نرم لہجے کامیابی کا ذریعہ ہوتے ہیں
Soft Words Win Hard Hearts .
ڈاکٹر محمد اعظم رضا تبسم کی کتاب کامیاب زندگی کے راز سے انتخاب
فرحین ناز گلوبل ہینڈز پاکستان
پرانے وقتوں کے ایک نامور درویش جنہیں دنیا بہلول دانا کے نام سے جانتی ہے ایک مرتبہ کسی نخلستان میں تشریف فرما تھے کہ وہاں سے ایک معروف تاجر کا گزر ہوا۔ آپ کا نام تو سن ہی رکھا تھا چنانچہ وہ شرف ملاقات کے لیے آپ کے پاس آیا اور سلام کر کے نہایت ادب کے ساتھ آپ کے پاس بیٹھ کر عرض کرنے لگا حضور ! تجارت کا کون سا ایسا سامان خریدوں جس میں بہت نفع ہو۔ بہلول دانا نےفرمایا.. ’’کالا کپڑا لے لو.. ’’ تاجر شکریہ ادا کر کے وہاں سے چل دیا اور جا کر اس نے علاقے میں دستیاب تمام سیاہ کپڑا خرید لیا۔کچھ دنوں بعد شہر کا بہت بڑا آدمی انتقال کر گیا۔ ماتمی لباس کے لئے سارا شہر سیاہ کپڑے کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا.. اب کپڑا سارا اس تاجر کے پاس ذخیرہ تھا.. اس نے منہ مانگے داموں فروخت کیا اور اتنا نفع کمایا جتنا ساری زندگی نہ کمایا تھا اور بہت ھی امیر کبیر ھو گیا۔ کچھ عرصے بعد وہ گھوڑے پر سوار کہیں سے گزر رہا تھا۔اس وقت اسی راہ کے قریب بہلول دانا بھی تشریف فرما تھے۔ اس نے آپ کو دیکھا اور گھوڑے پر بیٹھے بیٹھے بلند آواز میں آپ کو مخاطب کیا ’’ او دیوانے ! اب کی بار کیا لوں؟ ’’
بہلول نے فرمایا.. ’’ تربوز لے لو.. ’’ وہ بھاگا بھاگا گیا اور ساری دولت سے پورے ملک سے تربوز خرید لئے.. ایک ھی ہفتے میں سب خراب ھو گئے اور وہ کوڑی کوڑی کو محتاج ھو گیا۔اسی خستہ حالی میں گھومتے پھرتے اس کی ملاقات دوبارہ بہلول دانا سے ہوگئی تو اس نے کہا.. ’’ یہ آپ نے میرے ساتھ کیا کِیا..؟ ’’ اس وقت بہلول دانا نے فرمایا.. ’’ میں نے نہیں ‘ تمھارے لہجے اور تیرے الفاظ نے سب کیا۔ تاجر کہنے لگا جناب میں یہ بات سمجھا نہیں۔ بہلول نے اسے سمجھاتے ہوئے فرمایا کہ جب تم نے مجھ سے پہلی بار سوال کیا تو اس وقت تم اپنے لہجے اور عمل سے سراپا ادب تھے تمہارے لہجے میں عجز و انکساری اور ادب شامل تھا تو تم نے اس کی جزا پائی پھر جب دوسری مرتبہ گھوڑے کی پیٹھ پر بیٹھ کر سوال کیا اس وقت تمھارے لہجے میں تکبر اور عمل میں سراپا غرور تھا۔ بس انہی دو لہجوں کا عروج و زوال تم نے کمایا۔ جی ہاں یہ گوشت کا ٹکڑا جسے ہم زبان کہتے ہیں یہ قینچی کی طرح چلنے لگے تو انسان کو برباد کر دیتی ہے انسان کی ترقی کے تمام تانے بانے کاٹ کر رکھ دیتی ہے اور اگر یہ سوئی کی طرح کام کرے تو ترقی کی راہ کو جوڑتی ہے دل جیتنے تعلقات سینے اور بنانے کا کام کرتی ہے۔ الفاظ کا چناؤبھی اپنی جگہ اہمیت رکھتا ہے مگر لہجے اپنی تاثیر سے انسان کی شخصیت بناتے بھی ہیں ۔ لہجہ انسان کی شخصیت کو معراج بھی عطا کرتاہے اور یہ لہجہ ہی ہے جو انسان کو کہیں کا نہیں چھوڑتا۔ انسان اپنی گفتگومیں نرم وشیریں لہجہ اختیارکرے۔ یہ طریقہ دل کی سختی کو دورکرتا ہے۔ یاد رکھیں۔نرم لہجہ ضمیر جگاتا ہے اور سخت لہجہ انا جگاتا ہے ۔ خاص کر جب آپ کا مقصد نصیحت کرنا ہو تو نرم لہجہ اختیار کرنا چاہیے انسان کی گفتگو اس کے کردار کی آئینہ دار ہوتی ہے۔ جب کہ گفتگو کا آئینہ اس میں موجود لب و لہجہ ہوتاہے ۔ معیاری الفاظ، سلیقہ مند اور شیریں گفتگو ہی انسانی کردار کے اعلیٰ معیار کی عکاسی کرتا ہے۔ بعض مرتبہ انسان اپنی گفتگو کی وجہ سے ہی بےعزت ہوتا ہے۔ انسان حق پر ہونے کے باوجود اپنے لہجے کی وجہ سے ناحق بھی تصور کیا جا سکتا ہے حق سچ بیان کرنے کے لیے ترش لہجہ ضروری نہیں۔ انسان کو سچ خوبصورت انداز میں بولنا چاہیے تا کہ سچ کی حلاوت لوگوں کے کانوں کو مانوس کرے اور دلوں کو گرویدا کرے مگر عموما بے دھیانی اور غصے کی وجہ سے سچ کڑک اور بھرپور غصے نیز بے جا بلند چیخ و پکار کے ساتھ بولا جا رہا ہوتا ہے ساتھ یہ دلیل دی جا رہی ہوتی ہے کہ سچ کڑوا ہوتا ہے۔ ارے یہ تو درست ہے کہ سچ کڑوا ہوتا ہے مگر اس کا لہجہ کڑوا نہیں ہونا چاہیے اور عموما منافق لوگ ایسے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہیں وہ جھوٹ نرمی اور میٹھے لہجے سے بولتے ہیں۔سلیقہء گفتگو ضروری ہے اور بے حد معنی بھی رکھتی ہے۔ اسی کی وجہ سے انسان اپنی دلی کیفیات کا اظہار کرتا ہے۔ گفتگو ایک فن ہے جس سے انسان یا تو دل میں اترتا ہے یاپھر دل سے اتر جاتا ہے۔ گفتگو ہی سامنے والے کے عیب و ہنر کردار اور خاندان کا پتہ دیتا ہے۔ نرم لہجے میں بات کرنا اجنبی افراد کو بھی قریب کر دیتا ہے۔ تلخ لہجے میں یا ناگوار لہجے میں بات کرنا غلط فہمی کو جنم دینے اور قطع تعلقی کا سبب بنتا ہے ۔ من جملہ یہ کہ لہجے انسان کی ترقی و تنزلی یعنی کامیابی اور ناکامی کے بنیادی سبب بنتے ہیں۔


