اسلامی تعلیمات

ام المومنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا

Spread the love

فضائل:

حضرت میمونہ  حضور ﷺ کی وہ آخری بیوی ہیں جن سے 7ھ میں حضورؐنے نکاح فرمایا۔ یہ عجیب اتفاق ہے کہ حضرت میمونہ کی وفات بھی “سرف” مقام پر ہوئی وہ جگہ جہاں آنحضرتﷺ نے ان سے شادی کے لئے خیمہ لگوایا تھا۔ حضرت میمونہ  کی خواہش کے مطابق انہیں اسی جگہ دفن کیا گیا جہاں رسول اللہﷺ کی خدمت میں پہلی دفعہ وہ پیش ہوئی تھیں۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔

نام ونسب

ام المومنین حضرت جویریہ ؓ کی طرح حضرت میمونہ کااصل نام بھی بَرّہ تھا جسے آنحضور ﷺ نے پسند نہ فرماتے ہوئے بدل کر میمونہ نام رکھ دیا۔ جیسا کہ روایات سے پتہ چلتا ہےاس تبدیلی میں بہت لطیف اور گہری حکمتیں ملحوظ خاطر تھیں۔اوّل یہ کہ بَرّہ نام(جس کے معنی سراپا نیکی کے ہیں) اظہاربڑائی یا تکبّرکا ذریعہ نہ بن جائے۔ جیسا کہ ایک روایت میں بھی اشارہ ہے کہ اس میں اللہ تعالیٰ کے ارشاد لَاتُزَكُّوْا أَنْفُسَكُمْ(النجم:33) کی تعمیل میں کمال احتیاط مقصود تھی کہ اپنے آپ کو پاک نہ ٹھہرایا کرو۔ دوسرے ایسے نام کے بے محل استعمال کو بھی اچھا شگون نہیں سمجھا گیا جیسے کوئی کہے کہ بَرّہ (یعنی نیکی) گھر میں نہیں ہے۔اس حکمت کا تفصیلی ذکر حضرت زینبؓ بنت جحش اور حضرت جویریہ ؓ کے مضمون میں آچکا ہے۔

حضرت ام المومنین میمونہؓ بنت حارث کا تعلق قریش کی شاخ بنوہلال سے تھا۔ آپ کی والدہ ہند بنت عوف تھیں۔ ماں اور باپ دونوں کی طرف سے ان کی آٹھ بہنیں تھیں، خاندانی تعارف کے لئےیہاں ان کا تذکرہ بھی مناسب ہوگا۔

حضرت میمونہؓ کی ایک حقیقی بہن اُم الفضلؓ لبابہ الکبریٰ تھیں۔جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت عباس  کے عقد میں آئیں۔دوسری بہن لُبابہ صغریٰ مشرک سردار ولید بن مغیرہ مخز ومی کی بیوی اور حضرت خالد ؓبن ولید کی والدہ تھیں۔ تیسری بہن عصماء بنت حارث مشرک سرداراُبی بن خلف کے نکاح میں اور چوتھی بہن عزّہ بنت حارث زیاد بن عبداللہ الہلالی کے عقد میں تھیں۔ ان چار حقیقی بہنوں کے علاوہ والدہ کی طرف سے چار بہنیں اورتھیں۔ ان میں سے ایک امّ المومنین حضرت زینب ؓ بنت خزیمہ تھیں جو رسول اللہﷺکے عقد میں آئیں،دوسری بہن حضرت اسماء بنتِ عمیس حضرت جعفرؓ طیار بن ابی طالب کے عقد میں تھیں، ان کی شہادت کے بعد حضرت ابوبکر صدیق  کی زوجیت میں آئیں اوران کی وفات کے بعد حضرت علی سے ان کی شادی ہوئی۔تیسری بہن سلمی بنت عمیس رسول اللہﷺ کے چچا حضرت حمزہ  بن عبدالمطلب کی زوجہ تھیں حضرت حمزہ کی شہادت کے بعد حضرت شدّاد بن اسامہ سے ان کی شادی ہوئی۔ اور چوتھی بہن سُلامہ بنت عُمیس عبداللہ بن کعب قسمی کے عقد میں تھیں۔

حضرت میمونہ  کی شادی زمانہ جاہلیت میں مسعود بن عمرو بن عمیر سے ہوئی تھی۔ان سے طلاق کے بعد آپؓ ابو رُھم بن عبد العزیٰ کے عقد میں آئیں۔پھر ان سے بھی علیحدگی کی نوبت آئی۔ 7ھ میں آنحضرت ﷺکے ساتھ ان کا نکاح ہوا۔ان سب رشتوں کے حوالے سے اس زمانے میں ام المؤمنین حضرت میمونہؓ کی والدہ ہند بنت عوف کے متعلق قریش مکّہ میں یہ بات بجا طور پر زبانِ زدِ عام تھی کہ روئے زمین پر ان سے بڑھ کر اور کوئی عورت ایسی قابل احترام نہیں کہ جس کے ایسے عظیم الشان داماد ہوں یعنی ان کے ایک داماد آنحضرت ؐ، دوسرے حضرت ابوبکرصدیق ، دو داماد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت حمزہ  اور حضرت عباس  اور دوداماد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد حضرت جعفر  اور حضرت علی  تھے۔بلاشبہ یہ ایک منفرد اعزاز ہے جو حضرت میمونہؓ کے خاندان کو عطا ہوا۔

رسول اللہﷺ سے شادی

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حضرت میمونہ ؓ کی شادی کا واقعہ عمرة القضاء7ھ کے بعد کا ہے اوریہ شادی حضورﷺ کی آخری شادیوں میں سے تھی۔بعض روایات کے مطابق حضرت میمونہؓ نے اپنے آپ کو آنحضور ﷺ کی خدمت میں بطور ہبہ پیش کیا تھا جس کی اجازت قرآن کریم کی اس آیت میں ہے:۔

وَامْرَاَةً مُّؤْمِنَةً اِنْ وَّھَبَتْ نَفْسَھَالِلنَّبِیِّ اِنْ اَرَادَالنَّبِیُّ اَنْ یَسْتَنْکِحَھَا(الاحزاب :51)

اگر کوئی عورت اپنا نفس نبیؐ کو ہبہ کرنا چاہے تو وہ ایسا کر سکتی ہے بشرطیکہ نبی بھی اس سے نکاح کا خواہاں ہو۔

د یگر روایات کے مطابق اس نکاح کی تفصیل یوں مذکور ہے کہ آنحضور ﷺ معاہدہ حدیبیہ کے مطابق عمرة القضاء کے لئے جب ذوالقعدہ7ھ میں مکہ تشریف لائے۔ اسی زمانے میں حضرت جعفرؓ بن ابی طالب کی بھی ہجرت حبشہ سے واپسی ہوئی تھی جن کی بیوی حضرت اسماء ؓ حضرت میمونہ  کی بہن تھیں۔حضورؐ نے یہ دیکھاکہ میمونہ جیسی معززمسلمان خاتون ابھی تک مکّہ میں خاوند سے علیحدگی کے بعد اکیلی رہ گئی ہیں آپ نے حضرت جعفر  سے مشورہ کیا کہ اگر میمونہ  پسند کریں تو آنحضور ﷺ ان سے عقد کر لیں۔ حضرت جعفر  نے اپنے چچا اور ہم زلف حضرت عباس  سے اس کا ذکر کیا اور اسی موقع پر آنحضرت ﷺ سے حضر ت میمونہ  کا نکاح ہوگیا۔

ایک اور روایت میں ہے کہ آنحضر ت ﷺ نے حضرت میمونہ  کو شادی کا پیغام بھجوایا تو انہوں نے اپنی بڑی بہن، رسول اللہﷺ کی چچی امّ الفضلؓ زوجہ حضرت عباس  سے کہاکہ وہ جو چاہیں فیصلہ کریں۔حضرت امّ الفضلؓ نے حضرت عباس  کو اختیار دے دیا اورانہوں نے آنحضرت ﷺ کے ساتھ حضرت میمونہؓ کا چار صد درھم حق مہر پر مکہ میں نکاح کیا۔ رخصتی اور ولیمہ حرم سے باہر مکہ سے دس10میل کی مسافت پر “سرف” مقام پر ہوا۔

بعض روایات سے یہ غلط فہمی پیداہوتی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حالت احرام میں حضرت میمونہ  سے نکاح کیاتھا، جو درست نہیں۔امر واقعہ یہ ہے کہ حضور ﷺ عمرہ کے بعد احرام کھول چکے تھے جبکہ بعض لوگوں نے ابھی احرام نہیں کھولے تھے۔چونکہ اس دوران نکاح ہوا اس لئے بعض لوگوں کو خیال ہوا کہ شاید مُحرِم ہونے کی حالت میں حضورؐ نے نکاح کیاہےچنانچہ حضرت میمونہ  کی اپنی روایت ہے کہ “آنحضرت ﷺ سے جب میرا نکاح ہوا توحضورؐ اس وقت حالت احرا م میں نہیں تھے‘‘اسی طرح حضور ﷺکے آزاد کردہ غلام ابورافع ؓجن کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت میمونہؓ کے درمیان اس عرصے میں انتظاماتِ شادی کے سلسلہ میں پیغام رسانی کا بھی موقع ملا، وہ بیان کرتے ہیں کہ ’’آنحضور ﷺ اور حضرت میمونہ  کا جب نکاح ہوا اس وقت آپ حالت احرام میں نہیں تھے‘‘

رسول اللہﷺ کا ایفائے عہد

آنحضرت ﷺ نے معاہدہ حدیبیہ کے مطابق عمرہ کے لئے مکہ میں صرف تین روز قیام کرنا تھا۔ عمرہ

کے معاً بعد‘‘سرف”مقام میں حضور ؐنے احرام کھولا اور حضرت میمونہ ؓسے نکاح ہوگیا۔مکّہ میں تیسرے دن مشرکین مکّہ کے وفد جس میں حُویطب بن عبدالعزّیٰ اور سہیل وغیرہ شامل تھے، حضور ؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے اورعرض کیا کہ تین دن پورے ہوگئے ہیں اس لئے آج آپ کومعاہدہ کے مطابق مکّے سے کوچ کرنا چاہئے۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ آپ کو معلوم ہے کہ میں نے میمونہ  سے شادی کی ہے اگر آپ لوگ پسند کرو اور ایک دن مزید رُکنے کی اجازت دے دو تو میں آپ سب کو دعوت ولیمہ میں شامل کروں گا۔ انہوں نے کہا ہمیں آپ کی دعوت کی کوئی ضرورت نہیں ہے بس آپ وعدہ کے مطابق مکہ خالی کردیں، چنانچہ آنحضرت ؐ شہر سے باہر تشریف لے گئے اور “سرف” مقام پر جاکر حضرت میمونہؓ کے ساتھ آپؐ نے قیام فرمایا جہاں یہ شادی اور تقریب ولیمہ ہوئی۔

اس تاریخی واقعہ کو مشہور مستشرق ولیم میورنے بھی بیان کیا ہے،جس سے رسول اللہﷺ کے ایفائے عہد کی جھلک صاف نمایاں ہے۔اگرچہ میور کو اپنے عناد کے باعث اس کے واشگاف اظہار کی توفیق نہیں ملی۔وہ لکھتا ہے:۔

Already the stipulated term of three days was ended , and he had entered on a fourth , when Suheil and Huweitib , chief men of the Coreish , appeared before him and said : ‘ The period allowed the hath elapsed: depart now thefore from amongst us.’ To which the prophet replied courteously : ‘ And what harm if ye allowed me to remain and celebrate my nuptials in your midst, and make you a feast at which ye might all sit down?’ ‘Nay,’ roughly answered the chiefs, ‘we have no need of thy viands : retire !’ Mahomet gave immediate orders for departure: it was proclaimed among the pilgrims that by the evening not one should be left behind at Mecca . Palcing his bride in carge of his servent Abu Rafi , he himself proceeded at once to Sarif , distant from the city eight or ten Arabian miles. In the evening Abu Rafi, carrying Meimuna with him, reached the same place, and there the marriage was consummated .Early next morning the march resumed, and the cortege returned to Medina.

کہ جب عمرہ کے تین دن ختم ہو ئے اور محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)چوتھے دن میں داخل ہو گئے تو قریش کےسردار سہیل اور حویطب آپ کے پاس آئے اور حسبِ معاہدہ فوراً مکّہ سے چلےجانے کو کہا اس پر آپؐ نے ان سے درخواست کی کہ وہ آپؐ کو اپنی شادی وغیرہ کی تقریب منانے کی اجازت دیں اور ان کے ساتھ ضیافت میں شریک ہوں۔ان سرداروں نے اس دعوت کو سختی سے ردّ کرتے ہوئے فوراً چلے جانے کو کہا۔چنانچہ محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)نے اپنی زوجہ کو اپنے ایک خادم ابو رافع کے سپرد کیا اورتمام صحابہ کو مکہ سےفوراً کوچ کا حکم دیا۔آپؐ نےسرف مقام پر پہنچ کر پڑاؤ کیا،جو 8یا 10میل کے فاصلہ پر تھا۔شام کو ابو رافع بھی حضرت میمونہ ؓ کو لے کر اسی مقام پرپہنچ گئے۔اور وہاں شادی کی تقریب ہوئی جہاں سے اگلے دن وہ مدینہ روانہ ہو گئے۔

تقویٰ شعاری

حضرت میمونہ کے ایک بھانجے یزید بن الاصمّ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ مکہ سے تشریف لائیں اور ہم ان کا استقبال کرنے کیلئے گئے۔ راستے میں کسی باغ سے ہم نے کچھ پھل وغیرہ توڑ لئے۔ حضرت عائشہ کو پتہ لگا تو اپنے بھانجے طلحہ بن عبیداللہ کے بیٹے کونصیحت کرتے ہوئے ساتھ مجھے بھی مخاطب کرکے فرمانے لگیں کہ دیکھو ! آپ لوگوں کا ایک تعلق رسول اللہ ﷺ اور اہل بیت کے ساتھ ہے یعنی رسول اللہﷺ کی بیوی کےتم بھانجے ہو جس کا لحاظ تمہاری ذمہ داری ہے۔ حضرت میمونہ  تو اپنے مولیٰ کے حضور حاضر ہوگئیں تمہیں ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ حضرت میمونہ بہت ہی تقویٰ شعار اور انتہائی صلہ رحمی کرنے والی تھیں۔اپنی سوت کے بارہ میں حضرت عائشہ  کی یہ گواہی کیسی عظیم الشان ہے۔ جو حضرت میمونہ  کے ساتھ ساتھ حضرت عائشہ کی عظمت کو بھی ظاہر کرتی ہے۔ حضرت میمونہ  حضرت عبداللہ بن عباس  کی خالہ تھیں۔آپؓ کا ان کے ساتھ سلوک بھی محبت اور صلہ رحمی کا تھا۔انہوں نے اپنی بعض روایات میں ذکر کیاہے کہ میں نے اپنی خالہ میمونہ  کے ہاں رات بسر کی اور اس دوران حضور ؐ کی نماز تہجّد کاطریق بھی دیکھا۔

ازواج کی غیرت اوررسول اللہﷺ کا حلم وکرم

حضرت میمونہ  کی روایا ت سے نبی کریمﷺ کے ازواج سے حسن سلوک کا بھی ذکر ملتا ہے۔ مثلاً مدینہ کےیہودی عورتوں کے مخصوص ایام میں ان کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا اور کھانا پینا ترک کردیتے تھے اور ان سے اچھوتوں جیسا سلوک کیاجاتا تھا۔حضرت میمونہ بیان فرماتی ہیں کہ آنحضرت ﷺاس زمانہ کے طرز معاشرت کے برعکس ایام حیض میں بھی ہمارے ساتھ معمول کا برتاوٴ کیا کرتے تھے سوائے اس کے جس سے اللہ تعالیٰ نے روکا ہے یعنی آپؐ ازدواجی تعلقات قائم نہیں کرتےتھے۔ اُس کے علاوہ حضور ﷺ ان ایام میں ہمارے ساتھ بستر پر لیٹ بھی جاتے،نماز پڑھتے ہوئے آنحضرت ﷺکے کپڑے ہمارے کپڑوں کو بھی چھوجاتے۔ ہم حضورﷺکے سامنے مسجد میں جاکر آپؐ کا مصلےٰ وغیرہ بچھا دیاکرتی تھیں اور حضورﷺ اس حال میں کہ ہم میں سے کوئی ایام مخصوصہ میں ہو اس کی گود میں سر رکھ دیتے اور قرآن شریف کی تلاوت فرماتے رہتے۔

ازواج کی باہم غیرت کے جوش کے وقت بھی رسول اللہﷺکا ان سے نرمی اور شفقت کا معاملہ ایسا بے نظیر تھاجس کی مثال کہیں اور نہیں مل سکتی۔

حضرت میمونہ  بیان فرماتی ہیں کہ ایک رات رسول کریمﷺ کی میرے ہاں باری تھی۔آپؐ کہیں باہر تشریف لے گئے۔مجھے پتہ چلا تومیں نے اندر سےدروازہ بند کردیا۔آپؐ نے واپس آکر دروازہ کھٹکھٹایا۔ میں نے کھولنے سے انکار کردیا۔آپ نے فرمایا تمہیں قسم ہے کہ تم ضرور دروازہ کھولو گی۔میں نے کہا آپؐ میری باری میں کسی اور بیوی کے ہاں کیوں گئے تھے؟آپؐ نے فرمایا یہ کیسے ہوسکتا ہے۔ میں تو پیشاب کی حاجت سے باہر نکلا تھا۔

حضرت میمونہ  نےاپنا یہ واقعہ بھی بیان فرمایا کہ میں نے ایک دفعہ اپنی ایک لونڈی آزاد کردی جب آنحضرت ﷺ کی باری میرے ہاں آئی تو میں نے خوش ہوکر بتایا یارسول اللہﷺ! آپ کو پتہ ہے کہ میں نے اپنی فلاں لونڈی بطور صدقہ آزاد کردی ہے۔ حضورﷺنے فرمایا کہ اگر تم مجھ سے پوچھ لیتی تو میں تمہیں مشورہ دیتا کہ وہ لونڈی اپنے ننھیال کو دے دو اس سے تمہیں دہرا اجرہوتا۔ ایک صدقہ کا دوسرے صلہ رحمی کا۔

اس سے یہ بھی پتہ چلتاہے کہ حضور ﷺ کی کتنی گہری نظر ازواج کے رشتے داروں اور ان کی ضروریات وغیرہ پر ہوتی تھی۔

روایات حدیث

حضرت میمونہ  نے آنحضرت ﷺسے 46کے قریب احادیث روایت کی ہیں۔ ان میں سے اکثر ایسی روایات ہیں جن کا گھریلو زند گی سے تعلق ہے۔

دراصل حضور ﷺ کی ایک سے زائد شادیوں کا بنیادی مقصد بھی یہ تھا کہ ازواج مطہرات آپ سے دینی باتیں سیکھ کر آگے مسلمان خواتین کو سکھائیں اور ان کی تربیت کے سامان کریں۔ چنانچہ حضرت میمونہ  کی روایات میں آنحضرت ﷺ کے غسل جنابت کا مکمل طریق بھی بیان ہوا ہے۔ آپ ؓ فرماتی تھیں کہ ایک دفعہ حضورؐ نےاپنے غسل کےانتظام کے لئے مجھے ہدایت فرمائی تو میں پردہ پکڑ کر کھڑی ہوگئی، حضورؐ نہانے لگے۔ آپؐ نے غسل کا پانی لے کر پہلے دو مرتبہ ہاتھ دھوئے پھر طہارت کی پھر زمین پر اچھی طرح ہاتھ مل کر دھوئے پھر مکمل وضو کرتے ہوئے کلی کی، ناک میں پانی ڈالا، چہرہ اور بازو دھوئے پھر جسم پر پانی ڈالا۔ پھر جس جگہ غسل فرمایا تھا وہاں سے ہٹ کر ایک طرف ہوئے اور پاوٴں دھوئے اور یوں حضرت میمونہ  نے حضور ؐ کے غسل کا طریق تفصیل سے لوگوں کے لئے بطور ایک پاک نمونہ کے بیان کردیا۔

حجة الوداع کےبعض واقعات بھی حضرت میمونہ نےبیان کئےہیں۔وہ بیان فرماتی ہیں اس سفرمیں عرفہ کے دن بعض لوگوں نے اس شبہ کا اظہار کیا کہ آج حضورﷺ روزہ سے ہیں یا نہیں۔ ایک مشروب کا پیالہ حضورؐ کی خدمت میں میدان عرفات میں بھجوادیا۔جو حضورﷺ نے پی لیا اور سب کو پتہ چل گیا کہ سفرکی حالت میں دورانِ حج حضورﷺنےعرفہ کا روزہ ضروری نہیں رکھا۔البتہ بعض روایات کے مطابق مدینے میں عرفہ کے دن حضورﷺ روزہ رکھا کرتے تھے۔

حضرت میمونہیہ بیان فرماتی ہیں کہ ایک دفعہ ایک بکری (جو میری لونڈی کو صدقے میں ملی تھی) مرگئی۔ اسے پھینک دیاگیا۔حضورؐ نے اسے مردہ حالت میں پڑےضائع ہوتے ہوئے دیکھ کر فرمایا تم لوگ اس کے چمڑے سے ہی فائدہ اٹھالیتے، میں نے عرض کیا کہ حضورؐ یہ مردار تو حرام ہے اس کے چمڑے سے ہم کیسے فائدہ اٹھاسکتے ہیں؟آپ ؐنے فرمایا کہ قرآن شریف نے مردار کا گوشت کھانا حرام کیاہے۔ اس کے چمڑے کو حرام نہیں کیا پھر آپؐ نے جانور کی کھال پاک کرنے کا طریق بیان کرتے ہوئے فرمایاکہ پانی اور درخت کے پتوں میں کھال کو ڈال کر صاف کرنے سے وہ پاک ہوجاتی ہے جس کے بعد اسے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

ایک اور واقعہ حضرت میمونہ  یہ بیان فرماتی تھیں کہ ایک دفعہ حضور ؐ صبح بیدار ہوئے تو آپؐ کی طبیعت کچھ مکدّر تھی تو میں نے پوچھا یارسول اللہﷺ! کیا ہوا؟ آپؐ نے فرمایا کہ آج رات جبرئیل ؑ نے آنے کا وعدہ کیا تھا مگر وہ آئے نہیں اور آج تک انہوں نے کبھی وعدے کی خلاف ورزی نہیں کی اس لئے میں پریشان ہوں۔ آپ بیان فرماتی تھیں کہ گھر میں ایک چھوٹا سا پلہ تھا۔آپؐ نے فرمایا کہ کہیں اس کی موجودگی کےباعث ایسا نہ ہواہو پھر اس کو آپ نے گھر سے باہر کردیا اور پانی سے اس جگہ کو دھو کر صاف کردیا، اگلے دن جبرئیل ؑآئے تو حضورؐ نے ان سے پوچھا کہ کل آپ کیوں نہیں آئے۔ جبریلؑ نے کہا کہ ہم ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا ہو یا مورتیاں وغیرہ ہوں۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ حدیث میں تین قسم کی ضروریات یعنی جانوروں یا کھیتی باڑی کی حفاظت یا شکارکی خاطر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بے شک کتے رکھنے کی بھی اجازت دی ہے۔مگر محض شوقیہ طور پر کتّا پالنے اور رکھنے میں چونکہ صفائی اور بیماری وغیرہ کےکئی مسائل اور الجھنیں بھی پیش آسکتی تھیں اس سے بچنے کے لئےحضورﷺنے یہ احتیاط فرمائی۔

حضرت میمونہ گھریلو ماحول کی یہ بات بھی بیان فرماتی تھیں کہ حضورؐ اپنےگھر میں گوشت تناول فرمانے کے بعد باقاعدہ وضو نہیں فرماتے تھے۔گویا کھانے کے بعدنماز کے لئے کُلّی کرلینا ہی کافی ہے۔ آگ کی پکی چیز کھانےکے بعد وضو کرنے کی ہدایت کی وضاحت بھی اس حدیث سے ہوجاتی ہے کہ اس سے مراد بھی محض کُلی کرنا ہی ہے۔

گھریلو سطح کے بعض مسائل کےضمن میں حضرت میمونہ یہ واقعہ بیان فرماتی ہیں کہ ایک دفعہ کسی نے گھی میں چوہیا گرجانے کا مسئلہ حضورﷺسےپوچھا۔آپؐ نے فرمایا کہ اگر گھی جماہوا ہوپھر تو اتنا حصہ جو چوہیا کے اردگرد ہے نکال کر پھینک دو اور اگرگھی پگھلا ہوا اور مائع حالت میں ہے تو سارے کا سارا پھینکنا پڑے گا۔

شوق ِ حصول علم

حضرت میمونہ  کی ایک اور روایت سےبھی ان کے اس شوق کا اندازہ ہوتاہے جو انہیں آنحضرت ﷺسے علم اور دین کی باتیں سیکھنے کا تھا۔ اور پھر وہی باتیں آگے انہوں نے سکھائیں۔

ایک دفعہ آپ نے اپنے بھتیجے عبدالرحمٰن بن سائب کو بتایا کہ میں نے آنحضرتﷺسے بیمار کے لئے ایک دم سیکھا تھا۔وہ دعا تم بھی مجھ سے سیکھ لو اور وہ یہ دعا تھی :۔

بِسْمِ اللّٰہِ اَرْقِیْکَ وَاللّٰہُ یَشْفِیْکَ مِنْ کُلِّ دَاءٍ فِیْکَ اذْھَبِ الْبَاْسَ رَبَّ النَّاسِ واشْفِ اَنْتَ الشَّافِی لَاشَافیَ اِلَّا اَنْتَیعنی میں اللہ کے نام کے ساتھ تجھے دم کرتاہوں اور اللہ آپ کو شفا ء دے گا ہر ایک بیماری سے جو تجھ میں پائی جاتی ہے۔ اے انسانوں کے رب اس بیماری کو دور کردے اور شفا عطافرما کہ تو ہی حقیقی شفا دینے والا ہے۔ تیرے سوا اور کوئی شفاء دینے والا نہیں۔

ایسی ہی پاکیزہ دینی باتیں ازواج مطہرات نے آنحضرت ﷺ کے فیض صحبت سے سیکھیں اورآگے ایک دنیا کو سیکھائیں۔حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کے نزدیک آپؓ نے آنحضورﷺسے چھیالیس46 احادیث روایت کی ہیں۔جبکہ بعد کی کتب میں یہ تعدادچھہتّر76بھی بیان ہوئی ہے۔

رسول اللہﷺسے سچا عشق

حضرت میمونہ ؓ کی اس آخری خواہش سے جہاں رسول اللہﷺ سے ان کے سچےّ عشق کا پتہ چلتا ہے،وہاں مستشرقین کا وہ اعتراض بھی باطل ہوجاتا ہےکہ معاذ اللہ آپؐ نے شوقیہ شادیاں کیں۔

سیدناحضرت مصلح موعودنوّر اللہ مرقدہٗ فرماتے ہیں:

’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ ان کی کئی بیویاں تھیں اور یہ کہ آپ ؐ کا یہ فعل نعوذ باللہ من ذالک عیاشی پر مبنی تھا۔مگر جب ہم اس تعلق کو دیکھتے ہیں جو آپ کی بیویوں کو آپؐ کے ساتھ تھا تو ہمیں ماننا پڑتا ہے کہ آپؐ کا تعلق ایسا پاکیزہ، ایسا بے لوث اور ایسا روحانی تھا کہ کسی ایک بیوی والے مرد کا تعلق بھی اپنی بیوی سے ایسا نہیں ہوتا۔اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تعلق اپنی بیویوں سے عیاشی کا ہوتا تو اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلنا چاہئیے تھا کہ آپ ؐ کی بیویوں کے دل کسی روحانی جذبہ سے متاثر نہ ہوتے۔مگر آپ ؐ کی بیویوں کے دل میں آپؐ کی جو محبت تھی اور آپؐ سے جو نیک اثر انہوں نے لیا تھا وہ بہت سے ایسے واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کی وفات کے بعد آپؐ کی بیویوں کے متعلق تاریخ سےثابت ہیں۔ مثلاًیہی واقعہ کتنا چھوٹا سا تھا کہ میمونہ ؓ رسول کریم ﷺ سے پہلی دفعہ حرم سے باہر ایک خیمہ میں ملیں۔اگر رسول اللہﷺ کا ان سے تعلق کوئی جسمانی تعلق ہوتا اور اگر آپؐ بعض بیویوں کو بعض پر ترجیح دینے والے ہوتے تو میمونہؓ اس واقعہ کو اپنی زندگی کا کوئی اچھا واقعہ نہ سمجھتیں بلکہ کوشش کرتیں کہ یہ واقعہ ان کی یاد سے بھول جائے۔لیکن میمونہؓ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد پچاس سال زندہ رہیں اور اسّی سال کی ہو کرفوت ہوئیں۔مگر اس برکت والے تعلق کو وہ ساری عمر بھلا نہ سکیں۔ اَسّی سال کی عمر میں جب جوانی کے جذبات سب سرد ہوچکے ہوتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے پچاس سال بعد جو عرصہ ایک مستقل عمر کہلانے کا مستحق ہے میمونہؓ فوت ہوئیں۔اورا س وقت انہوں نے اپنے گرد کے لوگوں سے درخواست کی کہ جب میں مر جاؤں تو مکّہ کے باہر ایک منزل کے فاصلہ پر اس جگہ جس جگہ رسول کریمﷺ کا خیمہ تھا اور جس جگہ پہلی دفعہ مجھے آپؐ کی خدمت میں پیش کیا گیا تھامیری قبر بنائی جائے اوراُس میں مجھے دفن کیا جائے۔دنیا میں سچے نوادر بھی ہوتے ہیں اور قصّے کہانیاں بھی۔مگر سچےّ نوادر میں سے بھی اور قصّے کہانیوں میں سے بھی کیا کوئی واقعہ اس گہری محبّت سے زیادہ پُر تاثیر پیش کیا جاسکتا ہے؟‘‘

وفات

حضرت میمونہؓ خود بیان فرماتی تھیں کہ میری عمر شادی کے وقت 26سال تھی۔انہوں نے 61ھ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے 50سال بعد80سال کی عمر میں وفات پائی۔اور اسی مقام سرف میں جہاں ان کی شادی ہوئی تدفین پائی۔حضرت میمونہ کی وفات عام الحرّة 61ھ یا 63ھ میں بیان کی جاتی ہے۔حضرت ابن عباس ؓ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی۔

حضرت میمونہ  حضور ﷺ کی وہ آخری بیوی تھیں جن سے حضورﷺنے نکاح فرمایا۔ یہ عجیب اتفاق ہے کہ حضرت میمونہ  کی تدفین بھی ‘سرف” مقام پر ہوئی۔ اور جس جگہ آنحضرتﷺ نے ان سے شادی کے لئے خیمہ لگوایا تھا، اسی جگہ پر حضرت میمونہ  کی خواہش کے مطابق ان کا مزار بنا۔ یہ ایک عجیب توارد اور حضرت میمونہ کے لئے یہ ایک یادگار چیز تھی۔

اَللّٰھمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَعَلیٰ اٰلِ مُحَمَّدٍ وَّبَارِک وَسَلِّم اِنَّک حَمِیدٌ مَجِیدٌ

(بحوالہ اہل بیت رسولﷺ از حافظ مظفر احمد صاحب)

WhatsApp Group Join Now

admin

An online Urdu Magazine for women.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *