بچوں کی خوبصورتی کیسے؟
نہلانے کیلئے ہمیشہ بے بی سوپ استعمال کریں
اگر ہم بچوں کی خوبصورتی اور صحت کا خیال بچپن ہی سے رکھنا شروع کر دیں تو کوئی وجہ نہیں کہ آگے جا کر وہ بہت عرصے تک صحت مند اور خوبصورت نہ رہیں۔
جلد کا خیال روز رکھا جائے توتیس چالیس برس کی عمر میں جا کر ان لوگوں کی جلد سے کہیں اچھی اور ترو تازہ لگے گی جو جوانی اس کا خیال شروع کرتے ہیں، بچوں کے لئے بنیادی چیز جس کا خیال رکھنا چاہئے وہ صفائی اور ان کی غذا ہے۔ چنانچہ اگر ہم بچپن سے ہی ان کے کھانے پینے، صفائی ستھرائی، بالوں اور جلد وغیرہ کا خیال رکھنا شروع کردیں تو بہتر ہوگا۔
بچوں کانہلانا:ہمیشہ بے بی سوپ یا بے ضرر صابن اپنے بچوں کی نرم و ملائم جلد پر استعمال کریں کیونکہ تیز صابن اور دوسرے اجزاء سے ان کی جلد خشک ہوجاتی ہے۔ضروری نہیں ہے کہ بچے کو روز نہلائیں۔ اگر وہ گندا ہو رہا ہے تو نہلا دیں ورنہ عام طور پر ہر تیسرے دن نہلانا ان کی جلد کی قدرتی چکنائی اور نرمی کیلئے بہتر رہتا ہے۔ہفتہ میں ایک دفعہ غسل کے پانی میں ایک چمچ بے بی آئل ملا کر نہلائیں۔ باتھ سے پہلے ان کا منہ دھلوائیں اور چہرے کیلئے الگ تولیہ استعمال کریں۔جسم پر ٹیلکم پائوڈر استعمال کریں اور گھٹنوں اور کہنیوں پر کریم لگائیں کیونکہ یہ حصے عام طور پر جلد سوکھ جاتے ہیں اور سیاہ پڑ جاتے ہیں۔ ہفتے میں ایک بار یا دو ہفتہ بعد کوئی ہلکی سی بے بی کریم چہرے پر لگائیں تاکہ چہرہ تازہ رہے۔
بچوں کے بال :بچوں کے بال عام طور پر بہت نرم و نازک اور پتلے ہوتے ہیں۔ ہفتے میں ایک یا دو دفعہ ان کے بال دھوئیں بلکہ ایک دفعہ دھوئیں تو اچھا ہوگا۔بال دھونے کے لئے بے بی شیمپو یا کوئی ہلکا صابن استعمال کریں کیونکہ زیادہ استعمال بالوں سے ان کی قدرتی چکنائی ختم کر دیتا ہے۔ نہانے کے بعد بالوں کو تولیے سے آہستگی کے ساتھ خشک کریں اور جڑوں میں ہلکا سا تیل لگا دیں۔بچوں کے بال چھوٹے ہی رکھنے چاہئیں اور اگر بڑھے ہوئے ہوں تو انہیں باقاعدہ ٹرم کرواتے رہنا چاہیے۔آپ کی بچی بال باندھتی ہے تو کم از کم گھر میں یا چھٹی والے دن اس کے بال کھلے رہنے دیں۔ بالوں کو باندھنے کیلئے صرف ربن استعمال کریں اور اگر ربڑ ہینڈ استعمال کرنا ہو تو خیال رکھیں وہ کوٹڈ ہو، خالی ربڑ بینڈ بال توڑتا ہے۔بچوں کے بالوں کو بلوڈرائیر، سٹینگ، کرلنگ وغیرہ کرنے سے روکنا چاہیے کیونکہ ان کے بال سادہ انداز میں ہی خوبصورت لگتے ہیں۔
بچوں کے دانت:دانتوں کی حفاظت نہایت اہم ہے کیونکہ اگر چھوٹی عمر میں ہی دانتوں کو بیماری لگ جائے تو آگے جا کر بہت تکلیف ہوتی ہے۔جب آپ کے بچے کے دانت آ جائیں تو اسے ایک نرم بالوں والا چھوٹا سا برش خرید دیں اور صرف پانی میں بھگو کر دانت پر کروائیں۔ سخت بالوں کے بڑے برش دانتوں کے قدرتی کور کو کھرچ دیتے ہیں۔جب بچہ ذرا بڑا ہو جائے یعنی چار پانچ سال کا تو اس کیلئے ٹوتھ پیسٹ لیں اور خیال رکھیں کہ ٹوتھ پیسٹ فلورائیڈ والی ہو۔صبح ناشتے کے بعد اور رات بستر میں جانے سے پہلے ہر روز دانت صاف کر دائیں تاکہ عادت بن جائے۔ انشاء اللہ کبھی کیڑا وغیرہ نہیں لگے گا۔
بچوں کی غذا:بچوں کی غذا کا خاص خیال رکھیں۔ جو چیز آپ ان کو کھانے کی عادت ڈالیں گی وہی وہ ساری زندگی کھائیں گے لہٰذا اگر اچھا کھلائیں گی تو صحت مند رہیں گے اور برا تو جلد بوڑھے ہو جائیں گے۔بچوں کے تندرست جسم، مضبوط دانت اور ہڈیوں اور تازہ جلد کیلئے ضروری ہے کہ ان کی غذا میں دودھ، ہری سبزیاں، آٹا، رس دار پھل، انڈے، مرغی اور مچھلی شامل ہو۔ گوشت بھی ہفتے میں دو تین دفعہ دیا جا سکتا ہے۔بازار میں ملنے والی مٹھائیوں اور ٹافیوں سے ان کو بچائیں، دوسرے بچوں کو دیکھ کر ان کا دل بھی یقیناً چاہے گا اس لئے گھر میں ان کیلئے کیک بسکٹ وغیرہ لا کر کھلایا کریں۔گھر میں تازہ پھلوں کا جوس بنائیں اور ان کو روزانہ ایک گلاس پلائیں، لیموں اور مالٹا کینو، بہترین پھل ہیں۔ ان کا اسکوائش بنائیں۔چھوٹے بچوں کو کافی، کوک وغیرہ کی عادت مت ڈالیں کم نمک اور مرچوں والے کھانے کھلائیں۔ گوشت کھلائیں تو ہمیشہ اس پر سے ساری چربی اتار دیں۔ کیونکہ صحت مند بچہ تو بڑے ہو کر صحت مند انسان بنتا ہے لیکن موٹا بچہ بڑا ہو کر بھی موٹا رہتا ہے جو آگے جا کر اس کیلئے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔گھی کی بجائے تیل میں پکے ہوئے پکوان دیں اور تیل بھی کم سے کم استعمال کریں۔ کچی سبزیاں مثلاً گاجر، مولی اورکھیرا وغیرہ کھلائیں تاکہ دانت اور پٹھے مضبوط ہوں۔
دھیمی ، دیر پا خوشبو
پرفیوم کے استعمال میں موسم، محفل اور مزاج کو مدنظر رکھیں
پرفیوم کواستعمال کرنا بھی ایک فن ہے۔پرفیوم، ایک ایسی خوشبو جو آپ کو فریش رہنے میں مدد دے۔ آپ کو تازگی کا احساس دلاتی رہے۔
ایک ایسی خوشبو جو آپ کی شخصیت کو مزید اجاگر کرے اور آپ کی پہچان بن جائے۔بہت سے لوگ پرفیوم استعمال کرنے کے بہت شوقین ہوتے ہیں لیکن ان کی کوئی خاص چوائس نہیں ہوتی۔ وہ ہر بار ایک نیا پرفیوم استعمال کر لیتے ہیں۔ کبھی کبھار کے لئے تو یہ بات درست ہے لیکن ہمیشہ کیلئے نہیں۔ بہتر یہی ہے کہ پہلے اپنی پسند کا جائزہ لیا جائے۔مزاج کے مطابق خوشبو کا انتخاب کرنا بہت ضروری ہے کیونکہ بہت سے لوگ تیز خوشبو بالکل برداشت نہیں کر پاتے اور ان کے سر میں درد شروع ہو جاتا ہے۔ اس لئے آپ صرف نام دیکھ کر نہیں بلکہ اپنے مزاج کے مطابق خوشبو کا استعمال کریں۔
موقع کی مناسبت سے بھی پرفیوم استعمال کرنا ایک فن ہے۔ اگر آپ کسی آفس میں جا رہی ہیں یا دن کی کسی تقریب میں شرکت کر رہی ہیں تو ایسے موقع پر ہلکی دھیمی مسحور کن خوشبو کو ترجیح دیں۔اگر آپ رات کی کسی تقریب میں شرکت کر رہی ہیں تو پھر کوئی تیز خوشبو آپ کا بہترین انتخاب ثابت ہو سکتی ہے لیکن شرط صرف اتنی ہے کہ اس خوشبو سے نہ صرف آپ خود انجوائے کریں بلکہ دوسروں کو بھی خوش ہونے کا موقع دیں۔درست وقت پر درست خوشبو کا استعمال آپ کے موڈ میں خاصی تبدیلی کا باعث بن سکتا ہے اور آپ کے اندر خوشی کی لہریں پھیلا سکتا ہے۔ جیسے چینیوں کا کہنا ہے کہ چنبیلی کی خوشبو ایک گھٹے ہوئے ماحول کو کھلا احساس دیتی ہے اس لئے رات میں اپنے کمرے میں اس کا اسپرے ضرور کریں۔
خوشبوئیں کئی طرح کی ہوتی ہیں اور آج کل تو اس صنعت نے اتنی ترقی کر لی ہے کہ اس کی کئی اقسام موجود ہیں۔ پرفیوم، ڈیوڈرنٹ، ٹالکم پائوڈر وغیرہ۔ ایک وقت میں بہت سی مختلف خوشبوئوں کا استعمال آپ کو کنفیوژ کر سکتا ہے اس لئے ایک وقت میں ایک خوشبو کا ہی استعمال کریں۔پرفیوم کو صرف اپنے اوپر انڈیل ہی نہ لیں بلکہ سب سے پہلے اس جگہ پر لگائیں جہاں پسینہ زیادہ آتا ہے پھر کلائی، کان کے پیچھے اور کمر پر لگائیں۔ اس طرح خوشبو دیر تک قائم رہے گی اور آپ کو تازہ دم رکھے گی۔گرمیوں میں تو پرفیوم، باڈی اسپرے، ڈیوڈرنٹ وغیرہ کا استعمال اور بھی بڑھ جاتا ہے کیونکہ گرمی میں سورج کی حدت آپ کو پریشان کر ڈالتی ہے۔ نہانے کے کچھ دیر بعد ہی آپ خود کو دوبارہ سے تھکا تھکا سا محسوس کرنے لگتی ہیں۔ ایسے میں ایک بہترین خوشبو آپ کو دوبارہ سے فریش کر سکتی ہے۔
بزرگوں کیلئے گھر کی ترتیب
فرنیچر اور آلات کی تنصیب ایسی ہونی چاہئے کہ ان کے معمولات آسان ہوں۔
ماہرین کہتے ہیں کہ گھرکی تعمیر کے ساتھ فرنیچر اور آلات کی تنصیب بھی معمر افراد خاص طور پر بزرگ خواتین کی ضرورت کے مطابق ہونی چاہئے تاکہ ان کے معمولات آسان سے آسان تر ہوں اور کسی قسم کی رکاوٹ یا دقت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ چونکہ بزرگوں کی دیکھ بھال خواتین کے فرائض میں ہی شامل ہے لہٰذا اس سلسلے میں چند باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
قابلِ رسائی سوئچ بورڈز اور انٹرکام:بڑھتی عمر کے ساتھ نقل و حرکت کافی مشکل اور محدود ہوتی ہے۔ اسی لیے آپ کے گھر کے سوئچ بورڈز آسانی سے قابل رسائی ہونے چاہئیں۔اسی طرح، بزرگ افراد کے کمرے میں انٹر کام ضرور نصب کروائیں تاکہ کسی بھی لمحے وہ آپ سے فوری رابطہ کر سکیں۔ انٹرکام بستر کے بالکل قریب ہاتھ کے فاصلے پر نصب ہونا چاہئے۔دوسری صورت میں اگر وہ موبائل فون استعمال کرتے ہوں تو یہ فون ان کے نزدیک تر ہونا چاہئے۔
نماز کے لیے کرسی یا تخت: مرد بزرگ حضرات مسجد جا کر نماز اد اکرنا پسند کرتے ہیں لیکن اگر وہ کسی کمزوری یا نقاہت کی بنا پر گھر میں نماز پڑھنا چاہیں۔ یا پھر معمر خاتون جیساکہ والدہ یا دادی جو فرش پر جائے نماز بچھا کر نماز پڑھنے سے قاصر ہوں۔ تو ان کے لیے ایک کرسی کا انتظام کیا جائے تاکہ وہ بیٹھ کر بآسانی نماز ادا کر سکیں۔ کرسی کے علاوہ گھر میں لکڑی سے تیار کردہ تخت بھی رکھا جا سکتا ہے۔
لاٹھی، وہیل چیئر اور آرام دہ کرسی:بزرگ افراد کے استعمال میں آنے والی کچھ اشیا ایسی ہیں۔ جنہیں وہ ہر کچھ دیر بعدستعمال میں لا تے ہیں۔ ان میں لاٹھی، وہیل چیئر اور آرام دہ کرسی شامل ہیں۔ اگر کبھی ناساز طبیعت کے باعث وہ چلنے پھرنے میں کمزوری محسوس کریں تو کچھ وقت یا دن کے لیے لاٹھی کو زیرِ استعمال لا سکتے ہیں۔گھر والوں کے ساتھ کسی بھی آؤٹ ڈور سرگرمی یا چہل قدمی کے دوران وہیل چیئر استعمال کی جا سکتی ہے تاکہ بزرگوں کو زیادہ پیدل نہ چلنا پڑے۔ اسی طرح صحن یا باغیچے میں بیٹھنے کے لیے کی آرام دہ کرسی مناسب رہے گی۔
ڈائننگ چیئر پر کْشن کا استعمال:اپنے والدین اور دادا دادی کو کبھی علیحدہ کھانا پیش نہ کریں بلکہ گھر کے سب افراد کے ساتھ کھانے پر مدعو کریں۔ ڈائننگ ٹیبل پر کھانا کھانے کی صورت میں ان کے لیے چیئر پر آرام دہ کْشن کا انتظام کریں تاکہ وہ باقی گھر والوں کے ساتھ کھانا انجوائے کر سکیں۔
کمرے کی ترتیب:گھر کے تمام حصوں میں ضرورت سے زائد فرنیچر اور ڈیکوریشن والی چیزیں نہیں ہونی چاہئیں تاکہ عمر رسیدہ افراد آرام سے چل پھر سکیں۔ اسی طرح ان کے کمرے میں بھی سینٹر کارپٹ اور بلا وجہ آرائشی چیزیں موجود نہ ہوں تاکہ تمام آمد و رفت آسان ہو۔
کچن کارنر
سبز مرچ کو فریج میں رکھنے سے پہلے دھو کر اس کی اوپر کی ڈنڈی اتار دیں، اس طرح مرچیں کافی دیر کیلئے تازہ رہتی ہیں۔
سبز دھنیے کو اچھی طرح دھونے کے بعد ململ کے کپڑے میں لپیٹ کر فریج میں رکھنے سے کافی دیر تک فریش رہے گا۔
ٹماٹر کے قتلے گھی، مکھن یا تیل میں تلنے سے اپنی خوشبو اور ذائقہ کھو دیتے ہیں، اگر خوشبو اور ذائقہ برقرار رکھنا چاہتے ہیں تو ان کو چربی میں تلنے سے ان کی خوشبو اور ذائقہ برقرار رہے گا۔
دہی بڑوں کو نرم بنانے کیلئے پسی ہوئی دال میں دو چائے کے چمچ دہی ڈال دیں۔ اس دال کے بنے ہوئے بڑے نہایت نرم اور مزیدار ہوں گے۔
قیمے کی روٹی کو فریز کرنے کیلئے فریزر میں رکھنے سے پہلے میدہ چھڑک کر بٹر پیپر پر رکھیں تاکہ وہ چپکیں نہیں، ایک منٹ تک توے پر الٹ پلٹ کرکے فریز کر دیں تو بیس، پچیس دن تک خراب نہیں ہو گی۔
اگر مرچ تیز ہو جائے تو ایک پیاز برائون کرکے اخبار پر پھیلا دیں، تھوڑی دیر میں خستہ ہو جائے تو ہاتھ سے کچل کر سالن میں ڈال دیں اور ایک لیموں کا رس ڈال دیں مرچ کم ہو جائے گی۔
اگر سالن بنانے کے بعد شوربے، قورمے یا سبزی کے اوپر گھی یا تیل نہ آ رہا ہوآدھا چمچ اس میں قصوری میتھی شامل کر دیں، چند سیکنڈ کے اندر تیل یا گھی اوپر آجائےگا۔
اگر پنیر رکھے رکھے سخت ہو گئی ہو تو ایک ململ کے کپڑے کو سر کے میں بھگوئیں اور پنیر کو اس میں لپیٹ کر رکھ دینے سے یہ نرم ہو جائے گی۔
گوبھی اور بند گوبھی کے رنگ کو خراب ہونے سے بچانے کیلئے پکاتے وقت ایک چائے کا چمچ دودھ ڈال دیں۔
مرچیں کاٹنے کے بعد ہاتھوں کو جلن سے بچانے کیلئے ہاتھوں کو ٹھنڈے دودھ میں ڈبو دینے سے جلن ختم ہو جائے گی۔
جتنے پیاز استعمال کرنے ہوں ان کو رات کو پلاسٹک کی تھیلی میں ڈال کر اچھی طرح تھیلی بند کرکے فریج میں رکھ دیں، انہیں کاٹتے وقت آنکھوں سے پانی نہیں بہےگا۔
باسی چاولوں کو تازہ کرنے کیلئے دیگچی میں پانی ابالیں اور اس میں باسی چاول ڈال دیں۔ ایک ابال کے بعد پانی چھان کر چاولوں کو دم پر رکھ دیں۔
گیہوں گلانا دشوار کام ہے بعض اوقات کئی گھنٹے پکانے کے باوجود گیہوں نہیں گلتے۔ اگر انہیں میٹھا سوڈا ڈال کر گلایا جائے تو زیادہ پکائے بغیر ہی اندر تک گل جائیں گے۔
چولہے پر رکھی ہوئی دیگچی میں دودھ ڈالیں تو وہ پھٹ جاتا ہے۔ اس لئے دیگچی کو نیچے اتار کر ٹھنڈا کریں پھر دودھ ڈال کر گرم کریں۔
عام طور پر لوگ گردوں کے سخت ہو جانے کی شکایت کرتے ہیں۔ گردے پکاتے وقت سب سے آخر میں نمک ڈالیں، کیونکہ شروع میں نمک ڈال دینے سے یہ سخت ہو جاتے ہیں۔
بشکریہ: دنیا میگزین


