پریشانی خیالات سے نہیں۔۔۔۔۔۔
عظيم ڈرامہ نگار شکسپئر نے کہا تھا، “دنيا ميں کوئي چيز اچھي يا بري نہيں ہوتي ہماري سوچ اسے ايسا بنا ديتي ہے”، خيالات کا انساني زندگي اور انساني رويوں پر گہرا اثر پڑتا ہے۔ کبھي انسان اپنے خود ساختہ خيالات سے اس قدر خوفزدہ ہو جاتا ہے کہ کئي دن تک وہي خيالات آسيب بن کر اس کے پيچھے لگے رہتے ہيں۔ زندگي ميں حالات اتنے سنگين نہيں ہوتے جتنا ہماري سوچ انھيں بنا ديتي ہے۔
وطن عزيز ميں روز بروز بڑھتي مہنگائي، گرتي اخلاقي اقدار اور معاشرے ميں بڑھتي سماجي برائياں ايک عام شخص کو شديد پريشاني يا ڈپريشن ميں مبتلا کرنے کيلئے کافي ہيں، نفسياتي نقطہ نظر سے اگر ہم تجزيہ کريں تو جو تصوير ہمارے سامنے آتي ہے اس ميں خيالات کي جنم گاہوں اور پرورش گاہوں کا ادراک ہوتا ہے۔ جب ہم دماغ کي ساخت کا عرضي تراشا يا طولي تراشا ليتے ہيں تو معلوم ہوتا ہے کہ يہاں شعور، لاشعور اور تحت الشعور کي فرمانروائي ہے۔ تخيل اور يادداشت ان کے بعد آتے ہيں۔ قليل يا طويل المعياد يادداشت اور حساسيت دماغ کے وہ لازمي اجزاء ہيں جو اسکي کشمکش پر جلتي پر تيل کا کام کرتے ہيں۔ تحت الشعور کے زير سايہ پروان چڑھنے والے خيالات کا حقيقت کي دنيا سے بہت کم تعلق ہوتا ہے۔
اب چلتے ہيں حالات کي دنيا ميں جہاں موت وحيات کے قصے عام ہيں۔ جہاں قتل و غارت روز کا معمول ہے، اولاد کي نافرماني اب کوئي نئي بات نہيں رہي حتي کہ ضمير نام کي کوئي چيز نہيں رہي۔ کسي نے کيا خوب کہا ہے، بلا اتني خوفناک نہيں ہوتي جتني ہم سمجھتے ہيں۔ بقول اشفاق احمد جتنا آج کے طلباء سوچتے ہيں کاش اتنا پڑھ ليں اور جتنا پڑھتے ہيں اتنا سوچ ليں تو يقينا کامياب ہونگے۔
حالات پر تو اس بنا پر بھي سمجھوتہ ہو جاتا ہے کہ وہ انسان کے بس ميں نہيں ہوتے۔ تقدير اور تدبير کے گورکھ دھندے ميں انسان رگڑا جاتا ہے۔ بُري سوچيں انسان کو ديمک کي طرح چاٹتي رہتي ہيں۔ مثبت سوچ کے زاويئے اوج ثريا پر پہنچا ديتے ہيں تو منفي سوچ تحت الثراء تک۔ انساني خيالات الجھن کو سلجھن اور سلجھن کو الجھن ميں بدلنے کا گر جانتے ہيں۔ اس لئے مايوس کن حالات زندگي کے باوجود اہم فيصلے کرتے وقت ضروري ہے کہ مثبت خيالات کو کام ميں لايا جائے اور منفي خيالات جھٹک ديئے جائيں۔ پہلے اپني سوچ بدلي جائے، آپ کا مثبت عمل ديکھ کر دوسرے لوگ اپنے خيالات خودبخود درست سمت کي جانب تبديل کر ليں گے۔
مولانا جلال الدين رومي کہتے ہيں، “مجھے سردي کي شدت اور گرمي کي حدت اس وقت زيادہ محسوس ہوتي ہے جب ميں ان کے بارے ميں سوچتا ہوں”۔ روزمرہ امور زندگي ميں پائي جانے والي مشکلات کا بھي يہي حال ہے، ان کو سر پر سوار کرنے کي بجائے حل کي طرف جائيں، کوئي ايسا سوال نہيں جس کا جواب نہ ہو، بس نيت صاف، معاملہ برحق اور منزل کي جستجو ہو تو راستہ خودبخود بن جاتا ہے۔ درپيش مسائل کا مثبت انداز فکر اپناتے ہوئے گہرا جائزہ ليں اور جو بہترين راہ ممکن ہو، منتخب کر ليں۔ ہاں کسي دانش مند يا تجربہ کار شخصيت سے مشورہ لينا مت بھوليں تا کہ فيصلے کے درست ہونے کي تصديق ہو جائے۔ ياد رہے زندگي بہت خوبصورت نعمت ہے، اسے ہنسي خوشي گزار دينا خالق کي نعمتوں کے شکر گزار ہونے کا ہي ايک انداز ہے۔

