نظم
خاکسار کنیز بتول نجمہ
جکا کے پلکیں درود پڑھ کر
خداۓ واحد کا نام لے کر
عقیدتوں کے محبتوں کے
میں چاہتوں کے سلام لے کر
بنا کے قر طاس دل اور پھر
بصد خلوص احترام لکھو ں
قلم حیا کو بنا کے اپنا
میں ایک خط ان کے نام لکھوں
میں انکو لکھوں گی میرےساقی
کہ میکدے کے امین تم ہو
ملی ہے مے لاالہ کی جس میں
میرا وہ جامِ یقین تم ہو
میں انکو لکھوں اندھیری شب میں
امید ِ صبح کی جان تم ہو
وفا کی مسجد سے ھو نے والی
فجر کی پہلی اذان تم ہو
میں ان لکھو ں نماز قائم
ہے جس سہاے ستون تم ہو
خدا کو پا کر جو مطمئن ہو
قسم سے وجہ ِ سکو ن تم ہو
ھو مہدویت کا عکس مطلق
محمددیت کا روپ تم ہو
کہ شرک کی برف جس سے پگلے
وہ فضل ِ ربی کی دھوپ تم ہو
خلیفتہ اللہ ہو اس ذمیں پر
خدا کا رعب وجلال تم ھو
جو حسن احمد مجھے دیکھاۓ
وہ آ ئینہ با کمال تم ھو
میں ان کو لکھو ں عقیدتو ں کے
فلک پہ میر ی اڈان تم ھو
فقط ہے نجمہ نے اتنا کہنا
میرا تو سارا جہان تم ھو

