//اُمّ المؤمنین حضرت حفصہ ؓ( قسط اوّل)
Hafsa

اُمّ المؤمنین حضرت حفصہ ؓ( قسط اوّل)

۔ فضائل

رسول اللہﷺ کو خدائے عالم الغیب کی طرف سے حضرت حفصہؓ کےعبادت گزار ہونے کی سند عطا ہوئی۔ آنحضرتﷺ نے فرمایا ‘’ حفصہ !مجھے جبرائیلؑ نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اطلاع دی ہے کہ تم بہت پابندِ صوم وصلوة ہو۔ اور یہ بشارت بھی دی ہے کہ آپؐ کی یہ بیوی جنّت میں بھی آپؐ کے ساتھ ہونگی۔”

نام و نسب

امّ المومنین حضرت حفصہؓ حضرت عمرؓ بن الخطاب اسلام کے دوسرے خلیفہ کی صاحبزادی تھیں جن کا تعلق قبیلہ قریش کی شاخ بنوعدی سے تھا۔ آپؓ کی والدہ حضرت زینبؓ بنت مظعون صحابیہ ٔ رسول، حضرت عثمانؓ بن مظعون کی بہن اورقریش کی شاخ بنو جمح سے تھیں۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ اور حضرت عبدالرحمان بن عمرؓ آپؓ کے سگے بھائی تھے۔ آپؓ کی پیدائش آنحضرتﷺ کی بعثت سے پانچ سال قبل ہوئی۔ اسی زمانے میں خانہ کعبہ کی تعمیر نو ہوئی تھی جس سے آپ کی پیدائش کا سال یاد رکھا جاتا ہے۔

رسول اللہﷺسے عقد

حضرت حفصہ بنت عمرؓ کی پہلی شادی حضرت خُنیسؓ بن حُذافہ سہمی سے ہوئی۔ یہ وہ وفا شعار صحابی تھے جنہیں بدر میں شرکت کی سعادت ملی اور ایسے سخت زخم آئے جن کے نتیجے میں آپ کی شہادت واقع ہوئی۔ بعض دیگرروایات کے مطابق آپؓ کی شہادت دراصل اُحد میں شرکت کے بعد لگنے والے زخموں کے نتیجے میں ہوئی تھی۔ ان کی وفات کے بعد حضرت حفصہؓ آنحضرتﷺ کے عقد میں آئیں۔ یہ واقعہ ہجرت کے قریباً تیس ماہ بعددوسرے یا تیسرے سال ہجرت کا ہے۔حضرت خُنیسؓ بن حُذافہ کی شہادت کے بعد جب حضرت حفصہؓ بیوہ ہوگئیں تو ان کی عدّت پوری ہوجانے کے بعد طبعاً حضرت عمرؓ کو اپنی 21سالہ اس جواں سال بیٹی کے رشتہ کی فکر دامن گیر ہوئی، انہوں نے اپنے قریب ترین دوستوں میں یہ رشتہ طے کرنا چاہا۔پہلے حضرت عثمانؓ کوحضرت حفصہؓ کا رشتہ پیش کیا۔ انہوں نے جواباً کہا کہ فی الحال وہ دوسری شادی کا ارادہ نہیں رکھتے۔ حضرت عمرؓ کی فکر اپنی جگہ قائم رہی،چنانچہ انہوں نےحضرت ابوبکرؓ کو یہ رشتہ پیش کیا۔ مگر وہ خاموش رہے اور کوئی جواب نہ دیا کچھ دن گزرے تو آنحضرتﷺ کی طرف سے حضرت حفصہؓ کے رشتہ کا پیغام آیا جو حضرت عمرؓ نے بڑی خوشی سے قبول کر لیا۔

اس واقعہ کےکچھ عرصہ بعد جب حضرت ابوبکرؓ حضرت عمرؓ سے ملے تو ان سے کہا کہ مجھےاحساس ہے کہ جب آپ نے حفصہ کے رشتہ کا ذکر مجھ سے کیاتو میں خاموش رہا تھا۔ شاید اس خاموشی سے آپ کو کچھ رنج ہواہو۔ حضرت عمرؓ صاف گو انسان تھے۔ فرمانے لگے واقعی مجھے بھی اس بات سے صدمہ پہنچا تھا کیونکہ میں نے خاص تعلق محبت سے آپ کو اس رشتہ کی پیش کش کی اور آپ نے کوئی جواب ہی نہ دیا۔ حضرت ابوبکرؓ نے وضاحت فرمائی کہ امر واقعہ یہ ہے کہ آپ کی طرف سے رشتہ کی تجویز سے کچھ عرصہ قبل آنحضرتﷺ بطور مشورہ حفصہ کے رشتے کا ذکر اپنی ذات کے لئے مجھ سےفرما چکے تھے۔اس لئے میں خاموش رہا کیونکہ میں آنحضرتﷺ کی رازدارانہ مشاورت کا پیشگی ذکر آپ سے نہیں کر سکتا تھا۔یہاں تک کہ خود حضورؐ کی طرف سےیہ مبارک پیغام آپ کو پہنچ جائے۔ ہاں اگر حضورﷺ نےاس رشتہ کا ذکر اپنے لئے نہ کیا ہوتا تو میں آپ کی خواہش کے احترام میں ضرور یہ رشتہ قبول کر لیتا۔

حضرت عمرؓ نے آنحضرتﷺ کی خدمت میں بھی یہ عرض کردیا تھا کہ یارسول اللہؐ!میں نے اپنے دو قریبی ساتھیوں کے سامنے حفصہ کا رشتہ پیش کیا مگر انہوں نے قبول نہ کیا۔ آنحضرتﷺ نے بھی ایسا پیارا جواب دیا جس سے ان کی تسلّی ہو گئی۔آپؐ نے فرمایا کہ اے عمرؓ!اللہ تعالیٰ آپ کی بیٹی کے رشتے کا جو انتظام کریگا وہ عثمانؓ سے بہتر ہے اور عثمانؓ کو جو رشتہ عطا کرے گا وہ آپؓ کی بیٹی سے بہتر ہے۔اور پھر یہی ہوا کہ آنحضرتﷺ کے ساتھ حضرت حفصہ بنت عمرؓ کا عقد ہوا اور حضرت عثمانؓ کی شادی آنحضرتﷺ کی صاحبزادی حضرت امّ کلثومؓ سے ہوگئی۔یہ واقعہ حضرت عثمانؓ کی پہلی بیوی حضرت رقیہؓ بنت رسول اللہؐ کی وفات کے بعد کا ہے۔جب ایک طرف وہ اپنی بیوی حضرت رقیہؓ کی وفات کے صدمے سےنڈھال تھے تو دوسری طرف یہ احساس غالب تھا کہ آنحضرتﷺ کے ساتھ ان کی دامادی کا تعلق نہیں رہا۔اسی دوران حضر ت عمرؓ کی طرف سے حضرت حفصہؓ کے رشتہ کی تجویزہوئی مگر حضرت عثمانؓ نے معذرت کرلی۔بعد میں حضرت امّ کلثومؓ بنت رسول اللہﷺ کے ساتھ حضرت عثمانؓ کی شادی ہوگئی اور یوں رسول اللہﷺ کی یہ بات پوری ہوگئی۔

گھریلو زندگی

حضرت حفصہ بنت عمرؓ کے مزاج میں اپنے والد کی جلالی طبیعت کا کچھ رنگ موجودتھا۔ خودحضرت عمرؓ بھی انہیں نرم خوئی کی نصیحت بھی کیا کرتے تھے جیسا کہ آگے ذکر آرہا ہے۔حضرت حفصہؓ کی یہ کیفیت حضرت عائشہؓ کے بیان کردہ ایک واقعہ سے بھی ظاہر ہوتی ہے۔ ان دونوں ازواج میں سوت پن کے باوجود آپس میں دوستی بھی بہت تھی۔حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ ایک دفعہ مجھے اور حفصہؓ کو نفلی روزہ تھا۔ہم دونوں گھر میں تھیں کہیں سے کھانے کی کوئی چیز تحفہ میں آئی۔ہم نے باہم مشورہ کیا کہ نفلی روزہ کھول کر کھانا کھالیتے ہیں،پھر روزہ کھول لینے کے بعد فکر بھی ہوئی کہ نفلی روزہ توڑنے کا کہیں گناہ نہ ہو۔جب حضورﷺ گھر تشریف لائے تو حضرت حفصہؓ نے مجھے اپنے سے پہلے یہ سوال پوچھنے کی مہلت نہ دی۔فرماتی ہیں”وکانت ابنة ابیھا” آخروہ کس باپ کی بیٹی تھیں۔ کہنے لگیں یا رسول اللہؐ! کہیں سے کھانا آیا تھا ہم نے کھانا کھاکرنفلی روزہ کھول لیا۔اب آپؐ بتائیں ہم کیا کریں؟ حضورؐنے فرمایا”اب اس کے بدلے میں آپ دونوں کو نفلی روزہ رکھنا ہوگا۔ اس واقعہ سے ازواج مطہراتؓ کی نفلی عبادات کے شوق اور جذبہ کابھی اندازہ ہوتا ہے۔

حضرت حفصہؓ کی طبیعت اور مزاج کی مناسبت سے یہ واقعہ بھی قابل ذکر ہے کہ رسول اللہﷺ نے کچھ عرصہ کیلئے بعض مصالح کے تحت ایک ماہ کیلئے ازواج سے علیحدگی اختیار کی۔ اس دوران مشہور ہوگیا کہ آپ نے بیویوں کو طلاق دے دی ہے،انہی دنوں کی بات ہے حضرت عمر  کی بیوی نے کسی معاملہ میں انہیں مشورہ دینا چاہا تووہ سخت خفاہوئے کہ مردوں کے معاملات میں عورتوں کی مداخلت کے کیا معنی؟تب ان کی بیوی کہنے لگیں کہ آپ کی اپنی بیٹی حفصہ تو رسول اللہﷺ کے آگے بولتی اور ان کو جواب دیتی ہے۔یہاں تک کہ بعض دفعہ رسول کریمﷺ سارا سارا دن اس سے ناراض رہتے ہیں۔ حضرت عمر  کو یہ بات سخت ناگوار ہوئی اور وہ فوراً اپنی بیٹی حفصہؓ کی خبر لینے ان کے گھر پہنچ گئے اور پوچھا کہ کیا تمہارے آگے سے بولنے کی وجہ سے رسول اللہﷺ بعض دفعہ سار اسارا دن تم سے ناراض رہتے ہیں۔ انہوں نے عرض کیا کہ ہاں بعض دفعہ ایسا ہوجاتا ہے۔آپ نے فرمایا “یاد رکھو عائشہ کی ریس کرتے ہوئے تم کسی دن اپنا نقصان نہ کر لینا” پھر حضرت عمرؓ اپنی رشتہ دار اورحضورؐ کی دوسری زوجہ مطہرہ حضرت ام سلمہ کو بھی یہی نصیحت کرنےچلے گئے۔ انہوں نے بھی کیا خوب جوا ب دیاکہ اے عمر !اب رسول اللہﷺ کے گھریلو معاملات میں بھی آپ مداخلت کرنے لگےہو۔کیا اس کے لئے خود رسول اللہﷺ کافی نہیں ہیں۔حضرت عمر  بیان فرماتے تھے” میں خاموشی سے واپس چلاآیا اوراسی وقت یہ واقعہ آنحضرتﷺ کو جاسنایا جس پر آپؐ پریشانی کے اس عالم میں بھی خوب محظوظ ہوکر مسکراتے رہے۔

واقعہ طلاق

حضرت عبداللہ بن عباسؓ حضرت عمرؓ سے روایت کرتے ہین کہ نبی کریمﷺ نے حضرت حفصہؓ کو طلاق دی اور پھر رجوع فرمالیا۔حضرت انسؓ بن مالک سے بھی روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے جب حضرت حفصہؓ کوطلاق دی تو آپؐ کورجوع کا حکم ہوا اورآپؐ نے رجوع فرمالیا۔

قیس بن زید سےروایت ہے کہحضورﷺ نے ایک دفعہ حضرت حفصہؓ کی طلاق کا ارادہ کیا۔اتفاق سے اس موقع پر حضرت حفصہؓ کے ماموں کاان کے گھر آنا ہوا تو وہ بے اختیار رو پڑیں اور کہنے لگیں” خدا کی قسم!یہ مت سمجھنا کہ کسی اکتاہٹ یابیزاری کی وجہ سے آنحضرتﷺ نے مجھے طلاق دی ہے”اور جیسا کہ ارشادِ ربّانی ہے یا أَیهَا النَّبِی إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ (الطلاق:2)یعنی اےنبی۔جب تم طلاق دوعورتوں کوتواُن کوطلاق دوانکی عدت پراور گنتے رہو۔ اس وقت تک حضورؐ نےصرف پہلی طلاق کا ہی ذکر فرمایاتھا جس کے بعد رجوع کا امکان توباقی تھا۔مگر رسول اللہﷺسے کسی شکایت کی بجائے وہ آنحضورﷺکا دفاع کرتے ہوئے ذمہ داری اپنے سَرلےرہیں تھیں۔جس سے ان کا جذبۂ فدائیت ظاہروباہر ہے۔

دریں اثناء حضورﷺ گھرتشریف لائے تو حضرت حفصہؓ اپنی چادر سنبھالنےلگیں۔رسول اللہﷺ نے فرمایا ‘’ جبرائیلؑ میرے پاس آئے اور مجھے کہا کہ حفصہ سے رجوع کرلیں۔وہ روزے رکھنے والی اور بہت عبادت گزار ہیں اوریہ جنّت میں بھی آپؐ کے ساتھ ہونگی”بلاشبہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت حفصہؓ کے حق میں یہ ایک عظیم الشان گواہی ہے۔جس سے آپؓ کے روحانی مقام کا بھی اندازہ ہوتا ہے۔

دوسری روایت میں ذکر ہے کہ حضرت حفصہؓ کی طلاق کی اطلاع جب حضرت عمرؓ کو پہنچی تو انہوں نے سخت فکر مندی اور گھبراہٹ کے عالم میں اپنے سَر میں خاک ڈال کرکہا کہ جب میری بیٹی رسول اللہﷺ کے عقد میں نہیں رہے گی تو اللہ تعالیٰ عمرؓ کی کیا پرواہ کریگا۔

حضرت عمرؓ کا یہ ردّ عمل ان کی کمال عاجزی اور انکسار ی کے ساتھ محبت رسولؐ کو بھی ظاہر کرتاہے۔ الغرض حضرت عمرؓ اپنی تمام ترجرأت اورحوصلہ مندی کے باوجود بہت فکر مند ہوئے کہ یہ رشتہ نہ رہا تو خدا معلوم کیا بنے گا۔اللہ تعالیٰ نے ان کی التجاء سنی۔ چنانچہ دوسری روایت کے مطابق آنحضرتﷺ نے اس موقع پریہ بھی فرمایاتھا “ اللہ تعالیٰ نے مجھے حفصہؓ سے رجوع کا حکم دیا ہے اوراس کا ایک سبب حضرت عمرؓ پر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور شفقت کا اظہار بھی ہے۔” چنانچہ آپؐ نے طلاق سے رجوع کر لیا۔

یہ واقعہ طلاق صحاحِ ستّہ کی کتب ابوداؤد، نسائی،ابن ماجہ اوردیگر کتب طبرانی اور ابن سعد وغیرہ میں مذکورہے۔جو جائے اعتراض نہیں۔کیونکہ عام حالات میں طلاق کی ناپسندیدگی کے باوجود عند الضرورت یہ ایک جائز اور حلال امر ہے۔اورنہ صرف خلافِ تعلیم قرآن نہیں بلکہ اخلاقی لحاظ سےبھی اس میں کوئی برائی نہیں۔بلکہ تقویٰ کے لحاظ سے ایسی کارروائی پر عندالعقل بھی کوئی اعتراض نہیں۔

حضرت مسیح موعودؑ نے اصولی اور عقلی طور پر رسول اللہﷺ کے ارادہ طلاق کا جواز حضرت سودہؓ کے حق میں تسلیم کرتے ہوئے فرمایاہے‘‘ اس میں بھی کوئی برائی نہیں۔اور نہ یہ امر کسی اخلاقی حالت کے خلاف ہے۔ کیونکہ جس امر پر عورت مرد کے تعلقات مخالطت موقوف ہیں۔اگر اس میں کسی نوع سے کوئی ایسی روک پیدا ہوجائے کہ اس سبب سے مر د اس تعلق کے حقو ق کی بجاآوری پر قادر نہ ہوسکے تو ایسی حالت میں اگر وہ اصول تقویٰ کے لحاظ سے کو ئی کارروائی کرے تو عند العقل کچھ جائے اعتراض نہیں ’’

خشیئت

حضرت حفصہؓ نےرسول اللہﷺ سے دجال کے بارہ میں جو کچھ سنا تھا اس پر ایسا پختہ ایمان اور یقین تھا کہ شبہ کی بناء پر بھی اس سے خائف رہتی تھیں۔مدینہ میں ایک مشتبہ الحال مجذوب ساشخص ابن صیاد تھا۔اس میں دجال کی بعض نشانیاں پائے جانے کی خبر سن کر اس اندیشہ کااظہار فرمایاکہ کہیں وہی دجال نہ ہو۔رسول کریمﷺ بھی حقیقت حال معلوم کرنے اسکی جائے رہائش تشریف لے گئے۔اوراس سے کچھ سوالوں کے جواب پوچھ کر فرمایا کہ تم اپنی اس حدّ سے آگے نہیں بڑھ سکتے۔رسول اللہﷺ کی وفات کے بعد کا واقعہ ہے کہ ایک دفعہ مدینہ کی کسی گلی میں آپؓ کے بھائی عبد اللہ کا ابن صیاد سے سامنا ہوگیا۔ انہوں نے اسے کوئی ایسی بات کہہ دی جس سے وہ سخت طیش میں آگیا اسکی رگیں پھول کر حالت غیر ہوگئی اس کے اظہار غصہ کی کیفیت کو دیکھ کر گلی لوگوں سے بھر گئی۔حضرت ابن عمرؓ اپنی بہن امّ المومنین حضرت حفصہؓ کے پاس آئے تو انہیں اس واقعہ کا علم ہوچکا تھا۔انہوں نے اپنے بھائی حضرت عبداللہؓ سے فرمایا کہ ابن صیاد کے ساتھ تکرار سے آپؓ کا کیا مقصد تھا؟آپؓ کو پتہ نہیں کہ رسول اللہﷺ نےدجال کے خروج کی ایک نشانی اس کا غصہ بھی بیان کیا تھا۔ S اس لئے اسے نظر انداز کرنا چاہئے تھا۔

رسول اللہﷺکا ازواج سے حسن معاشرت اور فیض صحبت کی برکت

رسول اللہﷺ کے عقد میں بیک وقت کئی ازواج کی موجودگی اورحضرت عائشہؓ و حفصہؓ کی دوستی کے باعث بسا اوقات آپس میں ایسے معاملات ہوجایا کرتے تھے جن سے وقتی طور پر حضورﷺ کے لیے بھی ایک عجیب مشکل صورتحال پیدا ہوجاتی مگر آنحضرتﷺ ہمیشہ عفو اور درگزر کا سلوک فرمایا کرتے تھے۔ ایک سفر میں حضرت عائشہؓ اور حضرت حفصہؓ دونوں شریک تھیں۔آنحضرتﷺ سفر میں رات کو حضرت عائشہؓ کےساتھ سفر کرتے اور ان سے باتیں کرتے تھے۔حضرت حفصہؓ نے ان سے کہا کیا آج رات آپ میرے اونٹ پر سوار نہیں ہو جاتیں اور میں آپ کے اونٹ پرسوار ہوجاؤں۔پھر تم بھی دیکھو اور میں بھی دیکھوں۔حضرت عائشہؓ نے کہاہاں ٹھیک ہے۔پھر وہ ان کے اونٹ پر سوار ہوگئیں۔حضورﷺ (حسب عادت)حضرت عائشہؓ کے اونٹ کی طرف آئےجس پر اب حفصہؓ تھیں۔آپؐ نے ان کو سلام کیا پھر روانہ ہوئے یہاں تک کہ انہوں نے پڑاؤ کیا۔ ادھرحضرت عائشہؓ کو رسول اللہﷺ کی جدائی کا احساس ہواچنانچہ پڑاؤ کی جگہ انہوں نے گھاس پر اپنے پاؤں رکھ دئے اور کہتی رہیں کہ اے میرے رب مجھ پر کوئی بچھو یا سانپ مسلط کردے۔جو مجھے کاٹ لے۔درآنحالیکہ میں آنحضورﷺ کو کوئی جواب دینے کی طاقت نہیں رکھتی۔مگریہ آنحضرتﷺ کا ہی اعلیٰ ظرف تھا کہ آپ نے دونوں ازواج سے درگزر فرمایا۔

ازواج کی کبھی کبھار باہمی مناقشت کو آنحضرتﷺ کمال حکمت عملی سے دور فرمادیتے تھے۔ایک دفعہ حضرت حفصہؓ نے حضرت صفیہؓ کو طعنہ دے دیا کہ تمہارا تعلق تو یہودی قبیلے سے ہے اور تم یہودیوں کی اولاد ہو۔ اس پروہ رونے لگیں۔حضورﷺ گھر تشریف لائے تو حضرت صفیہؓ کو روتے دیکھ کر فرمایا تمہیں کیا ہوا؟ آپؓ نے رسول اللہﷺ سے حضرت حفصہؓ کی اس بات کا ذکر کیا کہ وہ کہتی ہیں کہ ہم قریش کے خاندان سے ہیں اور تم یہودیوں کی بیٹی ہو۔حضورﷺ نے فرمایا “ تم ایک نبی(ہارونؑ) کی بیٹی ہو اور تمہارے چچا حضرت موسیٰؑ بھی نبی تھے۔اور تم خود نبی کی بیوی ہو۔پھروہ(حفصہ)تم پر کس طرح فخر کرسکتی ہیں۔(یعنی میرا تو تین نبیوں سے تعلق بنتاہےاور تم ایک نبی کا تعلق مجھ پر جتلا رہی ہو)پھر آپؐ نے فرمایا اے حفصہ!اللہ کا تقویٰ اختیار کرو”

اسی طرح کے ایک واقعہ کی تفصیل احادیث میں یوں مذکور ہے کہ آنحضرتﷺ کسی بیوی کے ہاں شہد کا شربت پینے کے لئے ٹھہر گئے۔جہاں آپؐ کو کچھ تاخیرہوگئی۔ حضرت حفصہؓ اور حضرت عائشہؓ کو اس بیوی پر غیرت آئی اور دونوں نے مل کر فیصلہ کیاکہ حضورؐ کو آئندہ اس سے روکنے کے لئے اس شہد کے کسی نقص کی طرف توجہ دلانی چاہئے۔ چنانچہ حضورؐ جب ان کے ہاں ملاقات کے لئے تشریف لے گئے تو پہلے حضرت حفصہؓ نے عرض کیا یارسول اللہؐ !آج آپؐ نے کوئی بُودارشہد پیا ہے؟ شاید اس کی مکھی فلاں بُوٹی پر بیٹھتی اور اس کا رس چوستی ہوگی۔ پھر آپ حضرت عائشہؓ کے ہاں گئے تو انہوں نے بھی ایسا ہی ذکر کردیا۔ آنحضرتﷺ نے اپنی نفاست طبع کے باعث کہ کسی کو مجھ سے تکلیف نہ پہنچے یہ عہد کیا کہ میں آئندہ کبھی شہد نہیں پیوں گا۔ چنانچہ سورة تحریم میں ارشاد ہوا:

یا أَیهَا النَّبِی لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللّٰهُ لَكَ تَبْتَغِی مَرْضَاةَ أَزْوَاجِكَ وَاللّٰهُ غَفُورٌ رَحِیمٌ۔ (التحریم :2)

یعنی اے نبیؐ اس چیز کو محض اپنی بیویوں کی خواہش کی خاطر اپنے لئے کیوں حرام کرتاہے جو خدا تعالیٰ نے آپ کے لئے حلال کی ہے۔

(بحوالہ اہل بیعت رسولﷺ از حافظ مظفر احمد صاحب)

(باقی آئندہ شمارہ میں)