انسانی شعور کی پہلی منزل کیا ہونی چاہیے
تحریر قدسیہ مرزا پاکستان
سوال کہ انسانی شعور کی پہلی منزل کیا ہونی چاہیے؟؟
میں حیرانی سے سوچنے لگی کہ یہ کیسا سوال پوچھ لیا ہے؟ شعور کی پہلی منزل کیا ہونی چاہیے؟ پھر میں نے اس پہ سوچنا شروع کیا کہ کیا ہونی چاہیے شعور کی پہلی منزل کیا جب بچہ اپنی ماں کو ماں کہے اس وقت؟ اپنے منہ سے لفظ اللہ ادا کرے اس وقت، اپنی روایات کو پہچان لے اس وقت یا پھر جب اسے احکاماتِ خداوندی سمجھ میں آ جائیں اس وقت؟ اس کا مجھے ایک ملا جلا سا جواب ملا، اور پھر میں نے جو اس سوال کا جواب اپنی ناقص رائے کے متعلق نکالا کہ شعور کی پہلی منزل اس کو کہتے ہیں جب ایک انسان اپنے لیے اچھے اور برے کی تمیز کر چکا ہو، اسے یہ پرکھ اور ملکہ ہو کہ اس کی جانچ کے بعد کون سی چیز ہے جو اس کے واسطے اچھی ہے اور عین معاشرتی اور دینی لوازمات کو پورا کرتی ہوئی اس کی اپنی تسکین کا سبب بھی ہے اور وہ کون سی چیز ہے جو اس کے واسطے بالکل مانع ہونی چاہیے۔
انسان کو یہ تو باور ہے کہ وہ اس دنیا میں آ گیا ہے اور اب موت کا بھی ایک دن معین ہے، اسے یہ جہان ایک دن چھوڑ کے چلے جانا ہے مگر اسے یہ شعور ہونا بھی تو لازم ہے کہ یہ چیز کرے گا تو نہ صرف دنیا میں بلکہ آگے بھی اپنے لیے آسانیاں پیدا کرے گا مگر اس نے کہیں غلط راہ اپنے لئے منتخب کر لی تو پھر اس کی دنیا و آخرت سمجھو خراب ہے اور ان سبھی امور کو پہچان لینا اور جان لینا ہی تو اصل میں شعور کی منزل ہے، جب یہ ادراک ہو گیا کہ یہ اعمال کرنے میں ہی سب کچھ ٹھیک سے اور اچھے سے چلے گا تو ہی شعور اور آگاہی سے آراستہ ہو گا اس کا ذہن بھی اور اس کی سوچ بھی اصل میں صحیح و غلط کی پہچان ہو جانا ہی شعور کی پہلی آنکھ ہے۔
دنیا میں جتنا بھی سدھار اور سلجھاؤ ہے سب اسی شعور کی مرہونِ منت ہی ہے،کھرے کھوٹے میں فرق کرنا ہی شعور کی چشم سے دیکھنا ہے، شعور کی پہلی منزل ایسی چیز کا نام ہے جو بعد میں پوری زیست واسطے خصلت اور علت بن کر رہ جاتی ہے اور انسان اسے پہلے شعور کی مدد سے زندگی میں آگے کامیابیاں سمیٹتا چلا جاتا ہے، شعور تو ایک تہذیب اور رکھ رکھاؤ کا نام ہے، جس کے آ جانے کے بعد زندگی میں عجب خوشگوار اور قابلِ دید تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں اور انسان کو یہ باور ہو جاتا ہے کہ میں نے اپنے اس شعور کو کام میں لا کر اب اپنی زندگی میں انقلاب لانا ہے اور میری پہچان بھی اب یہی شعور ہی کروائے گا، اگر میں نے اس شعور کی آنکھ بند کر لی تو سمجھو سوچ زنگ آلود ہو گئی اور جب سوچ کی شمع گل ہو جاتی ہے تو پھر حضرتِ انسان کو کچھ سجھائی نہیں دیتا، شعور سے عاری لوگ قعر (تہ میں جانا)
گمنامی میں جا گرتے ہیں اور نیک نامی و شہرت و ضیا ءکے ساتھ ساتھ سوچ کی عمدگی سے بھی تہی ہو جاتے ہیں،صاحبِ شعور کے قول و فعل سے ایک سلیقہ اور شائستگی جھلکتی ہے، ہماری عمر ویسے طویل ہو یا نہ ہو مگر ہمارے شعور کی عمر ضرور طویل ہو مطلب ہم بیک وقت زندگی کی کئی الجھائی گتھیوں کو سلجھانے میں مصروف ہوں، انسان کی سوچ اگر منفرد ہو گی تو اسے یہ بھی معلوم ہو گا کہ اس نے زندگی میں کس طرح انوکھے اور عجیب کارنامے سر انجام دے کر آگے بڑھنا ہے، جب انسان شعور کی پہلی.منزل سے ہی کنگال اور محروم رہ جاتا ہے تو پھر اس کی تمام زندگی بالکل کوری اور ایک قسم کی عاری سی گزرتی ہے یعنی آگہی اور کسی بھی محرک سے عاری ہے، انسانی شعور کی پہلی منزل اس کی وہ آنکھ ہے جب وہ معاشرے کی بے حسی یا احساس کو اپنے تجربے سے دیکھتا ہے، سمجھتا ہے اور پھر اس کے متعلق سوچنے اور سمجھنے لگتا ہے، پھر اس کے اندر شش جہات سر انجام دیئے جانے والے امور پر غائر نظری کا رجحان پیدا ہوتا ہے اور وہ یہ سوچنے لگتا ہے کہ ہاں یہ جو کچھ ہو رہا ہے یہ میرے واسطے غلط ہے اور یہ بھلے مانس جو کچھ کر رہے ہیں یہ میرے واسطے نہ صرف سودمند ہے بلکہ میرے لیے یہ نت نئے بھلائی کے در وا کرے گا اور اچھائی و ادراک کے عقدے کھولے گا، وہ شعور کی پہلی منزل سے کام لے کر اسی طرف جھکاؤ لاتا ہے جس طرف اسے حالات کی سمت گامزن نظر آتے ہوں، شعور کی پہلی منزل اصل میں انسانی زندگی کو آگے لے کر چلتی ہے اور اسے گاہے بہ گاہے یہ باور کراتی ہے کہ نہیں اس طرف اس کے واسطے تباہی اور رسوائی کے جھول ہیں اور اس طرف اس کے واسطے ایک بہترین اور بھر پور زندگی کے مواقع ہیں، اب اگر اس کی شعور کی پہلی آنکھ کھلی تھی اور اس نے اپنے پہلے شعور سے کچھ سبق حاصل کیا تھا یا سیکھا تھا تو اس میں یہ خوبی خودبخود ودیعت ہو جائے گی کہ اس نے اصل میں کرنا کیا ہے، اس کا اس جیون میں…
آنے کا اصل مقصد کیا ہے. اس نے کن کاموں کو اپنانا ہے اور کن اعمال سے اپنے آپ کو دور رکھنا ہے، شعوری منزل اگر ٹھیک نہیں تو پھر سمجھو کہ عمدگی اور سلیقہ مندی کی تمام راہیں ہمارے لیے مسدود ہو جائیں گی، شعور کی پہلی منزل بہت لازم ہے اور یہ آنکھ ہے، سوچ کے زاویے بدل لینے کی اور اسے بے شعوری سے شعور کی طرف لانے کی…

