اسلامی تعلیمات

حضرت ریحانہ رضی اللہ عنھا

Spread the love

حضرت ریحانہؓ کے بارہ میں اختلاف

زمانہ کے لحاظ سے حضرت ریحانہ ؓ کا ذکر6ہجری میں اور ترتیب کے لحاظ سے حضرت جویریہ ؓکے بعد آتا ہے۔لیکن ان کے بارہ میں پائے جانے والے اختلاف کے باعث اس بحث کورکھا گیا۔ آخر میں ان کےبیان کی وجہ یہ اختلاف ہےکہ آیا وہ قطعی طور پر ازواج میں شامل ہیں یا نہیں؟ اعتراض یہ کیاجاتا ہے کہ وہ کنیزتھیں اسلئےاس کتاب میں ان کا ذکر نہ کرکےاس اعتراض کو لاجواب بھی نہیں چھوڑا جاسکتا۔

یہاں یہ امر بھی قابلِ ذکرہے کہ کتب سیر میں جن خواتین کے رسول اللہﷺسے منسوب رہنے کے بعداورآپؐ کے حرم میں شامل ہونےسے پہلے طلاق یاوفات پانے کاذکر ہےان کوازواج کی فہرست میں شامل نہیں کیا گیا۔بہرحال یہ بات نہایت اہم ہے کہ تاریخ میں کسی اور خاتون کی بطور زوجہ رسول اللہﷺ موجودگی کا اسطرح ذکر نہیں ملتا جس طرح حضرت ریحانہؓ کا۔اس تاریخی ریکارڈ کا خلاصہ یہ ہے۔

(1)حضرت ریحانہؓ کا حق مہر قریباً بارہ اوقیہ رسول اللہﷺ نےادافرمایا۔اور رسول اللہﷺ کے فیصلہ کےمطابق لونڈی یاملکِ یمین اور زوجہ کے درمیان مابہ الامتیاز حق مہر ہے۔ پس حضرت ریحانہؓ بھی حرم میں شامل تھیں نہ کہ کنیز۔

(2) حضرت ریحانہؓ کے نکاح اور رخصتی کے بعد طلاق کا ذکر بھی ملتا ہے۔ لونڈی کی صورت میں طلاق کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوسکتا۔ پس حضرت ریحانہؓ زوجۂ رسولؐ تھیں۔

(3)آنحضورﷺ کا حضرت ریحانہؓ کے لئے الگ رہائش کا انتظام اور دیگر ازواج جیسی باری کی تقسیم بھی ان کے زوجہ ہونے پر دلیل ہے۔

(4)حضرت صفیہؓ کی طرح حضرت ریحانہؓ سے بھی رسول اللہﷺ کا ازواج النبیؐ کی طرح پردہ کروانابھی ان کے زوجہ ہونے کی واضح علامت ہے۔

(5)اسیرِ جنگ ہونےکےلحاظ سےاگر صفیہؓ اور جویریہؓ سےگہری مماثلت کے باوجودحضرت ریحانہؓ کو زوجہ تسلیم نہ کیا جائے تو تینوں کو کنیز ماننا پڑیگا کیونکہ تینوں جنگی قیدی اور اموال فۓ میں سے تھیں۔

جہاں تک رسول اللہﷺ سے منسوب دیگرخواتین کاذکر ہے۔ اِن میں سے کسی ایک میں بھی حضرت ریحانہؓ والی خصوصیات موجودنہیں کیونکہ یا تو ان خواتین سے نکاح ہی نہیں ہوا ،صرف پیغام کے بعد معاملہ ختم ہوا جیسے ام شریک،خولہ بنت الھذیل،اسماءبنت الصلت،اسماء بنت النعمان،آمنہ،ام حرام وغیرہ یا بعض ایسی تھیں کہ باقاعدہ رخصتی عمل میں آنے سے پہلےہی اور طلاق ہوگئی جیسےعمرۃ بنت یزید بن الجون،عالیہ بنت ظبیان وغیرہ ان میں سے کسی کوبھی رسول اللہﷺ کی صحبت میں رہنے کا موقع نہیں ملا۔اور کسی مؤرخ یا سیرت نگارنے بھی ان کو حضرت ریحانہؓ کی طرح زوجہ قرار نہیں دیا۔

علامہ ابن الاثیر اس بارہ میں لکھتے ہیں:۔‘‘ایسی خواتین جن کی رسول کریمؐ کے ہاں رخصتی نہیں ہوئی یا محض پیغامِ نکاح بھجوایا اور عقد مکمل نہ ہوا یا کسی عورت نے آپ سے پناہ چاہی اورآپؐ نے طلاق دے دی تو ان امور میں بہت اختلاف ہے جس کے ذکر کا کوئی فائدہ نہیں۔‘‘

ان خواتین کے مقابل پر حضرت ریحانہؓ کے زوجہ ہونے کا ذکر مؤرخ طبری وابن سعد،محدث ابن الجوزی اور شارح بخاری علامہ ابن حجر نے انکی مذکورہ خصوصیات کی بناء پرکیاہے۔

نام و نسب

حضرت ریحانہ ؓبنت زید بن عمرو بن خنافہ کی بیٹی تھیں جن کا تعلق مدینہ کے یہودی قبیلہ بنو نضیر سے تھا۔ ان کی شادی بنو قریظہ کے ایک یہودی حکم نامی سے ہوئی تھی جوغزوہ بنو قریظہ میں مارا گیا۔اس لحاظ سے بعض نے آپ کو بنو قریظہ میں بھی شمار کیا ہے۔

بنو قریظہ کی غداری

اس جگہ رسول کریمﷺکے ساتھ بنو قریظہ کی غداری اور مدینہ سے یہود کی جلاوطنی کا مختصرًا ذکرضروری ہے۔ آنحضرتﷺ جب غزوہ ٔ خندق سے فار غ ہو کر گھر واپس تشریف لائے تو ابھی آپؐ بمشکل ہتھیار وغیرہ اتار کر نہانے دھونے سے فارغ ہی ہوئے تھے کہ ایک فرشتہ کےذریعہ یہ ارشاد ہوا ‘‘ جب تک بنو قریظہ کی غداری اور بغاوت کا فیصلہ نہ ہو جائے آپؐ کو ہتھیار نہیں اتارنے چاہئیں تھے۔’’ چنانچہ آپؐ نے حضرت علی ؓ کو صحابہ کے ایک دستے کے ساتھ فوراًبنو قریظہ کی طرف روانہ کر دیا۔ یہ ذوقعدہ5ھ کا واقعہ ہے۔کچھ دیر بعدخود آنحضرتﷺ بھی مسلح ہو کر مدینہ سے روانہ ہوئے۔ جب آپؐ بنو قریظہ کے قلعوں کے قریب پہنچے تو حضرت علی ؓ نے آپؐ سے عرض کیا یا رسول اللہﷺ! میرے خیال میں آپ کا آگے جانا مناسب نہیں ، ہم خود ہی ان سے عہد شکنی کرنے والوں سے نمٹ لیں گے۔ آپؐ اپنی بصیرت خداداد سے ساری صورتحال سمجھ گئے اور فرمایاکیا بنوقریظہ نے میرے متعلق کوئی بدزبانی کی ہے۔ حضرت علی ؓ نے اثبات میں جواب دیا۔ تب آپؐ نے فرمایا حضرت موسٰیؑ کو ان لوگوں کی طرف سے اس سے بھی زیادہ تکالیف پہنچی تھیں۔ پھر آپؐ نے بنو قریظہ کے ایک کنوئیں پر پہنچ کر ڈیرہ ڈال دیا۔اور یہودِ بنوقریظہ نےمحصور ہوکرمقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا۔

شروع شروع میں تو یہ لوگ سخت تمرّد اور غرور کا اظہار کرتے رہے لیکن وقت کے ساتھ انہیں محاصرہ کی سختی اور اپنی بے بسی کا احساس ہونےلگا۔ انہوں نےباہم مشورہ کیا جس میں انکے رئیس کعب بن اسد نے ان کے سامنے تین تجاویز رکھیں۔ (1)ہم محمدؐ پر ایمان لا کر مسلمان ہو جائیں کیونکہ فی الحقیقت محمدؐ کی صداقت عیاں ہو چکی ہے اور ہماری کتب میں بھی اسکی تصدیق پائی جاتی ہے۔ (2)ہم اپنے بچوں اور عورتوں کو قتل کر دیں اور پھر انجام سے بے فکر ہو کر میدان میں نکل آئیں۔ (3)آج سبت کی رات ہے۔ محمدؐ اور اس کے اصحاب اپنے آپ کو ہماری طرف سے امن میں سمجھتے ہیں۔ آج ان پر شب خو ن مارا جائے۔ کسی تجویز پر اتفاق رائے نہ ہوسکا۔ محاصرہ کےکم و بیش بیس20دن بعد یہودنے اوس قبیلہ کے اپنےایک حلیف اور رسول اللہﷺکے صحابیؓ حضرت سعد بن معاذؓ کو حَکم مان لیا اور اپنے قلعوں کےدروازے اس شرط کے ساتھ کھولنے پر رضامند ہو گئے کہ سعدجو فیصلہ ہمارے متعلق کریں گےوہ ہمیں منظور ہو گا۔ آنحضرت ﷺ نے بھی یہ تجویز منظور فرماتے ہوئےحضرت سعد ؓ کو بلوابھیجا۔ان کی تشریف آوری پر آپؐ نے صحابہ سے فرمایا ، اپنے سردار کے احترام میں کھڑے ہوجاؤ۔ پھر آپؐ نے فرمایا سعد!بنو قریظہ نے تمہیں حَکم مانا ہے ان کے متعلق تم جو بھی فیصلہ کرو انہیں منظور ہو گا۔ حضرت سعدؓ نے یہ پوچھ کر کہ آپ کو بھی وہ فیصلہ منظور ہوگاان کی شریعت کے مطابق یہ فیصلہ سنایا کہ بنو قریظہ کے جنگجو لوگ قتل کر دئیے جائیں۔ انکی عورتیں اور بچے قید کر دیئے جائیں اور انکے اموال مسلمانوں میں تقسیم کر دیئے جائیں۔ آنحضرت ؐ نے یہ فیصلہ سن کر بے ساختہ فرمایا

‘‘یہ فیصلہ الہیٰ قانون کے مطابق اور ایک ایسی تقدیر ہے جو ٹل نہیں سکتی۔‘‘

پس یہ ایک خدائی تقدیر ہی تھی مگر خدا تعالیٰ کو یہ منظور نہ تھا کہ اس کے رحیم وکریم رسول ؐکے ذریعہ سے یہ سخت فیصلہ جاری ہو۔ اگر یہود آنحضرت ﷺ کو اپنا حَکم مانتے تو لازمًا رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ حضرت محمد ؐ بنونضیر کی طرح بنوقریظہ کی بھی جان بخشی کر دیتے۔ کس دلی درد سے آپؐ فرماتے تھے کہ اگر یہود میں سے دس(بڑے) آدمی بھی مجھ پر ایمان لے آتے تو میں امید رکھتا تھا کہ یہ ساری قوم مجھے مان لیتی۔ اورخدائی عذاب سے بچ جاتی۔

چنانچہ دوسرے دن جب فیصلے کا اجراء ہونا تھا آپؐ نے بتقاضائے رحم یہ حکم بھی صادر فرمایا کہ مجرموں کو الگ الگ کر کے سزادی جاوے یعنی ایک کے قتل کے وقت دوسرے مجرم پاس نہ ہوں تاکہ وہ یہ دلخراش منظر نہ دیکھیں۔ جب حُییی بن اخطب رئیس بنونضیر کے قتل کی باری آئی تو وہ آنحضرت ﷺ کو دیکھ کر کہنے لگا اے محمدؐ ! مجھے یہ افسوس نہیں کہ میں نے تمہاری مخالفت کیوں کی لیکن با ت یہ ہے کہ جو خدا کو چھوڑتا ہے خدا بھی اسے چھوڑ دیتا ہے۔ جب آنحضرت ﷺنے اسے اشارۃً اسلام قبول کرنے کی دعوت دی تو اس نے کہا کہ اےابوقاسم! میں مسلمان تو ہو جاتا مگراب لوگ کہیں گے موت سے ڈر کر میں نے ایسا کیا۔ ایسے جنگی مقتولین کی تعداد چند سو سے زیادہ نہ تھی۔کیونکہ روایات میں مذکور ہے کہ اس دن جس یہود ی کی بھی سفارش آئی یا اس نے اسلام قبول کر لیا ، آپؐ نے اسے معاف کرکےآزاد فرمادیا۔ جہاں تک قیدی بچوں اور عورتوں کا تعلق ہے تو وہ سب مدینہ میں ہی رہے۔ آنحضرت ؐ نے انہیں حسبِ دستور اپنےمختلف صحابہ کی نگرانی میں تقسیم فرما دیا تھا۔پھر ان میں سے بعض نے اپنا فدیہ ادا کر کے رہائی حاصل کر لی اور بعض کو آنحضرتؐ نے بطور احسان چھوڑ دیا تھا۔

حضرت ریحانہ ؓسے شادی کی بحث

جیسا کہ ذکر ہو چکا ہے کہ غزوہ احزاب کے موقع پر مسلمانوں کے حلیف اور معاہد بنو قریظہ نے عہد شکنی کرتے ہوئے مشرکین مکّہ کے ساتھ مل کر مسلمانان مدینہ پر حملہ کرنے کا ارادہ کیا تو جنگ احزاب کے بعد ان کے خلاف کارروائی ضروری ہوگئی۔مسلمانوں کی پیش قدمی پر بنوقریظہ قلعہ بند ہو کر مقابلہ پر اترآئے۔ بالآخر مدینہ سے نکل جانے کے معاہدہ پر انہیں مدینہ چھوڑ نا پڑا چند سو جنگجو مرد مارے گئے۔ اس تعداد میں اختلاف کی بحث کا یہ موقع نہیں۔یہاں اصل بحث طلب امرقید ہونیوالے بچوں اور عورتوں میں ایک خاتون ریحانہ کا معاملہ ہے۔جو مال فے میں شامل ہونے کے باعث رسول اللہ ﷺکی ملکیت تھیں۔ان کے بارہ میں متنوع روایات کے باعث محدثین، مؤرخین اور اہلِ سیر میں اختلاف ہے کہ وہ رسول اللہﷺکے حرم میں شامل تھیں یا کنیز تھیں۔

محدثین میں سے امام حاکم نے مستدرک میں،امام طبرانی نے معجم الکبیر میں اورعلامہ بیہقی نے سنن الکبریٰ میں حضرت ریحانہؓ کے علاوہ شاہِ مصر کی طرف سے رسول کریمﷺکی خدمت میں بھجوائی گئی خاتون حضرت ماریہؓ کو بھی کنیز لکھا ہے۔ ان کے نزدیک حضرت ماریہؓ کے ہاں صاحبزادہ ابراہیمؓ کی ولادت پر بطور امّ ولد انہیں ازواج النبیؐ میں شامل کرلیا جاتا ہے۔یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ رسول اللہﷺ کو سورہ احزاب کی آیت 53،51میں ملکِ یمین کی جو اجازت تھی اس سے آپؐ نے فائدہ نہیں اٹھایا۔ اورجنگی قیدی بنانے کی اس استثنائی اجازت کواس حکم سےمشروط رکھاجس میں ارشاد ہے مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسْرَی حَتَّی يُثْخِنَ فِي الأرْضِ(الانفال:68)یعنی کسی نبی کیلئے جائز نہیں کہ زمین میں خونریز جنگ کئے بغیر قیدی بنائے۔مگر رسول اللہﷺ نےاس جواز کے باوجود کبھی کوئی کنیز نہیں رکھی۔پس حضرت ماریہؓ تو روزِ اوّل سے ہی زوجۂ رسولؐ تھیں کیونکہ وہ جنگی قیدی نہ تھیں۔یہی صورت حضرت ریحانہؓ کے بارہ میں موجود روایات کی ہے کہ اگر ان کو یکسر ردّ بھی نہیں کیا جاسکتا تو قبول کرنے کی ایک ہی صورت ہے کہ ریحانہؓ کنیز نہیں زوجہ ٔ رسولؐ تھیں۔

محدثین بیہقی اور طبرانی کے مطابق رسول اللہﷺنےحضرت ریحانہؓ کو آزاد کردیا تھااور وہ اپنے قبیلہ میں جاکر پردہ میں رہنے لگی تھیں۔ یہی رائےمؤرخ طبری اور ابن اسحاق کی ہے۔ اہل سیر میں سے ابن الاثیر نےحضرت ریحانہؓ اور حضرت ماریہؓ دونوں کو کنیز قرار دیا ہے۔ علامہ ابن حجر نے اس رائے پر تنقید کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ابن الاثیرکو حافظ ابن مندہ کی کتاب طبقاتِ صحابہ کی اس غیر معمولی اہمیت کی حامل روایت کا علم نہیں ہوا جن کے مطابق ریحانہ کا اپنے خاندان میں جاکر پردہ نشین ہوکر رہنے لگی تھیں۔

صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے فرماتے ہیں:‘‘ریحانہ ان قیدیوں میں سے تھیں جنہیں آنحضرتﷺ نے خود بطور احسان چھوڑ دیا تھا ور اس کے بعد ریحانہ مدینہ سے رخصت ہوکر اپنے میکے کے خاندان(بنونضیر) میں چلی گئی تھیں اور پھر وہیں رہی اورعلامہ ابن حجر نے جو اسلام کے چوٹی کے محققین میں سے ہیں۔اسی روایت کو صحیح قرار دیا ہے۔‘‘

مؤرخ ابن سعد نے ریحانہ کے بارہ میں دوقسم کی روایات لکھی ہیں اوّل کہ وہ کنیز تھیں دوسرے یہ کہ انہیں آزاد کرکے رسول اللہﷺ نے ان سے نکاح کرلیا تھا۔

کنیزوالی روایت کو خود ابن سعد نے کمزور قراردیا ہے اس روایت کے مطابق ریحانہ کو بنو قریظہ کے دیگر قیدیوں کے ساتھ رسول اللہﷺکی خدمت میں پیش کرتے وقت ان کے حسن وجمال کی وجہ سےانہیں باقی قیدیوں سےالگ کرلیا گیا۔بنو قریظہ کے قیدیوں کے قتل اور تقسیم کے بعد رسول اللہﷺ ان کے پاس گئے اور انہیں اختیار دیا کہ وہ چاہیں توآزادہوکر آنحضورؐ سے نکاح کرلیں یا کنیز بن کر رہیں۔انہوں نے یہی پسند کیا اور وفات تک وہ کنیز رہیں۔اسی روایت کی بناء پر بعض عیسائی مؤرخین کو زبانِ طعن درزا کرنے کا موقع ملا۔جیسا کہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے اس بارہ میں سر ولیم میور کے دلآزار اعتراض کا ذکر کرتے ہوئے اس روایت کو صحیح بخاری اور دیگر صحیح روایات کے خلاف قراردیتے ہوئے ان روایات کوبے بنیاد قرار دیا ہے۔ علامہ شبلی نعمانی نے بھی اسی الزام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ایک (عیسائی)مؤرخ کےنہایت طعن آمیز الفاظ کے بارہ میں لکھتے ہیں کہ‘‘بانی اسلام جب سات سو مقتولین کے تڑپنے کا تماشا دیکھ چکا تو گھر پر آکر تفریح ِ خاطر کیلئے۔۔۔۔’’ اور اس پر تبصرہ کرتے ہوئے علامہ موصوف نے ریحانہ کے کنیز ہونے کے اس واقعہ کو سرے سے غلط قرار دیا ہے۔

علامہ شبلی نے حضرت ریحانہ ؓ کے حرم (نبویؐ) میں داخل ہونے کی روایتوں کو واقدی اور ابن اسحاق سے ماخوذ قرار دیا ہے۔جن کے مطابق خود ریحانہؓ کے بقول آنحضرت ﷺ نے انھیں آزاد کرکے شادی کی تھی۔ پھر انہوں نے علامہ ابن حجر کے حوالہ سے تاریخ ِ مدینہ کی یہ روایت بھی نقل کی ہے کہ ریحانہؓ رسول اللہﷺ کی زوجہ تھیں۔ اور حافظ ابن مندہ کے حوالہ سے لکھا ہےکہ قید سےآزادی کے بعد وہ اپنے خاندان میں پردہ نشین ہوکر رہنے لگیں۔علامہ شبلی کی ساری بحث کا خلاصہ حضرت ریحانہؓ کے بارہ میں یہ ہے کہ’’ اگر یہی مان لیا جائے کہ وہ حرمِ نبویؐ میں آئیں تب بھی قطعاً وہ منکوحات میں تھیں کنیز نہ تھیں۔‘‘

حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے بھی علامہ شبلی کے مؤقف سے اتفاق کرتے ہوئے تحریر فرمایا ہے’’ اگر اس روایت کو تسلیم بھی کیا جاوے کہ آنحضرت ؐ نے اسے اپنی سرپرستی میں لے لیا تھا تو تب بھی آنحضرتؐ نے اسے آزاد کرکےاس کے ساتھ شادی فرمائی تھی اور اسے لونڈی کے طور پر نہیں رکھا۔‘‘

اسی طرح آپؓ تحریرفرماتے ہیں’’چنانچہ جن مؤرخین نے ریحانہ کے متعلق یہ روایت کی ہے کہ آنحضرتﷺ نے اسے اپنی سرپرستی میں لے لیا تھا ان میں سے اکثر نے ساتھ ہی یہ صراحت کی ہے کہ آپ نے اسے آزاد کرکے اس کے ساتھ شادی کرلی تھی۔چنانچہ ابن سعد نے ایک روایت خود ریحانہ کی زبانی نقل کی ہے جس میں وہ بیان کرتی ہیں کہ آنحضرتﷺنے مجھے آزاد کردیا تھا اورپھر میرے مسلمان ہوجانے پر میرے ساتھ شادی فرمائی تھی اور میرا مہر بارہ اوقیہ مقرر ہوا تھا اور ابن سعد نے اس روایت کے مقابلہ میں اس دوسری روایت کو جس پر ولیم میور نے بنیاد بناکر اعتراض کیا ہے صراحت کے ساتھ غلط اور خلاف واقعہ قرار دیا ہے۔اور لکھا ہے کہ یہی اہل علم کی تحقیق ہے۔‘‘

پس اس تحقیق کے مطابق حضرت ریحانہؓ سے رسول اللہﷺکی شادی والی ابن سعد کی روایت ہی لائقِ قبول ٹھہرتی ہے جسے انہوں نے اپنے ہاں سب سے ثقہ اورپختہ روایت قرار دیا ہے۔اس لحاظ سے یہ شادی بدعہد قبیلہ بنو نضیر پر ایک اوراحسان تھا کہ وہ بھی چاہیں توتوبہ کر کے رسول اللہ ﷺکے دامن عفو میں آسکتے ہیں۔ ابن سعد کی دیگر روایات کے مطابق یہ شادی محرم 6ھ میں حضرت ریحانہؓ کے حالت طہر کے انتظار کے بعد ام المنذر بنت قیس کے گھر میں ہوئی۔ ایک اور روایت میں یہ بھی بیان ہے کہ آنحضرتﷺ نے ریحانہ کو اختیار دیا کہ اسلام قبول کرلیں تو اوّل انہوں نے اپنے دین پرقائم رہنےکو ترجیح دی۔ پھر آنحضورؐنے ان سے فرمایا کہ اگر وہ اسلام قبول کر لیں تو آپؐ کے عقد میں آسکتی ہیں۔پہلے پہل ریحانہ نے یہ پسند نہ کیا۔ مگرمعلوم ہوتا ہے آپؐ اس مقصدکے لیے تدبیر اور دعا ؤں کا سلسلہ شروع کرنے سے پر امید تھے کہ وہ ضرور اسلام قبول کر لیں گی۔ یا شایداللہ تعالیٰ کی طرف سےآپ کواسکی پیشگی اطلاع ہو۔ چنانچہ ایک روز حضور ؐ صحابہ کے درمیان تشریف فرما تھے تو کسی کے قدموں کی آہٹ آئی۔آپ ؐ نے فرمایا یہ ثعلبہ بن سعیہ ہے جو ریحانہ کے اسلام کی خوشخبری لارہا ہے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ریحانہ کے قبول اسلام کے بعد آنحضورﷺ نے حسب وعدہ انہیں عقد میں لے لیا۔

رسول اللہﷺ نے حضرت ریحانہؓ سے اس پردہ کا اہتمام کروایا جو ازواج مطہرات کیا کرتی تھیں۔جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ نے انہیں لونڈی کی حیثیت میں قبول نہیں فرمایا تھا،جیسا کہ بعض معترضین کا خیال ہے بلکہ یہ زوجہ رسول اللہ ﷺ سے انتہائی محبت کی وجہ سے دوسری ازواج سے شدیدغیرت رکھتی تھیں۔ جن کےناقابل برداشت ہونےکےباعث رسول اللہﷺکوانہیں طلاق دینی پڑی۔مگریہ بھی ان سے برداشت نہ ہوا اور وہ اس قدر روئیں کہ رسول اللہ ؐنے ان کے پاس تشریف لے جا کر طلاق واپس لے لی۔ الغرض اوّل تو ابن سعد میں حضرت ریحانہ ؓ سے شادی کی ثقہ روایت کی روشنی میں دیگر روایات کے مطالعہ سے سارا معاملہ کھل جاتا ہے کہ خود ان کی روایت کے مطابق آنحضرت ؐ سے ان کی شادی ہوئی، ان کا حق مہر باقی ازواج کے برابربارہ 12اوقیہ رکھا گیا ،انہیں اس طرح پردہ کروایا گیا جس طرح ازواج مطہرات پردہ کرتی تھیں۔پھردیگر روایات کے مطابق ایک مرحلہ پرانکی طلاق کی نوبت بھی آئی مگر ان کی درخواست پر رسول اللہﷺنے رجوع کرلیا،اسی طرح باقی ازواج کی طرح انکی بھی باری مقرر کی گئی تھی۔

جماعت احمدیہ کے دیگر لٹریچر میں بھی ایسی کوئی تحقیق تو نہیں مل سکی جس سے اس موضوع پر تفصیلی روشنی پڑتی ہو،البتہ عمومی رنگ میں جماعت کےعلمی طبقہ میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی محققانہ ترجیحی رائے کی روشنی میں اسی رائے کو قبول کیاجاتا رہاہے کہ حضرت ریحانہ ؓ لونڈی نہیں تھیں بلکہ منکوحہ بیوی تھیں۔ جس کے نتیجہ میں رسول اللہﷺکی ذات پر ایک بودے اور ناپاک اعتراض کا قلع قمع ہوجاتا ہے۔دورِ حاضر کےدیگر محقق مصنفین میں ڈاکٹرحافظ حقانی میاں قادری صاحب نے بھی اپنی کتاب” ازواج مطہرات”میں حضرت ریحانہ ؓ کو ازواج النبیؐ میں شامل کیا ہے۔

وفات

حضرت ریحانہ ؓ کی وفات 10ھ میں رسول اللہﷺ کی زندگی میں آپؐ کے حجۃ الوداع سے تشریف لانے کے بعد ہوئی۔ان کی تدفین جنت البقیع میں ہوئی۔

اَللّٰھمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَعَلیٰ اٰلِ مُحَمَّدٍ وَّبَارِک وَسَلِّم اِنَّک حَمِیدٌ مَجِیدٌ

(بحوالہ اہل بیت رسولﷺ از حافظ مظفر احمد صاحب)

WhatsApp Group Join Now

admin

An online Urdu Magazine for women.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *