متفرق

بڑی ناکامی سے بڑی کامیابی کیسے جنم لیتی ہے؟

Spread the love

تحریرڈاکٹر شائستہ جبیں

پانچ کہانياں جن کے مرکزي کرداروں نے زندگي ميں بہت زور کي ٹھوکر کھائي ليکن ہار نہ ماني اور شاندارکاميابي حاصل کي

زندگي اللہ تعاليٰ کي عطا کردہ انمول اور سب سے قيمتي نعمت ہے۔ اس کے ہر لمحے سے لطف اندوز ہونا انسان کا حق ہے۔

زندگي کے ہر ہر لمحے سے لطف کشيد وہي کر سکتا ہے جو زندگي کي آنکھوں ميں آنکھيں ڈال کر جينے کي ہمت کرتا ہے، جو کولہو کے بيل کي مانند ايک ہي دائرے کے گرد نہيں گھومتا، بلکہ زندگي کي وسعتوں سے آگاہي حاصل کر کے نت نئے تجربات کرتا ہے اور خود کو قلبي و روحاني خوشي سے ہم کنار کرتا ہے۔ ايک ہي طرزِ زندگي اور يکسانيت انسان کو بوجھل اور رنجيدہ کر ديتا ہے۔

روزانہ ايک ہي گھر ميں اْسي کمرے ميں جاگنا، وہي کپڑے پہننا، اْسي سواري پر اسي ملازمت پر جانا ايک عام روزمرہ معمول ہے ليکن کبھي کبھي اپنے آرام دہ خول سے باہر نکل کر کچھ نيا اور اچھوتا کرنا آپ کو دلي اور روحاني خوشي سے ہم کنار کرتا ہے۔ ہم ميں سے اکثر لوگ ايک ہي معمول کے تحت زندگي گزار ديتے ہيں اور اپني بے زاري، سستي سے نجات کے ليے جرات مندانہ اقدام کرنے کي ہمت نہيں کر پاتے۔

ملازمت چھوٹ جانا، گھر سے بے گھر ہونا، خاوند سے عليحدگي ہو جانا، کسي حادثے کا شکار ہونا ان سب ميں کوئي چيز ايسي نہيں ہے جسے آپ زندگي اور اس کي امنگوں کا اختتام قرار دے کر مايوس ہو کر بيٹھ جائيں۔ مشکلات ہميں مايوس کرنے کو نہيں بلکہ زندگي کے نئے اور اچھوتے پہلوؤں سے روشناس کرانے آتي ہيں۔ مشکل وقت زندگي کا اختتام نہيں ہوتا بلکہ اکثر اوقات نيا آغاز ہوتا ہے۔

بس اس بات کا يقين ہونا چاہئے کہ ہر مشکل کے ساتھ آساني ہے اور ہر اندھيري رات کے بعد اجالا ہوتا ہے۔ خطرات سے کھيلنا اور زندگي کے دئيے گئے امتحانات کو قبول کرنا نہ تو ہر ايک کے بس کي بات ہوتي ہے اور نہ ہي ہر شخص اس امتحان ميں کامياب ہو سکتا ہے۔ کاميابي انہي کے ليے ہے جو کامياب ہونے کي ٹھان ليتے ہيں۔ ہمارے اردگرد دنيا ميں مختلف لوگوں کو پيش آنے والي مشکلات نے کيسے ان کي زندگيوں کا رخ بدلا، آئيے! چند مثالوں کے ذريعے جانتے ہيں:

فراز صاحب کو تريپن سال کي عمر ميں ايک ريستوران کي بہترين انتظامي ملازمت سے ہاتھ دھونا پڑے۔ وہ جانتے تھے کہ اس عمر ميں کوئي نئي اور اچھي ملازمت حاصل کرنا ان کے ليے ممکن نہيں ہے۔ وہ ہميشہ سے اپنا ريستوران بنانے کے خواب ديکھتے تھے، ملازمت سے فارغ ہونے پر انہيں پھر اس ديرينہ خواب نے ستانا شروع کر ديا۔ دلچسپ امر يہ تھا کہ وہ کسي نماياں جگہ پر کوئي چلتا ہوا ريستوران لينے کے خواہشمند تھے تا کہ انہيں اس عمر ميں صفر سے آغاز نہ کرنا پڑے اور اس سے بھي دلچسپ بات يہ تھي کہ اس سب کے ليے ان کے پاس کوئي سرمايہ نہ تھا۔

خوش قسمتي سے انہيں اپنے گھر سے ذرا سے فاصلے پر ايک ايسا ريستوران مل گيا، جس کا مالک اپنے معاشي بحران کي وجہ سے چلتا کاروبار بيچنے کا خواہش مند تھا۔ ہميشہ سے اپنے ہوٹل کا خواب ديکھنے کے باوجود انہوں نے اس مقصد کيلئے کوئي سرمايہ محفوظ نہيں کيا تھا (آپ خواب ديکھتے ہيں تو ان کو پورا کرنے کي منصوبہ بندي کے ساتھ ساتھ سرمايہ بھي محفوظ کريں، تاکہ زندگي اگر کبھي خواب کي تکميل کا موقع دے تو سرمايہ کي کمي کي وجہ سے خواب ادھورا نہ رہے)۔

فراز صاحب کے دوست احباب اور اہل خانہ اس موقع پر ان کے کام آئے اور انھيں سرمايہ فراہم کيا، يوں انھوں نے ريستوران خريد کر اسے ازسرنو ترتيب دينے ميں اپني ساري صلاحيتيں وقف کر ديں۔ انہوں نے نام سے لے کر کھانے کا مينيو، بيٹھنے کي ترتيب اور تزئين و آرائش نئے سرے سے کي، ہوٹل کي ظاہري وضع بدلنے ميں ان کي بيوي نے اپني حسِ آرائش کا بھرپور استعمال کيا۔ ان خوبصورت تبديليوں کے باعث لوگوں کي بڑي تعداد ريستوران کي طرف متوجہ ہوئي۔ دو سالوں ميں انہوں نے نہ صرف سارا قرض چکا ديا بلکہ نفع بھي کمانا شروع ہو گئے۔ آج انہيں اس ريستوران کو کاميابي سے چلاتے اٹھارہ سال سے زائد عرصہ ہو چکا ہے اور وہ بڑي کاميابي اور خوش اسلوبي سے اپنے ذاتي من پسند کاروبار کا لطف لے رہے ہيں۔ وہ ملازمت چھوٹ جانے کو اس حوالے سے نعمت قرار ديتے ہيں کہ اگر ان کي ملازمت ختم نہ ہوتي تو وہ کبھي اپنا خواب پورا نہيں کر سکتے تھے۔

٭٭٭

عباس چاليس سال کي عمر ميں پانچ فٹ چھ انچ قد کے ساتھ تين سو ساٹھ پونڈ وزن کے حامل ايک بھاري بھر کم شخص تھے۔ انھوں نے ايک سو اسي پونڈ سے زيادہ وزن ’’ نيند لانے کے مصنوعي طريقوں ‘‘ کے ذريعے کم کيا۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ ورزش، خوراک اور مشاورت بھي باقاعدگي سے حاصل کرتے رہے۔

ان کے مطابق زيادہ وزن ہونا صحت کے حوالے سے مشکلات کے ساتھ بہت سي معاشرتي مشکلات کا بھي حامل تھا۔ اس ليے انہوں نے وزن کم کرنے کي سنجيدہ کوششيں کيں، کيوں کہ وہ تمام عمر اداس، پريشان اور لوگوں کي ہمدردي اور ترس بھري نگاہوں کا سامنا نہيں کرنا چاہتے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ اس قدر زيادہ وزن کے ساتھ وہ زيادہ وقت تک زندگي اور صحت کي نعمت سے لطف اندوز نہيں ہو پائيں گے اس ليے انہوں نے وزن کم کرنے کي کوشش کي۔

جب وہ وزن کم کرنے ميں کامياب ہو گئے تو انہوں نے رہائشي عمارتيں بنانے سے متعلق اپنا کام ترک کر کے زيادہ وزن رکھنے والوں کي مدد کرنے کو زندگي کا مقصد بنانے کا فيصلہ کيا تاکہ وہ انہيں بتا سکيں کہ اگر آپ اپني قوت ارادي کو مضبوط کر ليں تو وزن کم کرنا اتنا بھي مشکل کام نہيں ہے۔ انہوں نے مصنوعي نيند کے ذريعے وزن کم کرنے کے طريقے ميں مہارت حاصل کي اور ترغيباتي مقرر بن کر زيادہ وزن رکھنے والوں کو کي زندگي بدلنے کا عظيم کام شروع کيا۔

وہ کہتے ہيں کہ آپ جس تکليف سے گزر چکے ہوں، دوسروں کو اْسي تکليف سے نجات کي تحريک دينا اور معاونت کرنا بہت سکون ديتا ہے۔ متوازن وزن نہ صرف آپ کي جسماني صحت کو ٹھيک رکھتا ہے بلکہ ذہني کارکردگي کو بھي کئي گنا بہتر کرتا ہے۔ ان کے مطابق بظاہر وزن کم کرنا بہت مشکل دکھائي ديتا ہے، ليکن اگر آپ مستقل مزاجي سے خوراک، ورزش کے حوالے سے احتياط کريں تو يہ اتنا بھي مشکل نہيں ہے۔

٭٭٭

علي کي عمر چاليس سال تھي جب ان کي چونتيس سالہ اہليہ جگر کي ايک کمياب بيماري کا شکار ہو کر جان سے گئيں۔ ان کي شادي کو بارہ سال ہو چکے تھے اور وہ ايک دس سالہ بيٹي کے والدين تھے۔ علي نصف شراکت داري ميں ايک کامياب کاروبار کے مالک تھے۔ زندگي ہر لحاظ سے پرسکون اور آرام دہ تھي کہ اہليہ کي بے وقت موت نے سب کچھ بدل کر رکھ ديا۔

علي کي کاروبار ميں دلچسپي ايک دم ختم ہوگئي اور انہيں احساس ہوا کہ وہ کوئي اور ايسا کام کريں جس سے وہ اپنا غم بھلا سکيں۔ انہوں نے اپنے کاروبار ميں حصہ بھي اپنے شراکت دار کو فروخت کر ديا اور کچھ نيا اور تعميري کرنے کي دھن ميں لگ گئے۔ ايک دن انہيں خيال آيا کہ ان کي اہليہ کي حسِ مزاح بہت شان دار تھي اور ساتھ گزارے سالوں ميں اپني اس صلاحيت کي وجہ سے خود بھي بہت خوش رہتي تھيں اور اپنے گھر والوں کو بھي بہت خوش رکھتي تھيں۔

اگرچہ ان کي بيماري والے آخري تين سال انہوں نے بہت تکليف برداشت کي، ليکن اس کے باوجود ان کي حسِ مزاح ويسي ہي تھي۔ اس سوچ کے ساتھ انہوں نے ’’ مزاح کے ذريعے طريقہ علاج ‘‘ ميں مہارت حاصل کرنے کے ليے يونيورسٹي ميں داخلہ لے ليا۔ اب وہ اس طريقہ علاج کے حوالے سے ليکچرز ديتے ہيں، رضاکارانہ طور پر ناقابلِ علاج بيماريوں کا شکار لوگوں کي مدد کرتے ہيں۔ مزاح کے ذريعے علاج کے طريقہ کار کي افاديت پر انہوں نے اپني پہلي کتاب تصنيف کي جو بہت مقبول ہوئي اور دنيا کي نو مختلف زبانوں ميں اس کا ترجمہ کيا گيا۔ انہوں نے ثابت کيا کہ اگر آپ اپني تکليف کو دوسروں کي تکليف دور کرنے کا ذريعہ بنا ليتے ہيں تو آپ کي اپني تکليف کہيں بہت پيچھے رہ جاتي ہے۔ دوسروں کو خوش کرنے سے ہي آپ حقيقي خوشي حاصل کرنے کے قابل ہوتے ہيں۔

٭٭٭

بياليس سالہ فرح اپنے شوہر کے غير ذمہ دارانہ رويہ کي وجہ سے عليحدہ ہو کر دو بچيوں کي ذمہ داري اکيلي نبھا رہي تھيں۔ وہ بہت اچھي ملازمت پہ تھيں ليکن ان کا افسر بہت تند خو اور گرم مزاج شخص تھا۔ شوہر سے عليحدگي کے دھچکے، بچيوں کي ذمہ داري، افسر کا نامناسب رويہ ان سب چيزوں نے فرح کي ذہني اور جذباتي حالت کو صفر کر ديا تھا۔

اپنے تکليف دہ حالات سے فرار کے ليے انہوں نے ملازمت سے استعفيٰ ديا اور اپني بچت کے سہارے جنگل ميں دريا کنارے ايک جھونپڑا کرائے پر لے کر زندگي کے ہنگاموں سے دور قدرتي نظاروں کے سنگ وقت گزارنے چل پڑيں۔ انہوں نے نو ماہ وہاں گزارے، پہاڑوں پر چڑھائي کا شوق پورا کيا، مچھليوں کا شکار کيا، کتابيں پڑھيں، مضامين لکھے اور خود کو زندگي کي دوڑ ميں تازہ دم ہو کر شامل ہونے کو تيار کيا۔

نو ماہ بعد انہوں نے نئي ملازمت اختيار کي ليکن قدرت کے قريب ہونے اور خود کو تازہ دم کرنے کے ليے ہر ماہ دريا کنارے سفر کا ارادہ کيا، ايسے ہي ايک سفر ميں ان کي ملاقات اپنے موجودہ شوہر سے ہوئي جو ہوابازي سکھانے کے ماہر تھے، انہوں نے ان کے بچپن کا خواب ہوابازي سيکھنے کا پورا کيا۔

خاوند کي حوصلہ افزائي پر ہي انہوں نے آرائش حسن کي مصنوعات کا اپنا کاروبار شروع کيا جو تين سال کے قليل عرصہ ميں ايک نماياں پہچان حاصل کرنے کے قابل ہو گيا۔ وہ کہتي ہيں کہ اگر وہ اپنے ذاتي اور ملازمت کے حالات سے دل برداشتہ ہو کر دريا کنارے چھٹي منانے نہ جاتيں تو نہ وہ اپنے شوہر سے مل پاتيں، نہ کاروبار شروع کر پاتيں اور نہ ہي اپنا بچپن کا جہاز اڑانے کا خواب پورا کر پاتيں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر صفر سے دوبارہ آغاز کرنا آسان نہيں ہے ليکن بعض اوقات اپني ذہني اور جذباتي حالت کو تباہ ہونے سے بچانے کے ليے ايسے دليرانہ اقدام ضروري ہو جاتے ہيں۔

٭٭٭

ثنا کو ايک حادثہ ميں ريڑھ کي ہڈي ميں لگنے والي چوٹوں کي وجہ سے کئي ماہ تک بستر تک محدود ہونا پڑا۔ وہ اپنے تمام کاموں کے ليے اپنے شوہر اور گھر والوں پر انحصار کر رہي تھيں۔ يہ صورت حال عاجز کر دينے والي اور بيزار کن تھي۔ بستر پر ليٹ کر ٹي وي ڈرامے، فلميں ديکھ ديکھ کر وہ بري طرح تھک گئي تھي۔ اسي بيزاري اور تھکاوٹ نے اسے کپڑوں کي ڈيزائننگ کي طرف متوجہ کيا۔ سارا وقت بستر پر ليٹے رہنے کي وجہ سے اسے اپنا آرام دہ لباس بھي غير آرام دہ محسوس ہوتا تھا۔

اس کے خيال ميں آرام دہ لباس کا کپڑا اور سلائي کا ڈيزائن ايسا نہيں ہونا چاہئے تھا۔ انہوں نے لباس تيار کرنے والے مختلف ماہرين کے ملبوسات ديکھے تا کہ وہ اپنے مطلوبہ آرام دہ ملبوسات حاصل کر سکيں ليکن وہ ناکام رہيں۔ وہ معاشي طور پر قابلِ استطاعت اور آرام کے تقاضوں کو پورا کرنے والا لباس چاہتي تھيں ليکن مارکيٹ ميں موجود برانڈ ز بيک وقت يہ دونوں آسائشيں پوري کرنے سے قاصر تھے۔

انہوں نے اپنے ذہن ميں موجود ايک آرام دہ اور جيب پر بھاري نہ پڑنے والے ملبوس کے ليے نظريات جب اہل خانہ اور دوستوں کے سامنے پيش کيے تو سب نے بہت پسند کيے اور انہيں خود ايسے ملبوسات تيار کرنے پر اکسايا۔ اس حوصلہ افزائي کے سبب انہوں نے اپني پسند کے کپڑے اور قابلِ پہنچ قيمتوں کے ساتھ اپنے کام کا آغاز کيا۔ وہ کہتي ہيں انہوں نے سوچا بھي نہيں تھا کہ اس خوفناک حادثے کے نتيجے ميں وہ بستر تک محدود ہوتے ہوئے اپنا ذاتي کام شروع کريں گي اور وہ اتني مقبوليت حاصل کرے گا۔

يہ سب لوگ مختلف علاقوں، ممالک اور رسم و رواج سے تعلق رکھنے والے ہيں۔ ان سب ميں جو چيز مشترک ہے وہ مشکلات اور تکاليف پيش آنے پر ان کا رويہ ہے۔ ان سب نے کسي بھي مشکل کو زندگي کے اختتام کے طور پر نہيں ليا اور ہمت ہار کر مايوس ہو کر بيٹھ نہيں رہے، بلکہ مشکل کو ايک چيلنج سمجھ کر اس سے نکلنے کے راستے تلاش کيے ہيں اور اسي تلاش نے انہيں کاميابي کي روشن منزلوں تک پہنچايا ہے۔

ان حقيقي کہانيوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعاليٰ پر بھروسہ کر کے، اس کي دي ہوئي صلاحيتوں پر اعتماد کر کے قدم اٹھانے والے زندگي کي مشکلات ميں ناکام قرار نہيں پاتے۔ ان کا عزم، ہمت اور مسقل مزاجي انہيں کامياب انسان بناتي ہے، جن سے مايوس اور ناکام لوگوں کو مشکلات پر قابو پانے کي ترغيب ملتي ہے۔

WhatsApp Group Join Now

admin

An online Urdu Magazine for women.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *