مسکراہٹیں
٭ ايک پاگل درخت سے اُلٹا لٹکا ہوا تھا۔ ايک راہ گير نے اسے ديکھا تو اس سے پوچھنے لگا۔ ’’کيا ہوا بھائي! آپ اُلٹا کيوں لٹکے ہوئے ہو؟‘‘
پاگل بولا۔ ’’يار! سر درد کي گولي کھائي ہے کہيں پيٹ ميں نہ چلي جائے۔‘‘
٭ چھ سو صفحات کي کتاب کتنے دنوں ميں پڑھي جا سکتي ہے؟
رائٹرنے کہا۔’’ چھ مہينوں ميں‘‘
ڈاکٹرنے کہا۔’’دو مہينوں ميں‘‘
وکيل نے کہا۔’’ايک مہينے ميں‘‘
طالب علم نے پوچھا۔’’پہلے يہ بتائو امتحان کب ہے؟
٭ والد صاحب نے بيٹے کے امتحان کا نتيجہ ديکھا تو بہت برہم ہوئے اور بولے۔
’’تمہارے جتني سہولتيں اگر مجھے ملي ہوتيں تو ميں ٹاپ کر ليتا۔‘‘
يہ سنتے ہي پاس بيٹھے دادا ابو مسکرا ديئے۔
٭ ايک شخص کسي دربار کے اندر رُو رُو کر دعا کر رہا تھا۔ ’’بابا جي! ميرا پرائز بانڈ ہر حال ميں نکلنا چاہئے۔‘‘
وہ اس جملے کي بار بار تکرار کر رہا تھا، جب وہ مزار سے باہر نکلا تو اس نے اپني جيب ميں ہاتھ ڈالا تو اس نے ديکھا کہ کسي نے اس کا پرائز بانڈ نکال ليا ہے۔ وہ دوبارہ اندر گيا اور کہنے لگا۔
’’بابا جي! پہلوں کے دي پوري گل سن ليا کرو…فير ايکشن ليا کرو۔‘‘
٭ بين الاقوامي سطح پر بليوں کي دوڑ کا ايک مقابلہ ہوا، تمام ممالک کي بليوں نے اس مقابلے ميں حصہ ليا۔مقابلہ شروع ہوا تو صوماليہ کي ايک کمزور بلي نے جو شروع ہي سے سب سے آگے تھي، اس نے مقابلہ جيت ليا۔
کسي نے بلي کے مالک سے پوچھا۔ ’’صوماليہ ميں تو بہت قحط پڑا ہوا ہے۔ آپ کي کم زور اور افلاس زدہ بلي کيسے جيت گئي؟‘‘
تو بلي کے مالک نے مسکراتے ہوئے جواب ديا۔’’يہ صوماليہ کي بلي نہيں، شير ہے شير‘‘
٭ ايک دفعہ ايک بولنے والے طوطے کي نيلامي ہو رہي تھي، طوطے کا پنجرہ ايک کونے ميں رکھا ہوا تھا۔ بولي لگنے لگي۔ ايک آدمي نے کہا۔ ’’3ہزار روپے۔‘‘ دوسرے شخص نے کہا۔ ’’5ہزار روپے۔‘‘ پہلے آدمي نے کہا:”10 ہزار۔‘‘ ايک کونے سے آواز آئي۔20 ہزار روپے۔‘‘
پہلے آدمي نے دوبارہ کہا۔’’25 ہزار روپے“ دوبارہ کونے سے آواز آئي۔’’30 ہزار روپے“ پہلے آدمي نے دوبارہ کہا۔’’40 ہزار روپے۔‘‘ طوطا نيلام ہو گيا۔ گھر آ کر مالک نے کوشش کي کہ طوطا بولے ليکن طوطا نہيں بولا۔ تنگ آ کر وہ اسے دوبارہ پہلے مالک کے پاس لے گيااور کہنے لگا۔’’يہ طوطا بولتا نہيں ہے۔‘‘ پہلے مالک نے جواب ديا۔’’يہ کيسے نہيں بولتا، يہي تو تمھارے ساتھ بولي لگا رہا تھا۔‘‘
٭ استا د نےشاگرد سےپوچھا ۔ ’’ يہ بتائو تمہيں سب سے زيادہ خوشي کب ہوتي ہے؟‘
شاگرد نے فوراً جواب ديا۔ ’’ جب آپ اسکول نہيں آتے۔‘‘
٭ اسکول کي چھٹي کے بعد سب بچے اپنے اپنے گھر واپس چلے گئے، ليکن پہلي بارا سکول آيا ہوا بچہ ناصر اسکول کے باہر ہي کھڑا رہا۔ کافي دير بعد جب استاد اسکول سے نکلے تو انہوں نے ناصر کو ديکھ کر پوچھا۔ ’’بيٹا!تم کھڑے کيوں ہو، کيا اپنےگھر نہيں جاوٴ گے؟‘‘بچہ بولا۔’’ نہيں سر! امي نے کہا تھا کہ اب تمہيں ميڑک تک اسکول ميں رہي رہنا ہے۔ ’’
(مرحہٰ کاشان شاد…… کراچي)

