نظم
کہیں،، رنجشوں کی کہانیاں
کہیں دھمکیوں کا ہے سلسلہ
مجھے کہہ دیا ہے امیر نے
کرو،،،، حُسنِ یار کا تذکرہ
تمہیں کیا پڑی ہے کہ رات دن
کہو،،،،،، حاکموں کو بُرا بھلا
تمہیں،،، فکرِ عمرِ عزیز ہے
تو نہ حاکموں کو خفا کرو
جو امیرِ شہر کہے تُمہیں
وہی شاعری میں کہا کرو
کوئی واردات کہ دن کی ہو
کوئی سانحہ کسی رات ہو
نہ امیرِ شہر کا زکر ہو
نہ غنیمِ وقت کی بات ہو
جو کہیں ہو ڈاکہ زنی اگر
تو نہ کوتوال کا،،،،، نام لو
میرے جاں نثاروں کو حُکم ہے
کہ،،،،،، گلی گلی یہ پیام دیں
جو امیرِ شہر کا حُکم ہے
بِنا اعتراض،، وہ مان لیں
جو میرے مفاد کے حق میں ہیں
وہی،،،،،،، عدلیہ میں رہا کریں
مجھے جو بھی دل سے قبول ہوں
سبھی فیصلے،،،،،،، وہ ہُوا کریں
جنہیں مجھ سے کچھ نہیں واسطہ
انہیں،،،، اپنے حال پہ چھوڑ دو
وہ جو سرکشی کے ہوں مرتکب
انہیں،،،،گردنوں سے مروڑ دو
وہ جو بے ضمیر ہیں شہر میں
اُنہیں،،،زر کا سکہ اُچھال دو
جنہیں،، اپنے درش عزیز ہوں
اُنہیں کال کوٹھڑی میں ڈال دو
جو میرا خطیب کہے تمہیں
وہی اصل ہے، اسے مان لو
جو میرا امام،،،،،،، بیاں کرے
وہی دین ہے ، سبھی جان لو
کوئی اپنا حق جو طلب کرے
تو اسے زمیں میں اتار دو
جو میرے حبیب و رفیق ہیں
انہیں، خُوب مال و منال دو
جو، میرے خلاف ہیں بولتے
انہیں، نوکری۔ سےنکال دو
جو ہیں بے خطاء وہی در بدر
یہ عجیب طرزِ نصاب ہے
جو گُناہ کریں۔ وہی معتبر
یہ عجیب روزِ حساب ہے
نامعلوم

