متفرق

میرے ساتھ ہی کیوں ہوا

Spread the love

تحریر قرۃالعین فاروق حیدرآباد

آج کئي دن بعد اس کے ذہن ميں يہ جملہ دوبارہ آيا کہ آخر ميرے ساتھ ہي ايسا کيوں ہوا وہ رات دير تک يہ جملہ سوچتي رہي اور پھر يہ جملہ سوچتے سوچتے سو گئي، رات دير تک جاگنے کي وجہ سے وہ صبح اٹھي تو اس کي طبيعت بوجھل سي تھي آج اسے دوبارہ چيک اپ کے ليے ڈاکٹر کے پاس جانا تھا اس نے ناشتے کے بعد دوا کھائي اور اپني امي کے ساتھ ہسپتال چلي گئي.

’’ مس سويرا آج کل آپ کي مصروفيات کيا ہيں اوردوائي وقت پر کھا رہي ہيں‘‘

’’ مصروفيات بس گھر کے کام وغيرہ اور جي ميں دوائي وقت پر کھاتي ہوں‘‘

’’ آج آپ کچھ تھکي تھکي سي لگ رہيں ہيں جيسي کچھ مہينوں پہلے ميرے پاس آئيں تھيں ورنہ بيچ ميں تو آپ بلکل ٹھيک لگتيں تھيں آپ دوائي کھا رہيں ہيں وقت پر‘‘

’’ جي جي ميں دوا وقت پر لے رہي ہوں، ميں رات دير تک جاگتي رہي شايد اس ليے آپ کو ايسا لگ رہا ہے “…’’ کيوں جاگتيں رہيں “

’’ بس ايک سوال ميرے ذہن ميں رہتا ہے کہ ميرے ساتھ ہي ايسا کيوں ہوا “

’’ ايسا تو ہر بيمار شخص بلکہ جس کے ساتھ برا ہوا ہو يہ ہي سوچتا ہے اسي طرح جب ہم خوش ہوتے ہيں تو يہ کيوں نہيں سوچتے کہ مجھے ہي کيوں خوشي ملي کسي اور کو کيوں نہ ملي ۔ميں نے تمہيں پہلے بھي کہا تھا کہ تم کہيں جاب کرو تاکہ تمہارا ذہن مصروف رہے جبکہ تمہارے گھر والوں کي طرف سے بھي اجازت ہے جاب کي توکيوں نہيں کرتيں، تم جيسي قابل لڑکي جو ايم بي اے ميں پہلي پوزيشن لائي ہوبس تھوڑي ڈپريس ہو حالات کي وجہ …… “

’’ آپ نے جملہ کيوں ادھورا چھوڑ ديا آپ بھي دوسروں کي طرح مجھے بوليں منحوس، پاگل اور پتہ نہيں کيا کيا، ميں اب ان باتوں کي عادي ہوچکي ہوں مجھے اب کوئي فرق نہيں پڑتا ميں نے ان باتوں کے ساتھ رہنا سيکھ ليا ہے “

’’ يہي تو ميں نہيں چاہتي کہ تم ان باتوں ميں رہو بلکہ ميں تو چاہتي ہوں کہ تم ان لوگوں سے، ان باتوں سے باہر آؤ اور لوگوں کو اپنا آپ دکھواؤ، کچھ بن کر دکھاؤاس کے ليے تمہيں کوئي کام کرنا پڑے گا “…’’ جي ميں کوشش کروں گي “

’’ کوشش نہيں کرني بلکہ کر کے دکھانا ہے، اب تم جب اگلي بار ميرے پاس آؤ تو تو مجھے اپني جاب کي خوشخبري سنانا ٹھيک ہے “

گھر آکر سويرا نے اپني سہيلي حنا کو فون کيا اور اس سے پوچھا کہ کيا جس بينک ميں وہ جاب کرتي ہے وہاں کوئي جگہ خالي ہے حنا نے کہا کہ وہ معلوم کرکے اسے ضرور بتائے گي.

سويرا ايک متوسط طبقے کے اعلي تعليم يافتہ خاندان سے تعلق رکھتي تھي اس کے والد کا کچھ عرصہ پہلے انتقال ہوا گھر ميں اس کے علاوہ دو بھائي اور امي رہتے دونوں بھائي اچھي جگہ ملازمت کررہے تھے، سويرا کي منگني اس کے کزن سے ہوئي تھي ليکن بدقسمتي سے شادي سے ايک مہينہ پہلے اس کا ايک کار ايکسيڈنٹ ميں انتقال ہو گيا سويرا اپنے منگيتر عامر سے بہت محبت کرتي تھي باپ کي اچانک موت اور پھر اس کے منگيتر کا اچانک انتقال سويرا پہ قيامت ڈھا گيا جو اسے ديکھتا دکھ و افسوس کرتا اس نے اپنے اوپر توجہ ديني چھوڑ دي وہ دنيا سے بے گاني ہوگئي، روز روز کوئي نہ کوئي ملنے آجاتا اور اس سے ايک ہي طرح کي باتيں کرتا ہر وقت ايک ہي طرح کي باتيں سن سن کر اس کي طبيعت اندر ہي اندر بگڑنے لگي کبھي اچانک ہنسنے لگتي تو کبھي يوں ہي بلاوجہ رو پڑتي اس کي اس حالت کي وجہ سے وہ خاندان بھر ميں پاگل مشہور ہوگئي منحوس تو اسے پہلے ہي کہہ چکے تھے اور اب پاگل بھي، وہ اپني طرف سے کوشش کرتي خود کو قابو ميں رکھنے کي ليکن اب يہ حالت اس کے بس سے باہر ہوتي جا رہي تھي اس کي يہ حالت اس کے گھر والوں سے نہ ديکھي جا رہي تھي تو وہ اسے سائيکا ٹرسٹ کے پاس لے کر گئے سويرا ڈاکٹر شائستہ کے پاس جانے لگي تو اس کي طبيعت ميں بہتري آنے لگي اور وہ دوبارہ نارمل زندگي کي طرف لوٹ آئي اس کے رشتے دوبارہ آنا شروع ہوئے مگر جب لوگوں کو پتہ چلتا کہ اس کا علاج چل رہا ہے اور وہ بھي دماغي علاج تو لوگ رشتے سے انکار کرديتےاور ويسے بھي جب کسي شخص کے بارے ميں کچھ مشہور ہوجائے خاص طور پر کسي لڑکي کے بارے ميں تو اس کے ليے باقي زندگي گزارنا قدر مشکل ہو جاتا ہے.

حنا سے بات کئے سويرا کو ايک ہفتہ ہوا تھا کہ اس کے پاس حنا کا فون آگيا کہ اس نے اس کي نوکري کا انتظام کر ديا ہے مگر تنخواہ تھوڑي کم ہوگي

“مجھے تنخواہ کي پرواہ نہيں مجھے بس نوکري کرني ہے ميں کوئي کام کرنا چاہتي ہوں لوگوں کو بتانا چاہتي ہوں کہ ميرا دماغ ابھي بھي کام کرتا ہے ميں کوئي ايسي بےکار کي انسان نہيں ہوں حنا دراصل ہم جس معاشرے ميں رہتے ہيں وہاں لوگ پڑھ لکھ تو جاتے ہيں مگر ان کي سوچ چھوٹي کي چھوٹي رہتي ہے اب تم ميري ہي مثال ديکھ لو لوگ سمجھتے ہيں کہ ميں پاگل ہوگئي ہوں جبھي سائيکا ٹرسٹ کے پاس جاتي ہوں جبکہ يہ کوئي بري بات تو نہيں ہے اپنا علاج کروانے ميں کوئي برائي ہے کيا آجکل ہر دوسرے شخص کو کوئي نہ کوئي ذہني بيماري ہوجاتي ہے جيسے باقي بيمارياں ہوتيں ہيں ويسے ذہني بيمارياں بھي ہوتيں ہيں اور ويسے بھي ميرے گھر والوں سے ايک غلطي ہوگئي ہے کہ انہوں نے سب کو بتا ديا کہ ميں سائيکا ٹرسٹ کے پاس جاتي ہوں “

“ تم صحيح کہہ رہي ہو کہ اپنا علاج کروانے ميں کوئي برائي نہيں بلکہ ميں تو يہ کہوں گي کہ تمہارے گھر والے تمہيں صحيح وقت پر صحيح جگہ لے کر گئے اورتم لوگ نہ بھي بتاتے تب بھي لوگوں کو پتہ تو چل ہي جانا تھا خير اب تم پہلے سے بہت بہتر ہوگئي ہو اورتم کيا سارے زمانے بھر کا روگ دل ميں ليے بيٹھي ہو اب ملينگے کل بينک ميں اوکے “

سويرا نے بينک ميں ملازمت شروع کردي ابھي اسے وہاں کام کرتے تين مہينے ہي ہوئے تھے کہ اس کي سہيلي حنا کي بات اس کے آفس کوليگ سميع سے طے ہوگئي اور شادي کي تاريخ دو مہينے بعد کي رکھي گئي، سويرا حنا کي شادي کي تياريوں ميں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہي تھي اور آخر ہوتے ہوتے حنا کي مہندي کا دن آگيا، سويرا آج بہت پياري لگ رہي تھي حنا کي ساري جاننے والياں سويرا کے بارے ميں باتيں کرنے لگيں ابھي يہ باتيں چل ہي رہيں تھيں کہ شور اٹھا دولہے والے آگئے ہيں سب لڑکياں ہاتھ ميں ہاراور گجرے لئيے انتظار ميں کھڑي ہوگئيں

“ارے يہ يہاں پر” سميع کے دوست رافع کے منہ سے بےساختہ نکلا ….’’کون يہاں پر‘‘ سميع نے پوچھا …’’ارے يہ سويرا‘‘…“تم کيسے سويرا کو جانتے ہو يہ تو حنا کي سہيلي ہے اور ہمارے بينک ميں جاب کرتي ہے” سميع نے کہا …’’وہ… ميں… دراصل‘‘…’’کيا.. وہ.. ميں.. دراصل لگا رکھي ہے‘‘ سميع نے جھنجھلا کر کہا ۔

ابھي رافع کوئي جواب ديتا سميع کي مہندي کي رسم شروع ہو گئي اور ان کي باتيں ادھوري رہ گئيں ۔رافع تھوڑي تھوڑي دير بعد سويرا کي طرف ديکھے جاتا اس کي اس حرکت کو سويرا نے بھي نوٹ کيا يہ پہلا موقع نہيں تھا کہ کسي لڑکے نے اسے اس طرح ديکھا ہو مگر اس لڑکے ميں کچھ تو الگ تھا جو اس کي نينديں اڑا کر لے گيا

حنا کي شادي کے کچھ دن بعد سويرا کے پاس حنا کا فون آيا کہ “اس کے شوہر کے دوست ڈاکٹر رافع اس سے شادي کے خواہشمند ہيں ويسے تو اور بھي رشتے آئے ہيں مگر ميرے حساب سے ڈاکٹر رافع تمہارے ليے موزوں رہيں گے کافي لبرل لوگ ہيں”

“حنا تمہيں تو پتہ ہے ميرا کہ لوگ ميرے بارے ميں کيا کيا کہتے ہيں”

“پتہ ہے رافع بھائي کو بھي وہ دراصل جس ہسپتال ميں تم علاج کے ليے جاتي ہو وہ وہاں پريکٹس کرتے ہيں اور جو تمہاري ڈاکٹر شائستہ ہيں ان کے فرسٹ کزن بھي ہيں آگے تمہاري مرضي “…’’ اچھا “سويرا نے حيران ہوتے ہوئے کہا ۔

ڈاکٹر رافع آنکھوں کے ڈاکٹر تھے اور ہسپتال ميں ان کا ڈپارٹمنٹ سائيکا ٹري ڈپارٹمنٹ کے ساتھ ہي تھا وہ اکثر سويرا کو ڈاکٹر شائستہ کے پاس آتے جاتے ديکھتے ان کا دراز قد، کھلتا رنگ اور آنکھيں… آنکھيں تو بہت ہي خوبصورت تھيں اور يہ ہي آنکھيں سويرا کو بے چين کئے ہوئي تھيں، رافع کي پيدائش فرانس ميں ہوئي اس کے والد پاکستاني اور والدہ فرينچ تھيں رافع کے والد نے اپني بيوي کو مسلمان کيا اور کچھ عرصہ قبل پاکستان شفٹ ہوگئے رافع کي والدہ نے اردو بولني سيکھي اور وہ پاکستاني کلچر ميں رنگ گئيں

رافع کے گھر والے جب رشتہ لے کر سويرا کے گھر آئے تو سويرا نے رافع کو ديکھتے ہي پہچان ليا وہ ان لوگوں سے مل کراور ان لوگوں کے خيالات جان کر خوش ہوئي، آخر ہوتے ہوتے سويرا کي شادي رافع سے ہوگئي اس کے سسرال والے اس کي توقع سے بڑھ کر اچھے نکلے

آج سويرا کي شادي کو ايک سال ہوگيا اس نے اور اس کي ساس نے مل کر ايک دعوت کا اہتمام کيا ابھي وہ انتظام ديکھ ہي رہيں تھيں کہ فون بجا اور سويرا کے ہاتھ سے فون چھوٹ گيا فون گرنے کي آواز سے اس کا بيٹا ميکائيل اٹھ گيا اور رونا شروع ہو گيا آج اس کو اتنا چاہنے والا شوہر اس کو روتا چھوڑ کر اس دنيا سے چلا گيا رافع کا ايکسيڈنٹ ہوا جو جان ليوا ثابت ہوا، جو بھي سويرا کو ديکھتا دکھ کرتا وہ نہ زنداؤں ميں سے لگ رہي تھي اور نہ ہي ُمردو‍ں ميں سے۔

“سويرا تم تو بہت باہمت لڑکي ہواور ديکھو ميکائيل تمہيں کيسے ديکھ رہا ہے تمہيں ہمت نہيں ہارني، تمہيں اس کے ليے جينا ہے اگر تم اس طرح بيٹھ گئ تو اسے کون ديکھے گا تمہيں ہمت حاصل کرنا اپنے ساس سسر سے سيکھنا چاہيے اگر رافع تمہارا شوہر تھا تو ان کا بھي تو اکلوتا بيٹا تھا، تمہيں دوبارہ اپنے آپ کو منوانا ہے زندگي کي طرف واپس آنا ہے، کچھ کر کے دکھانا ہے “شائستہ نے کہا …’’ مجھ سے اب کوئي کام نہيں ہوگا ميرا دماغ اب اتنا کام نہيں کرتا “…’’ ہمت کرے انسان تو کيا ہو نہيں سکتا مجھے معلوم ہے کہ تم ايک باہمت لڑکي ہو اگر تم ہمت کروگي تو يہ مشکل وقت بھي گزر جائے گا، اگر تم ميري مانو تو جوعورتيں گھروں سے سلائي کڑھائي کرتيں ہيں تم ان کے ساتھ مل کر کوئي بزنس شروع کر دو تم ان کي مدد کروگي تو تمہيں سکون بھي ملے گا اور انہيں روزگار بھي‘‘

سب کے سمجھانے پر سويرا نے اپني ساس کے ساتھ مل کر ايک چھوٹا سا بوتيک کھول ليا شروع شروع ميں انہيں مشکل پيش آئي مگر انہوں نے ہمت نہيں ہاري، ساتھ ساتھ سويرا نے ڈيزانگ کے کورسز بھي کئے اور وہ اپنے ڈيزائن کئے کپڑے بھي بنانے لگي، سويرا کي ساس کے بھائي کا فرانس ميں بوتيک تھا وہ وہاں پر ايک مشہور ڈيزائنر تھے يہ دونوں ان سے بھي بزنس کي ٹپس ليتي رہتيں اور پھر ايک دن يہ دونوں فرانس اپنے کپڑے لے کر گئيں جہاں انہوں نے ايک کامياب فيشن شو کيا اور يوں سويرا ايک مشہور ڈيزائنر بن گئ، جو لوگ کبھي اسے منحوس يا نفسياتي مريضہ کہتے تھے آج اس سے رشتہ جوڑنے کے خواہشمند تھے اور لوگوں کو فخر سے بتاتے کہ يہ ہماري جاننے والي ہے۔

آج جب لوگ اس سے انٹرويو ليتے تو وہ سب کو کہتي کہ “ اگر آپ کے اردگرد کے لوگ آپ کے ساتھ مخلص ہيں آپ کا ساتھ ديتے ہيں توآپ کامياب ہو سکتے ہيں، خود بھي ہمت نہ ہاريں اللہ سے اچھي اميد رکھيں تو ہر مشکل کا مقابلہ کر سکتے ہيں اور اگر آپ کے گھر ميں کوئي ذہني بيمار لگ رہا ہے خاص طور پر کوئي لڑکي تو اس کا بروقت علاج کروائيں اورعلاج کروانے ميں زرہ بھي نہ کترائيں “ اور ساتھ کہتي

The true miracle is not to fly in the air,

Or to walk on water…..

But to walk on this earth “

( Chinese proverb)

WhatsApp Group Join Now

admin

An online Urdu Magazine for women.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *