//اشرفیاں لٹیں۔ کوئلوں پر مُہر
KYA MARD

اشرفیاں لٹیں۔ کوئلوں پر مُہر

. تحریرنعیمہ طاہر کلکتہ

اس محاورہ کو اس وقت استعمال کرتے ہیں جب کوئی شخص نقصان تو برداشت کرلے اور خاموش بیٹھ رہے۔ لیکن اگر کبھی کوئی معمولی سا نقصان ہوجائے تو واویلا شروع کر دے۔خود بھی پریشان ہو دوسروں کو بھی پریشان کرے۔Penny wise, found foolish کہتے ہیں۔ درحقیقت اس کا مطلب تو یہ ہے کہ کوئی چند ٹوٹکے بچانے کے لئےتو احتیاط کرے اور کفایت شعاری اختیار کرےمگر بڑے بڑے نقصان آنکھ بند کر کے برداشت کر لے۔ بالفاظِ دیگر یہ کہاوت اس شخص پر صادق آتی ہےجو برموقع تھوڑاسا خرچ بھی برداشت نہ کرے اور بعد میں نقصان برداشت کرنے پر مجبور ہو ۔

کفایت بلاشبہ ایک قابل قدر وصف ہے جس کی اچھائی اور بھلائی پر قیمتی مضامین لکھے جا سکتے ہیں مگراس کےیہ معنی ہرگز نہیں ہیں کہ واقعی ضرورت پر بھی خرچ نہ کیا جائے۔ جس کا نتیجہ یہ ہو کہ بعد میں بہت بڑا نقصان لازم آنے پر غیر معمولی زیرباری کا شکار ہونا پڑے۔

بے جاکفایت شعاری کا مطلب صرف اس قدر ہے کہ انسان چا در دیکھ کر پاؤں پھیلائے ۔ اپنی آمدنی کے اندراندر خرچ کرے جس سے ضروریات زندگی پوری ہو سکیں۔ اس کے بعد جو کچھ بچے اس کو آڑے وقت کے لئے محفوظ کر لیا جائے۔ کفایت شعاری کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ ہرقیمت پرروپیہ بچایا جائے ۔ بھلا ایک شخص جوروپیہ پیسہ بچانے کیلئے اپنے تئیں ضروریات زندگی سے محروم کر دے اور جائز آرام و راحت سے بھی فائده نہ اُٹھائے تو وہ کفایت شعار کیسی کی البتہ اسے کنجوس مکھی چُوس کا نام ہی دیا جاسکتا ہے۔

وہ شخص بڑاہی نادان اور کوتاه بین ہے جو کفایت شعاری کے نام پر معمولی مگر بے حد ضروری اخراجات سے پہلوتہی کرتاہے اور نتیجہ یہ ہوتا ہے ۔ کہ پھر بادل ناخواستہ زرکثیر کا صرف برداشت کرتا ہے۔مثال کے طور یہ ایک شخص چند پیسے بچانے کیلئے خراب کھانا کھا لیتا ہے اور دل میں خوش ہوتا ہے کہ اس نے سیر ہو کر کھا لیا ہے اور وہ بھی ارزاں خرید کر۔ لیکن جب وہ اس خراب کھانا کھانے کےنتیجہ میں بیمار ہوتا ہے۔اور تکلیف اٹھانے کے علاوہ ڈاکٹر کا بل ادا کرنے لگتا ہے تو اس کو سمجھ آتی ہے کہ خراب کھانا کتنا مہنگا پڑا۔ اگر وہ اچھا کھانا خرید کر کھاتاتو اس کی تندرستی برباد نہ ہوتی۔ نہ تکلیف اٹھاتا، نہ ترش وتلخ دوائیاں استعمال کرتا، نہ ڈاکٹر کا بھاری بل ادا کرنا پڑتا۔ اور نہ ہزار نعمت جیسی تندرستی کو گھن لگتا ۔

الغرض اس قسم کی سینکڑوں مثالیں دی جاسکتی ہیں۔ جن سے پتہ چلتا ہے کہ بے محل کفایت شعاری انسان کو لے ڈوبتی ہے ۔ کیونکہ ایسا شخص بعد میں بڑے بڑے نقصان اٹھا تا ہے اور جگ ہنسائی الگ ہوتی ہے۔

 کہتے ہیں کو ئی تاجرتھا۔ جن کا تجارتی سامان سے لدا ہوا جہاز بندر گاہ کے قریب پہنچ چکا تھا۔ اچانک ایک ایساحادثہ پیش آیا کہ وہ جہاز ڈوبنے لگا۔ یہ دیکھ کر مالک جہاز نے عام اعلان کر دیا کہ جو شخص مال بچا کر کنارے لگادے گا۔ اُسے آدھامال دے دیا جائے گا ۔ یہ اعلان سنتے ہی ماہر تیراک اور اپنےکام کے استاد انعام کے لالچ میں ایک آن کی آن میں جہاز تک پہنچے اور جان جوکھوں میں ڈال کر سارا مال کنارے پر لے آئے اور اسی طرح مالک جہاز نے اپنا آدھامال بالکل بچا لیا۔ اس سے یہ کہاوت مشہور ہوئی کہ سارا دن جاتا دیکھئے تو آدھا دیجئے بانٹ۔کیونکہ اگر تاجر ایسا نہ کرتا تو سارا مال غرق ہو جاتا لیکن اگر بے وقوف ہوتا اور لوگوں کو امداد کے لئے نہ بلا تا اور نہ ہی انعام کی پیشکش کرتا تو ایک پائی بھی نہ بچتی۔

الغرض برموقع ضروری خرچ برداشت کر لینا بڑی عقل مندحکمت عملی ہے اور اس کےبرعکس رویہ اختیار کرنا انتہائی بے وقوفی اور نادانی۔ لہٰذا بیکار کاموں میں کفایت شعاری کرنی چاہئے لیکن ضروری اور دینی کاموں میں فراخ دلی سے کام لینا چاہئے۔ دنیاوی کاموں کے مقابلہ میں دینی کاموں میں حصہ لیتے وقت کفایت شعاری کو بھول کر بھی یاد نہیں کرنا چاہئے۔