ایک سیلفی ہوجائے
تحریر: مدثرہ عباسی
انٹرنیٹ، اینڈرائیڈ فون اور سوشل میڈیا کے حسین امتزاج سے بہت سی منفرد عادات نے جنم لیا ہے جن میں سیلفی کو امتیازی مقام حاصل ہے بلکہ اسے اگر عادت کے بجائے وبائی مرض کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کیونکہ اس کے مضمرات سے شاید ہی کوئی شخص محفوظ ہو۔ روز مرہ کے معمولاتِ زندگی میں سیلفی ایک ٹھوس حقیقت کا روپ دھار چکی ہے۔ شروع سے محض شوبز سٹارز، قومی ہیروز، میڈیا اینکرز، معروف سیاسی شخصیات، مشہور کھلاڑیوں اور نمایاں سماجی کرداروں کے ساتھ سیلفی کا رواج پڑا۔ عوامی اجتماع، جلسے، جلوسوں، شاپنگ مالز اور ایئر پورٹس پر ملنے والی شخصیات کے ساتھ سیلفی کو اپنے لیے اعزازسمجھا گیا۔ پھر سیلفی کو کیمرہ کے فلٹرز سے گزار کر بنائو سنگھار کر کے اپنے سوشل میڈیا اکائونٹس پر قابلِ فخر انداز سے پوسٹ کیا جانے لگا بلکہ پوسٹ میں اپنے احباب کو مرعوب کرنے کے لیے انہیں ٹیگ بھی کیا جاتا۔ مگر گزشتہ چند سالوں سے سیلفی کا معیار بھی اتنی ہی تیزی سے زوال پذیر ہوا ہے جتنی تیزی سے ہمارے معاشرے کے دیگر شعبہ جات اور اخلاقی قدروں میں بگاڑ کے اثرات نمایاں ہوئے ہیں۔
یہ فقرہ جدید سمارٹ فونز کی آمد کے بعد بالخصوص نوجوانوں کے درمیان ہونے والی گفتگو میں اکثر سنائی دیتا ہے مگر اس کا کسی طور پر یہ مطلب نہیں کہ سیلفی کلچر صرف نوجوانوں یا کم عمروں تک ہی محدود ہے بلکہ اس دور میں ان لوگوں پر حیرت کا اظہار کیا جاتا ہے جو سیلفی نہیں لیتے یا جن کی سرے سے کوئی
سیلفی نہ ہو۔ اس لیے ذہنوں میں اکثر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا سیلفی لینا خودپسندی کا مظہر تو نہیں؟
امریکی ریسرچ جرنل سوشل سائیکالوجیکل اینڈ پرسنیلٹی سائنس میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق،’جب لوگ فرسٹ پرسن فوٹوگرافی (سیلفی) کا استعمال کرتے ہیں تو وہ منظر کی تصویر ویسے لیتے ہیں جیسا وہ ان کو لگ رہا ہوتا ہے اور ان کا سیلفی لینے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہ اس تجربے کو دستاویزی شکل دینا چاہتے ہیں۔‘
یہ سال 2013 کی بات ہے جب اس لفظ کو پہلی بار آکسفورڈ انگلش ڈکشنری کے آن لائن ورژن میں شامل کیا گیا جس کے بارے میں کہا گیا کہ اس لفظ کا استعمال سب سے پہلے آسٹریلیا میں کیا گیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ لفظ اردو زبان کا بھی حصہ بن چکا ہے اور اردو کی معروف ویب سائٹ ریختہ کی لغت میں لفظ سیلفی کو شامل کیا جا چکا ہے جس کے معنی ایک ایسی تصویر کے ہیں جو خود سے لی گئی ہو اور سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ہو۔
اس تناظر میں اس سوال کا جواب تلاشنا مزید اہمیت اختیار کر جاتا ہے کہ دنیا میں پہلی سیلفی کب اتاری گئی؟
بیلجیئم کے مشہور مصور جان وان آئک وہ پہلے مصور تھے جنہوں نے اپنا سیلف پورٹریٹ تخلیق کیا مگر یہ جدید معنوں میں سیلفی نہیں تھی۔ یہ سیلفی کی ابتدا اس لیے قرار دی جا سکتی ہے کہ اس تصویر کو بنانے کی وجہ بھی غالباً وہی رہی ہو گی جو موجودہ دور میں سیلفی لیے جانے کی ہے۔
انہوں نے یہ سیلف پورٹریٹ سال 1433 میں بنایا تھا جو آج بھی لندن کی نیشنل گیلری میں نمائش کے لیے رکھا گیاہے۔مرینا امیریل برازیل کی معروف فنکارہ ہیں جو بلیک اینڈ وائٹ زمانے کی تصاویر میں رنگ بھرتی ہیں، وہ اپنے ایک مضمون میں لکھتی ہیں، ’سمارٹ فونز کی ایجاد سے قبل تصاویر لینے پر نہ صرف زیادہ وقت صرف ہوتا بلکہ یہ ایک پیچیدہ عمل بھی تھا، لوگ پہلے سے ہی ایسے طریقے تلاش کر رہے تھے جن کے تحت وہ اپنے اپنے زمانے میں دستیاب ذرائع کے ذریعے اپنی ذات کو ہمیشہ کے لیے امر کر سکیں۔.
ایسا ہی ایک طریقہ کار جو یقیناً بہت زیادہ مقبول بھی تھا، وہ پورٹریٹ بنوانے کا تھا، یہ روایت تاریخ میں فروغ پذیر رہی اور بہت سے شاہکار تخلیق ہوئے۔
انہوں نے جرمن مصور البریخت ڈورر کو ایسا پہلا مصور قرار دیا ہے جنہوں نے سیلف پورٹریٹ بنایا تھا، تاہم ان کا زمانہ جان وان آئک کے بعد کا ہے اور ان کی تصویر سپین کے پراڈو میوزیم میں موجود ہے۔
نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔


