مسلم قیادت کا زوال اتحاد کے خواب
تحریر: شبنم گل
پہلی مسلم سربراہی کانفرنس 22 سے 25 ستمبر 1969 ء کو رباط (مراکش) میں منعقد ہوئی تھی۔ یہ کانفرنس بیت المقدس میں مسجد اقصیٰ کو نذرِ آتش کیے جانے کے واقعے کے بعد بلائی گئی تھی، تاکہ اسلامی ممالک مل کر اس سانحے پر ردعمل ظاہر کریں اور مسلم دنیا کے مسائل کے حل کے لیے مشترکہ لائحہ عمل تیار کریں۔ اسی کانفرنس کے نتیجے میں بعد میں ”تنظیمِ تعاونِ اسلامی“ (OIC) کی بنیاد رکھی گئی، جس کا باضابطہ قیام 1970 ء میں عمل میں آیا۔
دوسری مسلم سربراہی کانفرنس 22 سے 24 فروری 1974 ء کو لاہور میں منعقد ہوئی، جو اسلامی دنیا کی تاریخ میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کانفرنس کی میزبانی کا شرف اس وقت کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو حاصل ہوا، جس میں چالیس سے زائد مسلم ممالک کے سربراہان، وزرائے اعظم اور نمائندے شریک ہوئے۔ کانفرنس کا مقصد مسلم ممالک کے درمیان اتحاد و تعاون کو مضبوط کرنا، عرب اسرائیل تنازعے میں مشترکہ موقف اختیار کرنا، اور تیل کے بحران کے تناظر میں اقتصادی باہمی انحصار کو فروغ دینا تھا۔ اسی کانفرنس میں فلسطین لبریشن آرگنائزیشن (PLO) کو مسلم دنیا کی نمائندہ حیثیت دی گئی، اور پاکستان نے بنگلہ دیش کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا، جس سے خطے میں تعلقات کی نئی راہیں کھلیں۔ یہ اجلاس مسلم دنیا کے اتحاد اور خود اعتمادی کی علامت کے طور پر یاد رکھا جاتا ہے۔
مسلم سربراہی کانفرنس اسلامی دنیا کے اتحاد، باہمی تعاون اور اجتماعی فلاح کے عزم کی علامت تھی، جس کا مقصد امتِ مسلمہ کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر جمع کرنا تھا تاکہ سیاسی، اقتصادی، اور فکری چیلنجز کا مل کر مقابلہ کیا جا سکے۔ مگر بدقسمتی سے اس کے بعد مسلم ممالک کے درمیان اختلافات، مفادات کی جنگ، اور بیرونی دباؤ نے اس اتحاد کو کمزور کر دیا۔ نتیجتاً مسلم قیادت کا وہ خواب، جو امت کو ایک مضبوط قوت بنانے کے لیے دیکھا گیا تھا، وقت کے ساتھ تحلیل ہوتا گیا اور آج امتِ مسلمہ ایک بار پھر انتشار، سیاسی غلامی، اور فکری جمود کا شکار نظر آتی ہے۔
مسلم سربراہی کانفرنس کے بعد اگر ہم مختلف مسلم ممالک کی سیاسی، سماجی اور فکری سمت کا جائزہ لیں تو ایک گہرا تضاد سامنے آتا ہے۔ اس تضاد کی جڑیں اسی وقت سے پھوٹتی نظر آتی ہیں جب کانفرنس کے بعد مسلم قیادت ایک ایک کر کے یا تو ختم کی گئی، یا اقتدار سے ہٹا دی گئی۔ ان واقعات نے نہ صرف قومی استحکام کو نقصان پہنچایا بلکہ مسلم امہ کے اس خواب کو بھی چکناچور کر دیا جو اتحاد، تعاون، معاشی ترقی اور روحانی اقدار پر مبنی تھا۔
پاکستان کا منظرنامہ سب سے پہلے اس لحاظ سے اہم ہے کہ لاہور کانفرنس کا انعقاد یہی ہوا تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے اسلامی دنیا کو ایک سیاسی اور نظریاتی دھارے میں جوڑنے کی کوشش کی۔ مگر کانفرنس کے ایک برس بعد ہی ان کے سب سے بڑے حلیف شاہ فیصل کو قتل کر دیا گیا، اور چند سالوں بعد بھٹو خود پھانسی پر چڑھ گئے۔ ان دونوں شخصیات کی موت نے مسلم اتحاد کے خواب پر ایسا کاری وار کیا جس کے اثرات آج تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ بھٹو کے بعد پاکستان میں اقتدار کا محور جمہوریت سے ہٹ کر فوج کے ہاتھ میں آ گیا۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں مذہب کو ریاستی طاقت کے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا۔ افغانستان کی جنگ میں امریکہ کے ساتھ اتحاد نے پاکستان کو وقتی طور پر طاقتور بنایا مگر اندرونی سطح پر انتہاپسندی، اسلحہ اور غیر ریاستی عناصر کے اثرات نے معاشرے کو غیر مستحکم کر دیا۔ آج پاکستان مذہبی شدت پسندی، معاشی بدحالی اور سیاسی انتشار کا سامنا کر رہا ہے۔
پڑوسی ملک ایران میں حالات شدید رخ اختیار کر گئے۔ 1979 کی اسلامی انقلاب نے ایک نئی مذہبی طرزِ حکومت متعارف کرائی، جس نے مسلم دنیا کے سیاسی توازن کو بدل دیا۔ شاہ ایران کے خاتمے کے بعد امام خمینی کی قیادت میں ایران نے اپنے آپ کو مذہبی انقلابی ماڈل کے طور پر پیش کیا۔ مگر اس انقلاب نے سنی اکثریتی ممالک میں ایک خوف پیدا کیا کہ کہیں یہی لہر ان کے اندر بھی سرایت نہ کر جائے۔ ایران اور سعودی عرب کے درمیان سرد جنگ، شام اور یمن کے تنازعات میں براہِ راست یا بالواسطہ جھلکتی ہے۔ کانفرنس کے بعد جو ”اسلامی یکجہتی“ کا نعرہ تھا، وہ اب ”فرقہ ورانہ طاقت کے توازن“ میں بدل گیا۔ آج ایران علاقائی سیاست میں اثر و رسوخ رکھتا ہے مگر اس کی معیشت پابندیوں کی زد میں ہے اور عوامی بے چینی بڑھ رہی ہے۔
مصر میں انور السادات کی موت کے بعد حسنی مبارک کا طویل دور آیا، جس میں جمہوریت محض نام کی رہی۔ عرب کے وقت جب عوامی بیداری کی لہر اٹھی تو ایک بار پھر مسلم دنیا کو امید ہوئی کہ شاید قیادت عوام کے ہاتھ میں واپس آئے۔ مگر حالات نے رخ بدلا اور مصر دوبارہ عسکری قوت کے قبضے میں چلا گیا۔ اخوان المسلمین، جو اسلام اور جمہوریت کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہی تھی، کچل دی گئی۔ آج مصر میں سیاسی آزادی تقریباً ناپید ہے، اور وہی ریاستی جمود غالب ہے جو دہائیوں سے چلا آ رہا ہے۔
ترکی کا معاملہ بھی دلچسپ ہے۔ ایک وقت تھا جب ترکی سیکولر ازم کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ مگر رجب طیب اردوان کے دور میں ترکی نے اسلامی تشخص کے ساتھ ایک مضبوط معیشت اور علاقائی اثر و رسوخ حاصل کرنے کی کوشش کی۔ ابتدا میں اردوان نے اعتدال، جدیدیت اور مذہبی شناخت کے درمیان توازن رکھا۔ مگر وقت کے ساتھ طاقت کے ارتکاز نے ان کے طرزِ حکومت کو آمرانہ بنا دیا۔ آزادیِ اظہار پر پابندیاں، سیاسی مخالفین کی گرفتاری اور میڈیا کا دباؤ اس بات کی علامت ہیں کہ مسلم دنیا میں قیادت کا بحران صرف مذہبی نہیں بلکہ جمہوری بھی ہے۔ اردوان کے ترکی نے شام، آذربائیجان اور فلسطین کے مسائل پر موثر کردار ادا کیا، مگر داخلی سطح پر اختلافی آوازوں کو کمزور کیا گیا۔
افغانستان ایک اور مثال ہے کہ قیادت کی موت یا غیر مستحکم حکمرانی ایک قوم کو کس طرح دہائیوں پیچھے دھکیل دیتی ہے۔ سوویت قبضے، مجاہدین کی خانہ جنگی، طالبان کا عروج اور پھر امریکی حملہ یہ سب قیادت کے بحران کی کہانی ہے۔ جب طالبان نے دوبارہ اقتدار حاصل کیا تو یہ تاثر دیا گیا کہ وہ اب اعتدال پسند اور حقیقت پسند ہو چکے ہیں۔ مگر تعلیم، خواتین کے حقوق اور اظہار کی آزادی پر مسلسل پابندیاں ظاہر کرتی ہیں کہ وہاں سماجی ارتقاء کا سلسلہ رکا ہوا ہے۔ افغانستان اب بھی عالمی تنہائی کا شکار ہے، اور اس کے عوام مسلسل بحران کا شکار ہیں۔
سعودی عرب کا کردار کانفرنس کے بعد سب سے زیادہ متغیر رہا۔ شاہ فیصل کے بعد آنے والی قیادت نے رفتہ رفتہ تیل کی دولت کو اپنی طاقت کی بنیاد بنایا۔ جدیدیت اور مذہب کے امتزاج کی پالیسی نے وقتی استحکام تو دیا مگر عالمی دباؤ کے تحت سعودی عرب نے اب محمد بن سلمان کے دور میں ایک نئے ماڈل کی طرف قدم بڑھایا ہے۔ مذہبی سختی میں کمی، سیاحت کا فروغ، اور عالمی سرمایہ کاری کے منصوبے ظاہر کرتے ہیں کہ سعودی عرب اب ماضی کی طرح نظریاتی قیادت نہیں بلکہ معاشی قیادت بننا چاہتا ہے۔ مگر فلسطین کے مسئلے پر اس کی خاموشی اور اسرائیل سے بڑھتے روابط مسلم دنیا کے لیے ایک نئے سوال کو جنم دے رہے ہیں۔ کیا معاشی مفاد اب امت کے جذبات پر غالب آ چکا ہے؟
شام، لیبیا، یمن، سوڈان ان سب ممالک میں خانہ جنگی اور قیادت کے خاتمے نے وہ منظر پیش کیا جو کبھی مسلم سربراہی کانفرنس کے خواب میں بھی نہ تھا۔ ان ملکوں کے شہروں میں جو کبھی علم، تہذیب اور ثقافت کے مراکز تھے، اب ملبے اور لاشوں کے ڈھیر ہیں۔ عالمی طاقتیں یہاں اپنے مفادات کے لیے مداخلت کر رہی ہیں جبکہ مسلم ممالک ایک دوسرے کے خلاف مختلف اتحادوں میں بٹے ہوئے ہیں۔
گیارہ ستمبر 2001 کے واقعے نے مسلم دنیا کے سیاسی، سماجی اور معاشی ڈھانچے کو گہرائی سے متاثر کیا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے افغانستان، عراق، شام اور دیگر مسلم ممالک میں فوجی کارروائیاں شروع کیں، جن کے نتیجے میں لاکھوں بے گناہ مسلمان جاں بحق ہوئے اور کروڑوں بے گھر ہوئے۔ اسلام کو شدت پسندی سے جوڑنے کی منظم مہم نے مغربی دنیا میں اسلاموفوبیا کو جنم دیا، جبکہ مسلم ممالک کے اندر خوف، عدم استحکام اور داخلی انتشار بڑھا۔ مذہب، سیاست اور شناخت کا انتشار بڑھا۔
اس کے ساتھ ہی مسلم دنیا میں قیادت کا بحران مزید واضح ہوا۔ بیشتر ممالک نے مغرب کے دباؤ پر اپنی داخلی پالیسیوں کو بدلا، مگر ترقی، تعلیم، سائنسی تحقیق اور معاشرتی انصاف جیسے بنیادی میدانوں میں کوئی بڑی پیش رفت نہ ہو سکی۔ اسلامی دنیا دفاعی پالیسیوں میں الجھی رہی جبکہ فکری سطح پر تقسیم اور فرقہ واریت نے اتحاد کے خواب کو کمزور کیا۔ آج بھی گیارہ ستمبر کے بعد پیدا ہونے والا خوف اور عدمِ اعتماد مسلم معاشروں کے شعور پر چھایا ہوا ہے، جس سے نکلنے کے لیے فکری خودمختاری، علمی پیش رفت اور باہمی اتحاد کی ضرورت ہے۔
یہ تمام حالات اس بات کی علامت ہیں کہ مسلمان دنیا میں قیادت کا خلا اب محض سیاسی نہیں بلکہ فکری اور اخلاقی بھی ہے۔ سربراہی کانفرنس کے وقت جو قیادت موجود تھی، وہ علم، سیاست، ایمان اور نظریے کے امتزاج پر مبنی تھی۔ آج کی قیادت یا تو مغرب کے دباؤ میں ہے یا داخلی طور پر اپنی عوامی ساکھ کھو چکی ہے۔ مسلمانوں کے مابین جو اتحاد کبھی ”امت“ کہلاتا تھا، اب ”قومیتوں“ میں بٹ گیا ہے۔ ہر ملک اپنے مفاد کے گرد گھوم رہا ہے اور مذہب محض نعرے کی صورت میں باقی رہ گیا ہے۔
یہ صورتحال ایک المیہ بھی ہے اور ایک سبق بھی۔ المیہ اس لیے کہ ہم نے ایک تاریخی موقع کھو دیا، اور سبق اس لیے کہ جب تک قیادت ایمان، علم، اخلاق اور خودداری کے اصولوں پر مبنی نہیں ہوگی، تب تک کوئی کانفرنس، کوئی نعرہ، اور کوئی قرارداد مسلم دنیا کو بیدار نہیں کر سکتی۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ وہ خواب جو شاہ فیصل، ذوالفقار علی بھٹو، اور مجیب الرحمن نے دیکھا تھا یعنی مسلم اتحاد، خودمختاری اور باہمی عزت کا، اسے نئے فکری اور سیاسی شعور کے ساتھ دوبارہ زندہ کیا جائے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو مسلم دنیا مزید تقسیم، غربت اور عدمِ استحکام کی کھائی میں گرتی چلی جائے گی، اور تاریخ ایک بار پھر ہمیں اس کانفرنس کے ادھورے وعدوں کی یاد دلاتی رہے گی۔
نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔


