متفرق

نظم

Spread the love

ندرت جہاں ۔ جرمنی

کاغذ، قلم، الفاظ  اور مىں

قلم پڑا تھا مىز پہ ساکن

کاغذ تھے چپ سادھ کے بىٹھے

دىکھ رہے تھے راہ وہ مىرى

کب  آوں   اور  انھىں اٹھاؤں

کچھ شکوے کچھ خواب لکھاؤں

دکھ اور سکھ کى سارى باتىں

اک اک کر کے انھىں بتاؤں

کاغذ کے کچھ پنوں پر جو

خواب ادھورے لکھ چھوڑے تھے

 کىا مىں پورے کر پائى ہوں؟

ىا پھر دفن مىں کر آئى ہوں

سارى ببتا انھىں سناؤں

مگر ہوا کچھ اىسے جاناں

قلم  جو پکڑا لفظ ہى گم تھے

سوچوں مىں بس تم ہى تم تھے

WhatsApp Group Join Now

admin

An online Urdu Magazine for women.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *