تلاشِ حق کی لو
اسما طارق
دور حاضر جب کوئی کہتا ہے کہ ہم پر آنکھیں بند کر بھروسہ کرو تو شدید حیرت ہوتی ہے، یعنی ہمارے دماغ کا استعمال شروع سے ہی ممنوع کر دیا گیا ہے جبکہ ایسا تو خدا تعالیٰ نے کبھی ایسا نہیں کہا، وہ فرماتا ہے جانو، سمجھو، پرکھو اور پھر مانو۔
ہمارے ہاں ہر شعبے میں روایت ہے کہ جس کو مانو پھر آنکھیں بند کر کے مانتے چلے جاو اور اس سے کوئی سوال جواب نہیں ہونا چاہیے۔ جیسے مذہب میں سب کے اپنے اپنے مولانا ہیں اور ان میں اکثریت ایک دوسرے کے خلاف ہے۔ وہ اپنے ماننے والوں کو یہی درس دیتے ہیں کہ انہیں آنکھیں بند کر کے مانا جائے اور ان پر سوال نہ اٹھایا جائے۔ یہی ان کی کامیابی کی ضمانت ہے وگرنہ وہ منزل تک نہیں پہنچ پائیں گے، اس کے لیے ضروری ہے کہ صرف انہی کا ہاتھ پکڑا جائے۔
پھر ہمارے ہاں یونیورسٹیوں میں جب ریسرچ پروجیکٹ شروع ہوتے ہیں تو ہر تقریبا پروفیسر دوسرے پروفیسر کی برائی کرتا ہے اور چاہتا ہے کہ سارے بچے صرف اسے ہی آنکھ بند کر کے چن لیں۔ اور جو ایسا نہیں کرے گا وہ اپنے ساتھ زیادتی کرے گا۔
یہی صورت حال ہماری سیاست میں بھی ہے اور یوں زندگی کے ہر شعبے میں سرائیت کر رہی ہے۔ جہاں ہم سب کو اپنے اپنے پیروکار بنانے ہیں جو آنکھیں بند کرکے ہم پر بھروسہ کریں اور اپنے دماغ کو استعمال مت کریں۔
شائد یہی وجہ ہے کہ ہم پستی کا شکار ہیں۔ ہم حقیقت کو خود جانتے سمجھتے نہیں اور نہ ہی اس کے لیے کوشش کرنا چاہتے ہیں کیونکہ یہ مشکل راستہ ہے۔ اس لیے ہم ہمیشہ اصل حقیقت کو دوسروں کی آنکھوں سے ہی دیکھتے ہیں۔ آپ کے گرو نے ایسا کہہ دیا تو بس کافی ہے۔ اب مزید کھوجنے کی ضرورت نہیں۔ لوگ کہتے ہیں کہ یہ ادب کے اصولوں کے خلاف ہے. مگر حقیقت تو یہ ہے کہ یہ ارتقاء کے عمل کے خلاف ہے۔ اسی وجہ سے ایجاد و دریافت کا عمل رک جاتا ہے. سبھی ایک جیسے کلون بنے پھرتے ہیں اور اس کا کامیابی سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ آفاقی سچائی ہے کہ آپ جس منزل کے حصول کیلئے جدوجہد کریں گے، وہیں پہنچیں گے، جسے تلاش کرتے ہیں وہی آپ کو مل جاتا ہے۔
بس ہمیشہ کھوج لگی رہنی چاہیے، تبھی آپ سیکھ پاتے ہیں وگرنہ آپ صرف دوسروں کی مانتے ہیں اور پھر دوسرا آپ سے منواتے منواتے آپ پر کنٹرول حاصل کر لیتاہے اور آپ سے وہ بھی چھین لیتا ہے جو صرف اور صرف آپ کا ہوتا ہے۔ صرف اللہ تعالی اور اس کے خاص بندے ہی ایسے ہیں کہ جن کی باتوں پر آنکھیں بند کر کے عمل کیا جا سکتا ہے، ورنہ دوسرے تو صرف اپنا الو سیدھا کرتے ہیں یعنی آپ کو اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرتے ہیں۔
لہذا آپ کو حق یا حقیقت کی تلاش جاری رہنی چاہیے، آپ ایک جگہ سے سیکھ کر آگے بڑھیں اور دوسروں کو سیکھنے دیں۔ پھر آپ کسی اور جگہ سے سیکھیں پھر مزید آگے بڑھیں۔ تبھی تو اصل حقیقت کا ادراک ملے گا۔
افسوس یہ ہے کہ ہمارے بے شمار سادہ مزاج لوگوں کو اس چیز کا شعور نہیں جس کا فائدہ سمجھ دار لوگ ہمیشہ اٹھا لیتے ہیں اور پھر وہ انہیں اپنی سوچ کا، اپنے نظریے کا غلام بنا لیتے ہیں اور معصوم لوگ آنکھیں بند کیے لبیک لبیک کہتے رہتے ہیں۔
ہر گرو جانتا ہے اس کا علم ایک حد پر جا کر ختم ہو جاتا ہے اور صرف وہی حقیقت نہیں، بے شمار اور حقیقتیں بھی ہیں مگر ہم ڈرتے ہیں کہ ہمارے ماننے والے کم نہ ہو جائیں یا ہمیں چھوڑ نہ دیں۔ اصل گرو وہ ہے جو اپنے شاگرد کو اپنے پیروں سے باندھنے کی بجائے تلاش پر گامزن کرے، اس کے اندر کھوجنے کی طلب پیدا کرے۔ شاگرد کہیں بھی چلا جائے مگر ایسے استاد کا علم ہمیشہ روشنی بانٹتا رہے گا اور یہ خوبصورت کردار ہمیں انبیا علیھم السلام کے بعد اولیا ؒ میں ہی ملے گا، آزمائش شرط ہے۔
نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں


