رمضان کے مشہور پکوان ایک کھٹی میٹھی تحریر
تحریر: راحیلہ خان
رمضان المبارک کے مہینے میں اگر مشہور پکوانوں کی بات نہ کی جائے یا ان پر ایک دلچسپ تحریر نہ لکھی جائے تو یہ ان پکوانوں کے ساتھ نا انصافی ہے اور میں چونکہ شعبہ انصاف سے منسلک ہوں تو میں یہ زیادتی نہیں کر سکتی۔ میں نے ماہ مقدس میں کچھ پکوانوں کی درجہ بندی ان کی مقبولیت کے حساب سے کی ہے۔
پکوڑے عوام میں مقبولیت کے حساب سے پہلے نمبر پر ہیں۔ رمضان میں دسترخوان پر اور کچھ ہو یا نہ ہو پکوڑے لازمی ہوتے ہیں۔ پکوڑے کب رمضان المبارک میں افطاری کا لازمی حصہ بنے۔ اس بارے میں تاریخ مکمل طور پر خاموش ہے۔ بس اتنا ہی پتہ چلتا ہے کہ جب سے مغلوں نے اپنے دسترخوان کو طرح طرح کے پکوانوں سے سجانا شروع کیا (اور وہ سارا خزانہ جو کہ ملک و قوم کی ترقی پر لگانا تھا وہ دسترخوانوں پر لگا دیا۔ ) تب سے پکوڑے بھی ہماری افطاریوں کا لازمی جز بن گئے۔
اور اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ رمضان میں پکوڑوں نے ملکی معیشت کو کافی حد تک سنبھالا ہوا ہے۔ پکوڑے نہ صرف ہر خاص و عام کی افطاری کا حصہ ہیں۔ بلکہ پکوڑوں کے کاروبار سے کئی لوگوں نے دن دگنی رات چوگنی ترقی کی ہے یہاں تک کہ جھونپڑیوں سے بنگلوں تک جا پہنچے ہیں۔
پکوڑوں کی ایک اور خاصیت یہ بھی ہے کہ ان کو بنانا نہایت ہی آسان ہے۔ بس فارغ بیٹھے شوہروں کو بیسن گھول کر کچن میں پکوڑے پکانے کھڑا کر دیں۔ اس طرح نہ صرف افطاری کے لئے پکوڑے تیار ہو جائیں گے بلکہ بجلی کی بھی کافی بچت ہوگی کیونکہ پکوڑے تیار ہونے تک ٹی وی اور موبائل بند رہے گا۔ مزید شوہر صاحب سگھڑ بھی ہو جائیں گے۔ پکوڑوں کا ایک اور فائدہ یہ بھی ہے کہ پکوڑے کھانے سے دیگر پھل فروٹ کی کافی بچت ہوجاتی ہے۔ اس لئے مہمانوں کے آگے ہمیشہ پکوڑے زیادہ رکھیں۔
ہر چیز سے کچھ نہ کچھ نئی چیز کا جنم ضرور ہوتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ پکوڑوں سے سموسوں نے جنم لیا ہے۔ مزید سموسوں سے آلو کے کباب، یا کٹلس پیدا ہوئے۔ خیر یہ جنم در جنم کا سلسلہ جاری ہے۔ مگر ان کے پڑ دادا یعنی پکوڑوں کی اہمیت کم نہیں ہوئی۔
رمضان میں جہاں پکوڑے کھانا فرض ہے بالکل اسی طرح روح افزا کا شربت بھی باعثِ ثواب بن چکا ہے۔ روح افزاء کا شربت ہماری افطاریوں میں اتنا ضروری ہو چکا ہے جتنا ہمارا روزہ رکھنا۔ رمضان کے علاوہ سال میں کسی بھی دن اذان مغرب کے اوقات میں کسی شخص کے ایک ہاتھ میں روح افزاء کا گلاس اور دوسرے ہاتھ میں کھجور ہو تو سب سمجھ جاتے ہیں کہ اس شخص کا روزہ ہے۔
اگر افطاری میں روح افزاء کا شربت موجود نہ ہو تو اکثر لوگوں کو لگتا ہے کہ آج گھر والوں نے روزہ رکھا ہی نہیں۔ پورے سال پیپسی اور کوکاکولا پینے والی قوم رمضان المبارک میں اچانک ان مشروبات کو حرام قرار دے کر روح افزاء پینا شروع کر دیتی ہے۔
تیسری چیز جیسے رمضان میں مقبولیت عام حاصل ہے وہ ہے فروٹ چاٹ۔ فروٹ چاٹ پورے پاکستان میں الگ الگ انداز میں بنائی جاتی ہے یعنی جو پھل فروٹ جہاں زیادہ دستیاب ہوں اور سستے ہوں۔ قوم ان سے فروٹ چاٹ بنا لیتی ہے۔ کچھ لوگ میٹھی تو کچھ مرچ مصالحہ والی چاٹ کھاتے ہیں۔
کہیں فروٹ دہی کے اوپر آرام کرتے نظر آتے ہیں، تو کہیں یہ فروٹ لیموں اور نمک کالی مرچ میں گھل مل کر ایک دوسرے کے ساتھ یک جہتی کا اظہارِ کرتے نظر آتے ہیں۔ کہیں کیلا چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں انار کے ساتھ جوڑی بناتا ہے تو کہیں بغیر کٹے ام، امرود اور سیب سے یاری نبھاتا ہے۔
نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔


