متفرق

حجاب عورت کے تحفظ کا وعدہ

Spread the love

تحریر: شہلا ارسلان

ہمارا دین ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جس میں زندگی کے سب اصول مدلل انداز میں بتا دیئے گئے ہیں۔ یوں تو ہر طرح کے موضوع پر مکمل علم عطا فرما دیا گیا اس کے باوجود دور حاضر میں بے حیائی اور عُریانی عام ہو رہی ہے، آخر کیوں یہ سلسلہ رکنے میں نہیں آ رہا؟

اس کی سب سے بڑی وجہ عورتوں کا بے پردہ ہونا ہے، جب عورت ہر کسی پر حسن کے جلوے بکھیرے گی تو بے حیائی ہی جنم لے گی۔ پتہ نہیں کیوں آج کی عورت پردے سے اتنا دور بھاگتی ہے حالانکہ اِس میں تو عورت کا عزت و وقار قائم رہتا ہے۔ ایک طرف تو دین اسلام کی تعلیمات پر عمل درآمد ہو رہا ہوتا ہے اور دوسری طرف دنیاوی لحاظ سے دیکھا جائے تو ہر کوئی پردہ دار عورت کی قدر کرتا ہے اور عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے یوں عورت کے تحفظ کا وعدہ پورا ہو جاتا ہے۔

دوسری جانب جو عورت بے پردہ ہو کر گھر سے نکلتی ہے لوگ اس کی بالکل بھی قدر نہیں کرتے۔ بلکہ شک و شبہ میں کے سبب گھر گھر لڑائی کا ماحول بنتا ہے اور نوبت طلاق تک پہنچ جاتی ہے، ایسی عورت کو گھر سے باہر بھی کوئی عزت نہیں ملتی۔ لوگ ایسی عورت کو تماشا بنا دیتے ہیں، ہر کوئی غلیظ نظروں سے دیکھتا ہے، حتی کہ حملہ کرنے سے بھی نہیں چوکتے۔ تو پھر کیوں نہ ہم لوگ حجاب کو اپنا کر دین اور دنیا دونوں محفوظ کریں۔

اسلامی تعلیمات کا بغور مطالعہ کیا جائے تو پردے کے احکامات واضح طور پر بیان کیے گئے ہیں۔ قرآن کریم سے بھی بے حد رہنمائی حاصل ہوتی ہے۔ قرآنِ کریم میں اللّٰہ تعالیٰ نے واضح طور پر پردے کا حکم بھی نازل فرمایا اور ساتھ ہی ساتھ یہ تعلیمات بھی دی گئیں کہ آخر پردہ کیوں کیا جائے، اس کی ضرورت کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا:

آپ مومن عورتوں سے فرما دیں کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں(سورۃ النور:31)

پھر سورۃ االاحزاب کی ایک آیت 53 میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

“اپنی اوڑھنیوں کو اپنی دنیا بنا لیں “

پھر اس کے علاوہ وہ مرد جن سے زینت چھپانے کی پابندی نہیں اُن کے بارے میں سورہ النور آیت 31 میں ناموں کی لسٹ سے بھی اللہ نے واضع تعلیمات دے دی ہیں۔ یعنی ان سب تعلیمات کے جاننے کے بعد معلوم ہوا کہ پردے کی اسلام میں بہت زیادہ اہمیت ہے۔اسلام نے کس طرح کھول کھول کر تمام تعلیمات واضح فرمائیں تا کہ اُمت مسلمہ کی خواتین کسی قسم کی پریشانی میں مبتلا نہ ہوں لیکن افسوس کہ ہم لوگ عمل بہت کم کرتے ہیں۔جب اللہ تعالیٰ کی تعلیمات کی نافرمانی کی جاتی ہے تو پھر اللہ تعالیٰ بھی انسان کو ذلت و رسوائی کی پستیوں میں گرا دیتے ہیں۔ جہاں صرف اندھیرا ہی اندھیرا چھا جاتا ہے اور کچھ دکھائی دیتا ہے اور نہ ہی سمجھ عطا ہوتی ہے۔

آج کا معاشرہ بہت سی برائیوں سے بھرا ہوا ہے جن میں سے سب سے زیادہ اہم ترین مسئلہ عورت کا بے پردہ ہونا ہے۔ جو اصل فساد کی جڑ ہے۔ آج جو جنسی زیادتی کے واقعات کی بہتات ہو چکی ہے، اس کی اہم ترین وجوہات میں سے ایک بے پردگی ہے۔یہاں معاشرے کے دہرے اور منافق چہرے کی طرف بھی نظر ڈٓالتے چلیں کہ کوئی لڑکی اگر اپنے رب کا حکم مان کر پردہ کر لے تو کسی طور اس کا اس حکم پر عمل کرنا قبول نہیں کرتے، معاشرے میں اسکا جینا محال کر دیتے ہیں، اللہ کے حکم پر عمل کرنے پر اسے طنز و مزاح کا نشانہ بناتے ہیں اور اس حد تک کرتے ہیں کہ وہ گھٹنے ٹیک دیتی ہے (الا ما شاء اللہ)۔۔۔

جبکہ جو لڑکی یہ دین کا پردے کا حکم نہ مانے، کھلے عام اللہ کی حدود سے نکلے، اسے ہم ترقی کے مواقع فراہم کرتے ہیں، اسے آئیڈیل سمجھا جاتا ہے۔ اس کی رائے کو اہمیت دی جاتی ہے۔ مگر یاد رکھیں جب ہم اللہ کی حدود کھلے عام توڑتے ہیں تو پھر چاہتے ہیں ہم سلامت رہیں..؟ ایسا کیسے ہو سکتا ہے، پھر کیوں نہ زلزلے آئیں، کیوں نہ کورونا، برڈ فلو اور ڈینگی جیسی وبائیں پھیلیں۔ اگر ہم قدرت کے اصولوں کو چیلنج کریں گے تو پھر قانون قدرت حرکت میں ضرور آئے گا۔ انسان سمجھ لے اس سے قبل کہ قدرتی آفات اسے مکمل تباہی سے دوچار کر دیں۔

WhatsApp Group Join Now

admin

An online Urdu Magazine for women.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *