اسلامی تعلیماتتعلیممذہب

دل کی سیاہی اور عبادت میں بےرنگی

Spread the love

تحریر: ماریہ عباسی

ہم اکثر کہتے ہیں کہ نماز میں دل نہیں لگتا تلاوت میں مزہ نہیں آتا سجدے میں سکون نہیں ملتا دعا مانگنے کو دل نہیں چاہتا اور اگر نیکی کا خیال آ بھی جائے تو ہم فوراً اسے جھٹک دیتے ہیں ہمیں لگتا ہے شاید یہ سب کچھ کسی اور وجہ سے ہو رہا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ اس کی اصل وجہ ہمارے وہ روزمرہ کے گناہ ہیں جو ہمیں خود بھی گناہ نہیں لگتے

ہم چوری نہیں کرتے زنا سے بچے ہوئے ہیں شراب نہیں پیتے تو ہمیں لگتا ہے کے شکر ہے ہم گناہوں سے بچے ہوئے ہیں ۔ مگر ہم روز جھوٹ بولتے ہیں حالانکہ جھوٹ حرام ہے ہم غیبت کرتے ہیں ہم دل میں حسد رکھتے ہیں ہم دوسروں کی برائی سنتے اور پھیلاتے ہیں ہم وعدے کر کے پورے نہیں کرتے ہم دوسروں کی باتوں کو امانت نہیں سمجھتے بلکہ ہر جگہ سستی بدگمانی اور بے احتیاطی کا مظاہرہ کرتے ہیں اور ہمیں لگتا ہے کہ یہ سب تو معمولی باتیں ہیں۔

جھوٹ ، غیبت ، چغلی ، حسد ، تکبر ، وعدہ خلافی ، امانت میں خیانت ، موسیقی ، نظر کی گندگی ، سماعت کی گندگی ، زبان کی گندگی ، موبائل پر گندی ویڈیوز دیکھنا یہ سب حرام کام ہیں جو ہم نے بلکل معمولی سمجھے ہوئے ہیں ۔ اور اپنی روز مرہ کی زندگی میں بہت آرام سے بنا کسی شرمندگی کہ کر رہے ہوتے ہیں ۔

لیکن دراصل یہی وہ چھوٹے چھوٹے گناہ ہیں جو ہر دن ہمارے دل کو سیاہ کرتے جاتے ہیں ہر بار جب ہم کسی کی برائی کرتے ہیں کسی سے حسد کرتے ہیں کسی کے ساتھ جھوٹ بولتے ہیں یا وعدہ خلافی کرتے ہیں تو ہمارے دل پر ایک اور کالا دھبہ لگ جاتا ہے اور یہی دھبے ہمارے اور اللہ کے درمیان پردہ بن جاتے ہیں۔ انہی لوگوں کہ لیے قرآن پاک میں فرمایا گیا

بَل٘ رَانَ عَلٰی قُلُوبِھِم٘ مَا کَانُویَک٘سِبُون

بلکہ ان کہ دلوں پر زنگ چڑھ گیا ہے سیاہ اعمال کی وجہ سے“ ( پارہ : 30 . سورۃ المطففین:ایت 14 )

جب دل سیاہ ہو جائے تو نہ عبادت میں مزہ آتا ہے نہ سجدے میں سکون ملتا ہے نہ تلاوت روح تک پہنچتی ہے اور نہ دعا سے آنکھ نم ہوتی ہے
ہمارا نیکی کرنے کا دل ہی نہیں کرتا ۔ اگر نیکی کا خیال بھی ہمارے ذہن میں آ جائے تو جسم بہت بھاری ہو جاتا ہے عجب کیفیت ہو جاتی ہے ۔
اگر مارے باندھے کبھی نماز پڑھنی پڑے تو تب ہم صرف نماز پڑھتے ہیں لیکن وہ صرف جسمانی حرکت ہوتی ہے دل کہیں اور ہوتا ہے ہم قرآن کھولتے تو ہیں مگر اس کے الفاظ دل پر اثر نہیں کرتے ہم دعا مانگتے ہیں مگر دل گواہی نہیں دیتا کہ ہم واقعی اللہ سے کچھ مانگ رہے ہیں ۔

یہ سب اسی لیے ہے کیونکہ دل پر گناہوں کی گرد جمی ہوئی ہے اور وہ دل جو گناہوں میں ڈوبا ہو وہ عبادت میں کیسے پاکیزگی محسوس کرے گا ۔

اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمیں نماز میں لذت ملے اگر ہم چاہتے ہیں کہ سجدے میں دل واقعی اللہ کے قریب ہو جائے اگر ہم چاہتے ہیں کہ تلاوت ہمیں ہلا دے دعا میں آنکھ سے آنسو بہہ نکلیں تو ہمیں سب سے پہلے اپنے دل کو صاف کرنا ہوگا اور دل تب ہی صاف ہوگا جب ہم ان گناہوں کو چھوڑیں گے جو ہمیں چھوٹے لگتے ہیں مگر درحقیقت وہی ہمارے دل کی روشنی چھین لیتے ہیں
قرآن کہتا ہے:

قَد٘ اَف٘لَحَ ال٘مُؤ٘مِنُو٘ن ۔ اَلَّذِي٘نَ هُم٘ فِي٘ صَلَاتِهِم٘ خَاشِعُو٘ن

یقیناً کامیاب ہو گئے وہ مؤمن جو اپنی نماز میں خشوع رکھتے ہیں“ ۔ پارہ 18(سورۃ المؤمنون آیت :1,2)

نماز میں ہمارا خشوع خضو ہونا بہت ضروری ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ۔ ”جو کوئی میرے وضو کی طرح وضو کرے اور پھر دو رکعت نماز ادا کرے جس میں غفلت نہ ہو، اللہ تعالیٰ اس کی سابقہ تمام (صغیرہ) گناہوں کو معاف فرمادیتا ہے“۔ (مسند امام احمد)

اس حدیث شریف میں خشوع خضوع کی اہمیت بیان کی گئی ہے کہ اگر ہم غفلت نا کریں کسی خیال کو نماز کہ دوران خود پر حاوی نا کریں ۔ اور صرف دو رکعت ہی ایسی پڑھ لیں تو اس سے ہمارے گناہ معاف کر دیے جائیں گے ۔ کیا ابھی بھی ہمیں نماز میں خشوع خضوع کہ اہم ہونے کہ لیے مزید دلیل کی ضرورت ہے ؟

اس لیے اپنے آپ کو ٹٹولیں کہ ہم روز کن باتوں میں مشغول رہتے ہیں ہمیں کس بات پر شرمندگی نہیں ہوتی ہمیں کس چیز کا احساس نہیں ہوتا اور پھر آہستہ آہستہ ان سب عادتوں کو چھوڑ دیں کیونکہ یہی اصل حرام ہیں جو ہمیں رب سے دور کر دیتے ہیں ۔

یاد رکھیں اجکل ہماری بے سکونی ، بے چینی، ذہن کہ خالی پن اور دل کی عجب کیفیت گناہوں کی کثرت اور اللہ کہ زکر سے منہ پھیرنے کی وجہ سے ہے ۔ اللہ کی یاد سے ہی دلوں کا سکون ہے کوئی بھی دنیاوی کام کرنے سے ہمیں صرف وقتی خوشی ملتی ہے ۔ اصل سکون تو اللہ کہ زکر میں اس کی یاد میں ہے۔

یاد رکھیں پاک دل ہی پاک نماز ادا کر سکتا ہے اور پاک زبان ہی وہ دعا مانگ سکتی ہے جو عرش تک پہنچے دل کو صاف کریں تاکہ عبادت میں رنگ آ جائے زندگی میں سکون آ جائے طبیعت میں ٹہراو آجائے اور رب سے قربت کا راستہ کھل جائے ۔

نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

WhatsApp Group Join Now

admin

An online Urdu Magazine for women.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *