ستاری پردہ پوشی
تحریر بشریٰ بامی انگلینڈ
ستر سے مراد پردہ اور’’ستاری ’’کے معنی پردہ داری یا ڈھانپنےکے ہیں۔۔
عرف عام میں اسکامطلب کسی کی برائی یا بری بات کو تشہیر کرنے کے بجائے ڈھانپ دینے کے ہیں۔۔ خدا کی بے شمار صفات میں ایک صفت ’’ستار‘‘بھی ہے وہ اپنے بندوں کے بیشمار غلطیوں اور نافرمانیوں پر پردہ ڈالتا ہے، بخشتا ہے اور اپنی مخلوق پر نظرِ کرم کر کے پھر بن مانگے اسے سب کچھ عطا بھی کرتاہے۔۔
میں اس وقت جو بات کرنا چاہوں گی وہ فی زمانہ عائلی جھگڑے فساد گھر ٹونے کا سبب ستاری کی بجائے عیوب کی تشہیر ہی ان کی سب سے بڑی وجہ بن رہی ہے۔ خدانخواستہ اگر بات بڑھتے بڑھتے عدالت میں چلی جاتی ہےتو پھر الاماں۔۔ والحفیظ
خواہ وہ مرد ہو یا عورت دونوں اطراف سے ایک دوسرے کے عیوب اور غلط رویوں کوسرعام بتایا جاتا ہے۔ تشہیر کی جاتی ہے غلط بیانیوں سے سب لحاظ داری کی چیر پھاڑ کر دی جاتی ہے جبکہ قرآن کریم میں بیوی اور شوہر کو ایک دوسرے کا لباس کہا گیا ہے اگر فی الوقت ستر پوشی سے کام لیا جائے تو اتنے بھیانک واقعات اور قصے منظر عام پر نہ آئیں جو معاشرے میں بگاڑ کی صورت اختیار کرتے چلے جارہے ہیں – آئے دن طلاق، خلع سے گھر اجڑ رہے ہیں بچوں کا مستقبل تباہ ہو رہا ہے – بعض برائیاں فیشن بن جاتی ہیں – مثلاً پرانے زمانے میں لڑکے باہر چھپ کر سگریٹ پیا کرتے تھے بزرگوں کے سامنے تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا بزرگ بھی ستر پوشی کرتے تھے۔ کبھی کبھارچپ کر کے سمجھا دیا اور عادت چھوٹ گئی۔ حجاب قائم رہا بے حجابی پنپی نہیں۔ ہمارے بزرگ ستاری کرتے تھے محلے کی عزت سانجھی سمجھی جاتی تھی۔ بات کو بڑھاوا نہیں دیا جاتا تھا بلکہ اصلاح کی کوشش کی جاتی تھی۔
لیکن یہی بُرائی اب آج کے زمانے میں آپ دیکھیں سرعام تمباکو نوشی فیشن بن گیا۔
’’شترِ بے مہار ’’ہو کر بڑی بڑی بُرائیاں سر عام ہونے لگیں ہیں۔
وجہ ستاری کا فقدان کیونکہ ’’پردہ رہا نہ پردہ داری رہی ’’اور برائیوں میں سب شامل ہو کر رہ گئے۔ چھوٹے بڑے کی تمیز کئے بغیرغیبت جڑ پکڑتی گئی اور سچی بات کہ ہم عورتوں میں ستاری کا فقدان زیادہ ہے۔ پردہ ڈالنے کی بجائے ایک دوسرے کو بڑھا چڑھا کر بتایا جاتاہے فلاں کی یہ بات فلاں نے یہ کیا، کہا اور نہ جانے کیا کیا۔۔
سو ستاری ایسی صفت ہےجو باہم حجاب پیدا کرتی ہے، برائی کو پنپنے نہیں دیتی، عفو کا جذبہ پیدا کرتی ہے، آپس میں بگاڑ نہیں پیدا ہونے دیتی، اصلاح کا بیج بوتی ہے، غیبت کا قلع قمع کرتی ہے، معاشرے میں سکون کا باعث بنتی ہے، دلوں میں محبت اور احترام پیدا کرتی ہے، گناہ کو ختم کرتی ہے۔ لیکن ہمیں منفی پہلو پر بھی بات کرنا ضروری ہوگا اگر برائی پر مسلسل تواتر سے پردہ ڈالتے گئے اور اصلاح کی سرزنش نہ کی جائے تو کرنے والا عادت قبیح میں مبتلا ہو جائیگا سو ایسے حالات میں ستاری کرتے ہوئے سرزنش کے ساتھ ساتھ سزا بھی ضروری ہو جائیگی۔لیکن حکمت عملی سے رازداری سے عزت نفس کا خیال کرتے ہوئے۔ہمیں اصلاف کے نقش پا پر چلنا ہوگا۔۔ اور سب سے اہم بات۔ خدا کی ستاری کی صفت کو اپنی زندگیوں کا لائحہ عمل بناتے ہوئے اور اس کو لاگو کر تے ہوئے اپنی زندگی گزاریں۔۔ خدا ہم سب کو توفیق عطا کرے آمین

