متفرق

قانون میں بیوی کا نان و نفقہ

Spread the love

تحریر:مصباح انور

پاکستان میں مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961 اور ویسٹ پاکستان فیملی کورٹس ایکٹ 1964، بیوی کے نان و نفقہ سے متعلق مسائل کو بیان کرتے ہیں۔ تاہم، یہ قوانین زیر بحث موضوع کے حوالے سے بہت محدود ہیں۔ بیوی کے نان و نفقہ سے متعلق مقدمات کا فیصلہ قانونی نظیروں کی روشنی میں بھی کیے جاتے ہیں۔ جسٹس منصور علی شاہ، جو چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کے رکن تھے، 9 مارچ 2020 کو پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف حسین اللہ کی جانب سے دائر اپیل کی سماعت کرتے ہوئے اپنے فیصلے میں واضح طور پر لکھا ہے کہ ”عورت کا شوہر کے ذریعہ“ نان و نفقہ ”کا حق عین اسلامی اور واجب ہے اور اس حق کا تعین شوہر کے ذرائع آمدن اور مالی حیثیت، بیوی کی ضروریات اور فریقین کی سماجی حیثیت کے تحت ہو گا اور تب تک جاری رہتا ہے جب تک شادی برقرار رہتی ہے اور بیوی“ وفادار ”سے اپنی ازدواجی ذمہ داریاں پوری کرتی ہے“ جو کہ محمدن قوانین کے پیراگراف 277 کے تحت بیان کی گئی ہے۔

ترجمہ: اور ہر شوہر پر بیوی کا خرچ واجب ہے۔ ( البقرہ : آیت ) 233

سی ایل سی ( 2000 صفحہ 725 ) میں درج مقدمے میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ اسلام میں نان و نفقہ کی تعریف ’نظم و نظیر‘ کے طور پر کی جاتی ہے، اس کا مطلب ہے کھانے، کپڑے، رہائش اور دیگر ضروریات میں مدد کی صورت میں سہولت فراہم کرنا، جیسا کہ قرآن میں اشارہ ہوا ہے کہ۔

ترجمہ: مرد عورتوں کے حاکم اور نگراں ہیں ان فضیلتوں کی بناء پر جو خدا نے بعض کو بعض پر دی ہیں اور اس بناء پر کہ انہوں نے عورتوں پر اپنا مال خرچ کیا ہے۔ (النساء، آیت 34 )

قانون کی زبان میں نان و نفقہ ان تمام چیزوں کی نشاندہی کرتا ہے جو بیوی کی زندگی کی کفالت کے لیے ضروری ہیں، جیسے کہ اخراجات، صحت بخش خوراک۔ قابل قبول لباس، قابل رہائش گھر، تحفظ و حفاظت، طبی اخراجات اور زندگی کی دیگر تمام بنیادی سہولیات ”جو کہ بیوی کے اپنے ذرائع آمدن سے قطع نظر شوہر کی طرف سے فراہم کی جائیں گی۔ اگر شوہر کی زیادہ بیویاں ہوں تو سب کا نان و نفقہ مساوی طور پر شوہر پر واجب ہے۔ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا“ بیویوں کا تم پر حق ہے کہ اوڑھنے پہننے اور کھانے پینے میں ان کے ساتھ بھلائی سے پیش آؤ ” (ترمذی)

حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی قدس سرہ فرماتے ہیں ؛

”بیوی کا یہ بھی حق ہے کہ اس کو کچھ رقم ایسی بھی دے جس کو وہ اپنی مرضی کے مطابق خرچ کرسکے۔ اس کی مقدار بیوی اور اپنی حیثیت کے موافق ہو سکتی ہے۔ ’ (منتخب انمول موتی، ص: 142، اصول التعلیم اشرفیہ، فتویٰ نمبر: 1443111004 )“

اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے کہ : صاحب حیثیت کو چاہیے کہ وہ اپنی وسعت کے مطابق خرچ کرے، اور جو تنگ دست ہو تو اس کو جو اللہ نے ( مال) دیا ہے اس میں سے (بطور نفقہ) خرچ کرے، (الطلاق : 7 ) ۔ اس آیت میں یہ دلیل ہے کہ کفالت کا خرچ شوہر کی حیثیت کے مطابق اس پر واجب ہے۔ اس حق سے متعلق اسلام میں ایک اہم نقطہ یہ بھی ہے کہ صاحب حیثیت شوہر پر واجب ہے کہ وہ رواج اور دستور کے مطابق بیوی اور بچوں کا خرچ دے۔ قرآن کی سورہ البقرہ کی آیت 233 میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : ترجمہ: ”اور بچے کے باپ پر رواج کے مطابق ماؤں کا کھانا اور پہناوا ہے۔

” سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے خطبہ الوداع میں فرمایا:“ تم پر ان (عورتوں ) کا حق یہ ہے کہ تم انہیں مناسب طریقے سے کھانا اور لباس مہیا کرو۔ ”اور اگر شوہر اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرتا یا کنجوس ہے تو بیوی کے لئے جائز ہے کہ وہ شوہر کے پیسوں میں سے اپنی ضرورت کے مطابق رقم نکال لے۔ حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں : حضرت ہند بنت عتبہ ؓ نے کہا : یا رسول اللہ ﷺ! حضرت ابو سفیان ؓ (شوہر) کنجوس آدمی ہیں، وہ مجھے اتنا خرچ نہیں دیتے جو مجھے اور میری اولاد کو کافی ہو، سو اس کے کہ میں ان کی لاعلمی میں ان کے پیسے نکال لوں؟ ، آپﷺ نے فرمایا : تم دستور کے مطابق اتنے پیسے لے جو تمہارے اور تمہاری اولاد کے لیے کافی ہیں“ ۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : 5364، 2211، سنن ابو داؤد رقم الحدیث : 3532، سنن نسائی رقم الحدیث : 54341، مسند احمد 6 ص 40، 39 ) ۔

مقصود احمد بمقابلہ عابدہ حنیف ( 1992 ایم ایل ڈی 219 لاہور) کے کیس میں دیکھا گیا ہے کہ شوہر کی طرف سے دی گئی رجعی طلاق کی صورت میں نان و نفقہ کا فریضہ عدت کی مدت تک رہتا ہے اور اگر بیوی طلاق کے وقت حاملہ ہو یا عدت کے دوران حمل کا اعلان کر دے تو بچے کی ولادت تک فرض ہے، ان قواعد پر پاکستانی عدلیہ اور تمام مکاتب فکر متفق ہیں۔ قرآن میں ارشاد ہوا: ”عورتوں کو (ایام عدت میں ) اپنے مقدور کے مطابق وہیں رکھو جہاں خود رہتے ہو اور ان کو تنگ کرنے کے لئے تکلیف نہ دو اور اگر حمل سے ہوں تو بچہ جننے تک ان کا خرچ دیتے رہو۔ پھر اگر وہ بچے کو تمہارے کہنے سے دودھ پلائیں تو ان کو ان کی اجرت دو۔ اور (بچے کے بارے میں ) پسندیدہ طریق سے موافقت رکھو۔ اور اگر باہم ضد (اور نا اتفاقی) کرو گے تو (بچے کو) اس کے (باپ کے ) کہنے سے کوئی اور عورت دودھ پلائے گی“ ۔ (البقرہ: آیت 6 )

قانون کے مطابق شوہر کی موت سے متعلقہ فرضیت ختم ہو جاتی ہے اور شوہر کے کسی رشتہ دار کو نہیں جاتا۔ لیکن قرآن میں اللہ تعالی فرماتا ہے : ”اور تم میں سے جو لوگ فوت ہوجائیں اور اپنی بیویاں چھوڑ جئیں، وہ اپنی بیویوں کو ایک سال تک نان و نفقہ ادا کرنے کی وصیت کریں اور اس مدت میں ان عورتوں کو گھر سے نہ نکالا جائے۔ ( البقرہ :آیت 240 )

بیوی کے نان و نفقہ کی مقدار کے بارے میں، پاکستانی قانون میں یہ تجویز کیا گیا ہے کہ عدالت شوہر کی مالی حالت، بیوی کی ضروریات اور کیس سے متعلقہ دیگر حالات کی بنیاد پر مقدار کا فیصلہ کرے گی۔ اس سلسلے میں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ویسٹ پاکستان فیملی کورٹس ایکٹ 1964 کا سیکشن ( 4 ) (اے ) 17 فراہم کرتا ہے کہ نان و نفقہ کی مقدار طے کرنے کے مقاصد کے لیے عدالت کسی بھی ادارے، باڈی، ( بینک) یا اتھارٹی سے متعلقہ دستاویزی ثبوت کے طور پر طلب کر سکتی ہے تاکہ مدعا علیہ (خاوند) کی جائیداد اور وسائل کا تعین کیا جا سکے۔

بعض اوقات نکاح کے دوران فریقین نکاح نامے میں ہر ماہ ادا کی جانے والی نان و نفقہ کی رقم درج کر لیتے ہیں، جو فیملی کورٹ میں مکمل پابند اثر کے طور پر ہے۔ تاہم، جہاں نکاح نامے میں نان نفقہ کی رقم متعین نہیں ہے اور شوہر بیوی کی دیکھ بھال میں ناکام رہتا ہے یا صحیح طریقے سے دیکھ بھال نہیں کرتا ہے تو بیوی اس شادی کے دوران کسی بھی وقت، سابقہ کفالت اور مستقبل کے نان و نفقہ کی وصولی اور خلع و طلاق کی صورت میں ماضی تا عدت تک کے نان و نفقہ کی وصولی کا مقدمہ، مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961 کے دفعہ 09 کے تحت دائر کر سکتی ہے۔

مقدمہ فیملی کورٹ کے علاقائی دائرہ اختیار میں دائر کیا جائے گا جہاں بیوی مستقل یا عارضی طور پر مقیم ہے۔ فیملی کورٹ شواہد کی ریکارڈنگ یعنی زبانی اور دستاویزی ثبوتوں کے بعد معاملے کا فیصلہ کرتی ہے۔ اگر بیوی کے پاس شوہر کی آمدنی اور معاونت کے حوالے سے کوئی ثبوت نہیں ہے تو فیملی کورٹ شوہر کی مالی حالت معلوم کرنے کے لیے اپنے صوابدیدی اختیارات استعمال کر سکتی ہے اور منصفانہ فیصلے تک پہنچنے کے لیے کسی بھی متعلقہ اتھارٹی یا محکمے سے ریکارڈ طلب کر سکتی ہے۔ کیس کا فیصلہ کرنے کے لیے شوہر کا معیار زندگی بذات خود ایک مکمل اور جامع ثبوت ہے۔

( 2022 کا W۔ P No۔ 278 ؛ محمد عمران V/S جج فیملی کورٹ، وغیرہ)
(ضیاء حسین V/S ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج وغیرہ LHC 1599 ص 2022 )
17۔ واضح کرتا ہے کہ: A فیملی کورٹس ایکٹ، 1964 میں پنجاب فیملی کورٹس (ترمیمی) ایکٹ، 2015 کا سیکشن کفالت کے مقدمے میں، فیملی کورٹ، مدعا علیہ کی پہلی پیشی کی تاریخ پر، بیوی یا بچے کے لیے عبوری ماہانہ کفالت طے کرے گی اور اگر مدعا علیہ چودھویں دن تک کفالت ادا کرنے میں ناکام رہتا ہے تو، مدعا علیہ کے دفاع کا حق ختم ہو جائے گا اور فیملی کورٹ مقدمے کے ریکارڈ میں موجود مدعی اور دیگر معاون دستاویزات کی تصدیق کی بنیاد پر دیکھ بھال کے مقدمے کا حکم دے گی۔ اس کے علاوہ فیملی کورٹ کا یہ اختیار ہے کہ متعلقہ حالات کی وجہ سے مدعی کی طرف سے مانگی گئی رقم سے زیادہ کفالت کی رقم طے کرے ؛ اور اس رقم میں سالانہ اضافہ تجویز کرے۔ اگر فیملی کورٹ نان و نفقہ میں سالانہ اضافہ تجویز نہیں کرتی ہے تو عدالت کی طرف سے مقرر کردہ نان و نفقہ ہر سال دس فیصد کی شرح سے خود بخود بڑھ جائے گی۔

اسلامی قانون بھی بیوی کے نان و نفقہ کی مقدار کے بارے میں تفصیلی قواعد فراہم کرتا ہے۔ شافعی مکتب فکر کے مطابق بیوی کے نان و نفقہ کا پیمانہ صرف شوہر کے وسائل کے مطابق ہو گا۔ شیعہ مکاتب فکر کا کہنا ہے کہ اس طرح کا پیمانہ شادی سے پہلے بیوی کے معیار زندگی اور بیوی کی ضروریات کو بھی مدنظر رکھ کر طے کیا جانا چاہیے۔ حنفیہ، مالکی، اور حنبلی مکاتب فکر شوہر کے ذرائع آمدن کی اوسط اور شادی سے پہلے بیوی کے والد کی طرف سے فراہم کردہ معیار زندگی کا مطالبہ کرتے ہوئے زیادہ مفید موقف اختیار کرتے ہیں۔ اس طرح مسلمانوں کی مختلف مکاتب کے لیے نان و نفقہ کی مقدار کے تعین کی بنیادیں مختلف ہے لیکن حقیقی طور پر ان مقدمات سے وابستہ اسلامی ثبوتوں کے احکام بہت واضح، مضبوط اور انصاف پر مبنی ہیں اور انہی ثبوتوں کی روشنی میں مقدار کا تعین کرنا زیادہ آسان اور قابل اعتماد ہیں۔

یہ تحریر مضمون نگار کے ذاتی خیالات اور رائے پر مبنی ہے، ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

WhatsApp Group Join Now

admin

An online Urdu Magazine for women.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *