سدا درود پڑھیں
شاعرہ: امۃ الباری ناصر۔ امریکہ
خدا سے پیار بڑھائیں سدا درود پڑھیں
قبول ہوں گی دعائیں سدا درود پڑھیں
گھروں پہ سایہ رہے اس کے فضل و رحمت کا
سدا سکون ہی پائیں سدا درود پڑھیں
سفر پہ جانا ہو تو خیر مانگتے جائیں
قدم قدم جو اُٹھائیں سدا درود پڑھیں
ہر ایک سمت زمانے میں شر کے ساماں ہیں
ہوں دور ساری بلائیں سدا درود پڑھیں
خدا جو خوشیاں دے ہم کو تو شکر کرتے ہوئے
خوشی کو اور بڑھائیں سدا درود پڑھیں
خدا سہارا ہے اپنا تو خوف کیسا ہے
غم و الم کو ہٹائیں سدا درود پڑھیں
وہی تو پار لگاتا ہے امتحانوں میں
دعا میں سر کو جھکائیں سدا درود پڑھیں
اللّھُمّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَّ آلِ مُحَمَّدٍ وَ بارِکْ وَ سَلَّم اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیْدٌ


