//نیند پوری نہ ہوئی، خواب مکمل نہ ہوئے
dream

نیند پوری نہ ہوئی، خواب مکمل نہ ہوئے

Author

تحریر عائشہ صدیقی، پی ایچ ڈی سکالر

کبھی کبھی سوچتی ہوں کہ اس قوم کے معاشرتی مسائل پر اتنا کچھ لکھا جا چکا ہے کہ ہمیں بغداد کی طرز پر ایک لائبریری بنانی چاہیے جس میں محض ہمارے مسائل کا تذکرہ ہو۔ تاکہ ہم اپنی شاندار تاریخ رقم کرتے وقت اپنی ناکامی کی وجہ ان مسائل کو دے کر خود کو مظلوم ثابت کر سکیں۔ گویا یہ مسائل نہ ہوتے توگویا ہم آج گرمیوں کی چھٹیوں میں چاند پر خیمہ ڈال کر دال چاول کا لنگر بانٹ رہے ہوتے۔

خیرمسائل بھی کون سا کم ہیں، پیاز کی پرتوں کی طرح تہ در تہ کھلتے چلے جاتے ہیں۔ ایک پر نظر ڈالیں تو اس سے منسلک مسائل کا انبار نظر آتا ہے۔ ایسا لگتا ہے ہم معصوم قوم کے ساتھ خدا نے کوئی نا انصافی کی ہے۔ کمزور معیشت، منافقت، دھوکہ دہی، ظلم، عدم برداشت، تعلیم سے دوری، معاشرتی بے راہ روی اور خدا جانے کس کس نوعیت کے کتنے مسائل کا تذکرہ کیا جا سکتا ہے۔

حالانکہ جتنے مسائل ہیں ہمارے پاس اس سے کہیں زیادہ حل ہیں۔ کسی مصنف کی تحریر اٹھا لیں چاہے مسائل کا حل جمہوریت میں لکھا گیا ہو یا تعلیم کی طرف توجہ میں۔ کہیں انصاف پر زور دیا گیا ہے اور کہیں مسائل کا حل مجرموں کو لٹکانے میں لکھا ہے۔ میں ان سب سے متفق ہوں بیشک یہی ہر مسائل کا حل ہوں گے۔ لیکن کیا کبھی کسی ایک بھی حل پر کوئی توجہ دی گئی؟ یا کوئی حل کارآمد ثابت ہوا؟ شاید کارآمد ہو بھی نہ کیوں کہ ہمیں اپنے پر نازل کردہ یا خود ساختہ مظالم کا رونا رو کر تسکین ملتی ہے۔

پریشانی پر نہ ہم صبر کرنے والوں میں سے ہیں نہ مسائل کا حل تلاش کرنے والوں میں سے۔ ہم تو صرف ڈھنڈورا پیٹ کر دوسروں کو قصور وار ٹھہرانے والوں میں سے ہیں۔ کبھی کبھی تو ہم خدا تک کو ظالم قرار دے بیٹھتے ہیں۔ پھر کچھ لوگ آتے ہیں جو کہتے ہیں ”جو کرا ریا اے امریکہ کرا ریا اے“ یا پھر حکومتوں کو ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے۔

میری سمجھ سے بالاتر ہے کہ ہم حکومتوں کا رونا کیوں کر روتے ہیں۔ ہم ہر چیز کا ذمہ دار ماضی و حال کے حکمرانوں پر ڈال کرخود ہر ذمہ داری سے آزاد ہو جاتے ہیں۔ بات صرف یہ ہے کہ کامیابی اور ناکامی کے درمیان نہایت باریک لکیر ہے اور وہ ہے ”کوشش“۔ ہم ہر ناکامی کا ذمہ دار کسی دوسرے کو ٹھہرانے میں اور اپنی قسمت کو کوسنے میں خوشی محسوس کرتے ہیں۔ حالانکہ زندہ اور کامیاب قومیں ہر نامساعد حالات کا سامنا کر کے آج کامیابی کی اس نہج پر پہنچی ہیں کہ ہم ان کی طرف رشک یا حسد سے دیکھتے ہیں۔ آخر ہم بھی اسی رب کی تخلیق ہیں کون سا ہماری تخلیق کے دوران اس نے ناقص دماغ فٹ کر دیا تھا۔

اب کرپشن کو دیکھ لیں ہم اس کو بیٹھ کر ایسے رو رہے ہیں کہ جیسے یہ نہ ہوتی تو آج ہم نے اپنا علیحدہ continent براعظم بنا لینا تھا۔ کچھ ماہ سے اگرچہ کرپشن زدہ افراد دودھ میں مکھی کی طرح نکال نکال کر لٹکا دیے گئے ہیں بلکہ کچھ کو تو باقاعدہ اچھی طرح نچوڑا بھی تھا کہ جو بھی ان مکھیوں نے ہمارا رزق پیا ہے وہ واپس کریں۔ لیکن صورتحال جوں کی توں برقرار ہے بلکہ شاید بدتری کی طرف زیادہ تیزی سے گامزن ہے۔ کبھی تو دل کہنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ مکھیاں بھی برکت والی تھیں۔

مجھے مسئلہ یہ لگتا ہے کہ ہمارے برتن میں ہی سوراخ ہے۔ حکمران تو جو کرتے ہیں سو کرتے ہیں ہم خود بھی اپنی تھالی میں چھید کرنے سے باز نہیں آتے۔ غربت کے مارے یا عادت کے مارے، کسی کلرک کو لے لیں کسی ریڑھی والے کو لے لیں، کسی استاد کو دیکھ لیں کسی شاگرد کو دیکھ لیں، کیا ہم سب اپنے حصے کی کرپشن نہیں کرتے؟ چاہے وہ دس روپے کی بات ہو یا دس کروڑ کی، برکت اٹھنے کے ہم بھی برابر ذمہ دار ہیں۔

دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ ہم خواب نہیں دیکھتے کیوں کہ ہم مشکلات سے ڈرتے ہیں۔ ہم جس کوزے میں بند ہیں اسی میں راضی ہیں۔ کبھی سنا ہے کہ کسی ریڑھی والے نے کامیاب بزنس مین بننے کا خواب دیکھا ہو؟ کتنے طالب علم کو آپ جانتے ہیں جنہوں نے شاہ رخ خان، سلمان خان اور خوامخواہ خان بننے کے علاوہ کبھی سائنسدان بننے کا، بلیک ہول کو دریافت کرنے کا، نئی دنیا کھوجنے کا خواب دیکھا ہو؟ زیادہ سے زیادہ ہم چار جماعتیں پڑھ کر چھوٹی سی نوکری کر کے اور محلے کی نیک پروین سے شادی کر کے شام کو موٹر سائیکل پر سیر کرنے کے خواب دیکھتے ہیں۔ ہم میں سے نیوٹن کہاں سے پیدا ہوکے ہمیں اپنی قوم کو خواب دیکھنا سکھانا ہوگا۔ ایسے خواب جو ناممکن ہوں لیکن ان کی تکمیل کی طلب بالآخر منزل مقصود پر پہنچا دے۔

سائنس کی ہر تھیوری، ہر کامیابی کبھی نہ کبھی ایک خواب تھی۔ فضا میں اڑنے والے پرندے کو دیکھ کر اڑنے کا خواب، دور بیٹھے پیارے کو ہر دم آنکھوں کے سامنے رکھنے کا خواب، چاند کی چرخا کاتنے والی مائی دیکھنے کا خواب۔ یہ سب خواب کچھ عرصہ قبل محض دیوانے کے خواب محسوس ہوتے تھے لیکن آج یہ سب حقیقت ہے، ہوائی جہاز کو بھی ہم کھلی آنکھوں سے دیکھتے ہیں اور انٹرنیٹ اور موبائل نے کیسے فاصلے سمیٹے ہیں، یہ بھی بتانے کی ضرورت نہیں۔ ہمیں ضرورت دانشورں اور فلاسفیوں سے زیادہ ان خواب دیکھنے والوں کی ہے جو اپنی راہیں خود بنائیں۔ یہ جو ہر بات پر عذر تلاش کرتے ہیں نہ کہ ہاں ہم دنیا فتح نہیں کر سکے کیوں کہ ہمارے شہر میں اس وقت بجلی گئی ہوئی تھی، یہ سب راہ فرار کی باتیں ہیں۔

قصہ مختصر میری بات کو کسی انگریزی غالب نے یہ کیا خوب سمندر کوزہ میں بند کیا ہے کہ

” IF YOUR DREAM DOESN’T SCARE YOU, IT ISN’T BIG ENOUGH “