غزل ۔ ۔ ۔ طاہرہ مسعود
شاعرہ: طاہرہ مسعود
زخم تیرے سامنے سارے سجا کر رکھ دیے
یا الٰہی اشک بھی سارے بہا کر رکھ دیے
تیرے احسانوں کا کرنا شکر ہے مشکل ہمیں
اپنے احساں ہیں تمہیں سارے گنا کر رکھ دیے
زندگی کی حسرتوں کو نفرتوں کا دے کے رنگ
خود ہی راہوں میں ہیں اُف کانٹے بچھا کر رکھ دیے
نیکیاں ہم کو کمانا ہر گھڑی مشکل لگیں
پرگناہوں کے بہت بوجھے کما کر رکھ دیے
صرف دنیا ہی کمانے کی لگن میں ہیں مگن
عالمِ آخر کو ہیں لارے بچا کر رکھ دیے
جتنے اچھے قول تھے جتنے سنہری لفظ تھے
طاق نسیاں پہ وہ ہیں سارے سجا کر رکھ دیے


