ام المؤمنین حضرت سودہ بنت زمعہ ؓ
فضائل
رسول اللہ ﷺ سے حضرت سودہؓ کا نکاح بھی الہٰی منشاء کے مطابق تھا۔چنانچہ انہوں نے شادی سے قبل دو ایسی واضح رؤیا دیکھیں جنکی تعبیر خود ان کے شوہر نے یہ کی کہ انکی وفات کے بعد حضرت سودہؓ رسول اللہ ﷺ کے عقد میں آئیں گی۔
حضرت خدیجہؓ کے بعدحضرت سودہؓ آنحضورﷺ کا گھر سنبھالنے والی،نہایت سادہ طبع خاتون تھیں۔فرماتی تھیں کہ‘‘مجھے دیگر ازواج سے مقابلے کی تو کوئی تمنا نہیں۔ ہاں یہ خواہش ضرور ہے کہ قیامت کے رو ز آپ کی بیویوں میں ہی میرا حشر ہو۔‘‘
حضرت عائشہؓ نے حضرت سودہؓ کے بارہ میں کیا خوبصورت رائے دی کہ‘‘ مجھےکبھی کسی کے متعلق یہ خواہش نہیں ہوئی کہ میں اس جیسی ہوجاوٴں سوائے حضرت سودہؓ کے کہ ان کی بھولی بھالی ادائیں اختیار کرنے کو جی چاہتا ہے اوربے اختیاردل کرتا ہے کہ کاش! میں بھی ان کی طرح ہوتی اوران جیسا پاک اورصاف دل ان جیسی بھولی بھالی ادائیں مجھے بھی نصیب ہوجاتیں
نام و نسب
حضرت سودہؓ کے والد زمعہ بن قیس قریش میں سے تھے جبکہ آپؓ کی والدہ شموس بنت قیس مدینہ کے خاندان بنو نجار سے تعلق رکھتی تھیں۔
رسول اللہ ﷺکے دعوی ٴ نبوت کے بعدابتدائی زمانے میں ہی حضرت سودہؓ کو اسلام قبول کرنے کا شرف حاصل ہوا۔ ان کی شادی اپنے چچا زاد سکران بن عمرو القرشی سے ہوئی تھی۔ انہوں نے بھی ابتدائی زمانے میں اسلام قبول کرکے آنحضرتﷺ کے صحابی ہونے کا اعزازاورحبشہ ہجرت کرنے کی سعادت حاصل کی۔ حضرت سودہؓ بھی ہجرت حبشہ میں ان کے ہمرکاب تھیں۔ حبشہ سے واپس مکہ لوٹے تو حضرت سکرانؓ کی وفات ہوگئی۔
بعض دوسری روایات کے مطابق حضرت سکرانؓ حبشہ میں ہی وفات پاگئے تھے۔ یوں حضرت سودہؓ نے دین کی خاطر وطن چھوڑنےکی قربانی کے ساتھ ایک مہاجر صحابی کی بیوہ ہونے کا اعزاز بھی حاصل کیا۔
حضرت سکرانؓ سے حضرت سودہؓ کےایک بیٹے عبدالرحمان بھی تھے جو بعد میں ایران کی جنگ جلولاء میں شہیدہوئے۔
حضرت سودہؓ سے شادی
حضرت خدیجہؓ کی وفات کے بعد نبی کریمﷺ نے نبوت کے دسویں سال حضرت سودہؓ کے ساتھ نکاح فرمایا اور مکہ میں ہجرت مدینہ سے پہلے ہی شادی ہوگئی۔
دراصل حضرت خدیجہؓ کی وفات سے آنحضرتﷺ کی اہلی زندگی میں ایک خلاء کاپیدا ہونا طبعی امرتھا۔حضرت خدیجہؓ کی اولاد جو چار بیٹیوں پر مشتمل تھی، ان کے سنبھالنے اور گھریلو انتظام و انصرام کیلئے حضورﷺ کو ایک فکر لاحق رہتی تھی۔ تنہائی اوراداسی کی ایک کیفیت تھی۔ صحابہ بھی نبی کریمؐ کی یہ تکلیف محسوس کرتے تھے۔ ایک بزرگ صحابیہ حضرت خولہؓ بنت حکیم زوجہ حضرت عثمانؓ بن مظعون نے آنحضورؐ کی خدمت میں حاضر ہو کر کمال ادب اور جرأت سے یہ گزارش کی کہ یارسول اللہ ﷺ! آپؐ حضرت خدیجہؓ کے بعد بہت تنہا اور اداس ہوگئے ہیں۔ رسول کریمﷺنے فرمایا، ہاں ! آخر وہ میرے بچوں کی ماں، گھر کی مالکہ اور نگران تھیں۔ واقعی حضرت خدیجہؓ نے آنحضورﷺ کے گھر کا نہایت احسن انتظام کیاہواتھااور دینی فرائض اور ذمہ داریوں کی بجا آوری کے لئےآپؐ کو مکمل طور پر فارغ کر رکھا تھا۔ ان کے بعد ایک کمی کا محسوس ہونا قدرتی امر تھا۔ پھر مسلمانوں کی اجتماعی زندگی اور خواتین کی تعلیم و تربیت کے لحاظ سے بھی اس خلاء کا پُر کیا جانا بہت اہم تھا۔حضرت خولہؓ نے گویا مسلمانوں کی نمائندہ بن کر رسول کریمﷺ کی خدمت میں بعض تجاویزبھی رشتوں کے سلسلے میں پیش کیں۔
حضورﷺنے نسبتاً ایک معمرّ بیوہ خاتون حضرت سودہؓ کی تجویز پسند فرمائی۔اس کے لئے سلسلہ جنبانی کی ذمہ داری حضرت خولہؓ ہی کے سپرد ہوئی۔ چنانچہ وہ ان کے گھر گئیں۔پہلے تو خود حضرت سودہؓ سے رسول اللہ ﷺ کے رشتہ کی بات کی۔ پھر حضرت خولہؓ ان کے والد کے پاس گئیں تو انہوں نے بھی یہی کہا کہ «اس سے بہترین اور معزز رشتہ سودہؓ کےلئے اور کیا ہوسکتا ہے‘‘ چنانچہ یہ رشتہ طے ہوگیا اور حضرت سودہؓ مکی دورمیں ہی آنحضرت ؐکے گھر میں آگئیں۔رسول اللہ ﷺ نے آپؓ کا حق مہر چار سو دینار مقرر فرمایا تھا۔
حضرت سودہؓ کے مشرک بھائی عبدبن زمعہ کو جب یہ خبر ملی تو اس نے ماتم کرتے ہوئے اپنے سر میں مٹی ڈالی۔ بعد میں جب وہ مسلمان ہوئے تو کہا کرتے تھے کہ‘‘میں بھی کیسا احمق تھا کہ اپنی بہن کے ساتھ آنحضرتﷺ کی شادی پر ماتم کرتے ہوئے اپنے سر میں خاک ڈالتا مجھے کیا معلوم تھا کہ یہ اتنی بڑی سعادت ہے‘‘
حضرت سودہؓ کی روٴیا
حضرت سودہؓ کی اس سعادت میں یقینا الہٰی مصلحت بھی شامل تھی اور ان کی بعض روٴیاء بھی اس طرف اشارہ کرتی تھیں، جن سے اس رشتہ کے منجانب اللہ ہونے کا پتہ چلتا ہے نیزحضرت سودہؓ کی نیکی و تقویٰ اور ان کے تعلق باللہ کا بھی اندازہ ہوتاہے۔حضرت سودہؓ کا بیان ہے کہ میں نے آنحضرتﷺ کے ساتھ نکاح سے بہت پہلے خواب میں دیکھا کہ آنحضرتﷺ تشریف لائے ہیں اور آپ نے اپنا پاوٴں میری گردن پر رکھاہے۔میں نے اپنے خاوند کو یہ روٴیا سنائی۔وہ کہنے لگے کہ‘‘اگر تمہاری خواب سچی ہے تو میری وفات کے بعد تم آنحضرت ﷺکے عقد میں آوٴ گی‘‘
حضرت سودہؓ فرماتی تھیں کہ اگلے روز میں نے یہ خواب دیکھی کہ‘‘میں لیٹی ہوئی ہوں اور چاند میرے اوپر آگراہے۔ میں نے فکر مندی سے اپنے شوہر (حضرت سکرانؓ )کو یہ خواب بھی سنائی انہوں نے دوبارہ یہی تعبیر کی کہ “جلد ان کی وفات ہوجائے گی اور اس کے بعد آنحضرت ﷺ سے میراعقد ہوگا « روایت ہے کہ اسی روز سے حضرت سکران بیمار پڑ گئے اور پھر جانبر نہ ہوسکے۔ اسکے کچھ عرصہ بعد ہی حضرت سودہؓ رسول اللہ ﷺکے حرم میں شامل ہوکرام المومنین بن گئیں۔
حضرت ابن عباسؓ بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺنے جب حضرت سودہؓ کو شادی کا پیغام بھجوایا تو ان کے پانچ چھ بچے تھے انہوں نے جواباً عرض کیا کہ «مجھے نکاح میں کوئی روک نہیں۔ کیوں کہ آپ مجھے سب دنیا سے زیادہ عزیزہیں مگر مجھے آپ کا احترام پیش نظر ہے کہ کہیں میرے بچے صبح و شام اپنی چیخ و پکار سے آپ کوپریشان ہی نہ کر رہے ہوں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا اس کے علاوہ کوئی اور بات تو اس امر (شادی) میں مانع نہیں؟
انہوں نے عرض کیا کوئی اور بات ہرگز نہیں۔اس پر رسول اللہ ﷺنےفرمایا کہ‘‘ اللہ تم پر رحم فرمائے، بہترین عورتیں جو اونٹوں کی پشت پر سوار ہوتی ہیں قریش کی نیک عورتیں ہیں جو بچوں کی کم سنی میں نہایت شفقت کرنے والی اوراپنے شوہر کے مال ومتاع کا خیال رکھنے والی ہوتی ہیں‘‘
حضرت خدیجہؓ ی وفات کے بعد تین سال یا اس سے کچھ زائد عرصہ تک حضرت سودہؓ تنہا رسول اللہ ﷺ کے عقد میں رہیں یہاں تک کہ مدینہ میں حضرت عائشہؓ رخصت ہوکرحضورﷺ کے گھر آئیں۔جن کا نکاح حضرت سودہؓ سے پہلے حضورﷺکے ساتھ ہوچکا تھا۔ بہرحال حضرت سودہؓ کو یہ سعادت نصیب ہوئی کہ حضرت خدیجہؓ کے بعد رسول اللہ ﷺ کی پہلی بیوی ہونے کا اعزاز پایا۔ حضرت خدیجہؓ سے رسول اللہ ﷺ کی اولاد کو سنبھالااورحضور ﷺکے گھر کو چلانے کی اہم ذمہ داری اور خدمت ادا کرنے کی توفیق پائی جیسا کہ بعض مستشرقین نے بھی اس کا اعتراف کیا ہے۔
گھریلو زندگی اور پاکیزہ خصائل
حضرت سودہؓ نہایت سادہ طبیعت کی تھیں، مزاج میں نیکی ایسی غالب تھی کہ نیکی اور بھلائی کی جو بات ایک دفعہ سن لی اس پر مضبوطی سے جم گئیں۔آپؓ کی سادگی کا مثبت پہلو یہ تھا کہ آپؓ ازراہ ِ ادبرسول اللہ ﷺ کے ارشاد کی کوئی تشریح یا تأویل کرنے کی بجائے اپنی سمجھ کے مطابق اس کی فوری اورلفظی تعمیل کی کوشش کرتی تھیں۔جیسےآنحضرت ﷺنے حجۃ الوداع کے موقع پر صحابہ سے فرمایا تھا کہ شاید یہ میرا آخر ی حج ہو پھر اس کے بعد روک ہے۔
اب حضرت سودہؓ چونکہ دین العجائزرکھتی تھیں اورسَمِعْنَا وَاَطَعْنَا(یعنی سنا اور اطاعت کی)ان کا مذھب تھا۔حتّٰی کہ حضورﷺ کےبعض ارشادات کی پابندی ظاہری الفاظ کے مطابق بھی اصرار سے کرتی اور کہتی تھیں کہ حضورﷺ نےحجۃ الوداع میں فرمایا تھا کہ بس یہی آخری حج ہے۔ اس کے بعد روک ہے۔ حضرت سودہؓ کے ساتھ حضرت زینبؓ بھی کہا کرتی تھیں کہ آنحضورﷺ سے یہ بات سننے کے بعد ہم نے اس مقصد کے لئے کبھی اپنی سواری (حج کیلئے)استعمال نہیں کی۔
اسی طرح حضرت سودہؓ بنت زمعہ رسول اللہ ﷺ کی کامل فرمانبرداری میں بھی ایک نمونہ تھیں۔فتح مکّہ کے موقع پران کے باپ کی لونڈی سے پیدا ہونیوالے بچےّ کے نسب کا تنازعہ ہوا۔حضرت سعدؓ بن ابی وقاص کے مشرک بھائی عتبہ نےزمعہ کی لونڈی کے ساتھ تعلق کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے بچےّ کے بارہ میں اپنے بھائی(سعد) کو وصیت کی تھی کہ ‘‘یہ میرا بچّہ ہے اس کا خیال رکھنا۔’’ رسول کریمؐ نے اس کااصولی فیصلہ نسب کےلحاظ سےیہ فرمایا کہ زمعہ کی لونڈی کے ہا ں پیدا ہونے والا بچہ تو زمعہ کا ہی شمار ہوگا۔ مگر چونکہ اس بچہ کی شکل و شباہت مدعی فریق عتبہ بن وقاص سے ملتی تھی۔اس لئے مصلحتاً یہ ہدایت بھی فرمائی کہ حضرت سودہؓ والد کی طرف سے اس بھائی سے پر دہ کیا کریں گی۔حضرت سودہؓ نے اس ارشاد کی ایسی پابندی فرمائی کہ پھر کبھی اس بھائی سے ملنے کی خواہش نہیں کی اور آخری دم تک اسے نہیں دیکھا۔
ایک واقعہ احکام پردہ کے نزول کے زمانہ کا ہے۔عرب عورتوں میں عام طور پر پردہ کا کوئی رواج نہیں تھا تاہم معزّز خاندانوں کی عورتیں عزّت و وقار کی علامت کے طور پر چادر وغیرہ لیتی تھیں۔اور زیادہ تر گھروں میں ہی ٹھہری رہتی تھیں۔حضرت عمرؓ کی طبیعت میں ازواج ِ رسول ؐ کے احترام اور پردہ کے بارہ میں شدت تھی۔ انہوں نے ام المومنین حضرت سودہؓ کو گھر سے باہر نکلتے دیکھا اور لمبے قد کے باعث انہیں پہچان لیا۔
حضرت عمرؓ کی ذاتی رائے تھی کہ ازواج مطہرات کو مکمل پردہ کی خاطر گھر میں ہی ٹھہرنا چاہئے۔ اور ان کو باہر نہیں نکلنا چاہئے۔ حضرت سودہؓ عرب دستور کے مطابق حسب ضرورت پردے کے ساتھ گھر سے باہربھی چلی جاتی تھیں۔ ایک رات جب آپؓ گھر سے باہر نکلیں تو حضرت عمرؓ نے انہیں بلند آواز سے پکار کر کہا عَرَفْنَاکِ یا سَوۡدَة۔ کہ اے سودہؓ!ہم نے آپ کو پہچان لیا۔حضرت سودہؓ ناراض ہوکر وہیں سے واپس گھر پلٹ آئیں۔سیدھی رسول اللہ ﷺ کے پاس اس بیوی کے گھر پہنچیں جہاں آپؐ کی باری تھی۔آپؐ کھانا تناول فرمارہے تھے۔ حضرت سودہؓ نے حضورؐ کی خدمت میں یہ شکایت کی کہ یا رسول اللہ ﷺحضرت عمرؓ بن الخطاب آپؐ کی ازواج مطہرات کے بارہ میں بآواز بلند یہ کہنے لگے ہیں کہ ہم نے تمہیں پہچان لیاہے۔ اس وقت نبی کریمؐ پر وحی کی کیفیت طاری ہوئی اورپردہ کے بارہ میں آیات اتریں جن میں ازواج مطہرات کوپردہ کرنے کی ہدایت کے ساتھ حسب ضرورت باہر جانے کے اشارے بھی موجود ہیں۔ چنانچہ حضورؐ نے فرمایا‘‘اے سودہؓ ! آپ لوگوں کو اجازت دی گئی ہے کہ ضرورت اور کام کی خاطر آپ باہر جاسکتی ہیں‘‘
رسول اللہ ﷺ کے پاکیزہ اخلاق کا ایک نمایاں پہلو قرآن شریف میں یہ بیان ہوا ہے کہ آپؐ تکلّف اور تصنّع سے پاک تھے۔حضرت سودہؓ کی گھریلو زندگی میں کوئی بناوٹ نہ تھی۔آپؓ کے عادات وخصائل میں یہی خوبصورت سادہ طبعی نظر آتی ہے۔چنانچہ حضورﷺ اپنے گھر میں حضرت سودہؓ کی ایسی بےتکّلف باتوں سے خوب محظوظ ہوتے۔
جس زمانہ میں رسول کریم ﷺنے اللہ تعالیٰ سے خبر پاکر دجال کی کچھ تفصیل بیان فرمائی۔ اتفاق سے ان علامتوں میں سے بعض باتیں مدینے میں موجود یہودیوں کے ایک بچے ابن صیاد میں بھی پائی گئیں تو حضورؐ نے اس اندیشہ کا اظہار فرمایا کہ کہیں ابن صیاد ہی دجال نہ ہو۔ حضرت سودہؓ پہلے ہی دجال سے بہت خائف تھیں کیونکہ آنحضرتؐ کی ہربات پر انہیں کامل ایمان اور یقین تھا۔حضور ؐنے فرمایا تھا کہ دجال سے بڑااور خوفناک فتنہ آج تک نہیں دیکھا گیا۔ اور ہر گزشتہ نبی نے اس فتنے سے ڈرایا ہے۔
ایک روز حضرت حفصہؓ حضرت عائشہؓ کے گھر ملنے آئیں تو وہاں حضرت سودہؓ بھی تشریف لے آئیں انھوں نے یمن کی خوبصورت چادر اوڑھی ہوئی تھی اور زینت کی خاطر زعفران وغیرہ کا بھی استعمال کیا ہواتھا۔حضرت حفصہؓ حضرت عائشہؓ سے کہنے لگیں کہ ابھی رسول اللہ ﷺ تشریف لائیں گے تو دیکھیں گے کہ ان کی زینت ہم سے زیادہ ہے اب دیکھنا میں یہ کیسےخراب کرتی ہوں۔حضرت عائشہؓ نے فرمایا اے حفصہؓ ! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔حضرت سودہؓ ذرا اونچا سنتی تھیں انہوں نے پوچھا تم کیا کہہ رہی ہو؟ حضرت حفصہؓ نے کہا کانا دجال ظاہر ہوگیا ہے۔ حضرت سودہؓ نے پوچھا کیا واقعی کانا دجال ظاہر ہوگیا ہے؟حضرت حفصہؓ نے کہا ہاں۔وہ کہنے لگیں پھر میں کہاں چھپ سکتی ہوں؟حضرت حفصہؓ نے کہا کہ آپ اس خیمہ میں چھپ جائیں(جس میں موسم سرما میں ہنڈیا وغیرہ پکایا کرتے تھے)۔
اس خیمہ میں مکڑی کے جالے بھی تھے۔ حضرت سودہؓ اس میں چھپ گئیں۔اتنی دیر میں رسول اللہ ﷺ تشریف لائے تووہ دونوں اتنا ہنس رہی تھیں کہ اس کی وجہ سے بات کرنابھی مشکل تھا۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تمہاری ہنسی کی کیا وجہ ہے؟انھوں نے خیمے کی طرف ہاتھ سے اشارہ کیا۔ رسول اللہ ﷺ خیمے کی طرف گئے تو حضرت سودہؓ مارے ڈر کے کانپ رہی تھیں۔ آنحضورﷺ نے پوچھا کیا ہوا؟ انھوں نے بتا یا یا رسول اللہ ﷺ کانا دجالا ظاہر ہوگیا ہے۔آپؐ نے فرمایا کہاں ظاہر ہوا ہے اس نے تو ظاہر ہوناہے۔پھر حضورﷺ نے حضرت سودہؓ کا ہاتھ پکڑا اور ان سے مٹی اور جالے وغیرہ صاف کئے۔
حضرت عائشہؓ کاحضرت سودہؓ کے ساتھ محبت اور بے تکلفی کا خاص تعلق تھا۔ دیگر ازواج مطہرات میں سے حضرت حفصہؓ، حضرت صفیہؓ،حضرت زینبؓ بنت جحش کےساتھ بھی حضرت سودہؓ کا خاص لگاوٴ تھا۔ اور باوجود سوت پن کے ان کی صاف دلی کے باعث گھریلو ماحول میں بے تکلفی اور پیار ومحبت کا عجیب رنگ پایا جاتا تھا۔رسول اللہ ﷺ بھی اپنی تمام تر مصروفیات کے باوجود اہل خانہ کے ساتھ بیٹھنے کیلئے بھی وقت نکالتے اور جائز حد تک انھیں دل لگی کی اجازت دیتے اور دلچسپی کے سامان بہم پہنچاتے تھے۔
حضرت سودہؓےایسے ہی گھریلو بے تکلف ماحول کےایک اور واقعہ کا ذکر حضرت عائشہؓ یوں بیان کرتی ہیں کہ حضرت سودہؓ ہمارے گھر آئیں۔ رسول اللہ ﷺ میرے اور سودہؓ کےدرمیان اس طرح تشریف فرما ہوئےکہ ایک پاوٴں ان کی گود میں اور دوسرا میری گودمیں تھا۔ میں نے حضورﷺ کے لئے حریرہ بنایا تھا جو حضرت سودہ کو بھی کھانے کی پیشکش کی مگر انہوں نے نہ کھایااورمیرے اصرار کے باوجود وہ کھانے سے انکار کرتی رہیں، میں نے کہا کہ میں تو کھلا کے چھوڑوں گی اور اگر آپؓ نہیں کھائیں گی تو میں آپؓ کے منہ پر مل دونگی۔جب حضرت سودہؓ نے نہ کھانے پر ہی اصرار کیا تو حضرت عائشہؓ نے واقعتہ ً وہ مالیدہ حضرت سودہؓ کے منہ پر مل دیا۔ آنحضرتﷺ نے حضرت سودہؓ کی یہ حالت دیکھی تو ہنسی ضبط نہ ہوسکی۔پھر کمال عدل کے ساتھ یہ فیصلہ فرمایا کہ حضرت سودہؓ بدلہ لے سکتی ہیں اور آپؐ نے اپنی ٹانگ جو ان کی گود میں رکھی تھی اٹھالی تاکہ وہ حضرت عائشہؓ سے بدلہ لے سکیں چنانچہ اب حضرت سودہؓ نے حضرت عائشہؓ کے چہرے پر حریرہ مل دیا۔اس دوران حضرت عمرؓ کی آواز سنائی دی، وہ کسی کو پکار کر بلا رہے تھے۔رسول کریمﷺنے سمجھا کہ وہ شاید اندر آنے کی اجازت چاہتے ہیں۔آپؐ نے دونوں ازواج سے فرمایا اب اٹھو اور اپنے منہ دھوکر آوٴ۔
حضرت سودہؓ کی سادگی،صفائی قلب اور ہمدردیٔ خلق کا جذبہ اس وقت بھی دیکھنے میں آیا جب غزوہٴ بدر میں ستّر کفار قریش قیدی ہوکر آئے جن میں بعض بڑے سردار اور روٴساء بھی تھے۔ حضرت سودہؓ بعض سرداران قریش کو اپنے گھر میں قید دیکھ کر سادگی میں بے ساختہ ایسا اظہار کر بیٹھیں جو رسول اللہ ﷺکو طبعاً ناگوار ہوا مگر آپ نے حضرت سودہؓ کی معذرت قبول فرمالی۔ یہ واقعہ خو د حضرت سودہؓ یوں بیان فرماتی ہیں کہ جب مدینہ میں اسیران بدر کے آنے کی خبر پہنچی اور میں کسی دوسرے گھر سے اپنے گھر واپس آئی تو کیا دیکھتی ہوں کہ سردار قریش ابو یزید سہیل بن عمرو ہمارے گھر کے حجرے کے ایک کونے میں اس حال میں قید ہے کہ اس کے ہاتھ گردن سے رسی کے ساتھ بندھے ہوئے ہیں۔ آپ فرماتی ہیں کہ سردار قریش ابو یزید کو اس حال میں دیکھ کر میں اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکی اور بے اختیار ہوکر کہا کہ‘‘ اے ابو یزید ! قید ہونے سے تو بہتر تھاتم عزّت کے ساتھ مرجاتے ’’ آپؓ فرماتی ہیں میرا یہ کہنا تھا کہ دوسری طرف رسول اللہ ﷺ کی اس آواز نے مجھے چونکا دیا کہ اے سودہؓ ! کیا تم اللہ اور رسول کے خلاف انہیں اکسا تی ہو ؟ آپؓ بیان کرتی ہیں میں نے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ ! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، دراصل جب میں نے ابو یزید کو اس حال میں قید دیکھا کہ اس کے ہاتھ گردن سے بندھے ہیں تو بے اختیاری میں ایسا کہہ بیٹھی ہوں۔ ورنہ معاذ اللہ ہرگز میرا ایسا کوئی منشاء نہیں۔
حضرت سودہؓ کو اپنی نیک عاقبت اورانجام بخیر کی بھی فکر رہتی تھی۔آپؓ نے آنحضورؐ سے یہ بھی سن رکھا تھا کہ جنازہ میں بلاوجہ تأخیر نہیں کرنی چاہئے۔چنانچہ ایک دفعہ انہوں نے رسول اللہ ﷺکی خدمت میں(غالبا ً کسی سفر پر روانگی کے وقت) یہ عجیب درخواست کی کہ اگر آپ ؐ کی عدم موجودگی میں ہماری موت آجائے تواجازت فرمادیں کہ حضرت عثمانؓ بن مظعون(جو ایک زاہد وعابد بزرگ صحابی تھے) ہمارا جنازہ پڑھادیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے زمعہ کی بیٹی! کاش تمہیں موت کا صحیح ادراک ہوتا تو پتہ چلتا کہ وہ اس سے کہیں زیادہ شدید ہے جتنا تم گمان کرتی ہو۔
زہد اور شوق عبادت
ایک دفعہ حضرت سودہؓ کے دل میں آنحضرتﷺ کے ساتھ رات کو عبادت کرنے کا شوق پیدا ہوا۔ ان کی باری میں رسول کریمﷺ جب تہجد کے لئے اٹھے تو یہ بھی آنحضورﷺ کے ساتھ نماز پڑھنے کھڑی ہوگئیں۔ان کاجسم بھاری تھا۔ ادھر آنحضورﷺرات کو اکیلے میں لمبی نماز پڑھتے۔ لمبا قیام رکوع او ر طویل سجدے ہوتے تھے۔ اگلی صبح جب حضورﷺ سے اس نماز کے بارہ میں اپنا تاثر بیان کیا توبے تکلفی سے یوں کہہ دیا کہ یا رسول اللہ ﷺ!میں نے رات آپ کے پیچھے نماز پڑھی آپ نے تو اتنا لمبا رکوع کروایا کہ بالآخر میں نے اپنی ناک ہی پکڑلی کہ جھک جھک کر کہیں نکسیر ہی نہ پھوٹ پڑے۔ آنحضورﷺ یہ تبصرہ سن کرخوب محظوظ ہوئے۔
عشق رسولﷺ
حضرت سودہؓ کو رسول کریم ﷺسے ایک عشق تھا۔ آخری بیماری میں آنحضورﷺ نے جب یہ فرمایا کہ ازواج مطہرات میں سے سب سے پہلے وہ بیوی مجھے اُس جہاں میں آکر ملے گی جس کے ہاتھ زیادہ لمبے ہیں۔ اب بظاہر یہ موت کی خبر تھی مگر بیویاں ہیں کہ شوق کے عالم میں سر کنڈے سے بازو ماپ رہی ہیں کہ دیکھیں تو سہی وہ لمبے ہاتھوں والی سعادت مند کون ہے جو اپنے آقا کے پاس سب سے پہلے پہنچے گی، گویا ازواجِ رسول جان و دل سے آپؐ پر فدا ہوچکی تھیں اور آپ پر جان چھڑکتی تھیں۔ خیر!حضرت سودہؓ جولمبے قد کی تھیں انہیں کے ہاتھ لمبے نکلے اور وہ اس پر بہت خوش تھیں کہ پہلے میرے حصے میں یہ سعادت آئے گی اور میں سب سے پہلے اپنے آقا سے جاملوں گی؟
حضرت سودہؓ نے رسول اللہ ﷺ سے پانچ احادیث روایت کی ہیں۔ جن میں سے دو احادیث بخاری اور مسلم میں اور دیگر ابوداوٴد اور نسائی میں مذکو ر ہیں۔حضرت ابن عباسؓ اور یحیٰ بن عبدالرحمن ا ن سے روایت کرتے ہیں۔
صحت کی کیفیت
9ھ میں آنحضورﷺ حج کے ارادہ سے نکلےتوباوجودیکہ حضرت سودہؓ اپنی عمر کی مناسبت سےبھاری بدن کے باعث کمزوری اور سست روی کا شکار ہوگئی تھیں۔مگراس کے باوجودرسول کریمﷺکےساتھ شوق سے شریکِ سفرہوئیں اس موقع پر انہوں نے مزد لفہ کی رات آنحضرتﷺسے یہ درخواست کی تھی کہ یارسول اللہ ﷺ عام لوگ جو علی الصبح مزد لفہ سے واپس لوٹتے ہیں اس وقت ہجوم بہت زیادہ ہوتا ہے۔ میرے لئے اس میں چلنا مشکل ہوگا اس لئے مجھے باقی لوگوں سے پہلے مزد لفہ سے واپسی کی اجازت عطا فرما دیں۔ حضورﷺ نے معذوری کے باعث انہیں اجازت عطا فرمادی اور حضرت سودہؓ رات کو ہی مزد لفہ واپس لوٹ آئیں جب کہ باقی لوگ صبح مزدلفہ آئے۔
اس طرح حضرت سودہؓ کی برکت سے امت کے کمزوروں اور معذوروں کے لئے رحمت و وسعت کے سامان ہوگئے۔ چنانچہ حضرت سودہؓ کے اس رخصت لینے کے بعد جب بعض اور حاجیوں نے سَر منڈوانے، قربانی کرنے اور رمی حجار جیسے مناسک حج کی ترتیب آگے پیچھے ہوجانے کا ذکر کیاتو حضور ؐنے ازراہ شفقت اس میں رخصت دیتے ہوئے فرمایا کہ اس میں حرج نہیں۔
رسول کریم ﷺکی زندگی کے آخری سالوں میں حضرت سودہؓ نے اپنے بڑھاپے، کمزوری اور بیماری کے باعث محسوس کیا کہ وہ اپنی عائلی ذمہ داریاں کماحقہٗ حضورؐ کے پاس رہ کر ادا نہیں کرسکتیں اور عمر کے اس حصے میں انہیں ازدواجی تعلقا ت کی حاجت نہیں رہی، مگر یہ دلی تمنا ضرور تھی کہ آنحضرتؐ سے جو بابرکت نسبت اور تعلق ہے وہ تادم حیات قائم رہے اور اپنی کسی معذوری و بیماری کے باعث رسول اللہ ﷺ سے ان کا تعلق علیحد گی پر منتج نہ ہو۔اس اندیشہ کی بناء پرانہوں نے آنحضورﷺ کی خدمت میں یہ عر ض کیاکہ یا رسول اللہ ﷺ! مجھے دیگر ازواج سے مقابلے کی تو کوئی تمنا نہیں۔ہاں یہ خواہش ضرور ہے کہ قیامت کے روز آپ کی بیویوں میں ہی میرا حشر ہو، اس لئے میں آپ سے علیحدگی نہیں چاہتی، تاہم اپنے حقوق زوجیت سے دستبردار ہوتی ہوں اور حضرت عائشہؓ کے حق میں میں اپنی باری چھوڑتی ہوں۔
اس درخواست سے ان کا مقصد اللہ اور اس کے رسول کی خوشنودی حاصل کرنا تھا، حضور ﷺنے ان کی یہ استدعا قبول فرمائی۔ حضرت عائشہؓ فرمایا کرتی تھیں کہ دراصل قرآن شریف کی آیت
وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يُصْلِحَا بَيْنَهُمَا صُلْحًا (النساء :129)
کا اسی قسم کے مضامین سے تعلق ہے کہ بعض مخصوص حالات میں عورت کو اپنے بعض حقوق چھوڑتے ہوئے مصالحت کرلینے کی اجازت ہے۔
بعض روایات میں جو رسول اللہ ﷺ کے حضرت سودہؓ کوطلاق دینے کے ارادہ کا ذکر ہے وہ اصول روایت اور درایت ہر دو لحاظ سے لائق اعتبار نہیں۔ اصل با ت یہ ہے کہ حضرت سودہؓ نے خود ہی کسی وسوسہ یا اندیشہ سے برضا و رغبت اپنے حقوق چھوڑ دیئے تھے۔
اس بارہ میں حضرت مسیح موعود ؑ ایک معاند عیسائی پادری فتح مسیح کے اعتراض کا ردّ کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:۔
’’یہ اعتراض کہ آنحضرتﷺ اپنی بیوی سودہ کو پیرا نہ سالی کے سبب سے طلاق دینے کے لئے مستعد ہوگئے تھے۔ سراسر غلط اور خلاف واقعہ ہے اور جن لوگوں نے ایسی روایتیں کی ہیں۔ وہ اس بات کا ثبوت نہیں دے سکے کہ کس شخص کے پاس آنحضرتﷺ نے ایسا ارادہ ظاہر کیا۔ پس اصل حقیقت جیسا کہ کتب معتبرہ احادیث میں مذکورہے یہ ہے کہ خود سودہ نے ہی اپنی پیرا نہ سالی کی وجہ سے دل میں یہ خوف کیا کہ اب میری حالت قابل رغبت نہیں رہی۔ ایسا نہ ہوکہ آنحضرتﷺ بباعث طبعی کراہت کے جو منشاء بشیریّت کو لازم ہے مجھ کو طلاق دے دیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی امر کراہت کا بھی اس نے اپنے دل میں سمجھ لیا ہو۔ او ر اس سے طلا ق کا اندیشہ دل میں جم گیا ہو۔ کیونکہ عورتوں کے مزاج میں ایسے معاملات میں وہم اور وسوسہ بہت ہوا کرتا ہے۔ اس لئے اس نے خود بخود ہی عرض کردیا کہ میں اس کے سوا اور کچھ نہیں چاہتی کہ آپؐ کی ازواج میں میرا حشر ہو۔ چنانچہ نیل الاوطار کےص 140میں یہ حدیث ہے ……
یعنی سودہ بنت زمعہ کو جب اپنی پیرانہ سالی کی وجہ سے اس بات کا خوف ہوا کہ اب شاید میں آنحضرتﷺسے جدا ہو جاؤں گی تو اس نے کہا یا رسول اللہ میں نے اپنی نوبت عائشہ کو بخش دی آپ نے اس کی یہ درخواست قبول فرمالی۔ابن سعد اور سعید ابن منصور اور ترمذی اورعبدالرزاق نے بھی یہی روایت کی ہے اور فتح الباری میں لکھا ہے کہ اسی پر روایتوں کا توارد ہے کہ سودہ کو آپ ہی طلاق کا اندیشہ ہوا تھا۔ اب اس حدیث سے ظاہر ہے کہ دراصل آنحضرت ﷺ سے کوئی ارادہ ظاہر نہیں ہوا۔ بلکہ سودہ نے اپنی پیرا نہ سالی کی حالت پر نظر کرکے خود ہی اپنے دل میں یہ خیال قائم کرلیا تھا۔اور اگر ان روایات کے توارد اور تظاہر کو نظر انداز کرکے فرض بھی کرلیں کہ آنحضرتؐ نے طبعی کراہت کے باعث سودہ کو پیرا نہ سالی کی حالت میں پاکر طلاق کا ارادہ کیا تھا۔ تو اس میں بھی کوئی برائی نہیں۔اور نہ یہ امر کسی اخلاقی حالت کے خلاف ہے۔ کیونکہ جس امر پر عورت مرد کے تعلقات مخالطت موقوف ہیں۔اگر اس میں کسی نوع سے کوئی ایسی روک پیدا ہوجائے کہ اس سبب سے مر د اس تعلق کے حقو ق کی بجاآوری پر قادر نہ ہوسکے تو ایسی حالت میں اگر وہ اصول تقویٰ کے لحاظ سے کو ئی کارروائی کرے تو عند العقل کچھ جائے اعتراض نہیں‘‘
حضرت مصلح موعودؓ نے بھی اس کی یہی وضاحت فرمائی ہےکہ ‘‘اس بیوی (حضرت سودہؓ)کے دل میں ڈر پیدا ہوگیا تھا کہ ایسا نہ ہو کہ رسول کریمﷺ مجھے بوجہ بڑھاپے کے طلاق دیدیں‘‘
اسی طرح حضرت مرزا بشیر احمد صاحب لکھتے ہیں ‘‘تو انہیں(حضرت سودہؓکو) اپنی جگہ یہ خیال پیدا ہوا کہ شاید آنحضرتؐ اس حال میں انہیں علیحدہ کردیں’’:
اخلاق فاضلہ
حضرت سودہؓ کی سیرت میں تقویٰ، سادگی، سچائی، پختگی، ایمان، اطاعت رسول اور ایثار خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔
رسو ل اللہ ﷺکی وفات کے بعد خلفاء راشدین حضرت سودہؓ کا جو احترام کیا کرتے تھے اس سے بھی ان کے مقام کا اندازہ ہوتا ہے۔حضرت عمرؓ نے ایک دفعہ درہموں سے بھرا ایک تھیلا حضرت سودہؓ کو بھجوایاحضرت سودہؓ نے پوچھا اس میں کیا ہے۔ بتایا گیا کہ اس میں درہم ہیں۔ وہ سادگی سے فرمانے لگیں کہ کھجور کے بورے میں درہم کہاں ؟ اور گھر کی خادمہ سے کہا کہ اے لڑکی! مجھے ذرا کھجور رکھنے کا برتن لادینا تاکہ یہ کھجوریں اس میں ڈال لیں۔ پھر جب بورے کو کھولا تو واقعی درہم نکلے۔;
ایک سے زائد بیویوں کی صورت میں غیرت کا اظہار فطری سی بات ہوتی ہے لیکن حضرت سودہؓ کے ایثار کی یہ حالت تھی اور وہ ایسی پاک اور صاف دل تھیں کہ انہوں نے اپنی بار ی کا دن حضرت عائشہؓ کو بخش دیا تھا۔اگرچہ اس میں آنحضرت ﷺکی رضا طلبی اور آپ کی محبت کے حصول کا بھی دخل تھا۔
حضرت عائشہؓ کا خراج تحسین
حضرت عائشہؓ تو حضرت سودؓ ہ کی ایسی ہی خوبیوں اور خصوصیات کی وجہ سے ان کی عاشق تھیں اور ان کی مرنجان مرنج طبیعت، سادہ گوئی اور صاف دلی پر فریفتہ تھیں ایک دفعہ فرمانے لگیں کہ’’عورتوں میں سے مجھے کسی عورت کے بارے میں کبھی یہ خواہش نہیں ہوئی کہ میں ویسی ہوجاوٴں سوائے حضرت سودہؓ کے کہ ان کی بھولی بھالی ادائیں اختیار کرنے کو جی چاہتا ہے اور دل کرتا ہے کہ میں بھی ان کی طر ح ہوتی اوران جیسا پاک و صاف دل ان جیسی بھولی بھالی ادائیں مجھے بھی نصیب ہوجاتیں‘‘۔
مشہور روایت کے مطابق حضرت سودہؓ کی وفات مدینہ میں حضرت عمرؓ کے زمانہ ٴ خلافت میں ہوئی جبکہ دوسری روایت کے مطابق شوال54ھ میں حضرت امیر معاویہؓ کے زمانہ میں انہوں نے وفات پائی۔
اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو اور آنحضرت ﷺکے قرب میں ان کے درجات بلند فرماتا رہے۔ آمین
(بحوالہ اہل بیعت رسول ﷺ از حافظ مظفر احمد صاحب)


