گوشۂ ادب

رقص

Spread the love

تحریر:مریم ثمر

سندھ کےدو رافتادہ گاوں چھاچھرو کا بڑا افسر راہموں اعداد و شمار کی فائل بغل میں دبائےنپے تلے قدم اٹھاتا کانفرنس روم کےدروازےتک پہنچا اس سے پہلے کہ باوردی دربان دروازہ کھولتا اس نے چپکے سے اپنے چمکتے دمکتے بوٹوں کوباری باری پتلون سے مزید چمکایا ،سندھی ٹوپی پر بنے محراب کو اندازے سےماتھے پر بنے محراب کےساتھ جمایا ،کندھےسے کھسکتی اجرک کو کندھے کی طرف کھسکایا ،ماتھے پر آئےپسینے کو رومال سےصاف کیا اور انتہائی باادب ہوکر کانفرنس روم میں داحل ہوگیا ۔
مقامی سیاست دان آرام دہ کرسیوں پر ایک شان بے نیازی سے براجمان تھے ۔ان کے سامنے منرل واٹر کی بوتلیں دھری تھیں ۔
اس علاقےمیں پانی کا حصول بہت مشکل تھا اور جو اکا دکاجگہوں پر دستیاب تھا وہ انسان توکیا جانورون کے بھی پینے کے قابل نہ تھا اسکے باوجود دونوں ایک ہی گھاٹ سے پانی پیتےاور جان لیوا بیماریوں میں مبتلاہوتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ قوم کے راہنماوں کی زندگیوں کو خطرے میں نہیں ڈالا جاسکتا تھا ۔
راہموں کے لئےکرسی کا انتظام نہیں تھا ۔ اگرچہ وہ اپنے علاقے کا بڑا افسر تھا مگر اس وقت اس سےبھی بڑے بڑے افسرموجود تھے جن کے سامنے ا سکی حیثیت کسی مجبور،بےبس اور لاچار ہاری سے کم نہ تھی ۔ میٹنگ کا آغاز ہوا ہی چاہتا تھا مگر ابھی وزیراعلی کی آمد کا اتتظارتھا۔جس کی گاڑی کوعلاقے کےبھوکےننگے بچوں نے گھیر رکھا تھا ۔ تھکنے کے باوجودمسلسل چل رہے تھے اور کچھ تو رینگ رہے تھے وزیراعلی کی ناک پر اس وقت سے رومال تھاجب سے ان کے حلقےکا پسماندہ ترین علاقہ شروع ہوا تھا۔
باہر کے منظر سے اکتا کر گاڑی کی پچھلی نشست سے تھوڑا آگے کو جھکتے ہوئے ڈرائیورکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بولا،
”ان کا کچھ کرو بابا میٹنگ میں دیری ہورہی ہے”۔
”جی سائیں بابا جو حکم ” ڈرائیور نے متانت سے جواب دیا اور
پانی کی بوتل باہر اچھال دی۔ اور ساتھ ہی گاڑی کی رفتا ر بھی بڑھا دی ۔
یکدم سناٹا چھاگیا زندگی میں جیسے ٹہراو سا آگیا ۔ سب بچوں نے ایک حلقہ بنایا اور باری باری پانی کی بوتل سے ایک ایک گھونٹ پیا اور تشکر بھری نظروں سے دھول اڑاتی دور جاتی گاڑی کو دیکھا ۔
”واہ یہ سائیں تو بہت رحم دل ہے اڑے بابا ام تو اپنا ووٹ اسی بابا سائیں کو دے گا”
یہ آواز رام چند کی تھی جس کے جواب میں کئی لاغر، بے جان اور بے بس روحیں اثبات میں سر ہلاتی اپنےجسموں کے بوجھ کو دھکیلتے ہوئے ایک ایک کرکے وہاں سے غائب ہونے لگیں ۔۔
جونہی وزیر اعلی صاحب کانفرنس روم میں داخل ہوئے با ادب راہموں مزید با ادب ہوگیا۔ اس کے دل کی دھڑکنیں بے قابو ہونے لگیں ، جھکی ہوئی گردن مزید جھک گئی ۔
وزیر اعلی نے تمام سیاست دانوں سے علاقے کی قحط زدہ صورتحال پر تجاویز اور آراء طلب کرنے کے بعد نتیجہ نکالا کہ” لوگ قحط سے نہیں بلکہ غربت سے مر رہے ہیں” ۔
راہموں نے فائل وزیر موصوف کے سامنے کانپتے ہاتھوں سے رکھی ۔
علاقے میں اموات کے بیان کئے گئے اعدا و شمارشرمناک حد تک کم تھے ۔ اس لئے ایمر جنسی یا ہنگامی حالت کا اعلان کرنا فی الحال موخر کردیا گیا البتہ سندھ کی ثقافت کو زندہ رکھنے کے لئے سند ھ فیسٹول کی منظوری دے دی گئی ۔
راہموں کے سپرد سندھ فیسٹول کے جملہ انتظامات تھے جواس نے پوری ایمانداری اور محنت کے ساتھ وقت سے پہلے مکمل کر لیے ۔ مخصوص علاقے کو روشنی سے نہلانے کے علاوہ کھانے پینےکا وافر سامان ۔ آناََ فاناََ پہنچ چکا تھا ۔ ویران علاقے میں زندگی عود کر آئی تھی ۔ایک طرف سندھ فیسٹول کے نام پررقص وسرور کی محفلیں برپا تھیں راگ رنگ، ڈسکو ڈانس اور موسیقی پر دھماچوکڑی جاری تھی اور کم عمر ،پرجوش نرم و نازک بدن تھرک رہے تھے تو دوسری طرف موت کا خاموش رقص بھی جاری تھا ۔ قحط کی وجہ سے کمزور سوکھی اور بے جان ٹانگیں تھرتھرا رہی تھیں ۔
کچھ ہی فاصلے پرسوچو میگھو ریت کے ٹیلے کی اوٹ سے یہ سب نظارہ دیکھ رہا تھا، تیز روشنیاں اسے دھندلائی ہوئی نظر آرہی تھی ۔وہ بھی قحط سالی کا شکار تھا ۔ اس کی آنکھوں کے روشن دیے مدھم ہوتے جارہے تھے ۔ اس کے باوجود یہ نئی دنیا دیکھ کر اس کا بھی بے تحاشہ ناچنے کا من چاہ رہا تھا ۔ بے جان آنکھوں سے ایک ٹک بس دیکھے جارہا تھا۔ پھر اسے پتہ ہی نہیں چلا کب اس کی بھی موت ہوگئی ۔ وہ بھول گیا تھا کہ موت اس کے تعاقب میں ہے جونہی وہ اس سے غافل ہوا اس نے فورا ہی اس کو آدبوچا۔
تھر کی تحصیل چھاچھرو کے گاؤں چھاپر کے کے بڑے پنڈت لکیش نے تواسی وقت قحط کی پیشگوئی کر دی تھی جب اس علاقے کا مور ناچتے ناچتے دم توڑ گیا تھا ۔ مگر اس وقت کسی نے بھی اس کی باتوں پر دھیان نہیں دیا تھا ۔ اور اب موروں کے بعد انسانوں کی باری تھی ۔ تھر کا قحط عذاب الہی کم اور حکومت کی بد انتظامی کا نتیجہ زیادہ دکھائی دے رہا تھا۔ رام چند اور اس کی بیوی اپنے چوتھے اور آخری بیٹے کو دفنا کر جونہی پلٹے سامنے خوراک سے لدا ٹرک آتا دکھائی دیا ۔ اس نے بے رخی سے رخ موڑ لیا ۔
ادھر اسلام کا درد رکھنے والے مسلمان ہندووں کو انسان سے زیادہ مسلمان بنانے پر تلے ہوئے تھے۔
رام چند ہندو کے کئی رشتے دار کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوتے جارہے تھے اس کے عوض ان کو سوکھی روٹی اور پانی کی ایک بوتل ملتی تھی ۔ وہ سیدھا مندر جاتے اور بھگوان کا شکر ادا کرتے ہوئے ماتھا ٹیک دیتے ۔
ادھررام چند کی بیٹی اور ماں نے بھوک سے تنگ آکر خشک کنویں میں چھلانگ لگا کر خود کشی کر لی تھی ۔ اس سے پہلے ماضی میں نانی اور ان کی بیٹیوں نے بھی اسی طرح بلوائیوں سے اپنی عزت بچانے کی خاطر کنویں مین چھلانگ لگا کر اپنی جان کا نذرانہ دیا تھا ۔یوں رام چند کے گھر والوں نے اس روایت کو برقرار رکھا ۔
بھوک سے تنگ اکر خودکشی کرنے کے واقعات میں دن بدن اضافہ ہوتا جارہا تھا ،اور اب تو سجاول بھی خودکشی کرنے کا سوچ رہا تھا ۔ مگر اسے گوٹھ کی بڑی مسجد کے مولوی صاحب نے یہاں سے جانے سے پہلے کہا ۔ ”نا پتر ایسا ناہی کرنا ۔ ہمارے مذہب میں خود کشی حرام آہی ۔ صبر کرو با با صبر ۔ اللہ بھلی کرے ۔سب ہمارے گناہوں اور برے اعمال کی سزا ہے ۔ بھگنتا بھی تو ہمیں ہی ہے نا ۔ ”
مگر وہ بھی کیا کرتا، بھوک سے اس کے ہونٹ خشک ہوکران میں پیڑیا ں جمی ہوئی تھیں اور اب خون ٹپکتا تھا جس سے وہ اپنی پیاس بجھاتا تھا اس کی کمر خمیدہ ہوچکی تھی پیٹ غبارے کی طرح پھول چکا تھا آنکھیں بار بار موت کا سامنا کرتے کرتے خوف اور دہشت سے گول گول باہر کو ابھر آئی تھیں ۔ کھڑے ہونے کی کوشش کرتا تو پتلی پتلی لاغر ٹانگیں اس کا ساتھ نہ دیتی تھیں، وہ لڑکھڑاتا اور واپس دھرتی ماں کے سینے پرگرجاتا ، اس کے آنسو بھی اب خشک ہوچکے تھے ،جو ایک آدھ آنسو تکلیف اور اذیت سے بہتا بھی تو وہ ایسا جما ہواہوتا کہ چھریوں بھرے چہرے سے آہستہ آہستہ لڑھکتا اور زمین پر جذب ہونے کی نجائے وہیں پر دم توڑ دیتا ۔
سجاول موت کاذائقہ قطرہ قطرہ چکھ رہا تھاوہ فوری طور پر مر جانا چاہتا تھا ۔ وہ اس اذیت ناک اور انتہائی ہولناک موت کو برداشت نہیں کر پارہا تھا ۔ اس کا جسم تو مر چکا تھا مگر دل اور دماغ زندہ تھا جس پر مسلسل ہتھوڑے برس رہے تھے ۔ اس کے اندر کا سناٹا چیخ رہا تھا ۔
”دو نوالے اور پانی کے چند قطرے ۔۔۔۔۔ بس ۔۔۔ دو نوالے اور پانی کے چند قطرے ۔” اس سے آگے اس میں سوچنے سمجھنے کی تمام صلاحیتیں سلب ہوچکی تھیں اس نے بے چینی سے آہستہ آہستہ کروٹ بدلی اپنی بند ہوتی آنکھوں سے سامنے دیکھا اسکی دھندھلائی ہوئی آنکھوں نے جو منظر دیکھا اس سے ان میں عجیب سی چمک اور جسم میں جیسے جان سی آگئی ۔ اپنی بچھی کھچی طاقت لگا کر اس نے جسم کو دھکیلنا شروع کیا اور بالآخر منزل پر پہنچ کر خود کو کنویں کے سپرد کر دیا ۔

WhatsApp Group Join Now

admin

An online Urdu Magazine for women.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *