//رمضان المبارک اور اسکی برکات
ramzan

رمضان المبارک اور اسکی برکات

. رمضان المبارک اپنی پوری برکتوں کے ساتھ شروع ہو رہا ہے۔ اس مبارک مہینہ میں خدا تعالیٰ اپنے خاص افضال اور برکات نازل فرماتا ہے۔ اپنے بندوں کی دعائوں کو سنتا ہے اور ان کی حاجتوں اور ضرورتوں کو پورا فرماتا ہے اور انہیں قرب خاص سے نوازتا ہے۔

روزہ اسلام کے ارکان میں سے ایک اہم رکن ہے۔ روزہ عبادت ہے جس سے انسانی زندگی میں ایک انقلاب پیدا ہوتا ہے۔ قرآن مجید نے روزہ کی اہمیت کے سلسلہ میں یہ امر بھی بیان فرمایا ہے کہ سارے مذاہب اور تمام شرائع میں روزہ فرض ہوتا رہا ہے۔ گویا روزہ سارے مذاہب کی ایک مشترکہ اور بنیادی عبادت ہے۔ اسلام میں جو روزہ کی شکل ہے وہ کامل ہے اور اس سے کامل روحانی فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ اہل ایمان کو حکم دیا گیا ہے کہ تندرست اور مقیم ہونے والے ہر بالغ مرد اور عورت پر فرض ہے کہ وہ رمضان کے مہینہ میں طلوع فجر سے لے کر غروب آفتاب تک کھانے پینے وغیرہ سے اجتناب کرے۔ خدا کے حکم کے مطابق دن بھر بھوکا اور پیاسا رہے اور ذکر الٰہی میں مشغول رہ کر دن بسر کرے۔ اس طرح روزہ داروں کو احساس ہوگا کہ ان کے غریب بھائی سال بھر کس طرح بھوک کی سختیاں برداشت کرتے ہیں۔ ان میں محتاجوں کے لئے ہمدردی پیدا ہوگی اور وہ اپنے بنی نوع بھائیوں کے ساتھ حسن سلوک کی طرف خاص طور پر توجہ کریں گے۔ اس عمدہ احساس کے ساتھ ساتھ کھانے پینے کے ترک سے ان کی روحانی قوتوں میں بیداری پیدا ہوگی اور وہ روح کی طرف زیادہ توجہ دے سکیں گے۔ انہیں پتہ چلے گا کہ جس طرح کھانے اور پینے کے بغیر جسم کا بقاء ناممکن ہے اسی طرح ورحانی غذا کے بغیر روح کی زندگی اور نشو نما بھی ممکن نہیں۔ اسی طرح روزہ اجتماعی اور انفرادی طور پر بہت سی برکات لاتا ہے۔ رمضان المبارک سے اسلامی معاشرہ میں ایک پاک تبدیلی پیدا ہوجاتی ہے اور ایک ماہ کی یہ ورحانی تربیت سال بھر کے لئے عموماً روحانی خوراک کا کام دیتی ہے۔ چونکہ سحری کے لئے عورتیں اور مرد اٹھتے ہیں اس لئے رمضان کے ایام میں نماز تہجد کا اہتمام بھی آسانی سے ہو سکتا ہے اور ہوتا ہے۔ اسی طرح مسلمان پنجوقتہ نمازوں کے علاوہ رمضان کے مبارک مہینہ میں تہجد کی نماز کی برکات سے بھی عام طور پر مستفید ہوتے ہیں۔

اسلام دین فطرت ہے۔ اس نے ایک طرف فطرتی قویٰ کی روحانی طاقتوں کو ابھارنے کے لئے مختلف عبادتیں مقرر فرمائی ہیں تو دوسری طرف یہ حکم بھی دے دیا ہے کہ کسی انسان پر اس کی طاقت سے بڑھ کر بوجھ ناقابل برداشت حد تک پہنچ جائے نہیں ڈالا جائے گا۔ اس لئے جو لوگ رمضان میں مسافر ہوں یا بیمار ہوں ان کو ان ایام میں روزہ رکھنے سے مستثنیٰ کیا گیا ہے۔ شریعت کی دی ہوئی رعایتوں سے فائدہ اٹھانا عین مناسب ہے مگر دین کی سہولتوں کے باوجود جو لوگ فرض روزہ نہیں رکھتے وہ سخت گنہگار ہیں۔ انہیں اس زندگی کے بعد سخت افسوس ہوگا کہ ہم نے قیمتی موقع ضائع کردئیے۔ پس مومنوں کا فرض ہے کہ ہر قسم کی افراط و تفریط سے بچتے ہوئے شریعت اسلامی کے قانون کی پیروی میں رمضان المبارک کے روزے رکھ کر اس بابرکت مہینہ کی برکتوں سے وافر حصہ حاصل کریں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق دے۔ آمین