اداریہ
ایک پُر سکون گھر
مدثرہ عباسی ۔ مدیرہ
آج جب میں نے گھر کے بارے میں لکھنے کے لئے قلم اٹھایا تو احساس ہؤا کہ اس لفظ میں چُھپے اور ڈَھکے اتنے مضامین ہیں کہ اب یہ سوچ کہ لکھوں تو کس پر لکھوں۔ پہلی چیز تو جو ذہن میں آتی ہے وہ گھر کی بنیاد ، اس کی تعمیر ، قدیم ہے، نیا ہے، علاقہ کیسا ہے، کہاں ہے ، وغیرہ وغیرہ، پھر یہ گھر کا حجم چھوٹا ہے، اگر چھوٹا ہے تو کیا ضروریات پوری کر سکتا ہے پھر اگر بڑا ہے تو کتنا بڑا ہےکہ کیا یہ گھر آرامدہ ہے،شاندار ہے، وسیع ہے، پر سکون ہے، اس میں کون کون سی سہولیات موجود ہیں۔
انگریزی میں بھی گھر بیان کرنے کے لئے بے تحاشہ الفاظ ہیں۔ یعنی کہ:
Cosy, rustic, vintage, Minimalistic, luxurious, glamorous, contemporary, elegant, stylish, specious, artistic nature and so on……………
پھرگھر کے مکین ہیں جومکان کو گھر بناتے ہیں۔یعنی کہ ہر گھر کو ایک سربراہ کی ضرورت ہے، اس کے ساتھ ساتھ جس گھرکے افراد ایک دوسرے کی خوبیوں کو اجاگر کرنے والے اور خامیوں سے صرف نظر کرنے والے ،باہمی ذمہ داریوں کے ادا کرنے میں پرجوش اور اپنے حقوق کے بارے میں ایثار آشنا ،ایک دوسرے کو درگذر کرنے والےاور حلم کے پیکر ہوں ،صبر کے عادی اور شکر سے متّصف ہوں ایسا گھرانہ سکون اور اطمینان محبت اور جنت نظیر معاشرہ کہلا سکتاہے۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ کسی بھی قوم کی صحت مند تعمیر اورمثبت ترقی میں اصل اور بنیادی کردار اس قوم کے مقتدر حلقوں اور حکمرانوں کا نہیں ہوتا بلکہ اس قوم کی اکائیوں یعنی گھر کے سربراہوں کاہوتا ہے ، گھر کے سربراہ کا حسن ہی قوم کا حسن ہے۔گھر ایک چھوٹی سی مملکت ہے جس کی سرحدیں میاں بیوی اور بچے ہوتے ہیں۔ میاں کی حیثیت اگر صدر کی ہے تو بیوی کو وزیر اعظم خیال کیجیے، جب کہ بچوں کا معاملہ رعایا کا سا ہے۔ اس چھوٹی سی سلطنت کی مضبوطی گھر کے تمام افراد کے درمیان مہر و محبت اور انس و پیار سے ہوتی ہے۔ اگر گھروں کے اندر یہ بات پیدا ہوجائے تو اچھی ریاست وجود میں آجاتی ہے۔ غرض کہ میاں اور بیوی گھر کی چھوٹی سی مملکت کو بناتے اور سنوارتے ہیں اور ان دونوں کے تعاون سے گھر بنتا ہے یا بگڑتا ہے۔ دونوں اگر ایک دوسرے کے دست و بازو بنیں گے اور مل جل کر بچوں کی تعلیم و تربیت کریں گے تو وہ گھرانا جنت نظیر بن جائے گا یاد رکھیے حسن سلوک ہو یا دعوت و تبلیغ، اس کے اولین حق دار اہل و عیال ہوتے ہیں۔گھر کے افراد کے مل جل کر رہنے سہنے سے ہی معاشرتی زندگی کی داغ بیل پڑتی ہے اور عقیدہ و فکر کی یکسانی سے ہی کوئی قوم وجود میں آتی ہے۔ جس طرح کسی دیوار کی تعمیر میں ہر اینٹ اہمیت رکھتی ہے، اسی طرح قوم کی تعمیر و ترقی میں ہر فرد کی حیثیت مسلم ہے اور افراد کی تعلیم و تربیت کا پہلا مرکز گھر ہے۔انسان کے لیے گھر اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے ۔ہم جب اپنے چاروں اطراف نظر دوڑاتے ہیں تو کتنے ہی لوگ ایسے نظر آئیں گے ، جو گھر جیسی نعمت سے محرومی کی وجہ سے سڑکوں کے کنارروں اور پارکوں میں پڑے راتیں بسر کرتے ہیں یا چھت کی عدم دستیابی کے سبب خیموں میں زندگی کے دن گزار نے پر مجبور ہیں ۔ ایسی صورت میں گھر کی سہولت جیسی نعمت کا احساس دو چند ہوجاتا ہے اوراگر یہ نعمت خداوندی ہمارےپاس موجود ہے تو اس پر اللہ تعالی کا جتنا شکر ادا کیا جائے کم ہے ۔اس اعتبار سے گھر کے سر پرست پر کچھ ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں جن پرعمل پیرا ہو کر وہ اپنے اور اپنے گھر والوں کے لیے نجات کاسامان کرسکتا ہے او ر روز ِقیامت اپنی مسؤلیت سے عہدہ برآ ہوسکتا ہے ۔گھریلو معاملات کی اصلاح اور اولاد ووغیرہ کی دینی واخلاقی تربیت گھر کےسر پرست کی ذمہ داری ہے ۔گھر چھوٹا ہو یا بڑا، آپ کی تمام ضروریات کا مظہر ہو مگرایسا گھرنہ ہو جو صرف دکھاوا بن جائے ۔ایک قصہ مشہور ہے کہ ایک عورت نے انگوٹھی بنوائی اور اس کے اظہار کے لئے بہت طریق استعمال کئے مگر کسی نے توجہ نہ کی۔ آخر اُس نے اپنے گھر کو آگ لگا دی۔ جب لوگ دوڑ کرآگ بجھانے کے لئے آئے تو اتفاقاً ایک عورت کی انگوٹھی پر نظر پڑ گئی۔ اُس نے کہا بہن یہ انگوٹھی تم نے کب بنوائی تھی۔ اس نے کہا کم بخت اگر تو اس کے متعلق پہلے ہی پوچھ لیتی تو میرا گھر کیوں جلتا۔ایسا تو کوئی بیوقوف ہو گا جو ایک انگوٹھی کے دکھانے کے لئے اپنے گھر کو آگ لگا دے مگر ہاں اس حکایت کے بنانے والے نے اس سے یہ ظاہر کیا ہے کہ انسانی فطرت میں یہ بات ہے کہ وہ اپنی اچھی چیز کو ظاہرکرنے کی کوشش کرتا ہے۔ پس جب انسانی فطرت میں یہ بات پائی جاتی ہے اور پھر مذہب خدا کی نعمتوں میں سے ایک بہت بڑی نعمت ہے تو جس کے پاس یہ ہو، اس کے دل میں اس کے ظاہر کرنے کے لئے کم از کم اس عورت جتنا تو جوش ہونا چاہئے، جس نے انگوٹھی دکھانے کے لئے اپنے گھر کو آگ لگا دی تھی۔ جس کے پاس سچا مذہب ہو، اسے تو اس وقت تک چین نہیں آنا چاہئے جب تک کہ اپنے مذہب کا اظہار دوسروں پر نہ کرلے۔
(خطباتِ محمود جلد 5 صفحہ328 بحوالہ الفضل 25 نومبر 1916ء)


