سیاست

نئی حکومت اور مسلم قیادت

Spread the love

تحریر زیب النساء دہلی

مسلم قیادت یوں تو ایک جملہ ہے لیکن اس کے کئی معانی ہیں  ، مذہبی قیادت ، سیاسی قیادت ، سماجی و صحافتی قیادت ، صحیح بات یہ ہےکہ مسلم سیاسی قیادت تو حقیقی معنی میں ہے ہی نہیں ہاں مختلف پارٹیوں سے وابستہ سیاسی لیڈران اور کارکنان ضرور ہیں  ، لیکن یہ سیاسی قیادت بھی مسلمانوں کے حقیقی مسائل کو  حل کرنے کے سلسلہ میں سیاسی سطح پر کوئی جدو جہد نہیں کرتے ہاں ملک کے سیایس مسائل پر وہ ضرور اظہا ر خیال کرتے ہیں ، یا پھر ایسے مسلم ارکان پارلیمنٹ ہیں جو اپنے اپنے حلقے کے ووٹ کو مضبوط و مستحکم بنانےمیں لگے رہتے ہیں ، ان کو اتنی فرصت کہاں کہ وہ ملک کے تمام مسلمانوں کے بارے میں اس بلند فکری کےساتھ سوچ سکیں جیسا کہ سوچنے کا حق ہے ۔

رہی مسلم دینی قیادت تو وہ مدرسے بنانے ، اپنے ادارے چلانے ، زکوٰۃ وصول کرنے اور بیرون ملک کے دورے کرنے یا پھر اپنے حلقہ ارادت کے استحکام میں مشغول رہتی ہے، اگر مزید کچھ موقع ملتاہے تو وہ طلاق و نکاح کی بحثوں میں پڑی اور الجھی رہتی ہے ، مسلم دینی قیادت اپنی معاشی استحکام کی جانب بھی خاصی متوجہ نظر آتی ہے الا ماشاء اللہ شاید ہی اس میں کچھ ایسے ہوں جو زاہد اور تارک دنیاہوں ۔ ان میں سب دنیا میں یا دنیاکےلئے کام کرتےہیں، کسی کو شہرت کی  تلاش ہے ، کسی کو   بڑے دینی پلیٹ فارم کے اونچے منصب کی تلاش ہے ،کسی کو بیرون دنیا کی بڑی تنظیموں میں رکنیت کی تلاش ہے ، ظاہر ہے یہ سب چیزیں شہرت ہی کےلئے ہیں ، مسلم دینی قیادت صرف نام کےلئے آپس میں متحد نظر آتی ہے ورنہ ہر فرقہ دوسرے فرقہ کےلئے مخالفت میں کام کرتا مصروف نظر آتا ہے اور یہ ایک کڑوی سچائی ہے ، جب موقع ملتا ہے دینی قیادت سے وابستہ لوگ اپنے اصل رنگ  پر آجاتے ہیں وہ اتحاد کا نام لیتے ہیں ، وہ امت کا  نام لیتے ہیں، لیکن حقیقی وحدت کہیں نہیں ہے  اور امت کی فکر کچھ بھی نہیں ہے ، فکر ہے تو بس یہ کہ امت اورملت کےنام پر کیا حاصل ہوسکتا ہے ،کیونکہ بے چاری بھولی بھالی ملت صرف ظاہری شکل کو دیکھتی ہے ، وہ بہت ہی سیدھی ہے  اس لئے آنکھ بند کر کے اعتبار کر لیتی ہے اور باقی خداکے حوالے کر دیتی ہے۔

نئی حکومت آئی او رپورے طمطراق کے ساتھ آئی، مسلم قیادت سکتےمیں رہی اور  اگر کچھ بولی تو یہ کہ اے مسلمانوں تمہیں ڈر کا ہے کا صرف خدا کا، حالانکہ مسلمان تو خدا سے ڈرتا ہی ہے ، وہ ڈر ڈر کر ہی زندگی گزارتا ہے ، اب یہ نہ ڈرنے کی نصیحت بے معنی سی ہے  کیونکہ جو   ملت تقسیم ہند کے بعدنہیں ڈری جو ملت سینکڑوں فسادات سےنہیں ڈری(جو کہ سب کانگریس کے عہد میں ہوئے) وہ ملت جو نہایت مضبوطی کے ساتھ جمی اور کھڑی رہی اس کی ثابت قدمی کی مثال کہنے والے خود نہیں پیش کر سکتے کہ سب کچھ تباہ ہونےکے بعد بھی وہ اس آزمائش پر مسکراتے رہے اور  اپنےرب کے حضور سجدہ ریز ہوتےرہے۔

ہندوستان کےمسلم مفکرین اورمسلم قائدین برے بڑے سیمینار منعقد کر تے رہے جس میں ڈائیلاگ اور مذاکرات کی فضیلت واہمیت پر گفتگو ہو تی رہی اور  دو دن اور ایک دن کے سیمینا ر پر وہ گویا حق اداکر تے رہے لیکن آگے بڑھ کر کام کرنےکی ہمت مسلم قیادت کونہ  ہوئی، وہ ہر دفعہ متذبذب رہی ،حالانکہ یہ دو ر  مذاکرات کا ہے ،مفاہمت کا ہے اور ساتھ بیٹھ کر بات چیت کرنے کا  ہے ، اور اس کے لئے تیاری کرنے اور فضا بنانے کا ہے، آخر یہ کیوں نہیں ہو سکتا کہ مسلم قیادت اور خاص طور پر مسلم دانشور ان ایک نقشہ طے کریں  اور بات چیت کا ایک ایجنڈا بنائیں جس طرح وہ بڑے بڑے جلسے اور سیمینار کرتے ہیں اس طرح ایجنڈے کے تحت ہر سطح پر بات چیت کا آغاز کریں ، یہ بات چیت بند کمروں میں نہ ہو براہ راست کھلی فضا میں ہوتا کہ اقلیت و اکثریت دونوں کومعلوم ہو سکے کہ کن موضوعات پر گفتگو ہوئی اور کن موضوعات پر باقی ہے لیکن یہ سلسلہ بہر حال شروع ہونا  چاہئے ، ایسانہیں ہے کہ بات چیت کا کوئی نتیجہ نہ نکلے ، اس کےمنفی و مثبت پہلوؤں پرضرور غور کرنا چاہئے لیکن بہتر یہی ہےکہ اس سلسلہ کا آغاز ہو یا تو مختلف مسلم تنظیمیں ملکر مشترکہ طور پر ہندو تنظیموں سے بات کریں،مسلم دینی قیادت بڑے پنڈتوں اور شنکر آچاریوں سے بات کریں، مسلم دانشوران  کا گروپ ہندو دانشوروں سے باقاعدہ بات چیت کا آغاز کرے ، بہر حال اسکی مختلف شکلیں ہو  سکتی ہیں،لیکن اس  پر تمام مذہبی تنظیموں اور دیگر اسٹیٹ کی امارت شرعیہ، انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز، مسلم پرسنل لا بورڈکو غور کرنا چاہئے ،صرف اندیشوں میں مبتلا رہنا اورخود کو ایک دائرہ میں محصور کرلینا یہ درست نہیں ہے،مسلم قیادت کی پالیسی اقدام کی ہونی چاہئے نہ کہ دفاع کی، اور اقدام میں فی الحال مذاکرات و ڈائیلاگ کا منہج اور اس پر عملی کارروائی یہ ضروری ہے، ہندوستان کےحالات اس بات کا بار بار تقاضا کر رہے ہیں کہ مسلم  قیادت نئی سوچ سےکام لے،نئی سوچ کا  ترجمہ اجتہاد  سے بھی کیا جاسکتا ہےاور نئی سوچ  کا  ترجمہ تجدید سے بھی کیا جاسکتاہے۔ ہمیں خود اپنے موقف پر نظر ثانی کرنی چاہئے کہ کیا اکثریت سےدوری بنائے رکھنے کا طریقہ جس پر مسلسل عمل جاری ہےکوئی فائدہ مندموقف ہے؟اور اگر نہیں ہے تو  پھر دوسرا موقف کیا ہواس پر غور کیا جانا چاہئے۔

جس قوم کی قیادت بیدا ر مغز ہوتی ہے وہ اپنے اپنے ملک اور علاقہ میں نئے زاویوں سے سوچتی ہے اور نئے تجربات کرتی ہے اور نفوذ و اقدام کی نئی راہیں تلاش کرتی ہے، صرف مضامین لکھنا اور اخباری بیان جاری کرنا یا سیمینار و سمپوزیم  منعقد کرکے قرار دادیں منظور کر دینا یہ مسائل کا حل قطعی نہیں ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ اپنی ڈگر پر چلتے رہیں اور نئی نسل دوسری راہ پر چل پڑے ، اس لئے ضروری ہے کہ اعتماد و حوصلہ کےساتھ آگے بڑھئے اور آگے بڑھنے کےلئے سوچئے نئی ڈپلومیسی اختیار کیجئے۔

ہندوستا ن میں ممتاز دانشوروں ، باخبر لوگوں ، تجزیہ نگاروں اور قدیم و جدید کی معلومات رکھنے والوں کی کمی نہیں ہے تو پھر مایوسی کس بات کی، کیا یونیورسٹیز کےشعبوں میں پڑھانے والےاساتذہ سےمدد نہیں مل سکتی  ، کیا انگریزی ، ہندی اردو اخبارات کے ممتا ز صحافیوں سےمدد نہیں مل سکتی، کیا مختلف سطح پر سرگرم سماجی افراد سےمدد نہیں مل سکتی، کیا دعوت کےمیدان میں کام کرنے والے سنسکرت وہندی جاننے والے افراد سے مدد نہیں مل سکتی ، آخر کیا کمی ہے،کچھ نہ کچھ توڑ کر کے ڈائیلاگ کی سیادت کو استعمال کر کے دیکھا جائے شاید یہ مفید ثابت ہو۔

کیا یہ سچ نہیں ہے کہ اکثریت اور اقلیت کے درمیان فاصلہ تھا  اور فاصلہ ہے ،  یہ فاصلہ بنائے رکھنے کی ذمہ داری کس کے سر ہے اور اس فاصلہ سے پوری ملت کو کتنا فائدہ پہنچا کیا ایک ملک میں رہنے والی مختلف آبادیوں کے درمیان فاصلے قائم کر کے کام کیا جا سکتا ہے ، جب فاصلے بڑھ جاتے ہیں تو بد گمانیاں بھی پیدا ہونے لگتی ہیں، وہی بد گمانیاں شبہات کو جنم دیتی ہیں اور شبہات نفرت کو جنم دیتےہیں اور نفرت کے نتیجہ میں دہشت گردی وجود میں آتی ہے اس لئے اگر ملک  میں ہمہ گیر امن و امان کا قیام مطلوب ہے تو اس کے لئے آپسی بات چیت یعنی اقلیت و اکثریت کے درمیان براہ راست بات چیت کا سلسلہ ہر سطح پر قائم ہونا چاہئے ۔

WhatsApp Group Join Now

admin

An online Urdu Magazine for women.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *