تعلیمثقافتقومیگوشۂ ادبمتفرقمعاشرہ

جذبات سہنے کے نہیں سمجھنے کی چیز

تحریر: مبشرہ سلطان

کہتے ہیں ہر گھر ایک چھوٹی جنت ہوتا ہے، ۔ مگر ہمارے ہاں یہ جنت اکثر اپنی ہی گرج دار آواز سے لرزتی رہتی ہے۔ پاکستانی گھروں میں جذبات ایک ترتیب سے نہیں چلتے۔ یہ یا تو پورے جوش میں ہوتے ہیں، یا مکمل غائب۔ یہاں یا تو اتنا غصہ ملتا ہے کہ بلی بھی دروازہ آہستہ دھکیلتی ہے، یا ایسا دبایا ہوا دکھ کہ بندہ سوچے گھر والے لوگ ہیں یا اقوامِ متحدہ کے بعد لینے ”خاموش بچے“ ۔ توازن نام کی نعمت شاید ہمارے ڈی این اے کے ساتھ درآمد ہی نہیں ہوئی۔

ہمارے گھروں میں جذبات کے اظہار کی زبان ایسے ہی ہے : غصہ، چپ، یا چائے بنا دو۔ یوں لگتا ہے جیسے صدیوں کی تربیت نے ہمیں سکھایا ہو کہ احساس ظاہر کرنا گناہ ہے، اور خاموش رہنا عبادت۔ ماں کو غصہ آئے تو پورا گھر آہستہ رفتار میں چلنے لگتا ہے، باپ کو غصہ آئے تو ٹی وی کے ریموٹ تک کی حرکت رک جاتی ہے، اور بہن بھائیوں کی ناراضی ہو جائے تو ایک دوسرے کے لیے پلیٹیں بھی خاموشی میں رکھ دی جاتی ہیں۔ جیسے کسی امن معاہدے کی خلاف ورزی نہ ہو جائے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ گھر کے اندر کوئی رونے لگے تو سب لوگ حیران ہو جاتے ہیں : ”ارے کیا ہوا؟ کون مر گیا؟“ یعنی آنسو صرف بڑے صدمے کے لیے ہیں، نارمل انسان کو رونے کی ضرورت کیوں پڑے؟

یہاں احساس کا تعلق کبھی دل سے نہیں رہا۔ ہمیشہ ڈرامے سے رہا ہے۔ غم اگر دھیمے انداز میں ہو تو کوئی نہیں سمجھے گا، مگر اگر روتے ہوئے ٹشو پیپر کا رول ختم ہو جائے تو پورا خاندان جمع ہو کر حل بتانے لگے گا۔

مردوں کی کہانی تو اور بھی دلچسپ ہے۔ ان کو بچپن سے سکھایا جاتا ہے : ”مرد روتے نہیں۔ مرد برداشت کرتے ہیں۔“ اور پھر یہی ”برداشت“ بیس سال بعد غصے، چڑچڑاہٹ اور بے جا اعلیٰ اختیار کی صورت میں اُبل پڑتی ہے۔ یوں سمجھ لیں کہ ہمارے گھروں میں بہت سے مسائل خاموشی کے دباؤ سے نہیں بلکہ برداشت کے حد سے بڑھ جانے کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔ جو بات دل میں رک جائے، وہ کسی نہ کسی دوست، ساتھی یا بچے پر نکل ہی جاتی ہے۔ اسی لیے ہمارے ہاں مرد کا غصہ اکثر اس کے دکھ سے بڑا اور اس کا سکوت اس کی تھکن سے زیادہ گہرا ہوتا ہے۔

خواتین کے ساتھ مسئلہ الٹا ہے۔ وہ سب کچھ محسوس بھی کرتی ہیں، سہتی بھی ہیں، سب کو سنبھال بھی لیتی ہیں، اور پھر جب ان کی اپنی طبیعت بگڑ جائے تو سارا خاندان اس نتیجے پر پہنچتا ہے : ”حالات کی وجہ سے چڑچڑی ہو گئی ہے!“ گویا عورت کے جذبات کی کوئی علیحدہ شناخت ہے ہی نہیں۔ وہ بس باقی سب کے میڈیکل بورڈ کا نتیجہ ہوتی ہے۔ ہماری ثقافت نے عورت کو دو ہی جملے سکھائے ہیں : ”برداشت کرو“ اور ”بس چپ رہو۔“ نتیجہ یہ ہے کہ جو عورت برسوں تک سب کو سہارا دیتی ہے، وہ خود سہارا مانگنے کے قابل نہیں رہتی۔

ہمارے گھروں میں جذبات کی کمی نہیں، بس ان کا رہن سہن ذرا بکھرا ہوا ہے۔

ہم خوشی کو شور مچانے کا موقع سمجھتے ہیں، دکھ کو چھپانے کا، غصے کو طاقت کا ثبوت، اور محبت کو کبھی کبھار کا شوق۔

ہمارا مسئلہ جذبات نہیں، ان کی تربیت ہے۔
ہم نے ہمیشہ جذبات کو ”سہنے“ کی چیز سمجھا، ”سمجھنے“ کی نہیں۔

اسی لیے یہاں کوئی ناراض ہو جائے تو سب کہتے ہیں : ”اب کیا ہو گیا؟“ مگر کبھی یہ نہیں کہتے : ”آؤ بیٹھ کر بات کریں۔“

معاف کرنا تو شاید ہمارے معاشرتی نصاب میں شامل ہی نہیں۔

کسی سے غلطی ہو جائے تو ”معذرت“ کے بجائے وہی مشہور جملہ سامنے آتا ہے : ”چلیں چھوڑیں، بات بڑھائیں نہیں۔“ یہ جملہ بظاہر بہت سلجھا ہوا لگتا ہے، مگر حقیقت میں یہ کئی رشتوں کی جڑیں کاٹ دیتا ہے۔

یہ وہ الفاظ ہیں جو گفتگو کو تو روک دیتے ہیں مگر دل کی گرہ مزید مضبوط کر دیتے ہیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ ہمارے گھروں میں کچھ جذبات موروثی بھی ہوتے ہیں۔
ماں کی پریشانی بیٹی کے لہجے میں منتقل ہو جاتی ہے، اور باپ کی خاموشی بیٹے کے رویے میں۔
یہ وہ ورثہ ہے جو زیور یا جائیداد کی طرح دکھائی نہیں دیتا لیکن نسلیں اس کا بوجھ اٹھاتی ہیں۔

ہم سوچتے ہیں بچوں کو کچھ پتہ نہیں چلتا، مگر بچوں کے پاس وہ حیران کن صلاحیت ہوتی ہے کہ وہ بغیر الفاظ کے بھی پورا ماحول پڑھ لیتے ہیں۔

اگر کوئی بچہ گھر میں پوچھ بیٹھے : ”امی آپ ناراض ہیں؟“ تو فوراً جواب آتا ہے : ”نہیں بھئی، مجھے کیا ہونا ہے؟“ یعنی اصل جذبات کا دروازہ بچوں پر بند اور ڈرامے کا کمرہ کشادہ۔

پھر یہی بچے بڑے ہو کر وہی رویے دہراتے ہیں، کیونکہ انہی میں انہیں زندگی گزارنے کا محفوظ راستہ دکھایا گیا تھا۔

اصل سچ یہ ہے کہ جذبات کا نظم سیکھنے کے لیے ہمیں کسی فلسفی کی کتاب کی ضرورت نہیں، نہ کسی معالج کی۔
سب سے پہلے ہمیں احساس کو انسان ہونے کی علامت سمجھنا ہو گا، کمزوری نہیں۔

اگر ہم غصے کو الفاظ میں، دکھ کو گفتگو میں، اور خوشی کو بے تکلفی میں بدلنا سیکھ جائیں تو گھروں کی فضا تبدیل ہو سکتی ہے۔

ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ محض خاموشی امن نہیں ہوتی، اور محض روکھا لہجہ طاقت نہیں ہوتا۔

اور شاید وہ دن بھی آ جائے جب کسی کے ناراض ہونے پر گھر والے یہ نہ پوچھیں : ”کیا ہوا؟“ بلکہ پوری محبت سے کہیں : ”ٹھیک ہے۔ ہم سن رہے ہیں۔“ اور جب ہمارا معاشرہ سننا شروع کر دے گا، تبھی ہم بولنا، سمجھنا اور آخرکار جینا سیکھ پائیں گے۔

نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

WhatsApp Group Join Now

admin

An online Urdu Magazine for women.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *