متفرق

جب پہلی بار اکیلے چینی سرزمین پر قدم رکھا

Spread the love

مشہور روایت ہے کہ تعلیم حاصل کرو اگرچہ چین جانا پڑے۔

بچپن میں یہ روایت پڑھتے ہوئے بالکل اندازہ نہیں تھا کہ ایک دن ہم خود تعلیم کے حصول کی خاطر چین پہنچ جائیں گے۔پنجاب یونیورسٹی سے ماسٹر ڈگری حاصل کرنے کے بعد ہم نے اعلیٰ تعلیم کے لیے پاکستان سے باہر درخواستیں بھیجیں۔ 2، 4 ممالک بشمول چین سے جواب آگیا اور وہ جواب لے کر ہم اپنے والدین کے سامنے پہنچ گئے۔ اسکول سے یونیورسٹی تک وہ ہمیں پڑھائی کی اہمیت بتاتے رہے، لیکن اس دن یہ کام ہم کر رہے تھے۔

ہمارا کہنا تھا کہ خواتین کو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنی چاہیے، اس سے ان کے اندر مضبوطی آتی ہے، وہ دنیا کو بہتر طور سے سمجھ پاتی ہیں، انہیں روزگار کے اچھے مواقع میسر آتے ہیں اور وہ معاشرے کا فعال رکن بن سکتی ہیں وغیرہ وغیرہ۔ ہمارے والدین ہر دلیل کے جواب میں ایک ہی بات کہہ رہے تھے کہ پڑھائی مکمل ہونے تک ہماری شادی کی عمر نکل جائے گی۔

ہماری ہر دلیل کے جواب میں وہ ہمیں سمجھاتے کہ دیکھو تم پاکستانی ہو۔ یہاں عورت کی شادی کی ایک عمر ہوتی ہے اور کنواری لڑکیاں ایسے ملکوں ملکوں نہیں گھوما کرتیں بلکہ چپ چاپ گھر میں بیٹھتی ہیں، لہٰذا تم بھی بیٹھو۔ ہم اچھا سا لڑکا ڈھونڈ دیتے ہیں، اس سے بیاہ رچاؤ، اس کی خدمت کرو، کسی دن تمہارے حسنِ سلوک سے خوش ہوکر اگر اس نے تمہیں مزید پڑھنے کی اجازت دے دی تو پڑھ لینا ورنہ شوہر کی خدمت کرتی رہنا۔ اس سے زیادہ تم کیا چاہ سکتی ہو؟

ہم نے اپنی اعلیٰ تعلیم کی راہ میں خود سے اتنی بڑی رکاوٹ لانے سے صاف انکار کردیا۔ ہمارے امی ابو نے بھی ہار مانتے ہوئے ہمیں جانے کی اجازت دے دی، اور یوں ہم نے فوراً چین کی ایک جامعہ کی طرف سے آئی ہوئی آفر قبول کرلی۔

ہمیں تو بس پاکستان سے بہتر یونیورسٹی سے پڑھنا تھا۔ وہ چاہے چین میں ہوتی یا امریکہ میں، کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔ ہم نے چین جانے کی تیاری شروع کردی۔ کسی نے کہا وہاں کھانے پینے کی بہت تنگی ہے، جتنا ہوسکے کھانے کا سامان لے جاؤ۔ ہم نے اپنے بیگ مختلف قسم کی دالوں اور مصالحوں سے بھر لیے۔ جو تھوڑی بہت جگہ بچی اس میں چند کپڑے اور جوتے فٹ کردیے۔

بالآخر وہ دن بھی آگیا جب ہمیں اپنے گھر والوں کو الوداع کہہ کر بیجنگ کے لیے روانہ ہونا تھا۔ ہمیں اس لمحے احساس ہوا کہ اب ہم روزانہ یونیورسٹی سے واپسی پر گھر والوں سے ملاقات نہیں کرسکیں گے۔ چین میں مغرب کے بنائے گئے تمام سوشل میڈیا نیٹ ورکس بھی بند ہیں۔ ہمارے فون میں ایک وی پی این موجود تھا سو تسلی تھی لیکن چین پہنچ کر پتا چلا کہ مفت کے وی پی این بس پاکستان میں ہی کام کرتے ہیں، چین میں ان کی زندگی شروع ہونے سے پہلے ہی ختم ہوجاتی ہے۔

بیجنگ میں اس وقت صرف ایک بین الاقوامی ہوائی اڈہ ہوا کرتا تھا، اب 2 ہیں۔ جہاز سے اتر کر بیجنگ کیپیٹل انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی عمارت میں داخل ہوئے تو آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ پاکستان میں رہتے ہوئے اتنے ترقی یافتہ چین کا سوچنا ناممکن تھا۔ چینی شاہکار بناتے ہیں اور ایئر پورٹ کی عمارت اس کا منہ بولتا ثبوت تھی۔ ہر طرف صفائی ستھرائی اور چمک دمک۔ ہر جگہ چینی اور انگریزی زبان میں ہدایات درج تھیں۔ اپنے سے آگے والے مسافروں کے پیچھے چلتے چلتے امیگریشن بھی کروا لی اور سامان بھی اٹھا لیا۔

ہمیں ایئر پورٹ سے یونیورسٹی خود جانا تھا۔ ہماری یونیورسٹی میں موجود ایک پاکستانی ہمیں اس حوالے سے معلومات دے چکے تھے کہ ایئرپورٹ سے یونیورسٹی تک کی ٹیکسی کیسے لینی ہے، لیکن کیا کریں اس وقت رات کے ڈھائی بج رہے تھے۔ ہم نے اپنی زندگی میں رات کے اس پہر کسی بس، ٹرین، ٹیکسی یا رکشے میں سفر نہیں کیا تھا، تب کیسے کرلیتے؟

پاکستان میں اس وقت ایک عورت کا اکیلے ایئرپورٹ سے گھر جانا کتنی بڑی مشکل ہے، یہ عورتیں اور ان کے گھر والے تصور کرسکتے ہیں۔ ہم بھی اسی شش و پنج میں تھے کہ جانے یہاں کا کیا ماحول ہے۔ ابھی یونیورسٹی جائیں یا صبح کا انتظار کرلیں۔ تھوڑا بہت سوچا پھر وہیں کونے میں ڈیرا جما کر بیٹھ گئے۔

ایئر پورٹ کے باہر ٹیکسیاں موجود تھیں لیکن ‘جانے کیا ہوگا’ کا ڈر ہمیں روکے ہوئے تھا۔ صبح 5 بجے سورج نکلا تو ڈرتے ہوئے ایئر پورٹ سے باہر قدم نکالا۔ ایک ٹیکسی والے کو فون پر یونیورسٹی کا چینی زبان میں نام دکھایا۔ اس نے سرسری سی نظر ڈال کر مجھے سامان گاڑی کی ڈگی میں رکھنے کا اشارہ کیا۔ میں نے اپنے بھاری بھر کم بیگ دیکھے اور پھر اسے دیکھا، پھر خود سے کہا ’چین میں خوش آمدید‘۔

ٹیکسی جانے کن رستوں سے گزر کے یونیورسٹی کے مغربی دروازے تک پہنچی۔ ہم نے جانے سے پہلے گوگل پر یونیورسٹی کا مرکزی دروازہ دیکھ رکھا تھا جو ہرگز وہ دروازہ نہیں تھا۔ ہم نے اسے پھر سے یونیورسٹی کا نام دکھایا تو اس نے اسی گیٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کچھ کہا۔ ہمیں بس یہی سمجھ آیا کہ ٹیکسی والا ہمیں جہاں بھی لے آیا ہے ہمیں بس اب یہیں اترنا ہے۔

لہٰذا کرایہ ادا کیا اور ڈگی سے سامان نکالا۔ ٹیکسی والا شاید اسی انتظار میں تھا۔ وہ فوراً گاڑی بھگا لے گیا۔ ہم اپنے دونوں بیگ سنبھالتے ہوئے گیٹ کی طرف بڑھے۔ گارڈ کو یونیورسٹی کا نام دکھایا تو اس نے تصدیق کی کہ ہم صحیح جگہ پہنچے ہیں۔ اس کا فون لے کر یونیورسٹی میں موجود ایک پاکستانی صحافی اور طالب علم کو فون کیا۔ وہ کچھ ہی دیر میں گیٹ پر آگئے۔ ہمیں اپنے ساتھ ہمارے ہاسٹل تک لے کر گئے، رجسٹریشن کا عمل پورا کروانے کے بعد ہمیں ہمارے کمرے میں چھوڑ کر واپس چلے گئے۔

اگلے روز وہ دوبارہ ملے۔ کہنے لگے آؤ کھانا کھانے چلتے ہیں۔ ہم رات کے بھوکے تھے اس لیے چپ چاپ ان کے ساتھ چل دیے۔ وہ ہمیں لے کر ایک قریبی مسلم ریسٹورینٹ پہنچے۔ ہم نے مینیو کارڈ دیکھا اور پھر ان کے سامنے رکھ دیا کہ کچھ گزارے لائق منگوا دو۔ انہوں نے بیف فرائڈ رائس آرڈر کردیے۔ تھوڑی دیر بعد جو ڈش ہمارے سامنے آئی وہ دکھنے میں خاصی مناسب تھی لیکن اس وقت ہم جس ذہنی حالت کا شکار تھے، اس سے بالکل انصاف نہ کرسکے۔

ہماری دنیا میں باسمتی کے علاوہ کوئی چاول نہیں تھا۔ یہ پہلی بار تھا کہ ہم لمبے خوشبو دار باسمتی چاول کے علاوہ کوئی اور چاول دیکھ اور کھا رہے تھے۔

ہم پاکستان میں رہتے ہوئے چینی کھانے بہت شوق سے کھاتے تھے۔ چکن منچورین تو ہماری پسندیدہ ڈش تھی۔ اس کے علاوہ چکن شاشلک، بیف چلی ڈرائی، کنگ پاؤ چکن اور اسپرنگ رول بھی ہم شوق سے کھاتے تھے۔

گرچہ ہم جانتے تھے کہ ان کھانوں کا چین سے اور چین کا ان سے کوئی لینا دینا نہیں ہے، اس کے باوجود ہم جب بھی چینی کھانوں کے بارے میں سوچتے تو ان سے ملتے جلتے کھانے ہی ہمارے ذہن میں آتے تھے۔ چین میں اپنا پہلا کھانا کھاتے ہوئے ہمیں احساس ہو رہا تھا کہ ہم پوری زندگی چینی کھانوں کے نام پر دھوکا کھاتے رہے تھے۔

ہم کھانا کھانے کے بعد واپس یونیورسٹی لوٹے۔ اس دن نئے طلبا کی رجسٹریشن ہو رہی تھی۔ ہماری رجسٹریشن انٹرنیشنل اسٹوڈنٹ آفس میں ہونا تھی، ہم سیدھا وہیں چلے گئے۔ آدھے گھنٹے بعد ہم کمیونیکشن یونیورسٹی آف چائنہ میں ماسٹر ڈگری کے ایک پروگرام میں رجسٹر ہوچکے تھے۔کمیونیکیشن یونیورسٹی آف چائنہ چین میں صحافت کی تعلیم کے لیے بہترین تصور کی جاتی ہے۔ چینی میڈیا کے بہت سے نامور لوگ اسی یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہیں۔یہ یونیورسٹی 1954ء میں بیجنگ کے مشرقی حصے میں بنائی گئی تھی۔ اس وقت اس کا نام بیجنگ براڈکاسٹنگ انسٹیٹیوٹ رکھا گیا تھا جو 2004ء میں تبدیل کرکے کمیونیکیشن یونیورسٹی آف چائنہ کردیا گیا۔ یونیورسٹی کا رقبہ تقریباً 50 لاکھ مربع فٹ ہے اور اس میں کل 15 ہزار طالب علم زیرِ تعلیم ہیں۔

ہماری یونیورسٹی کا رقبہ پنجاب یونیورسٹی سے کئی گُنا کم ہے لیکن چینیوں نے یونیورسٹی کا ایک ایک انچ کا بھرپور استعمال کیا ہوا ہے۔ یونیورسٹی میں تدریسی اور رہائشی عمارتوں کے علاوہ آبشاریں اور جھیلیں بھی موجود ہیں۔ دن بھر کے تھکے ہارے طلبہ شام کو ان جھیلوں کے کنارے ٹہلتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

یونیورسٹی کا اپنا ٹی وی اسٹیشن بھی ہے۔ اس اسٹیشن کا پورا انتظام یونیورسٹی کے طلبہ چلاتے ہیں۔ یونیورسٹی میں ایک میڈیا میوزیم بھی موجود ہے جہاں ذرائع ابلاغ کو مختلف آلات کی صورت میں قدیم زمانے سے جدید زمانے میں داخل ہوتے دیکھا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ یونیورسٹی میں دو تین جگہوں پر صحافیوں، کیمرا پرسنز اور ڈائریکٹروں کے کئی مجسمے بھی نصب کیے گئے ہیں۔

ہم دوپہر کا کھانا تو ایک حلال ریسٹورینٹ سے کھا چکے تھے۔ اب اپنے کمرے میں بیٹھے شام کے کھانے کی فکر کر رہے تھے۔ دوپہر میں تو چینی چاول جیسے تیسے کرکے کھا لیے تھے، رات کو ان کے بارے میں سوچنے کا بھی دل نہیں کر رہا تھا۔ ہمارے بیگ میں ہر قسم کی دال اور مصالحے موجود تو تھے مگر انہیں پکانے کے لیے ہمارے پاس کوئی برتن نہیں تھا۔ اگرچہ ہاسٹل میں باورچی خانہ تھا لیکن وہاں بس ہاٹ پلیٹ اور مائیکرو ویو اوون رکھے ہوئے تھے اور طلبہ کھانا پکانے کے لیے اپنے برتن استعمال کرتے تھے۔

ہم نے اس وقت اپنے بیگ سے انسٹینٹ نوڈلز کے پیکٹ اور ایک پلاسٹک کا ڈبہ نکالا جس میں امی نے کچھ بسکٹ اور نمکو ڈال دی تھی۔ ہم نے ڈبے میں نوڈلز کھول کر ڈالے، تھوڑا سا پانی ڈالا اور ڈبے کو بند کرکے پانچ منٹ کے لیے مائیکرو ویو اوون میں رکھ دیا۔ پانچ منٹ بعد نوڈلز تیار تھے۔ یہ ہمارا چین میں پہلا دن تھا اور ہم نوڈلز کی سرزمین پر پاکستان سے لائے نقلی نوڈلز کھا رہے تھے۔

اگلے دن تھوڑی ہمت ہوئی تو ہاسٹل سے باہر نکل کر یونیورسٹی کا جائزہ لیا۔ معلوم ہوا یونیورسٹی میں 4 کینٹین ہیں جن میں سے ایک صرف مسلمان طالب علموں کے لیے مختص ہے۔ ہم پورا ہفتہ وہاں سے کھانا کھاتے رہے۔ اس وقت ہمیں کسی کھانے کا نام نہیں آتا تھا۔ بس انگلیوں کے اشارے سے جو کھانے کے قابل لگتا، پلیٹ میں نکلوا لیتے۔ اچھا لگتا تو اگلی بار وہی لے لیتے ورنہ کوئی نئی چیز ٹرائی کرتے۔

اس ایک ہفتے میں ہمیں پتہ چلا کہ چینی ہماری طرح فرائڈ رائس نہیں بلکہ ابلے ہوئے چاول کھاتے ہیں۔ چینی ہر کھانے کے ساتھ سوپ بھی پیتے ہیں جو چاولوں کی پچ بھی ہوسکتا ہے اور دھنیا اور مولی ڈال کر ابالا گیا پانی بھی ہوسکتا ہے۔ ہم نے ان دنوں ایک اور سبق یہ سیکھا کہ کھانے کے معاملے میں کسی دوسرے کی پسند ناپسند پر بھروسہ نہیں کرنا چاہیے۔ لازمی نہیں کہ اس انسان کو جو ذائقہ اچھا لگتا ہو آپ کو بھی وہ اچھا ہی لگے۔ ہمارے ایک سینئر نے ہمیں انڈے اور ٹماٹر کی ایک ڈش کے بارے میں کہا کہ یہ بہت مزے کی ہوتی ہے۔ ہم نے ایک دن ابلے ہوئے چاولوں پر وہی ڈلوا لی۔ وہ دن اور آج کا دن، قسم لے لیں جو ہم کبھی اس کے پاس بھی پھٹکے ہوں۔

کینٹین میں ہماری پسندیدہ ڈش تا پان چی تھی جو اصل میں آلو اور چکن کا سالن ہوتا ہے۔ یہ چین کے ایک صوبے سنکیانگ کا کھانا ہے۔ کسی اچھے ریسٹورینٹ سے کھائیں تو کافی مزے کی لگتی ہے۔ یونیورسٹی کے کینٹین کا کھانا چین میں بھی پاکستان کی کسی یونیورسٹی کی کینٹین کے کھانے کی طرح بدمزہ ہی ہوتا ہے۔

ہم نے ایک ہفتے میں ہی چینی کھانا کھانے سے پکی توبہ کرلی تھی۔ ہمارے سینئر ہمیں قریبی مارکیٹ لے گئے جہاں سے ہم نے دکاندار کی من پسند قیمت پر ایک عدد فرائی پان اور ایک عدد رائس کوکر خرید لیا۔ پھر ہم پورا سال اپنے ہاسٹل میں پاکستانی کھانے بناتے اور کھاتے رہے۔

ہمیں لگتا ہے کہ اس وقت ہمارے ذہن میں چینی کھانوں کے متعلق ایک خوف موجود تھا جو ہمیں ان کھانوں کو چکھنے سے بھی روک رہا تھا۔ آہستہ آہستہ حوصلہ کیا تو پتہ چلا چینی کھانے میں بھی کئی اقسام پائی جاتی ہیں۔ ہر صوبے کا کھانا دوسرے سے مختلف ہے۔ کہیں نوڈلز کھائے جاتے ہیں تو کہیں چاول، کہیں مصالحے ہماری طرح بے حساب ڈالے جاتے ہیں تو کہیں ان سے مکمل پرہیز کیا جاتا ہے۔ ہاں، چینی کھانوں میں تیل کا استعمال بہت ہوتا ہے۔

پاکستان میں عموماً سمجھا جاتا ہے کہ چینی کھانے میں بالکل تیل نہیں ڈالتے۔ ہم نے یہاں اس کے بالکل الٹ دیکھا۔ چینی کھانوں میں تیل کا استعمال دل کھول کر کرتے ہیں۔ البتہ کھانا جلد کھا لیتے ہیں مثلاََ دوپہر کا کھانا 11 سے 12 کے درمیان کھایا جاتا ہے اور شام کا 5 سے 6 کے درمیان۔ اس کے بعد چینی واک کرتے ہیں، جاگنگ کرتے ہیں یا اپنی پسند کی کوئی سی بھی ورزش کرتے ہیں، شاید اسی وجہ سے ہمارے جتنے پیٹوں سے محروم ہیں۔

چین کے ہر چھوٹے بڑے شہر میں حلال ریسٹورینٹ آسانی سے مل جاتے ہیں۔ ہماری یونیورسٹی کے پاس ہی 5 حلال ریسٹورینٹ تھے۔ چین بھر میں زیادہ تر حلال ریسٹورینٹ سنکیانگ کے لوگوں نے کھولے ہوئے ہیں۔ وہ وہاں سنکیانگ کے کھانے سرو کرتے ہیں جو بہت حد تک پاکستانی کھانوں سے ملتے جلتے ہیں۔ ان ریسٹورینٹس کے باہر مسجد کی شبیہ بنی ہوتی ہے یا کلمہ لکھا ہوتا ہے یا عربی میں حلال لکھا ہوتا ہے۔ ان ریسٹورینٹ میں شراب بھی عام ملتی ہے۔ جس کا جی چاہے وہ اپنے کھانے کے ساتھ بیئر کا آرڈر دے سکتا ہے۔

چینی کھانے کو ہاتھ لگانا اچھا نہیں سمجھتے۔ وہ ہر چیز چاپ اسٹک سے کھاتے ہیں۔ کوئی ایسی چیز جو ہاتھ میں پکڑ کر کھائی جاتی ہو اس کے لیے وہ پلاسٹک کے دستانے پہنتے ہیں اور پھر اس چیز کو پکڑتے ہیں۔ حتیٰ کہ پیزا ہٹ اور ڈومینوز میں پیزا کے ساتھ بھی یہی دستانے دیے جاتے ہیں۔ ساتھ گرم پانی کا گلاس۔ چینی پینے کے لیے گرم پانی کا ہی استعمال کرتے ہیں۔

ہم نوڈلز کے لیے چاپ اسٹک استعمال کرلیتے تھے اور چاولوں کے لیے چمچ مانگ لیتے تھے مگر نان ہم ہاتھ سے ہی کھاتے تھے۔ ہم نے محسوس کیا کہ جیسے ہی ہم نان پکڑتے تھے، اردگرد کی میزوں پر موجود چینی ایسے حیران ہوکر ہمیں دیکھتے تھے جیسے ہم کوئی انوکھا کام کر رہے ہوں۔ ان ریسٹورینٹس میں نان بھی ملتا ہے جو ہمارے نان کی طرح خستہ اور ہلکا نہیں ہوتا بلکہ قدرے بھاری اور سخت ہوتا ہے، لیکن کھانے میں بالکل نان جیسا لگتا ہے۔ ہم اس کے ساتھ مٹن بار بی کیو منگواتے تھے۔ چین میں بار بی کیو کے لیے بس 3 مصالحوں کا استعمال کیا جاتا ہے، نمک، پسی سرخ مرچ اور پسا ہوا زیرہ۔

ہم چین ستمبر 2015ء میں آئے تھے۔ ہمارے جانے سے پہلے ہمیں پتہ لگا کہ ہماری دادی کی بہن جو امریکا میں رہتی ہیں اپنے شوہر کے ساتھ اکتوبر میں چین کی سیر کو آئیں گی۔ ہمارے چین آنے کے پیچھے ان کا بھی تھوڑا سا ہاتھ رہا۔ جیسے ہی انہیں ہمارے چین جانے کا پتا چلا انہوں نے ہمارے گھر فون کرکے ہمارے والدین کو بہت مبارکباد دی اور لڑکیوں کے ملک سے باہر جانے اور اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کی حمایت کی۔

ہمارے والدین کو اپنے سے بڑے کے منہ سے ایسی باتیں سن کر بہت حوصلہ ملا اور انہوں نے ہمیں چین جانے کی اجازت دے دی۔ دادی نے ہم سے پوچھا کہ کسی چیز کی ضرورت ہو تو بتا دو۔ ہم نے پہلے پہل تو انکار کیا۔ دادی نے زور دیا تو ہم نے ان سے وہ سب منگوایا جو آج ہم اپنی یونیورسٹی کے قریبی موجود اسٹور سے بھی خرید سکتے ہیں۔

اس وقت ہمیں چین کے بارے میں کچھ بھی پتہ نہیں تھا اور جو کچھ سن رکھا تھا اس کی بنیاد پر ہم کچھ بھی کھانے پینے سے انکاری تھے۔ ہم نے دادی سے کہا کہ وہ ہمارے لیے کچھ دوائیاں، مسور کی دال اور پاستا لے کر آئیں۔ اب ہمیں تھوڑی شرمندگی ہوتی ہے کہ ہم نے ان سے جو کچھ منگوایا وہ ہم اپنی یونیورسٹی کے پاس سے ہی خرید سکتے تھے لیکن اس وقت ہم اتنے گھبرائے ہوئے تھے کہ اِدھر اُدھر جاکر ماحول دیکھنے سے بھی انکاری تھے۔

ہماری جگہ کوئی بھی ہوتا تو شاید ایسے ہی کرتا۔ چینیوں اور ان کے کھانے پینے کی عادتوں کے بارے میں ایسی ایسی چیزیں مشہور ہیں کہ چین جاتے ہوئے پہلا خیال یہی آتا ہے کہ وہاں ہمارے کھانے کے لیے کیا ہوگا۔ حالانکہ چین اتنا ہی جدید ہے جتنا امریکا یا یورپ کا کوئی بھی ملک۔

پاکستانی چاول، دالیں اور مصالحے آن لائن باآسانی خریدے جاسکتے ہیں۔ چین کے بڑے شہروں میں پاکستانی ریسٹورینٹ بھی موجود ہیں۔ علاوہ ازیں حلال گوشت ہر جگہ مل جاتا ہے۔ یہ دکانیں چینی مسلمان چلاتے ہیں اور حلال ریسٹورینٹ کی طرح ان کے باہر بھی کلمہ لکھا ہوتا ہے۔ ہماری مانیں تو لکھے کو بہت جانیں۔ چینی کم از کم بکرے کے نام پر گدھا نہیں کھلاتے۔

WhatsApp Group Join Now

admin

An online Urdu Magazine for women.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *