//شور بھی ہے سناٹا بھی
شور بھی ہے سناٹا بھی

شور بھی ہے سناٹا بھی

. نادیہ حسین کراچی

ہم سب قرنطینہ میں ہیں۔گھر میں محصور۔ نا کوئی گھر سے باہر نکل رہا ہے نا کوئی باہر سے گھر کے اندر آسکتا ہے۔ڈاکٹر اسے آئسولیشن کہہ رہے ہیں واقعی زندگی منجمد سی ہو کر رہ گئ ہے ایک عجیب کیفیت ہے میرے خیال میں یہ قید تنہائی ہے ہم لوگ جو زندگی کے ہنگام میں ایسے گم ہوئے تھے کہ بہت عرصے سے اپنے آپ سے بھی ملاقات نہیں ہو رہی تھی اسی تالا بندی کے بہانے گھر میں بیٹھ کر اپنے آپ سے ملاقات کر رہے ہیں۔

باہر کے جھمیلوں سے ذرا فرصت ہوئی نگاہ کتابوں کی الماری پر ٹکی۔ذرا دھیان دیا تو اندازہ ہوا کہ بہت سی کتابیں ایسی ہیں جنہیں پڑھنے کا ابھی تک موقع نہیں ملا سوچا اس موقع سے فائدہ اٹھایا جاے اور جتنی ممکن ہو سکے کتابیں پڑھ لی جایں کہ ایسی فرصت خال خال ہی نصیب ہوتی ہے۔اسی تلاش میں سرگرداں تھی کہ نگاہ ایک شعری مجموعے پر پڑی عنوان تھا” شور بھی ہے، سناٹا بھی“ یہ نامور شاعر محسن اسرار صاحب کا پہلا شعری مجموعہ ہے۔ کتاب کے عنوان نے بے اختیار توجہ اپنی جانب کھینچ لی۔احساس ہوا کہ یہ ہی تو ہو رہا ہے۔ اس وقت ہم سب کی کیفیت یہی تو ہے کہ ہم سب اپنے گھروں میں محصور ہیں بس اپنے ضروری امور انجام دے رہے ہیں باتیں بھی ساری ختم ہو چکی ہیں۔ نا  ٹریفک کا شور ہے نا  ریڑھی چھابڑی والوں کی آوازیں ہیں۔ ایک مہیب سناٹے کا راج ہے۔ سناٹے سے گبھرا کے ٹی وی کھولو تو سوائے شور کے کچھ سنائی نہیں دیتا۔دنیا بھر سے خبریں ہیں لاکھوں افراد کرونا وائرس کا شکار ہو رہے ہیں۔ روز ہزاروں مر رہے ہیں سیکڑوں صحت یاب بھی ہو رہے ہیں۔ کہیں تدفین کے لیے قبر نہیں مل رہی کہیں مرنے والے کو کوئی کفنانے دفنانے والا نہیں۔

سڑکیں ریلیں ہوائی جہاز بند ہیں لوگ اپنے گھروں سے دور انجان شہروں میں محصور ہیں ہزاروں افراد دنیا بھر کے مختلف ایرپورٹس پے پھنسے ہوئے ہیں۔جو غریب کرونا سے بچا ہوا ہے وہ بےروزگاری کے باعث بھوک سے مرنے کے خوف میں مبتلا ہے۔دنیا بھر میں شور مچا ہوا ہے غریبوں کی مدد کریں انہیں گھروں پے راشن پہنچایں جنہیں اللہ نے نوازا ہے اور توفیق دی ہے وہ دل کھول کر لوگوں کی مدد کر رہے ہیں۔ٹی وی چینلز لمحہ بہ لمحہ مریضوں اور مرنے والوں کی تعداد بتا کر عوام کو مزید بے چینی اور پریشانی میں مبتلا کر رہے ہیں۔ہمارے ٹی وی چینلز کو تو ویسے ہی الیکشن نشریات کا وسیع تجربہ ہے اسی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہمارے ٹی وی چینلز کرونا کے مریضوں اور مرنے والوں کے اعداد وشمار سے ناظرین کو آگاہ کرنے کے چکرمیں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی دوڑ میں لگے ہوئے ہیں۔ چاروں جانب ایک عجیب افراتفری کا عالم ہے وہ شور اور ہنگامہ ہے کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی۔

ایسے میں گھبرا کہ شوشل میڈیا کی طرف جایں تو وہاں وہ ہنگامہ برپا ہے کہ الامان الحفیظ۔ بھانت بھانت کی بولیاں ہیں۔ جتنے منھ اتنی باتیں۔ہر ایرا غیرا نتھو خیرہ گھر بیٹھے ایسی ایسی تحقیقاتی رپورٹس پیش کر رہا ہے کہ پڑھنے سننے والوں کے ہوش اڑ رہے ہیں۔کسی کے پاس ثبوت ہیں کہ یہ وائرس چین نے امریکی معیشت کو تباہ کرنے کے لیے لیبارٹری میں تیار کر کے دنیا بھر میں پھیلایا ہے کسی کا دعوی ہے کہ امریکہ برطانیہ اور اسرائیل نے مل کر چینی معیشت کو تباہ کرنے کے لیے حیاتیاتی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا ہے۔ایک انکشاف یہ ہے کہ مسلمانوں کے خلاف سازش کی گئ ہے اور انہیں حج عمرے سے روکنے کے لیے یہ وائرس پھیلایا گیا ہے۔کچھ ولیوں کا یہ خیال ہے کہ چونکہ ہمارے گناہ حد سے زیادہ بڑھ چکے ہیں اس لیے یہ ہم پے اللہ کا عذاب ہے۔اس سے بچنے کے لیے دعاؤں اور وظائف کا ایک لا متناہی سلسلہ ہے تو ہر تھوڑی دیر میں وواٹس ایپ پر نازل ہوتا ہے۔

لوگ سوچ میں ہیں کیا پڑھیں کیا نا پڑھیں اسی ادھیڑ بن میں ہوتے ہیں کہ نیا وظیفہ نازل ہوجاتا ہے اس چکر میں سب وظائف اور دعائیں بنا پڑھے ہی فون میں سیف ہو رہی ہیں اس سے یہ تو ہو رہا ہے فون تو کم از کم وائرس سے محفوظ ہو گئے ہیں۔یہ بہت ضروری ہے۔اگر انسان کو وائرس لگ جاے تو اسپتال اور دوا خانے تو کھلے ہیں علاج ہو جائے گا مگر فون کو وائرس لگ گیا تو کیسے ٹھیک ہو گا؟دکانیں تو بند ہیں۔اور خراب فون کے ساتھ لاک ڈاؤن میں کون رہے گا ویسے ہی لوگوں کے لیے گھر میں ایک ایک لمحہ گذارنا دشوار ہو رہا ہے۔اک اک پل صدیوں کے برابر لگ رہا ہے۔ عورتوں کی تو خیر ہے کہ وہ گھر کے کاموں ٹی وی اور فون میں مصروف ہیں مگر مردوں اور بچوں کے دن گھر میں کاٹے نہیں کٹ رہے۔بچے اور مرد بہانے بہانے سے گھروں سے نکل رہے ہیں۔کیا کریں مجبوری ہے؟ہم عادی ہیں کچہری لگانے کے۔گھر سے زیادہ وقت گھر سے باہر گذارنے کے۔جب تک دوستوں کے ساتھ ہوٹل میں بیٹھ کر چائے نا پی لیں دن ختم نہیں ہوتا۔ہم تو وہ ہیں کہ روزے میں بھی عصر سے مغرب تک کا  وقت کرکٹ کھیل کر گذارتے ہیں ورنہ روزہ لگنے لگتا ہے۔

اس وقت صورت حال یہ ہے کہ عوام میں بیماری اور وبا کی پھیلنے کا ڈر اتنا نہیں ہے جتنا انہیں گھر بیٹھنے سے کوفت ہو رہی ہے۔یہاں ایک مسئلہ عوامی نفسیات کا بھی ہے۔یہ ہماری عمومی عادت ہے کہ ہمیں جس کام سے روکا جاے ہم وہی کرتے ہیں۔مثلاً جہاں لکھنا ہو کہ کچرا پھینکنا منع ہے ہم کچرا وہیں ڈالتے ہیں اور کچرے دان خالی رکھتے ہیں۔جہاں نو پارکنگ کا بورڈ لگا ہو وہیں گاڑی پارک کرتے ہیں اور پھر تھانے سے جاکے اٹھاتے ہیں۔ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ حکومت اعلان کرتی کہ پندرہ دن تک ہر قسم کے بازار دفاتر اور دکانیں چوبیس گھنٹے کھلی رہیں گی۔ہر جگہ ملازمین چوبیس گھنٹے ڈیوٹی پر موجود رہیں گے۔سڑکوں پر ٹریفک پوری رات چلے گی۔تمام تعلیمی ادارے چھٹی کے دن بھی کھلیں۔ گھر میں کوئی نہیں بیٹھے گا لوگ زیادہ سے زیادہ اپنا وقت پارکوں اور عوامی مقامات پر گذاریں گے۔ پھر دیکھتے کہ کیسا سناٹے کا راج ہوتا شہروں میں۔ لوگ سکون سے گھروں میں رہتے اور قانون نافذ کرنے والے اہلکار بھی موبائلوں میں آرام کرتے۔

ایک مسلہ یہ بھی ہے کہ ہمارے یہاں چھٹی کا مطلب یہ بھی کہ نانی کے گھر جانا ہے۔ایک تو چھٹیاں اوپر سے تین مہینے کی۔یعنی چپڑی تے دو دو۔حکومت نے اسکول تو26 فروری سے بند کیے ہوئے ہیں لاک ڈاون سے پہلے یہ اعلان بھی کر دیتی کہ سب بچے اپنی اپنی نانیوں کے گھر چلے جایں۔ اس سے ہوتا یہ کہ بچے اپنی امی کے ساتھ نانی کے گھر چلے جاتے اور صاحب خانہ آرام سے گھر بیٹھ جاتے وہ ہوتے فون ہوتا ٹی وی ہوتا پانچوں گھی میں سر کڑاہی میں ہوتا راوی عیش ہی عیش لکھتا۔گھر میں ہی ساری غیر نصابی سرگرمیاں چلتی رہتیں اور گھر میں امن امان کی صورتحال مکمل قابو میں رہتی۔اس وقت سب گھر میں بند ہیں تو اکثر گھروں میں نقص امن پیدا ہو چکا ہے۔گھر والے ایک دوسرے سے بور ہوکر بات بات پر چڑ رہے ہیں۔

کرونا وائرس کے ذریعے امریکہ اور چین نے ایک دوسرے کوکتنا نقصان پہنچایا ہے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا لیکن پاکستان میں لاک ڈاؤن کے باعث دو طبقے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ایک بے چاری نانیاں دوسرے مظلوم شوہر۔لاک ڈاؤن کو سب سے زیادہ برا بھلا نانیاں کہہ رہی ہیں دہائیاں دی رہی ہیں۔اللہ سمجھے نگوڑی حکومت کو۔میری بچی پندرہ دن سے گھر نہیں آئی۔ بچوں کو دیکھے ہوئے اتنے دن ہو گئے کلیجہ منھ کو آرہا ہے۔دوسری طرف مظلوم شوہر ہیں پندرہ دن سے بیوی میکے نہیں گئ۔بچے چین نہیں لینے دے رہے۔بلڈ پریشر ہائی ہو رہا ہے۔آپس میں لطیفے شئیر کرکے ایک دوسرے کو خوش کر رہے ہیں۔ اور بچارے کر بھی کیا سکتے ہیں؟

اب جیسے تیسے لاک ڈاون کی مدت ختم ہورہی ہے دعا ہے کہ معمولات زندگی جلد بحال ہوں یہ سب کے لیے ضروری ہے۔ویسے بھی ہم ایک بہادر اور نڈر قوم ہیں یہ وائرس ہمیں ڈرا نہیں سکتے۔ ہمیں مار نہیں سکتے۔مرنے اور مارنے کے لیے ہمارے رویے اور عادات ہی کافی ہیں۔

بات شروع ہوئی تھی محسن اسرار صاحب کے شعری مجموعے سے تو آخر میں انہی کا ایک شعر آپ کے ذوق کی نذر ہے جو حسبِ حال بھی ہے

میں ان خاموشیوں میں رہ رہا ہوں

جہاں آتی ہیں آوازیں پلٹ کر