شخصیاتشعر و شاعریگوشۂ ادب

رخشندہ نوید اپنی شاعری کے آئینے میں

Spread the love

تحریر: سلمیٰ اعوان

میرے لیے آج سے کوئی پچیس سال قبل فلیٹیز ہوٹل کے ہال میں فخر زمان کی زیرصدارت منعقد ہو نے والی ایک شاعری کے مجموعے ”پھر وصال کیسے ہو“ کی تقریب رونمائی میں یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو رہا تھا کہ نئے لہجے اور تازگی کی خوشبو میں مہکتی شاعری کو سراہوں یا اس کی خالق جو ایک پر کشش موہ لینے والی شخصیت نام جس کا رخشندہ نوید تھا کو اس کے اس نئے فکری احساس پر خراج پیش کروں، کہ دونوں ہی ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر تھیں۔ سچی بات ہے دونوں میں سے کسے فوقیت دوں فیصلہ کرنا مشکل ہو رہا تھا۔

تب دوستی ووستی کچھ زیادہ نہیں تھی۔ ہاں لکھاری اور قاری کا رشتہ ضرور درمیان میں تھا۔ ادبی پرچوں میں اس کی ہر نظم اور غزل کو پڑھنا میرے لیے بڑا اہم تھا۔ اور آج اس مجموعے کا رنگ ڈھنگ جیسے کوٹھے پر چڑھ کر اعلان سا کر رہا تھا کہ یہ نئی اُبھرتی شاعرہ ایک نئے طرز فکر کی نمائندہ بن سامنے کر آئی ہے، جسے آنے والا وقت انفرادیت دے گا۔

ہال میں موجود سامعین کو بھی یہ احساس تھا کہ رخشندہ نوید کی نظمیں اور غزلیں دونوں اپنے موضوع کے اعتبار سے بہت مختلف اور اس کا بیانیہ نہایت طاقتور اور روایت سے جڑتے ہوئے بھی ایک نئے آہنگ کا آئینہ دار ہے۔ اس کی شاعری سنتے ہوئے احساس ہوتا تھا کہ اس کے ہاں ذات کے اظہار اور زندگی کے مختلف پہلوؤں اور رویوں کی بھرپور عکاسی موجود ہے۔

خود اپنی خواہشوں کو دسترس میں ایسے رکھا ہے کوئی دیوا ر پہ لکھ دے اگر رسوا نہیں ہوتی
میں محبت کو عبادت کر رہی تھی اور تیری آنکھوں میں شر تھا، تجھ کو کیا تھا
ایک اور دکھ میری جھولی میں بھر دیا تو نے بھرے زمانے میں تنہا سا کر دیا تو نے
تھا قتل کا شک جن پر سبھی دوست تھے میرے وہ بعد میں میرے قتل کے غیروں میں کھڑا تھا
دستخط کی بات تھی اب معاملہ طے ہو گیا نوٹ میں لپٹی ہوئی حاجت کو بھی لے آئی ہوں
میں جب بازار سے لوٹی تو سوچا وہاں ہر چیز ہی مہنگی بہت تھی

اپنے پہلے مجموعے میں وہ جس معیار اور اعتبار سے اس میدان میں آگے بڑھی تھی۔ دوسرے مجموعے ”کسی اور سے محبت میں“ میں اُس نے نہ صرف اُسے قائم رکھا بلکہ نئے جہاں اور نئے اُفق اُس کی مرکز نگاہ ٹھہرے۔ ایک طرف اگر وہ ان نئے منظروں کو آشکارہ کرنے میں مصروف تھی تو وہیں ایسے جذبات و احساسات کو بھی زبان دے رہی تھی جو بادی النظر میں بہت عام سے تھے مگر جن کی نزاکت، لطافت اور سنجیدگی کو شاید کسی نے اس انداز میں محسوس ہی نہیں کیا تھا۔ ایک تقریب میں جب اس نے اپنی ایک شاہکار نظم سنائی تو سچی بات ہے اس نے محفل میں موجود ہر حساس ذہن کو متاثر کیا تھا۔ ذرا سُنیے :

درو دیوار سے جا لا نہیں جاتا اماّں مجھ سے گھر بار سنبھالا نہیں جاتا اماّں
یہ جو کچھ اشک میری آنکھوں میں در آئے ہیں ان کو الفاظ میں ڈھا لا نہیں جاتا اماّں
میں جو آنسو کی طرح لوٹ کے پھر جا نہ سکی یوں تو اپنوں کو نکالا نہیں جاتا اماّں

اس انسانی جذباتی المیے کی گہرائی، اس کا دکھ درد اور اس کی حسیات کو اس نے جس خوبصورتی سے پینٹ کیا اس نے میری طرح ہر نوجوان لڑکی (تب) کی آنکھیں گیلی کر دی تھیں اور یہی چیز اُسے ایک نئی پہچان اور مقام دے کر منفرد کر رہی تھی، کہ یہ مجھ جیسی ماؤں کی لاڈلی بیٹیوں کے اندر کی آواز تھی۔

اردو کے ساتھ ساتھ اس کا پنجابی کلام بھی بہت مقبول ہو رہا تھا۔ اس مقبولیت کا اظہار ہم لوگوں نے اپنے ہندوستان کے دوروں میں دیکھا جب بھری محفلوں کو اس نے لوٹا۔ اس نے نسوانی جذبات کی جس دلکش انداز میں نمائندگی کی، اس اندازمیں شاید اب تک عورت کو سمجھا ہی نہیں گیا کہ وہ چاہتی کیا ہے؟ اس کے اندر کی اتھل پتھل کیا معنی رکھتی ہے؟ وہ کیا سوچتی ہے؟ جذباتی لمحات میں اس کے تقاضے کیا ہیں؟ اسے جس انداز میں رخشندہ نے زبان دی وہ اس کی بلّے بلّے کروانے کے لیے کافی تھی۔

اس تقریب میں اس کی جس نظم نے دھوم مچائی تھی وہ ”حالی آٹا وسیا ناہیں“ تھی۔ ذرا دیکھئے :
حالی چھیتی نہ کر اڑیا پہلاں اکھ دا دیوا بالیں
جے توں مٹھڑی روٹی کھانی پہلوں میٹھا چکھ کے ویکھیں ایس باغیچے اندر پھل بوٹے فیر بناویں
مینوں نرم ہوا جہیی کر کے بھاویں پیویں بھاویں کھاویں مینوں کر توں پہلوں پانی
میری نیند روالے سفنے اکھیاں اتے رکھ کے ویکھیں ایس پل دے مارے چاننی
کنے کوٹھے ٹیلے پٹی

اس کا طاقت ور مشاہدہ اور تجربات اُسے اُن حقیقتوں کی عکاسی کرنے پر بہت سہولت سے کھینچ لاتے ہیں۔ جن کے بارے اظہار کا ہمارے لوگوں میں فقدان ہے۔

ہندوستانی شاعروں اور ادیبوں نے اس کے کلام کی گہرائی و جدّت اور فکر و آگاہی کی تازگی کو بہت سراہا۔ وہیں تقریب کے دوران پٹیالہ اور امرتسر یونیورسٹیوں کے پنجابی اساتذہ نے اس کے بارے کہا تھا کہ وہ اگر اپنی پنجابی شاعری کو بھی اتنا ہی فوکس کرے جتنا اردو کو کر رہی ہے تو وہ امرتا کے پلّے کی ہو سکتی ہے۔

رخشندہ کے کلام کی ایک نمایاں خوبی اس کے اشعار کا تیکھا پن، سادگی و پُرکاری ان کا تنوع اور براہ راست قاری کی ذہنی وسعت کو متاثر کرنے سے جڑی ہوئی ہے۔ عام فہم الفاظ بڑی چابک دستی سے فی الفور بھرپور تاثر چھوڑتے ہیں۔ ذرا دیکھئے :

شب سیاہ نصیبوں میں تھی میں کیا کرتی پلی بڑھی ہی غریبوں میں تھی میں کیا کرتی
سنا جو میں نے وہی سنا رہی ہوں میں گھری ہوئی جو خطیبوں میں تھی میں کیا کرتی
ایک اور مثال دیکھئے :
دبک کر اتنے سارے غم یہاں خاموش بیٹھے ہیں یہ دل ہے یا کسی صوفی کا اک دربار ہے صاحب

”نیناں اتریں پار“ اس کا تیسرا مجموعہ مزید نکھار اور فکری تجربات کا مرقع ہے۔ اس کی شاعرانہ سوچ میں پختگی، اظہار میں برجستگی، معنوی حسن و خوبصورتی اور نغمگی پورے اہتمام سے ہمارے سامنے آتی ہے۔

آج کل کیسے ہیں حالات سنا رخشندہ ایک لمحے کو پلک اپنی اٹھا رخشندہ
کیا کہیں اس کو کہ مہمان نہیں کہہ سکتے وہ جو آتے ہی کہے لو میں چلا رخشندہ
”نیناں اتریں پار“ میں اس کا فن اپنے عروج پر نظر آتا ہے۔ شاعری کی ہر صنف دامن دل کو کھینچ لیتی ہے۔
کن کتابوں میں سمیٹوں گی کہانی اپنی مختصر میرا فسانہ تھا وہی اچھا تھا
روٹھنا ایک روایت ہے منانا اک رسم وہ جو دستور زمانہ تھا وہی اچھا تھا
تو سامنے بیٹھا ہو ترا ساتھ بہت ہے میرے لیے تو اتنی ملاقات بہت ہے

اس مجموعے کی غزلیں اپنی مثال آپ ہیں۔ رخشندہ نوید نے عورت کی جذباتی کیفیات، اس کے اندر کی ٹوٹ پھوٹ کو جس مہارت اور سلیقے سے پیش کیا ہے وہ رات کی رات میں بہت نمایاں ہو کر سامنے آئی ہے۔

باتھ ٹب میں محبت کی ابرق بہائی گئی آملیٹ اور بریڈ
چائے دانی میں پانی اُبلنے لگا میری ٹائی کہاں ہے
اٹھاؤ یہ جوتے انہیں پالش کر کے میرے پاس لاؤ یہ صورت میرے سامنے سے ہٹاؤ
دل کی دہلیز پر سر جھکائے کھڑی سوچتی رہ گئی پیار کی کس قدر مختصر بات تھی
یہ پسندیدگی رات کی رات تھی

اپنی ان نظموں میں وہ معاشرتی و معاشی قدروں کی تنزلی اور سوسائٹی میں اُن سے متاثر ہونے کے چلن کا نوحہ گاتی ہیں۔ بوند بوند، دو لمحے، ملنے کا سچا وعدہ، غنودگی، فردوس بریں، آنکھیں اور اسی طرح کی او ر بے شمار نظمیں اُس کی بہت عمدہ تخلیقی کاوش ہیں۔ اس کے لہجے کا نیا پن فوری طور پر آپ کی توجہ کھینچ لیتا ہے۔

وہ مشکل پسند نہیں اور نہ ہی اُسے مشکل الفاظ منتخب کر کے اپنے قاری کو مرعوب کرنا پسند ہے۔ سہل زبانی اس کی ترجیح ہے۔ ہاں اظہار کی جتنی بھی خوبصورت اور موہ لینے والی صورتیں کام کی دلکشی اور رعنائی بڑھا سکتی ہیں ان سب پر اس کی ماہرانہ دسترس ہے۔ کہیں وہ خود کلامی کی کیفیت میں نظر آتی ہے۔ کہیں ہم کلامی سے کلام کا حسن بڑھا رہی ہے۔ کہیں مکالمے کا روپ دھارا ہے۔ سچی بات ہے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اظہار کا ہر ذریعہ اس کے لیے ایک ایسی چلبلی محبوبہ کی طرح ہے۔ جسے وہ اپنی مرضی سے انگلیوں پر نچاتی ہے۔

معاشرے میں تہذیبی ٹوٹ پھوٹ، طرز زندگی میں تبدیلیوں کے جن مظاہر نے ہمارے رہن سہن کو جس طرح بدلا ہے۔ معاشرتی اقدار جس طرح متاثر ہوئی ہیں اور ہو رہی ہیں۔ نئے انداز اور نئے چیلنج جو ہماری جو زندگیوں میں در آئے ہیں اُن کے جس قدر جدّت بھرے رنگ ہیں۔ رخشندہ کے ہاں ان کی بہت خوبصورت انداز میں عکاسی ہوئی ہے۔

ذرا اس منفرد اور شاہکار نظم کو پڑھیں۔
؎ ذرا سا گھر بڑا لے لو۔
خبر کچھ بھی نہیں ہوتی کسی انجان ساعت کی خدانخواستہ گر یونہی ایک دن میں گزر جاؤں جہاں سے
تو اتنے لوگ اتنے سارے لوگ اس صحن میں کیسے سمائیں گے
؎ ذرا سا گھر بڑا لے لو۔
یہ میری زندگی سے منسلک آخری تقریب ہوگی اب اس واسطے اک ہال تو بک ہو نہیں سکتا

شاعری اُس کی اولین ترجیح نہیں اس کا عشق ہے جس نے اُسے ذہنی طور پر بہت امیر کر رکھا ہے۔ وہ اگر زمان و مکان کی نبض پر ہاتھ رکھے ہوئے ہے تو وہیں پھولوں، کلیوں، جگنوؤں، تتلیوں اور خوابوں کے رومانس سے بھی اپنی شاعری کو سجاتی ہے۔ حیاتی کے سارے جھمیلے، ساری الجھنیں سب دکھ درد اور قضیے وہ ان کے لیے کبھی ہلکان ہوتے نہیں دِکھتی، اور نہ ہی ہماری طرح اپنے رنڈی رونے کسی کو سناتی ہے۔ پنجابی زبان کی ایک زبان زدعام مثال اس پر بہت فٹ بیٹھتی ہے کہ وہ بڑی پھاری گوری (مضبوط اعصاب ) والی زنانی ہے۔ کسی گنگناتی مست خرام ندی کی طرح اپنی دھن میں مسکراتے، ہنستے دوستوں کی دعوتیں کرتے، باہر سے آنے والے شاعروں کے اعزاز میں ظہرانے اور عشائیوں کا اہتمام کرتے ہوئے زندگی بتاتی ہے۔ اس کے شعری سفر میں اردو کے سات مجموعے :

( 1 ) پھر وصال کیسے ہو، ( 2 ) کسی اور سے محبت، ( 3 ) نیناں اتریں پار، ( 4 ) خامشی کو سُن رہی تھی، ( 5 ) اسے ہم چھو نہیں سکتے، ( 6 ) کوچہ جاناں،

( 7 ) رات مجھے اچھی لگتی ہے، ( 8 ) حالی آٹا وسیا ناہیں۔

اس نے بچوں کے لیے سبق کہانی کے عنوان سے بہت ساری اخلاقی کہانیاں لکھیں اور نظمیں کہیں۔ یہ بھی اس کا بڑا کام ہے۔

سچی بات ہے دیپک (کلیات رخشندہ نوید) کو اس نے جس محبت لگن اور جانفشانی سے مرتب اور ترتیب دیا ہے وہ یقیناً سراہنے کے قابل ہے۔ کم و بیش نو سو صفحات پر مشتمل یہ کتاب جس کے ٹائیٹل سے لے کر کاغذ، کمپوزنگ، طباعت کے سب مرحلے جو انتہائی جاں گسل تھے اُس نے اپنی چاہت اور محبت کے زور پر طے کیے ہیں۔ میں اُسے اس کامیابی پر ڈھیروں ڈھیر مبارکباد دیتی ہوں۔

نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

WhatsApp Group Join Now

admin

An online Urdu Magazine for women.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *