//بریکنگ نیوز

بریکنگ نیوز

. تحریرقرةالعین فاروق حیدرآباد

ایک وہ دور تھا جب ٹی وی پر ایک ہی چینل آتا تھا اور اس پر خبریں ہر گھنٹے کے حساب سے نہیں بلکہ اپنے مقررہ وقت پر ہی آتیں تھیں، چاہے کہیں آندھی آئے یا طوفان، کوئی حادثہ پیش آجائے یا دنیا میں کہیں بھی کوئی ناگہانی آفت آجائے اس چینل پر خبروں کا وقت ایک ہی ہوتا شائستہ انداز میں خبریں پڑھی جاتیں اور نہ ہی کوئی سنسنی پھیلائی جاتی، نیوز اینکر اس انداز سے خبریں پڑھتے کہ لوگوں کا دل اپنی جگہ اور دھڑکن بھی نارمل رہتی اس ایک گھنٹے میں سارے جہاں کی خبریں سنائی جاتیں۔ اسپورٹس، موسم کا حال، تجارتی خبریں وغیرہ وغیرہ اور باقی خبریں اگلے دن اخبار میں پڑھ لیتے۔

جیسے جیسے زمانہ بدلا خبروں کے چینلز بڑھے اور خبریں نشر کرنے کا انداز بھی بدلا جیسے  آجکل بریکنگ نیوز کا دور ہے یہ وہ دور ہے جہاں ہر خبر پر سب کی نظر ہوتی ہے اگر اچانک کسی دھماکے کی آواز آئی تو ٹی وی چلا لیا اور بریکنگ نیوز کے ذریعے اس دھماکے کے بارے میں معلومات فراہم ہوگئیں کہ دھماکہ کس وجہ اور کس جگہ پر ہوا ایک طرح سے تو یہ اچھا بھی ہے کہ اگر کسی کو کہیں جانا ہے تو وہ متبادل راستہ اختیار کر لے یا کوئی عزیز جاننے والا گھر سے باہر ہے تو اس کو موبائل فون کے ذریعے اطلاع دی جا سکے یا خیریت معلوم کی جا سکے۔

مگر کبھی کبھی یہ بریکنگ نیوز ہارٹ بریک بھی کر دیتیں ہیں اچھا بھلا ٹی وی پر پروگرام دیکھ رہے ہوں اور اچانک بریکنگ نیوز آگئی اور اس وقت آپ کا کوئی عزیز گھر سے باہر گیا ہوا ہے تو دل سے آواز آتی ہے کہ یا اللہ سب جگہ خیر ہو ویسے تو اکثر سب ٹھیک ٹھاک ہی ہوتا ہے مگر آفرین ہے ان نیوز اینکر پر کہ جو اونچا اونچا بول کر اور باربار ایک ہی خبر اتنی دفعہ دھرا رہے ہوتے ہیں کہ ٹی وی دیکھنے والے ہر شخص کو وہ خبر یاد ہوجاتی ہے اور تو اور جن خبروں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ بچے نہ دیکھیں پہلے تو بچوں کے یہ سن کر کان کھڑے ہو جاتے ہیں اور پوری آنکھیں بھی کھل جاتی ہیں اور بچوں کی ٹی وی اسکرین پر نظریں بھی گڑھ جاتی ہیں بجائے اس کے یہ کہا جائے کہ بچے نہ دیکھیں تو ایسی خبر ٹی وی پر نہ ہی دکھائیں جسے بچے یا کمزور دل والے نہ دیکھ پائیں۔

پہلے زمانے میں لوگ اپنی زندگیوں میں خوش و مطمئن اس لئیے بھی رہتے تھے کہ شاید اس بریکنگ نیوز سے بچے ہوئے تھے اب تو ہر گھنٹے کے حساب سے خبریں آتیں ہیں خبروں کے چینل الگ ہوتے ہیں اور بریکنگ نیوز جب آتیں ہیں تو ہمیں خبریں حفظ کر وا دیتیں ہیں پہلے بس ایک دفعہ بتا دیا جاتا تھا تو لوگ خبریں بھی غور سے سنتے اور یقین کرلیتے تھے مگر اب تو تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد تردید اور تنقید آتی ہے پھر جو بھی خبروں کا چینل لگالیں سب جگہ ایک ہی خبر چل رہی ہوتی ہے۔

ویسے ٹی وی پر خبروں میں ہی نہیں بلکہ عام زندگیوں میں بھی کچھ لوگ بریکنگ نیوز کی طرح ہوتے ہیں خاندان میں یا جاننے والوں میں کچھ ہوا فوراً سب کو فون پر یا انٹرنیٹ کے ذریعے وہ نیوز وائرل کردی چاہے بات سب کو بتانے والی ہو یا نہ بھی ہو اب بندہ جائے تو جائے کہاں۔