میری پیاری والدہ آمنہ بیگم صاحبہ
اہلیہ مکرم عبد الرحیم دیانت‘ درویش قادیان
ہماری بہن امۃ الباری ناصر نے ” زندہ درخت” تصنیف کی اس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دو اصحاب میرے دادا جان حضرت میاں فضل محمد ؓ اور میرے نانا حضرت حکیم اللہ بخش ؓ کے علاوہ ہمارے والد محترم عبد الرحیم صاحب درویش اور خاندان کے افراد کا ذکر خیر ہے ۔ یہ کتاب ہمارے لئے بہت اہم ہے کیونکہ بعد میں آنے والے افراد کو جب بھی اپنے بزرگوں کے حالات جاننے کی ضرورت پڑے گی وہ لازماً اس کتاب کی طرف ہی رجوع کریں گے۔ اس لحاظ سے یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ ’’زندہ درخت‘‘ ایک زندہ کتاب ہے جو ہمارے گھر کے تمام افراد کو زندگی اور غذائیت بخشتی ہے۔ اس کتاب میں ہماری والدہ محترمہ کے حالات بھی مذکور ہیں تا ہم اُن کی باتیں پڑھ کر لگتا ہے کہ اُن کے حالات جاننے کی پیاس اور بڑھ گئی ہے۔
باری بہن اصرار کررہی ہیں کہ یہ خاکسار اس مضمون پر کچھ لکھے۔ بہن کو تو اپنے بھائی پر ہر بہن کی طرح حسن ظنی ہوتی ہی ہے۔ خاکسار کو بھی یہ خوش فہمی تھی کہ پنجابی محاورہ کے مطابق کچھ ’’کچھ لکھنا پونجنا‘‘ آتا ہے۔ لیکن جب اس مضمون پر غور کرنے لگا تو یہ ایک بہت ہی مشکل کام لگ رہا ہے ۔ ایک ایسی خاتون کے اوصاف اور خوبیاں کس طرح بیان کی جا سکتی ہیں جو ماشاءاللہ اپنے آٹھ بچوں کی پرورش و تربیت کی تمام ذمہ داریوں‘ بے شمار گھریلو مصروفیات کی سر انجام دہی کے ساتھ حقوق اللہ کی ادائیگی میں ہر وقت ہمہ تن منہمک رہتی تھی۔ جس کے حقوق العباد کی ادائیگی کی فہرست بھی اتنی طویل ہے کہ جب بھی اسے مرتب کرنے یا ذہن میں حاضر کرنے کی کوشش کی تو وہ پھیلتی ہی چلی جاتی ہے ۔ ان کی اس خوبی کی وجہ سے ہمارا گھر قادیان کے رشتہ داروں اور عزیزوں کے لئے ہی نہیں قادیان کے باہر کے عزیزوں کے لئے بھی ایک مرکز کی طرح تھا ۔ ایک بزرگ خاتون جو تلونڈی گاؤں سے کئی میل پیدل چل کر آتی تھیں وہ ہمیشہ کہتی تھیں کہ جب مجھے اپنی بہن کے چوبارہ کی ممٹی نظر آتی ہے تو میری ساری تھکان دور ہوجاتی ہے ۔ وہ خاتون جس نے کبھی کسی سکول کے کسی کمرہ کو اندر سے نہیں دیکھا ہؤا تھا اُس نے اپنی اولاد کو ہی نہیں کئی ملنے والوں کو بھی پڑھائی کی طرف مائل کیا۔
قادیان میں تو خدا تعالیٰ کے فضل سے فارغ البال اور خوشحالی تھیں اور ان ذمہ داریوں کی ادئیگی بسہولت ہوجاتی تھی لیکن اباجان کی درویشی اور ہماری ہجرت نے حالات کو یکسر تبدیل کر دیا مگر ہماری امی جان کے وقار، تحمل اور خاندان بھر میں ان کی عزت و احترام میں خدا تعالیٰ کے فضل سے اضافہ ہی ہوتا رہا۔ خدا کے فضلوں کی بارش ان کے توکّل و تعلق اور جماعت سے گہری وابستگی کا نتیجہ ہی ہوسکتا ہے ورنہ یہ کسی بھی انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔
تیرے اے میرے مربی کیا عجائب کام ہیں
گرچہ بھاگیں جبر سے دیتا ہے قسمت کے ثمار
درویش کی اہلیہ نے قادیان کس حالت میں چھوڑا ہو گا اور ہجرت کس طرح کی ہو گی اس کا پوری طرح اندازہ کرنا نا ممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔ بھرے پُرے گھر کو چھوڑنا۔ قادیان دارالا مان کی جنت سے نکلنا۔ خاوند (جو ہر وقت ہر طرح مدد اور رہنمائی کے لئے بخوشی تیار رہتے ) سے علیحدگی و جدائی ‘ کوئی معین ذریعہ آمد کا نہ ہونا چھوٹے چھوٹے بچوں اور لڑکیوں کا ساتھ رشتہ داروں کا نہ ہونا ۔ حاملہ ہونے کی وجہ سے صحت کے کئی مراحل و مسائل ۔ غم و اندوہ کے اس پہاڑ میں یقیناً توکل ہی کی طاقت تھی جس پر اعتماد کیا جا سکتا تھا ۔ اگرچہ اپنی ضروریات کے لئے مختلف دفاتر کا راستہ کھلا تھا تاہم ہماری اُمی جان کا اپنے خدا پر اتنا توکل اور بھروسہ تھا کہ وہ صرف اسی کے حضور اپنی ہر ضرورت پیش کرتی تھیں جماعت کو اس مشکل وقت میں اپنی ضروریا ت بتانا خلاف ایمان و توکل سمجھتی تھیں۔
قادیان سے نکلنا بھی ان حالات میں بہت بڑا مسئلہ تھا ۔ سب سے پہلی روک تو ہمارا یہ یقین ہی تھا کہ ہمیں قادیان کو چھوڑنا نہیں پڑے گا ۔ پھرذرائع آمدورفت مکمل طور پر مفلوج ومتروک ہوچکے تھے ۔ جماعتی طور پر کو شش ہو رہی تھی مگر اس کے متعلق عام طور پر کوئی اعلان نہیں ہؤا تھا ۔ یہ ضروری تھا کہ احمدی قافلوں کی صورت میں نہ جائیں کیونکہ وہ لوگ جو قافلوں میں شامل ہوکر جانے کی کوشش کرتے تھے ا نہیں راستہ میں بے شمار تکالیف اور سختیوں کا مقابلہ کرنا پڑتا تھا ۔ بعض قافلے تو باقی رہ جانے والی معمولی پونجی سے ہی نہیں اپنی جان سے بھی جاتے تھے۔ انسانی قتل ان دنوں اتنا ارزاں ہو گیا تھا کہ الامان و الحفیظ۔
بھلا ہو ہمارے ایک پڑوسی عمر حیات خان صاحب کا جو فوج میں ملازم تھے اور اپنے اثر ورسوخ سے ایک فوجی ٹرک قادیان لانے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ انہوں نے کمال مہر بانی اور ہمسایوں سے حسن سلوک کرتے ہوئے والدہ محترمہ اور بہنوں کو ساتھ لے جانے کی حامی بھر لی۔ اُن کا ٹرک دوسرے ایسے ٹرکوں کے ساتھ دارالشکر کے محلہ میں کھڑا تھا وہاں سامان کے اُوپر سب بیٹھے تھے اباجان نے امی جان کو بمشکل اس ٹرک پر سوار کرایا اور باقی بچوں یعنی بہنوں کو بھی وہاں ہی ٹھونس دیا گیا ۔ ڈرائیور کے پیچھے کونے میں ایک جگہ نظر آئی تو اباجان نے اس جگہ سے فائدہ اُ ٹھاتے ہوئے مجھے بھی وہاں سوار ہونے کا اشارہ کیا چنانچہ خاکسار نے یہ لمبا سفر اس حال میں کیا کہ بمشکل آدھا دھڑ ٹرک میں تھا ۔سامان پر بیٹھی ہوئی سواریاں بھی یقیناً کروٹ تک بدلنے کی سہولت سے محروم تھیں ۔ لیکن وہ حالات ہی ایسے تھے کہ ایسی سواری کو بھی بہت غنیمت سمجھا جاتا تھا ۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ابھی ہمارے ٹرک قادیان میں ہی کھڑے تھے کہ ہم نے دیکھا کہ لوگ ایک چار پائی پر کسی زخمی کو کو اٹھائے ہوئے ہسپتال کی طرف جا رہے ہیں اور چار پائی سے خون ٹپک رہا تھا ۔ معلوم ہوا کہ کوئی بوڑھا آ دمی رفع حاجت کے لئے باہر گیا تھا اور اُس پر حملہ کرکے شدید زخمی کر دیا گیا ہے ۔ خدا خدا کرکے ٹرکوں کا یہ کارواں روانہ ہؤا اِن دنوں بارشیں بہت ہوئی تھیں جس کی وجہ سے رستے خراب ہو رہے تھے ۔ ماحول وحشت ناک اور خوفناک تھا ۔ جب ہم بٹالہ پہنچے تو ایک سکول میں جہاں مسلمان جانیں بچاکر جمع ہوئے تھے وہاں کئی بوڑھے لوگ فوجیوں کے سامنے ہاتھ جوڑ کر بڑی لجاجت اور رقت سے کہہ رہے تھے کہ ہمیں بے شک مرنے کے لئے یہاں چھوڑ جائیں مگر ہماری جوان بچیوں کو لےجائیں یہاں اِن کی عزت اور جان خطرے میں ہے ٹرک تو پہلے ہی گنجائش سے زیادہ بھرے ہوئے تھے لِہٰذا اس بات پر انہیں صرفِ نظر کے سوا چارہ نہ تھا۔ نجانے ان پیچھے رہ جانے والوں میں سے کتنے لوگ اپنی عزت اور جان کی حفاظت کر سکے ہوں گے۔
اس خوفناک سفر کی نا قابلِ فرا موش یادوں میں سے ایک یہ یاد بھی ہمیشہ تکلیف دیتی ہے کہ بٹالے سے آ گے قریباً سارا رستہ ہی دونوں طرف قافلے جا رہے تھے ۔ اور کچھ لوگ سستانے کے لئے کہیں کہیں بیٹھے ہوئےنظر آ تے تھے مگر اُ ن کی یہ حالت تھی کہ ایک طرف چولہے پر روٹی پک رہی ہے اور ایک طرف کوئی لاش پڑی ہے ۔ ایسے لگتا تھا کہ لاشوں کو دفن کرنے کی ہمت اور فر صت بھی نہیں ہے ۔ انسانیت اور شرافت کے ماتھے پر مصائب و مظالم کا سیاہ داغ ہمیشہ چپکا رہے گا ۔
سارے دن کی پر خطر مسافت کے بعد ہمارا قافلہ رتن باغ اور جودھا مل بلڈنگ کے در میان والی سڑک پر رُکا حضرت مصلح موعود ؓ کی او لوالعزمی سے یہاں جماعتی زندگی کے پر پُرزے نکلنے شروع ہوگئےتھے ۔ میں بے یارو مدد گار ادھر اُدھر دیکھ رہا تھا کہ میرے بچپن کے دوست اور کلاس فیلو خواجہ عبد لحکیم صاحب نظر آئے انہوں نے سامان اٹھانے میں میری مدد کی اور رتن باغ کے اُس حصہ میں پہنچا دیا جو سکول کے نام سے مشہور تھا وہاں ہمیں ایک برآمدہ مل گیا ۔ ان مصائب اور مشکلات میں وہ جگہ بھی بہت پُر سکون تھی ۔
جیسا کہ اُ وپر ذکر ہو چکا ہے خا کسار قادیان سے بغیر کسی تیاری و پروگرام کے آ گیا تھا اس لئے ایک نیکر اور بہت پرانی دیسی جوتی میں ایک عرصہ تک رہنا پڑا ۔ میرے بچپن کی یہ یاد بھی ہمیشہ میرے ساتھ رہتی ہے کہ مجھے اباجان نے اُن دنوں بہت خوبصورت شوز لے کر دئے تھے جنہیں میں بہت احتیاط اور خوشی سے استعمال کرتا تھا مگر اس سفر پر روانہ ہوتے وقت ان کو جھاڑ پونچھ کر ’’بحفاظت‘‘ اپنی بڑی الماری کے نیچے یہ سوچ کر رکھ آیا تھا کہ چند دنوں کی تو بات ہے واپس آ کر انہیں استعمال کروں گا۔
اے بسا آرزو کہ خاک شدہ
قادیان کے مدرسہ احمدیہ میں خاکسار کا پہلا سال تھا اور میرے بڑے بھائی مجھ سے تین سال آگے تھے۔ ہجرت کے بعد حالات مختلف ہو گئے تو انہوں نے کھانے کمانے کے لئے کوئی کام کرنے کا ارادہ ظاہر کیا۔ امی جان نے بڑی سختی سے منع کر دیا کہ آپ کے اباجان کی شدید خواہش ہے کہ آپ مبلغ بن کر سلسلہ کی خدمت کریں۔ اگر کمانے میں لگیں گے تو پڑھائی نہیں کر سکیں گے۔ یہ فیصلہ ان کے آہنی عزم کا ثبوت ہے۔
ہمارے معاشرے میں لڑکیوں کی شادی ایک بڑا مسئلہ اور بہت مشکل مرحلہ ہے۔ امی جان نے کمال حوصلہ اور فراست سے کام لیتے ہوئے پانچوں بہنوں کی تعلیم اور سلسلے کی خدمت کا اہتمام کیا بڑی بہن کو حضرت مصلح موعود ؓ نے ’’دار الخواتین‘‘ کا انچارج مقرر فر مایا ( دار الخواتین کا تفصیلی ذکر کسی اور جگہ بیان ہوگا)۔ ان حالات میں جب کہ ہمارے ہاں جہیز کے بد رواج کو بھی شادی کے وقت ذہن میں رکھا جاتا ہے امی جان نے کمال تدبر سے سب بہنوں کے بر وقت موزوں رشتے کئے ۔ اس سلسلہ میں یہ امر قابل ذکر ہے کہ ابتدا میں حضرت مرزا بشیر احمدؓ ’’ناظر خدمت درویشان‘‘ تھے۔ آ پا جان کے رشتہ کے سلسلہ میں امی جان ان سے رہنمائی اور مشورہ کرتی تھیں اور انہوں نے خوب خوب مدد فر مائی نہ صرف رشتہ تجویز فر مایا بلکہ زیر تجویز رشتہ کے متعلق اپنے طور پر معلو مات حاصل کر کے امی جان کو بتایا کہ میں نے عزیز شیخ خورشید احمد صاحب اسسٹنٹ ایڈیٹر الفضل کے متعلق تحقیق کر والی ہے ۔۔۔ اس تحقیق کے دوران قادیان کے جلسہ قادیان کے جلسہ سلانہ پر حضرت میاں صاحب نے اباجان کی اور قادیان کی زیارت کے لئے ہم سے کسی بھائی یا بہن کی بجائے برادرم خورشید صاحب کو قافلہ میں شامل کیا ۔ بڑی بہن کی شادی کے بعد حضرت میاں صاحب نے امی جان کو فر مایا کہ اب یہ نہ سمجھنا کہ تمہارا فرض ادا ہو چکا ہے بلکہ ” اِک مُکی چُک لَے تے دُوجی تیار” والی بات ہے ۔
خدا تعالیٰ کے فضل سے امی جان نے حضرت میاں صاحب کی اس نصیحت کو ہمیشہ یاد رکھا اور اس سے فائدہ بھی اُ ٹھایا بعد میں جب حضرت مرزا ناصر احمد صاحب ناظر خدمت درویشان مقرر ہوئے تو وہ بھی رہنمائی فر ماتے رہے۔ اس سلسلہ میں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ ایک دفعہ کوئی خاتون اپنے بیٹے کے لئے رشتہ کی تلاش میں محترمہ استانی میمونہ صاحبہ سے مشورہ کرنے کرنے کے لئے گئیں (محترمہ لجنہ کے رفاہی اور انتظامی امور میں پیش پیش ہوتی تھیں اور بڑی اچھی شہرت کی مالک تھیں ) ۔ تو محترمہ استانی صاحبہ نے انہیں ہماری امی جان کے پاس جانے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ’’اس درویشنی نے لڑکیوں کی آمدنی کا لالچ نہیں کیا اور بر وقت رشتے کئے ہیں‘‘ یہ واقعی ایک بہت بڑی بات ہے ۔ میری بہنوں نے اللہ کے فضل سے اچھی تعلیم حاصل کی گھر کے کام کاج اور سلیقہ میں بھی خوب توجہ دی تعلیم کے بعد وہاں سکول یا کالج میں فوراً ملازمت بھی حاصل کی مگر امی جان نے ان کی شادی کرتے وقت کبھی بھی ان کی ملازمت اور آ مدنی کو پیش نظر نہیں رکھا ۔
اُمی جان کے توکل اور ایمان کی ایک اور بات بھی ذہن میں آ رہی ہے ۔ ایک دفعہ کسی بہن کے لئے رشتہ آیا لڑکے کی والدہ کے اصرار پر امی جان اُن کے ہاں گئیں وہاں سے واپسی کے وقت وہ سوچتی ہوئی آ رہی تھی کہ میں تو گھر میں اکیلی ہوں۔ لڑکی کے والد صاحب قادیان میں ہیں میں گھر جا کر کس سے مشورہ کروں گی ۔ خدا کرے کہ میرے گھر جانے پر گھر کا دروازہ باسط کھولے ۔ خاکسار ان دنوں ملتان میں بطور مربی خدمات بجا لا رہا تھا ۔ ربوہ آ نے کا کوئی پروگرام اور موقع نہ تھا ۔ اچانک دفتر نے کسی کام سے بلایا خاکسار ربوہ دفتر میں حاضری اور ضروری کام کو نپٹانے کے بعد گھر آ گیا ۔ گھر میں کوئی نہیں تھا ۔ تھوڑی دیر کے بعد کوئی دروازہ پر آیا میں نے دروازہ کھولا تو امی جان حیران اور ہکا بکا رہ گئیں ۔ میں نے کہا کہ آپ تو ایسے حیران ہو گئی ہیں جیسے میرے آنے کی کوئی خوشی نہ ہوئی ہو ۔ کہنے لگیں کہ خوشی جیسی خوشی میں تو راستہ بھر یہی سو چتی ہوئی آ رہی تھی کہ کاش میرا بیٹا باسط میرا دروازہ کھولے ۔ اللہ نے غیر معمولی طور پر میری خواہش پوری کر دی ۔
اس مضمون میں ابھی تک میرے درویش باپ کا ذکر نہیں آیا لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ اِن امور سے بے تعلق تھے۔ انہوں نے قادیان میں جو طریق اور راستہ اختیار کیا ہؤا تھا اس کے مطابق کبھی مسجد مبارک‘ کبھی مسجد اقصیٰ ‘کبھی بیت الدعا اور کبھی بہشتی مقبرہ میں بلکہ کام اور مصروفیت کے درمیان بھی برابر دعاؤں میں لگے رہتے تھے۔ اور دعاؤں کے ان تحفوں کے ساتھ امی جان کو تسلی اور اطمینان کے خطوط میں اپنے آنسو اور جذبات کاغذ پر منتقل کرنے کی کوشش کرتے اور ہر کام میں برابر شریک رہتے۔
سادگی‘ صفائی‘ انکساری اور اخلاص ایسے امور تھے جن کی اہمیت و ضرورت کتابوں میں پڑھنے سے بہت پہلے ہم نے اپنے گھر میں سیکھے تھے ۔ ہمارا گھر قادیان کا اوسط درجہ کا گھر تھا مگر ہمارے والدین کی باہم افہام و تفہیم ۔ مسابقت بالخیرات کے قابل رشک جذبہ کی وجہ سے منفرد و ممتاز تھا ۔ اباجان اپنی دکان اور دوسری مصروفیات کی وجہ سے گھریلو امور کے لئے زیادہ وقت نہیں نکال سکتے تھے تاہم قریباً ہر کام میں ان کی رہنمائی اور اعانت ضرور شامل ہوتی تھی ۔
مجھے یاد ہے ابا جان صبح کی نماز پر جاتے ہوئے کوئلے کی انگیٹھی جلا کر صحن میں رکھ دیا کرتے تھے تا کہ کوئلے کا دھواں نکل جائے اور جب مسجد سے نماز پڑھ کر واپس آتے تھے تو کوئلے خوب دہک رہے ہوتے تھے۔ اباجان وہ انگیٹھی اُٹھا کر اندر کمرے میں لے آتے جس سے کمرہ بھی خوب گرم ہو جاتا اور امی جان کے لئے ناشتہ وغیرہ کا اہتمام بھی آ سان ہو جاتا ۔
امی جان بہت عبادت گزار تھیں ۔ باقاعدہ تہجد ادا کرتی تھیں ۔ نمازوں کے علاوہ نوافل اور تلاوت بھی با لالتزام کرتی تھیں ۔ نوافل کے ذکر سے ایک لطیفہ بھی یاد آ گیا ۔ امی جان ہر نماز سے پہلے اذان کے ساتھ نفل ادا کیا کرتی تھیں ۔ ایک دفعہ میں نے نوٹ کیا کہ وہ فجر سے پہلے فجر کی اذان کے معاً بعد نفل ادا کر رہی ہیں ۔ میرے پو چھنے پر انہوں نے بتایا کہ میں ہر اذ ان کے دو نفل ضرور ادا کرتی ہوں ۔ فجر کے وقت بھی ایسا ہی کرتی ہوں ۔ میں نے کہا کہ فجر کے وقت میں نوافل کی ادائیگی منع ہے (یہ اُس وقت کی بات ہے جب یہ خاکسار جامعہ المبشرین کا طالب علم تھا اور مولوی فاضل کر چکا تھا)۔ میری بات سے کچھ پریشان سی ہو گئیں ۔جیسے نفلوں میں کمی انہیں گراں گزرہی ہو ۔ کہنے لگیں تم اچھے مولوی ہو لوگ تو نفل کی ادائیگی موجب ثواب بتاتے ہیں اور تم مجھے نفل پڑھنے سے روک رہے ہو ۔ پھر کہنے لگیں کہ میں نفل تو نہیں چھوڑ ونگی اور اپنی ’’استانی جی‘‘ سے یہ مسئلہ دریافت کروں گی ۔ استانی جی سے اُ ن کی مراد مکرم مولوی احمد خان صاحب نسیم کے خاندان کی ایک بزرگ خاتون تھیں جن سے قادیان میں امی جان نے قرآن مجید پڑھا تھا ۔ خیر گزری کہ محترمہ استانی جی نے بھی میری بات کی تصدیق کردی۔ امی جان نے یقیناً کسی اور مناسب وقت پر اپنے نفلوں میں اضافہ کر لیا ہوگا ۔
صفائی اور نفاست آ پ کی عادت ثانیہ تھی ۔ ہر کام میں اس امر کا ضرور خیال رکھتی تھیں ۔ پنجاب میں عام طور پر گھروں میں گوبر کے اپلے ( پاتھیاں) جلائی جاتی تھیں۔ ہمارے ہاں یہ ایندھن شاذ ہی کبھی استعمال ہوا ہو۔ آپ اسے نا پسند کرتیں اور بچوں کو اُس کی گندگی کی طرف توجہ دلاتیی۔ بچوں کے پوتڑے جو اُن دنوں عام طور پر پرانے کپڑوں کی کانٹ چھانٹ سے بنا کرتے تھے اور اِن دنوں آج کل استعمال ہونے والے Disposable بھی نہیں ہوتے تھے ۔ اِن پو تڑوں کو دھونے کے لئے الگ جگہ اور خشک کرنے کے لئے عام رسی سے الگ رسی باندھی جاتی تھی۔ پوتڑوں کو ساتھ کے ساتھ دھونے کی بھی تاکید ہوتی تھی ۔ اکثراوقات تو وہ یہ کام خود ہی انجام دیتی تھیں ۔ ان دنوں شاور اور اٹیچ باتھ روم یا واش روم کا رواج تو نہیں تھا عام طور پر نہانے کے لئے بالٹی استعمال ہوتی تھی ۔ امی جان ہمیشہ یہ اہتمام کرتی تھیں کہ بالٹی خواہ صاف ہی نظر آ رہی ہو مگر اُسے مانجھ کر نہانے اور پانی بھرنے سے پہلے پاک کیا جاتا تھا ۔ کھانا کھاتے وقت ہاتھ دھونے کی پابندی ہوتی تھی اگر کوئی بچہ بے دھیانی میں بھی بالوں کو ہاتھ لگا لیتا تو اسے دوبارہ ہاتھ دھونے کے لئے کہا جاتا تھا ۔ لباس ہمیشہ صاف ستھرا استعمال کیا کرتی تھیں۔ دوپٹہ سفید ململ کا استعمال کرتی تھیں اور وہ معمولاً ان کے استعمال میں ایسے ہوتا تھا گویا ان کے جسم کا حصہ ہو۔
1969ء کے اوئل میں خا کسار کو تنزانیہ جانے کے لئے منتخب کیا گیا ۔ اس امر کے پسِ منظر میں ایک لمبی کہانی ہے جو کبھی موقع ملا تو بیان کر سکوں گا ۔ مختصر یہ کہ اس وقت یہ طریق تھا کہ جامعہ میں تعلیم کے زمانہ میں ہی یہ فیصلہ کر لیا جاتا تھا کہ جامعہ کے طالب علموں میں سے کون پاکستان میں خدمت کرے گا اور کون بیرون پاکستان جائے گا ۔ خاکسار اِن طالب علموں میں شامل تھا جو اندرونِ پاکستان رہنے کے لئے تھے اور یہی وجہ ہے کہ جامعہ سے فراغت کے بعد اس خاکسار کو کراچی میں کم و بیش آ ٹھ سال خدمت کرنے کی سعادت حاصل ہوئی ۔ اس کے بعد ملتان ، بورے والا، حیدر آ باد اور لاہور میں بھی بطور مربی رہا ۔ یہ زمانہ کم از کم پندرہ سال بنتا ہے ۔ اس دوران یہ محسوس کیا گیا کہ یہ تقسیم ( جسے ہم عام طور پر انجمن اور تحریک کے نام سے یاد کیا کرتے تھے یعنی فلاں مربی انجمن کا ہے اور فلاں تحریک کا ہے) قابل توجہ ہے اور بطور تجربہ کے تین مربیوں کو تحریک میں بھجوا دیا گیا جن میں سے ایک یہ خا کسار تھا ۔ میں بیان یہ کرنے لگا تھا کہ جب میں تنزانہ جارہا تو یہ میرے بزرگ والدین کی بہت پرانی اور بہت بنیادی خواہش پوری ہو رہی تھی ۔خواہش کی شدت کے اندازے کے لئے ایک واقعہ لکھتا ہوں۔ ایک دفعہ اباجان ا مجھے اپنے ساتھ لے کر جوتوں کی دکان پر گئے اور میرے لئے ایک جوتا پسند کر کے خرید لیا ۔ قادیان کے وہ دکاندار مجھے اور میرے بعض احباب اور عزیزان کو بتایا کرتے تھے کہ جب بھائی جی (ابا جان کو قادیان میں بھائی جی یا دیانت صاحب کے نام سے پکارا جاتا تھا ) جانے لگے تو میں نے کہا کہ آپ نے اس پیارے سے گول مٹول بچے کو یہ سادہ سا اور سستا جوتا خرید کر دیا ہے آپ کو اللہ میاں نے فراخی دی ہے آپ اس کے لئے بہت بہتر جوتا خرید سکتے تھے تو اباجان نے جواب میں اُن سے یہ کہا کہ یہ بچہ واقفِ زندگی ہے میں اسے سادہ زندگی گزارنے کی عادت ڈالنا چاہتا ہوں اور یہ بھی کہ میں چاہتا ہوں کہ بیرون ملک تبلیغ کے لئے جائے اور اس کے اخراجات میں خود اُٹھاؤں ۔
امی جان بھی ہمیشہ ہی جب اس خا کسار کو پیار کرتیں تو اُن کے یہ فقرے جیسے آج بھی میرے کان میں گونج رہے ہیں کہ ’’میرا بچہ باہر جائے گا اذانیں دے گا لوگوں کو کلمہ پڑھائے گا‘‘ اُن کی یہ لوری میری سب سے پرانی اور خوش گوار یاد ہے ۔ مجھے اکثر یہ احساس ہوتا ہے کہ اس وقت میں بہت چھوٹا تھا یہ فقرے وہ مجھے گود میں لے کر پیار سے اچھال اچھال کر دہرایا کرتی تھیں۔ جو دعا بن کر لگے۔
خاکسار جب باہر جانے کی تیاری کررہا تھا تو طبعی طور پر میری اہلیہ کی طبیعت پر اس کا اثر تھا جس کا ضبط کرنے کی کوشش کے باوجود آ نکھوں کی نمی سے اظہار بھی ہوجاتا تھا تو امی جان نے اُن کو سمجھا تے ہوئے کہا کہ میری طرف دیکھو ۔ میَں بوڑھی ہوں ۔ میرا بچہ جا رہا ہے لیکن وہ اسلام کی خدمت کے لئے جا رہا ہے اس لئے میں خوشی خوشی اسے بھجوا رہی ہوں ۔ صبر سے اللہ تعالیٰ خوش ہوتا ہے۔
1976ء میں جب اُمی جان کا سفر آخرت شروع تھا تو خا کسار ربوہ میں ان کے پاس موجود نہیں تھا اور اس طرح اُن کی کسی بھی خدمت کی توفیق نہ پا سکا ۔ ( اللہ تعالیٰ معاف فر مائے ) اُن کی بیماری اور آخری دنوں کی باتوں کے متعلق خا کسار اپنے بھائیوں سے کرید کرید کر پوچھتا رہا کہ اُمی جان کی آخری دنوں کی باتیں کیا تھیں۔ اور اس بات پر بہت تعجب کرتا تھا کہ انہوں نے اس وقت میرا با لکل کوئی ذکر نہیں کیا ۔ بڑے بھائی جان
( عبد المجید نیاز مرحوم) کو یاد کر کے کہتی تھیں کہ وہ بہت جذباتی ہے وہ کس طرح میرا صدمہ برداشت کرے گا۔ خا کسار کے لئے یہ امر بہت مسرت کا باعث ہے کہ مجھے اُ می جان کی خوشنودی حاصل رہی اور وہ اس نالائق کے ساتھ بہت پیار کرتی تھیں ۔ بلکہ وہ پیار سے اباجان سے کہا کرتی تھیں کہ میں آپ سے کوئی ہیرا نہیں مانگتی آپ مجھے یہ بیٹا دے دیں اور یہ بھی کہا کرتی تھیں کہ میں نے اسے ’’مل‘‘ لیا ہوا ہے۔ اس وجہ سے آخری بیماری میں جب کہ خا کسار بیرون ملک تھا اُن کا مجھے یاد نہ کرنا بہت ہی تعجب انگیز تھا بلکہ بعض اوقات تو اس بات پر خاکسار پریشان بھی ہو جایا کرتا تھا ۔ مگر یہ حقیقت خا کسار کو کچھ عرصہ کے بعد سمجھ میں آئی کہ جب وہ میری اہلیہ کو سمجھاتے ہوئے راضی برضا ہونے کا ذکر کرتی تھیں تو محض زبانی نہیں تھا بلکہ واقعی اس وقت خا کسار کو بخوشی الوداع کہہ کر اپنے کامل ایمان اور توکل سے کام لے رہی تھیں اور اپنے آ خری سفر پر جاتے ہوئے اس لحاظ سے کسی پریشانی میں نہیں تھیں ۔
اللہ تعالیٰ میری پیاری والدہ کے درجات بلند فرمائے اور جنت الفردوس میں عا لیٰ مقام عطا ء فر مائے ۔ آ مین اللھم آ مین ۔
عبدالباسط شاہد ۔ لندن
نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

