تعلیمعورتمعاشرہ

خواتین کےمسائل اورردّعمل کی نفسیات

Spread the love

تحریر: ثناء بتول درانی

مسئلے کے حل کا پہلا مرحلہ اس کے وجود کو قبول کرنا ہے کہ واقعی ہی وہ مسئلہ موجود ہے۔ جب یہ مان لیا جائے اس کے بعد اس کے حل کی ممکنات کو کھوجا جاتا ہے۔ ہمارے سماج میں مسائل کو یا تو نظر انداز کیا جاتا ہے یا پھر جھوٹی روایات، غیرت، عزت اور بوسیدہ رواجوں کے مد نظر اس سے شدت سے انکار کر دیا جاتا ہے کہ یہ تو سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ ایسا ان معاملات میں زیادہ شدت سے سامنے آتا ہے جو کسی کمزور طبقے سے متعلق ہوں چاہے وہ خواتین ہیں، بچے، اقلیتیں یا پھر معاشی طور پہ کمزور لوگ۔ کیونکہ ان کو دبانا اور ان کے مسائل سے انکار کرنا آسان ہے اور یہ تمام روایات، غیرت و عزت انہیں طبقات سے جڑی ہے۔ یہ ایک ایسا نظام ہے جو صدیوں سے بنا ہے اور چلا آ رہا ہے۔

حال ہی میں ڈاکٹر طاہرہ کاظمی جو کہ ایک ماہر گائنا کالوجسٹ ہیں اور کالم نگار بھی ہیں ان کا ایک کالم سوشل میڈیا پہ زیر بحث ہے جس میں انہوں نے ایک مسئلے کی نشاندہی کی ہے کہ ان کے علم میں چند ایسے کیسز آئے ہیں جن میں خواتین کے وجائنا پہ تالہ لگا ہوا تھا۔ ایک مسئلے کی نشاندہی کی گئی ہے کہ ایسا ہوا ہے اور بہت سی لیڈی ڈاکٹرز نے اس بات کی تصدیق بھی کی ہے کہ ایسا ان کے علم ہے۔ لیکن بجائے اس کے کہ اس مسئلے کو سنا جاتا اور اس پہ بات کی جاتی۔ ان کی اس بات سے پر زور انکار کیا گیا اس بنیاد پہ کہ ”ہم نے تو ایسا کبھی نہیں سنا، ہم تو ایسا کبھی نہ دیکھا۔“ یعنی کہ ہٹ دھرمی والا انکار۔ اگر آپ کو اس بات پہ اعتراض ہے کہ وہ غلط کہہ رہی ہیں تو اصولی طور پہ یہ ہونا چاہیے تھا کہ اس پہ تحقیق کہ جائے اور اگر بات جھوٹ ہے تو اس سے انکار کیا جائے اگر اگر سچی ہیں تو اس مسئلے کا حل نکالا جائے لیکن ایسا نہیں ہوا۔ بلکہ ہر مکتبہ فکر کے لوگ ان کے خلاف ہو گئے کہ ایسا ہو ہی نہیں سکتا ایسا ہوا ہی نہیں۔

معاملہ یہ ہے کہ پہلی بات اگر یہ بات جھوٹی اور من گھڑت ہے تو آپ سنتے ہی کیسے یہ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ کوئی بات سچ ہے یا جھوٹ؟ معقول اور ہوشمندانہ طریقہ یہ ہے کہ تحقیق کی جائے اور پھر رائے دی جائے اس بنیاد پہ رائے کہ یہ آپ کے مشاہدے اور تجربے کی بات نہیں ہے اس لیے غلط ہے کیونکر سچ سکتی ہے۔

دوسری بات یہ کہ مسئلہ کو غلط رنگ دیا گیا ہے اسے صوبائیت اور قومیت سے جوڑ دیا گیا۔ طاہرہ کاظمی کا کہنا ہے چند قبائل کے ہاں ایسا ہوتا ہے انہوں نے کسی قبیلے کو نامزد نہیں کیا لیکن سوشل میڈیا پہ لوگوں نے اسے کے پی کے، سندھ اور دیگر قبائل سے جوڑ دیا۔ یہاں وہ لوگ غصے میں آ گئے جو ان قبائل سے ہیں۔ کہ یہ ان کی روایات اور قومیت پہ حملہ ہے اور ایسی کوئی روایت ان کے ہاں نہیں ہے۔ یہ ری ایکشن بھی اپنے آپ میں غلط ہے کیونکہ کسی برائی یا غلط بات کا آپ کی معاشرت سے جڑا ہونا اس کو جسٹیفائی نہیں کر سکتا۔ تو اگر ایسا نہیں ہے تو سمجھیں کہ آپ سے متعلق بات نہیں ہے تو ری ایکشن دینے کی بجائے اگنور کریں اور اگر ایسا ہے تو اس برائی کے خلاف آواز بلند کریں نہ کے اس کو پوائنٹ آؤٹ کرنے والے کو برا بھلا کہنا شروع کر دیں۔

تیسری بات یہ کہ انہیں اس تحریر کو واپس لینے کے لیے دھمکیاں دی گئی ہیں، پریشرائز کیا گیا ہے کہ وہ اسے واپس لیں ورنہ ان کے خلاف درخواست دی جائے گی۔ ایسے دھمکانا اور زبان بند رکھنے کے لیے زور دینے والوں نے کون سی ایسی تحقیق کی ہے ایک دن میں کہ جس کی بنیاد پہ وہ عدالت تک جا سکیں گے۔ یہ بھی ایک متعصب سوچ ہے کہ اگر کوئی ہمارے جیسا نہیں سوچتا تو اسے منہ بندی کا کہا جائے۔ دھمکایا جائے یہ تو بذات خود ایک ہراسمنٹ ہے دھونس اور زبردستی ہے اور ساتھ ہی مینٹل ٹارچر بھی ہے۔ پھر ان لوگوں میں جنہیں آپ جاہل کہتے اور آپ میں کیا فرق رہ جاتا ہے۔

چوتھی بات یہ کہ انہیں مشورہ دیا گیا کہ ان کیسز کو رپورٹ کیوں نہیں کیا گیا تو ایک ڈاکٹر کا کام ہے ان چیزوں کو رپورٹ کرنا یا وکٹم کو رپورٹ کرنا چاہیے؟ وکٹم کے رپورٹ نہ کرنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ کوئی کامن پریکٹس ہے جس پہ بولا نہیں جاتا یہ غیر شعوری طور پہ اس کمیونٹی میں قابل قبول ہے اس لیے نہ کبھی کسی نے محسوس کیا نہ آواز اٹھائی۔ اور جس نے آواز اٹھائی ہے اس کو پڑھے لکھے طبقے کی طرف سے جس ردعمل کا سامنا کرنا پڑا ہے تو زارا سوچی‍ں اس کمیونٹی میں جہاں اسے ایک کامن پریکٹس سمجھا جاتا ہو وہاں اس پہ آواز اٹھانے پہ کس طرح کے رد عمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

آپ کسی بھی بات کو محض ذاتی تجربے و مشاہدے کی بنیاد پہ نہ تو سچ کہہ سکتے ہیں نہ ہی جھٹلا سکتے ہیں

عورت سماج کا وہ حصہ ہے جو روایات کی بھینٹ چڑھتا رہا ہے۔ ہمارے سماج میں عورت پہ گھریلو تشدد ہوتا ہے یہ بات سچ ہے اور حقیقت پہ مبنی ہے۔ اس میں ہر طرح کا جسمانی اور ذہنی تشدد شامل ہے۔ عورت اس کو سہنے پہ مجبور ہے کیونکہ سماج میں اس کے پاس نہ وہ شعور ہے نہ ہی سہولیات کہ وہ اپنے لیے لب کھول سکے۔

کسی بھی مسئلے کو مکتبہ فکر، قومیت یا صوبائیت سے جوڑ کے اس برائی کو جسٹیفائی کرنا غلط ہے۔ غلط بات غلط ہے اسے کسی بھی بنیاد پہ دوست نہیں کہا جا سکتا اور نہ ہی وہ کسی قومیت کے لیے باعث فخر ہو سکتی ہے۔

اختلاف رائے کا احترام مکالمے کو جنم دیتا ہے۔ اور وہ باتیں جو فیکٹس سے ثابت کرنا ضروری ہوں ان پہ جذباتیت دکھا کہ کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا کسی کو دھمکا کے ذہنی اذیت دے کے آپ وقتی طور پہ اسے خاموش کروانے میں کامیاب ہو بھی جائیں تب بھی مسئلہ وہیں کا وہیں رہے گا حل نہیں ہو گا۔

کیسز رپورٹ کرنا جرائم پہ آواز اٹھانے کے لیے شہری شعور کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ تب پیدا ہوتا ہے جب آپ مکالمے کو جگہ دیں دوسروں کی بات سنیں یہ سماجی رویہ ہے ایک دم نہ پیدا ہو سکتا ہے نہ پروان چڑھ سکتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں ردعمل کی نفسیات اتنی مضبوط ہے کہ ہم فوری ردعمل دیتے ہیں دوسرے کی بات کو سوچے سمجھے اور غور کیے بغیر۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں سوال اٹھانے والا مجرم ٹھہرتا ہے۔ جرم کرنے والا اور جرم قابل قبول ہیں

نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

WhatsApp Group Join Now

admin

An online Urdu Magazine for women.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *