پاکستان دنیا میں کن چیزوں میں آگے؟
پاکستان س کو معاشی مسائل کیساتھ دیگر اندرونی اور بیرونی چیلنجز کا بھی سامنا ہے لیکنپاکستا ن اب بھی کچھ معاملات میں دنیا میں سب سے آگے ہے۔پاکستان اس وقت مہنگائی سے نبرد آزما ہے۔
حقیقت جان کر آپ کے پیروں تلے سے زمین نکل جائے گی اور آپ حیران رہ جائیں گے۔
۔ ملالہ یوسفزئی کو کسی بھی شعبے میں نوبل انعام وصول کرنے والے سب سے کمسن فرد ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ ان کی وجہ شہرت اپنے آبائی علاقے سوات اور خیبر پختونخوا میں انسانی حقوق، تعلیم اور حقوق نسواں کے حق میں کام کرنا ہے
جب مقامی طالبان نے لڑکیوں کو سکول جانے سے روک دیا تھا۔ اب ملالہ یوسفزئی کی تحریک بین الاقوامی درجہ اختیار کر چکی ہے۔دنیا کے سب سے کم عمر نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی بھیپاکستا نی ہیں
پاکستان کے پاس دنیا کی سب سے بڑی بندرگاہ ہے جسے گوادر پورٹ کے نام سے جانا جاتا ہے۔اس بندرگاہ سے نا صرفپاکستا ن بلکہ خطے کے دیگر ممالک مستفید ہوسکتے ہیں جن میں چین سرفہرست ہے۔ ۔ گوادر بندرگاہ کا ایک اور اہمیت یہ بھی ہے کہ اگر امریکا ابنائے ملاکہ کو بند بھی کر دے توپاکستان اور چین کے لیے بحیرہ عرب کا تجارتی راستہ ہمیشہ کے لیے کھلا رہے گا۔چین کے دفاعی، تجارتی، علاقائی، مفادات کے لیے گوادر بندرگاہ بہت اہمیت رکھتی ہے۔
۔ K2، دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی،پاکستا ن میں واقع ہے۔پاکستان واحد ملک ہے جس کے پاس دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی ہے اس کے علاوہ تین بلند ترین پہاڑی سلسلے ہندوکش، قراقرم اور ہمالیہ بھی اسی ملک میں واقع ہیں۔کے ٹوسلسلہ کوہ قراقرم،پاکستا ن میں واقع ہے۔ اس کی بلندی 8611 میٹر/28251 فٹ ہے۔ اسے پہلی بار 31 جولائی 1954ءکو دو اطالوی کوہ پیماﺅں لیساڈلی اور کمپانونی نے سر کیا تھا۔ اسے ماو?نٹ گڈون آسٹن اور چوگو ری یعنی بڑا پہاڑ بھی کہتے ہیں۔
دنیا کی بلند ترین بلندی پر واقع پکی سڑک بھیپاکستا ن میں ہے۔ اس سڑک کو چین پاکستا ن فرینڈ شپ ہائی وے یا قراقرم ہائی وے بھی کہا جاتا ہے۔یہ چین کے صوبہ سنکیانگ کوپاکستا ن کے شمالی علاقوں سے ملاتی ہے۔ یہ دنیا کی بلند ترین بین الاقوامی شاہراہ ہے۔ شاہراہ قراقرمپاکستا ن کو چین سے ملانے کا زمینی ذریعہ ہے۔ یہ دنیا کے عظیم پہاڑی سلسلوں قراقرم اور ہمالیہ کو عبور کرتی ہے۔ درہ خنجراب کے مقام پر سطح سمندر سے اس کی بلندی 4693 میٹر ہے۔ یہ عجوبہ سڑک 20سال کے عرصے میں 1986ئ مکمل ہوئی اسےپاکستا ن اور چین نے مل کر بنایا تھا۔ اس کو تعمیر کرتے ہوئے 810پاکستا نیوں اور 82 چینیوں نے اپنی جان دی تھی۔
فٹ بال کی صنعت
دنیا بھر میں فروخت ہونے والے نصف فٹ بالپاکستا ن کے شہر سیالکوٹ میں بنتے ہیں۔ ہاتھ سے سلے ہوئے فٹ بال فروخت کرنے میںپاکستا ن دنیا میں پہلے نمبر پر ہے۔ایک اندازے کے مطابق سیالکوٹ میں سالانہ 40 ملین فٹبال کی تیاری کی جاتی ہے، تاہم ورلڈ کپ کے دوران ان کی تعداد 60 ملین تک پہنچ جاتی ہے۔
شندور پولو گراﺅنڈ:
شندور پولو میلہ ہر سال 7 سے 9 جولائی تک منایا جاتا ہے۔ یہ میلہ دنیا کے بلند ترین پولو گراونڈ شندور میں منایا جاتا ہے۔ اس میلے میں مایہ ناز کھلاڑی شرکت کرتے ہیںپاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جس کے پاس دنیا کا سب سے اونچائی پر واقع پولو گراﺅنڈ ہے۔ یہ علاقہ شندور کہلاتا ہے جوپاکستا ن میں واقع ہے۔۔
ایٹمی طاقت
پاکستا ن نے بھارت کی جانب سے ایٹمی دھماکوں کے جواب میں 28 مئی 1998ئ کو صوبہ بلوچستان کے ضلع چاغی کے مقام پر 5 کامیاب ایٹمی دھماکے کیے۔ اس دن کو” یوم تکبیر “کے نام سے موسوم کیا گیا۔پاکستان دنیا کا واحد مسلم ملک ہے جس کے پاس ایٹمی طاقت ہے
وادی سندھ کی تہذیب:
دنیا کی سب سے قدیم اور سب سے بڑی تہذیب، جسے وادی سندھ کی تہذیب کہا جاتا ہے، اسی علاقے میں پروان چڑھی جہاں آجپاکستا ن ہے۔ وادی سندھ کی تہذیب 3300 سے 1700 قبل مسیح تک قائم رہنے والی انسان کی چند ابتدائی تہذیبوں میں سے ایک ہے۔ یہ وادی سندھ کے میدان میں دریائے سندھ اور اس کے معاون دریاﺅں کے کناروں پر شروع ہوئی۔
اس کو ہڑپہ کی تہذیب بھی کہا جاتا ہے۔ ہڑپہ اور موئن جو دڑو اس کے اہم مراکز تھے۔ دریائے سواں کے کنارے بھی اس تہذیب کے آثار ملے ہیں۔ اس تہذ?ب کے باسی پکی اینٹوں سے مکان بناتے تھے۔ ان کے پاس بیل گاڑ?اں تھیں، وہ چرخے اور کھڈی سے کپڑا بنتے تھے، مٹی کے برتن بنانے کے ماہر تھے، کسان، جولاہے، کمہار اور مستری وادی? سندھ کی تہذیب کے معمار تھے۔
تربیلا ڈیم
تربیلا ڈیم کی گہرائی 134میٹر اور لمبائی 97 کلومیٹر ہے۔دنیا کا سب سے بڑا مٹی کا ڈیم “تربیلا ڈیم” بھیپاکستا ن میں ہے۔ تربیلا ڈیم دریائے سندھ پر بنایا گیا تھا ا س ڈیم کو بنانے میں ورلڈ بینک کے علاقہ کینیڈا، برطانیہ ، اٹلی اور فرانس نے بھی مالی مدد کی تھی۔ اطالوی اورفرانسیسی کمپنیوں پر مشتمل ایک کنسورشیم” تربیلا جوائنٹ وینچر” کو تربیلا ڈیم کی تعمیر کا ٹھیکہ ملا تھا۔ اس ڈیم کا سنگ بنیاد 4 نومبر 1968ءکو صدر جنرل محمد ایوب خان نے رکھا تھا اور اس کی تکمیل بھٹو صاحب کے دورحکومت میں 1976ئ میں ہوئی تھی۔ 1969ئ میں اس کنسورشیم میں جرمنی اور سوئٹزرلینڈ کی 7 کمپنیوں کا ایک گروپ بھی شامل ہو گیا تھا۔
رضاکار ایمبولینس سروس:
دنیا کی سب سے بڑی رضاکار ایمبولینس سروس بھیپاکستا ن میں چلائی جاتی ہے، جسے ایدھی فاﺅنڈیشن چلاتی ہے۔ ایدھی فاو?نڈیشنپاکستا ن میں ایک فلاحی ادارہ ہے، جو 1951ئ میں مرحوم عبدالستار ایدھی کی طرف سے قائم کیا گیا تھا۔ ایدھی فاو?نڈیشن کی سرگرمیوں میں چوبیس گھنٹے کی ایمرجنسی سروس شامل ہے۔
نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔


