الوداع۔ ایک لمحہ، ایک حسین یاد
تحریر: مدثرہ عباسی
معاونات: فوزیہ بٹ، فرزانہ رفیع
کبھی کچھ لمحے صرف وقت کے صفحے پر نہیں، دل کی دیواروں پر نقش ہو جاتے ہیں۔ اس دن بھی ایسا ہی ایک لمحہ تھا۔ نہایت حسین، مگر اندر سے اداس؛ جنسی کے پردے میں چھپی ہوئی جدائی کی ایک کہانی۔ ہم سب سہیلیاں – آبگینے گروپ کی خوشبو بکھیرنے والی، ایک ساتھ ہنسنے، رونے، جینے والی ، ایک مقصد کے تحت جمع ہوئیں۔ وہ مقصد تھا: ہماری پیاری، ہر دلعزیز سہیلی کو الوداع کہنا۔ وہ جو ہماری محفل کی جان ہے۔
آپ کہتی ہیں:
حوصلہ وقت رخصت کیا تھا مگر
ایک آنسو کہیں جھلملاتا رہا
دل ہمارا کرانے کا گھر تو نہ تھا
ہر نیا غم یہاں آتا جاتا رہا
پروگرام کا باقاعدہ آغاز تلاوت قرآن پاک، سورۃ البقرہ ؛ آیت نمبر 287 سے ہوا ۔ ایک پیاری سہیلی جو حافظہ قرآن ہیں ، نے بڑی خوش الحانی سے بمعہ ترجمہ پڑھی ان کی تلاوت سحر انگیز تھی۔
پھر کیا تھا بس رنگوں کی بہار ، خوشبوئیں، قہقہے، تحائف، تصویریں، اور وہ بے مثال میزبانی جس نے سب کو حیران کر دیا۔ سوچا بھی نہ تھا کہ ہسپتال سے آئی ہوئی میزبان اتنی حوصلہ مند ہو گی۔ اس کے چہرے پر تھکن کا شائبہ تک نہ تھا، صرف ایک چمک تھی ۔ محبت کی، شکر گزاری کی، اور شاید ایک خاموش فراق کی۔ گھر ایک چمن بن چکا تھا۔ پھولوں کی خوشبوؤں میں لپٹا ہوا، دلوں کی گرمی سے روشن، مہمان نوازی کی اعلیٰ مثال۔ ہرسہیلی کے ہاتھ میں ایک تحفہ، اور دل میں بے شمار دعائیں تھیں۔ کہیں ہنسی کی کھنک گونج رہی تھی، تو کہیں کوئی نظریں چرائے آنسو پونچھ رہا تھا۔ بظاہر خوشیوں کی محفل، مگر اندر ہی اندر ہر دل ایک دعا مانگ رہا تھا:
(از درثمین)
ہر گام پہ فرشتوں کا لشکر ہو ساتھ ساتھ
ہر ملک میں تمہاری حفاظت خدا کرے
پر تکلف کھانوں سنت محمدی (صلی اللہ علیہ وسلم) کے مطابق کلو جمیعاً کیا گیا۔ کھانا کھا لینے کے بعد جب لمحے بکھرنے لگے، تصویریں لی جا چکیں، باتیں ہو چکیں، تب وہ گھڑی آپہنچی جس کا ہم سب کو ڈر تھا۔ جدائی کا وقت۔ گلے لگتے لحے، کانپتی آوازیں، اور آنکھوں کی نمی… کچھ سہیلیوں نے چپ چاپ ہاتھ تھاما، کچھ نے بوسہ دیا اور کہا:
یہ الوداع صرف زبان سے ہے، دل سے نہیں۔
ہ منظر … جب سب نے پلٹ کر ایک بار اور دیکھا، اور دعا دی،
یا رب! اسے اور ہم سب کو سلامت رکھنا، خوش رکھنا، اور ہمیشہ اپنے حفظ و امان میں رکھنا۔ وہ منظر ہمیشہ کے لیے دل میں نقش ہو گیا۔
یادیں، الفاظ سے نہیں بندھتیں۔
یہ لمحے، یہ آنسو، یہ مسکراہٹیں۔ سب ایک عکس کی صورت رہ جائیں گے۔
لیکن ہم سب جانتے ہیں:
یہ الوداعی محفل، ایک نئی شروعات کی نوید ہے
اور اس نئی شروعات میں ترقی کی امید اور روشنی کی کرن ہے جو ہماری اس سہیلی کی منتظر ہے۔ اب یہاں یہ بھی بتاتی چلوں کی کہ جب پروگرام تشکیل دیا گیا شدید گرمی تھی مگر اس شام کو رنگین ، یادگار اور مستانی بنانے میں اللہ تعالیٰ نے ہمارا خوب ساتھ دیا اور موسم کو خوشگوار اور حسین بنا دیا میزبان کے اس خوبصورت باغ میں لہلہاتی شوخ کلیاں اور ہوا کے ساتھ اٹکھیلیاں کرتے درخت اور ان کے تالیاں بجاتے پتے جس خوشی کا احساس دلا رہے تھے اس سے میزبانِ دعوت کے دل کی خوشی کو اللہ تعالیٰ نے نواز دیا اور یہ جذبہ سب کے لئے خوشی کا باعث بن گیا۔ اشتہا انگیز خوشبو کے ساتھ لذیذ کھانوں، سویٹ ہاش، پاکستانی میٹھے آم اور پان کے ساتھ کچھ پیاری سہیلیوں سے ان کے کلام بھی سنے گئے۔ ایک سہیلی کا کہنا ہے کہ:
میں نے کب چاہا تھا کہ درد عیاں ہو ایسے
اشک بادل کی طرح توڑ کنارے سارے
پھر اور سہیلیوں کی دل کو موہ لینے والی شاعری اور خلافت کے موضوع پر گنگناتی نظموں نے اس حسین شام کو مستانی شام بنا دیا پھر دوستی پر چند اشعار رقم کئے گئے ۔ جسکا لب لباب یہ تھا کہ:
دوستی کارنگ، ہر رشتہ سے نرالا ہوتا ہے
یہ دلوں کا ربط ہے، باقی تو حوالہ ہوتا ہے
آنکھ سے دور سہی دل سے کہاں جائے گا
جانے والے تو ہمیں یاد بہت آئے گا۔(عبیدالله عليم)


