متفرق

بچوں کی نگہداشت،حفاظت اور تربیت

Spread the love

تحریر: فوزیہ منصور

کوئی اور تو نہیں ہے پس خنجر آزمائی

ہمیں قتل ہو رہے ہیں، ہمیں قتل کر رہے ہیں

موجودہ ترقی یافتہ دور میں یوں لگتا ہے نئی نسل آگے آگے ہے اور ان کے والدین پیچھے پیچھے۔ سوشل میڈیا نے چھوٹی عمر میں بڑی معلومات فراہم کر دیں۔ معصوم ذہنوں کو وہ کچھ سمجھا دیا جو کسی زمانے میں خواتین کو چھپ کر ناول پڑھ کر بھی سمجھ نہیں آتا تھا۔ کتاب اب عمومآ گھروں میں شلف میں سجانے کے لئے رکھی جاتی ہے۔یا شاید اس لئے بھی کہ مہمانوں پر ہماری قابلیت کا رعب پڑے۔

خیر یہ ایک الگ اور اہم موضوع ہے اس پر پھر کبھی بات ہو گی۔ ابھی اس دور میں بچوں کی نگہداشت،حفاظت اور تربیت پر بات کرتے ہیں۔ کیونکہ پھر یہی بچے بڑے ہوں گے اور ہماری جگہ لیں گے۔ کیا نیٹ سے جڑے بچوں کی سوچ ہمارے خیالات سے مختلف ہو گی؟ کیا ان بچوں میں محبت،عبادت، حیا اور ادب واحترام قائم رہے گا؟ کیا ہم ان کے ساتھ چل پائیں گے یا یہ ہمارے ساتھ چلنے میں دشواری اور شرم محسوس کریں گے؟

کبھی تنہائی میں بیٹھ کر آنے والے کل کو دماغ کی سکرین پر سرچ کر کے دیکھیئے گا۔۔ اس گمان میں نہ رہیں کہ ہمارے بچے تو پل گئے ہمیں کیا فکر، ابھی آگے ان کے بچے ہیں یا ہوں گے۔ وہ آپ ہی کی نسل ہیں۔ اور یہ بچے ہی ہمارا اصل سرمایہ ہے جو بری طرح ضائع ہو رہا ہے۔۔ کیوں؟ اس کا جواب مشکل تو نہیں۔ ہر ایک کے پاس اس “ کیوں” کا جواب ہے۔ ہر ایک اپنی کمزوریوں اور خامیوں سے واقف ہے۔ ہم چھوٹےبچے کو بھی قریب دکان سے چیز لینے بھیج دیتے ہیں۔۔ جی ہاں کوئی مجبوری ہو گی تو بچے کو بھیجنا پڑا۔۔ مگر وہ بچی یا بچا دکاندار کا نہیں اور پرائی چیز وہ بھی مفت کی ہو تو کم ظرفوں کی رال ٹپکنے لگتی ہے۔۔ یہاں میں کہنا چاہوں گی کہ ایسی مائیں قصور وار ہیں جو بچوں کو یوں تنہا بلاضرورت باہر جانے دیتی ہیں۔ آج کی ماں کم علم ہو گی کم عقل نہیں۔۔ وہ بھی ٹی وی دیکھتی ہے۔ نیٹ استعمال کرتی ہے۔ وہ باخبر ہے کہ روز کتنے ریپ ہوتے ہیں۔ کتنے لوگ قتل ہوتے ہیں کتنے اغواء کے کیس سنے کو ملتے ہیں۔ اغواء صرف بچے نہیں ہو رہے بلکہ جوان مرد اور خواتین بھی شامل ہیں۔ ہمارے معاشرے میں یہ سب اتنا عام ہو چکا کہ روز ٹی وی اور نیٹ ایسی دل دہلانے والی خبروں سے بھرا ہوا ہے۔ مگر ہماری خواتین پھر بھی لاپروا ہیں۔ جوان بچیوں کو اکیلے اسکول کالج اور بازار بھیج دیتی ہیں۔ جبکہ پرس چھیننے اور دوپٹہ برقعہ کھیچنے کے واقعات عام ہیں۔ پاکستانی معاشرے میں پاکستانی بن کر رہنے کے بجائے اگر یورپین اسٹائل اپنائیں گی۔تو نگاہیں بےقابو ہوں گی۔دل معمول سے زیادہ دھڑکیں گے۔کیونکہ ہمارے مردوں نے نگاہ تو نیچی رکھنی نہیں، ویسے بھی عقل،سمجھ اور اصلاحی گفتگو صرف کتابی باتیں لگتی ہیں۔ یقیناً ہماری خواتین باشعور اور عقلمند ہیں۔مگر یہ بھی یاد رکھیے کہ شیطان موقع پاتے ہی ہمیں راستے سے بھٹکا سکتا ہے۔ پھر وہ راستہ چاہے دینی ہو یا دنیاوی۔ وہ حاوی ہو سکتا ہے۔ رب کائنات نے اسی لئے فرمایا” کہ بہن بھائی بھی کمرہ بند کر کے نہ بیٹھیں۔” بہن بھائی جیسے پاکیزہ رشتے پر ایسا فرمان ہے تو عقل یہیں پر سب سمجھا دیتی ہے۔

یہ اور بات ہے کہ ہم اپنی غفلتوں اور کوتاہیوں کو پس پشت ڈال کر دوسروں پر انگلی اٹھانے میں ماہر ہیں۔ شیطان کو خود موقع فراہم کرکے خدا کے راستے سے بھٹک جانا عقلمندی نہیں۔۔ہم کتنی ہی نصیحتیں کر لیں، لیکچر دے لیں،کاغذ بھر لیں بات میں اثر اس وقت ہو گا جب قول و فعل میں تضاد نہ ہو۔ ہمارا کردار،اخلاق ہماری بات کی گواہی دے۔ یہ سچ ہے کہ بہت سی برائیاں ہمارے اچھے اخلاق و کردار سے ہی آہستہ آہستہ ختم ہو جاتی ہیں۔۔ اپنے عہدے،اپنی کرسی سے انصاف کرنا آپ کا کام ہے۔جس مقصد کے لئے اپ کو چنا گیا اگر وہی مقصد دل و دماغ سے نکل جائے تو محض خود غرضی،خود پسندی اور خود نمائی کا احساس باقی رہ جائے گا۔جو آہستہ آہستہ تکبر اور بےحسی کوجنم دےگا۔یہ وہ اندرونی بیماریاں ہیں جو انسان کو دیمک کی طرح چاٹ لیتی ہیں۔ اونچے تعلقات،قیمتی تحائف وقتی تسکین تو دے سکتے ہیں۔ دائمی خوشیاں نہیں۔ اور نہ ہی یہ خدا تک رسائی کا ذریعہ بنتے ہیں۔

کہا گیا ہے۔ “ کہ دین کو دنیا پر مقدم رکھو” پر آج کا انسان اس کے برعکس چل رہا ہے۔ میں یہ نہیں کہتی کہ اس دوڑ میں سب ہی شامل ہیں۔ اور دعا ہے کوئی ایک بھی اس دوڑ میں شامل نہ ہو۔ مگر کچھ تلخ حقائق سے منہ نہیں موڑا جاتا۔۔

بات سے بات نکلتی رہے گی۔ موضوع بہت وسیع ہے۔ کیونکہ جب تربیت کی بات آتی ہے تو اس کے دروازے زندگی کی کئی گلیوں میں کھلتے ہیں۔۔ یہ آپ پر منحصر ہے کہ کس دروازے پر کس طرح دستک دینی ہے۔ اور اپنی اولاد کو کسی طرح صحیح راستے پر چلانا ہے۔

کوئی یہ گمان نہ کرے کہ اس ساری گفتگو میں عورت نشانے پر ہے۔ ہرگز نہیں۔ مرد کو خدا نے گھر کا سربراہ کہا ہے۔ اور سربراہ پر بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ میر کارواں ہی بھٹک گیا تو کارواں کا کیا ہو گا۔۔۔ یہاں ایک بات کہنا چاہوں گی کہ ہم ماں کی حیثیت سے بچی کو ہی آنے والی زندگی کے نشیب و فراز، آداب سسرال اور شریک حیات کی اہمیت سمجھاتے ہیں۔ بیٹوں پر اس بارے میں وہ توجہ نہیں دی جاتی۔ کیوں؟ آخر لڑکوں نے بھی کسی کا شوہر بنا ہے۔۔

مرد کو مجازی خدا کہا گیا۔ مگر بعض مردوں نے اس خوبصورت لفظ میں سے “مجازی” ہٹا دیا۔اگر مرد باوفا،باحیا اور باکردار نہیں ہوگاتو یقینا وہ گھر خانہ جنگی اور بےحسی کی تصویر ہو گا۔ ایسے گھر،گھر نہیں رہتے۔صرف مکان رہ جاتے ہیں۔عورت اولاد پر گھر کے اندر توجہ دے سکتی ہے بچہ باہر کیا کرتا کہاں جاتا کس سے ملتا دوست احباب کون ہیں ان سب پر باپ کی نظر ہونی چاہیئے۔ صرف پیسہ کمانا ہی ضروری نہیں۔ جو اصل دولت خدا نے اولاد کی شکل میں دی اس کی تعلیم و تربیت، حفاظت اور دین سے وابستہ رکھنا والدین کا فرض ہے۔ یہاں یہ بھی کہنا چاہوں گی کہ والدین بھی انسان ہیں۔ خود اپنی تربیت اور دعا کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔ خود کو بھی ضمیر کی عدالت میں گاہے بگاہے کھڑا کرنا ہو گا۔ کیونکہ ضمیر زندہ رہے گا تو رشتے،تعلقات میں محبت،عقیدت،حیا اور وفا مریں گی نہیں۔ ہر انسان کو زندگی کے نشیب و فراز سے گزرتے ہوئے اپنے آپ کو ٹٹولتے رہنا چاہیئے۔ تاکہ ہم اپنی اصلاح کرتے ہوئے اپنی نسلوں کو سیدھے راستے پر چلانے کی بھرپور کوشش کر سکیں۔

اصلاح کا اصل مرکز قرآن کریم ہے۔ صرف اسی کا ترجمہ اور تفسیر پڑھ لیں تو زندگی کے کئی حقائق اور مسائل کی گہرائی سمجھ آنے لگتی ہے۔ یہاں مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں۔ کہ ہم میں سے بہت سے باشعور،باعلم افراد نہایت کمزور ایمان کے مالک ہیں۔ ذرا ذرا سی بات اور چھوٹی سی آزمائش سے ان کا ایمان خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ کیوں؟ اس کا جواب بھی دعا کے ساتھ تنہائی میں اپنے آپ سے کریں۔ کیا اس کمزور ایمان کے ساتھ مسلمان کہلانے کے قابل ہیں؟ کیا بھوک پیاس،کسی کا کردار مزاج،اخلاق اور رویہ ہمارے ایمان کو متزلزل کر سکتا ہے ؟ اگر اس کا جواب ہاں میں ہے اور زندگی میں کسی بھی مقام پر ایسی سوچ نے دل و دماغ پر دستک دی ہے تو خدا کی قسم ہم دل سے مسلمان ہیں ہی نہیں۔ بس ایک پاکیزہ لبادہ اوڑھ کر دوسروں کی نظروں سے خود کو بچا رکھا ہے۔ اور اسے مجبوری کی نام دیا جاتا ہے۔

مگر آپ جتنے بھی لبادے اوڑھ لیں۔ خدا کی نظر سے نہیں چھپ سکتے۔ آپ اس سے کئے گئے عہد کو بھلا سکتے ہیں لیکن وہ اپنے سے کیا گیا عہد کبھی نہیں بھولتا۔۔ کبھی نہیں۔

WhatsApp Group Join Now

admin

An online Urdu Magazine for women.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *