے اس کو چھوڑ دیا۔ وہ بہت حیران ہوا لیکن آپ نے فرمایا۔ حیرانگی کی کوئی وجہ نہیں۔ تمہاری اس حرکت سے مجھے غصہ آگیا تھا اور میں نہیں چاہتا تھا کہ غصے کی حالت میں تجھے ماردوں۔ میں تو صرف اس لئے تمہاری جان کا دشمن ہوں کہ تم خدا کے دین کو اور سچائی کو اپنے زور سے مٹانا چاہتے ہو۔ تم امن کے دوست نہیں بلکہ دشمن ہو۔

غیبت اور یاوہ گوئی : آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نے پوچھا یا رسول اللہ ! نجات کس میں ہے؟ آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کو ایک ماننا اور مجھے اللہ تعالیٰ کا رسول ماننا۔ پھر اس نے پوچھا۔ وہ کون سی چیز ہے جو مجھے تمام برائیوں سے بچا سکتی ہے؟ آپ نے زبان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ زبان یعنی اپنی زبان کو قابو میں رکھنا امن و سلامتی کا خزانہ ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ غیبت اپنے بھائی کا گوشت کھانے کے مترادف ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نے پوچھا۔ یا رسول اللہ ! غیبت کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: تو کسی کی پیٹھ کے پیچھے ایسی بات جو اگر اس کے منہ پر کہے تو اسے برا لگے۔ اس نے پوچھا کہ اگر وہ سچ بات بھی ہو؟ تو آپ نے جواب دیا کہ اگر سچی بات نہیں تو پھر وہ بہتان ہے جو غیبت سے بھی بدتر ہے۔

اخلاق کے بارہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو ہدایات فرمائی ہیں اب میں ان میں سے چند ایک کا ذکر کرتی ہوں۔

آپ نے فرمایا: اگر راستوں پر بیٹھو تو ان کا حق ادا کرو۔ لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ ! راستوں کا کیا حق ہے؟ آپ نے فرمایا: نظر نیچی رکھنا، راستہ سے گزرنے والوں کو تکلیف سے بچانا۔ راستے پر گند اور تکلیف دینے والی چیزیں نہ پھینکنا، سلام کا جواب دینا اور جو راستہ بھول جائے اس کی راہنمائی کرنا۔

آپؐ نے فرمایا: مجلس میں سے کسی کو اٹھا کر اس کی جگہ نہ بیٹھو بلکہ کھل جائو اور دوسرے کے لئے جگہ بنادو۔

آپؐ نے فرمایا : ظالم اور مظلوم دونوں کی مدد کرو۔ لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ ! ظالم کی مدد کے کیا معنے؟ آپ نے فرمایا کہ ظالم کی مدد یہ ہے کہ اسے ظلم سے روکے رکھو۔

آپؐ فرماتے تھے مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔

آپؐ کا فرمان تھا کہ جو شخص کسی کی تکلیف کو دور کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی بے چینیوں کو دور کرتا ہے۔

جو شخص کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرتا ہے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی کرے گا۔

آپؐ فرماتے تھے مسلمان مسلمان کا بھائی ہے۔ وہ …نہیں کرتا۔ اس سے جھوٹ نہیں بولتا، اس سے ظلم نہیں کرتا، مسلمان اپنے بھائی کے لیے آئینہ ہے اور اس کی کمزوریوں کو دور کرنے کا باعث بنتا ہے۔

ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر چھ حق ہیں۔

  • ۱۔ جب وہ اس کو کھانے پر بلائے تو اس کی دعوت قبول کرے۔
  • ۲۔ جب اس کو ملے تو سلام کہے۔
  • ۳۔ چھینک مارے تو یرحمک اللہ کہے۔
  • ۴۔ اس کی پیٹھ پیچھے اس کا خیر خواہ ہو۔
  • ۵۔ جب وہ بیمار ہو تو اس کی عیادت کرے۔
  • ۶۔ اگر وہ مر جائے تو اس کا جنازہ پڑھے۔

آپؐ نے فرمایا: ایک دوسرے کو معاف کرو اس طرح تمہارے کینے دھل جائیں گے۔ لوگوں پر بدظنی نہ کرو۔ انسان ایسا نہیں کہ ذوالوجھین ہو یعنی ادھر کچھ کہے ادھر جب کوئی کسی سے نیکی کرے تو اس کا بدلہ دیا جائے۔ اگر اس کا بدلہ نہ دے سکے تو اس کا شکریہ ادا کرے یعنی جزاک اللہ کہے۔

بالآخر میں اپنے مضمون کو اس بات پر ختم کرتی ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمارے لئے نمونہ قرار دیا ہے۔ فرمایا: لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوة حسنة اور خدا نے ہی حضور کی یہ تعریف کی ہے۔ انک لعلیٰ خلق عظیم اور جب حضرت عائشہ صدیقہؓ سے پوچھا گیا کہ آپؐ کے اخلاق کیا تھے تو انہوں نے فرمایا: جو کچھ قرآن میں ہے وہ آپ کے اخلاق تھے۔

غرض تمام اعلیٰ اخلاق کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لئے نمونہ ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت قرآن کریم ہے۔ پس یہی اسلامی اخلاق ہیں اور اسی بناء پر حضرت شاہ عبد العزیزؒ نے فرمایا ہے۔

یا صاحب الجمال و یا سید البشر

من وجہک المنیر لقد نور القمر

لا یمکن الثناء کما کان حقہ

بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر

اور اسی کی ترجمانی کرتے ہوئے حضرت میر محمد اسماعیل صاحب فرماتے ہیں۔

محمدؐ ہی نام اور محمدؐ ہی کام

علیک الصلٰوۃ علیک السلام