گوشۂ ادب

محبت، جنگ اور فرض

Spread the love

پگڈنڈی پہ سویرا کے ساتھ اسکول سے واپس آتے ہوئے آج بھی اس کادل زور زور سے کسی انجانے خوف سے لرز رہا تھا جب بھی ٹھاکروں کے باغوں کے پاس سے گذرتی اس کا یہی حال ہوتا حالانکہ وہ کبھی بھی اکیلے ادھر سے نہیں گذرتی تھی سویرا اوردوسری ہم جماعت اسکے ساتھ ہی ہوتی تھیں گو کہ کبھی بھی کوئی بھی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا تھا لیکن اسے ٹھاکر کے بیٹے سے انجانا خوف سا رہتا تھا۔ پہلے تایا زاد رحمان بھی ساتھ ہوتا تھا اس کا اسکول بھی ان کے اسکول سے تھوڑے ہی فاصلے پہ تھا اور اسی کی وجہ سے اور دو تین اور لڑکیوں کے بھائیوں کے ساتھ ہونے کہ وجہ سے کبھی کوئی پریشانی نہ ہوئی تھی ہاں بس ٹھاکر کا برا بیٹا عین چھٹی کے وقت کسی نہ کسی طرح باغ کے کنارے ٹہل رہا ہوتا اور گذرتی لڑکیوں کو خاص طور پہ نازش کو اس وقت تک گھورتا رہتا جب تک کہ وہ گاؤں میں داخل نہ ہو جاتیں… لیکن ابھی وہ مڈل حصے میں ہی تھے کہ تایا جان گاؤں سے اپنے حصے کی تھوڑی سی زمین جو تھی بیچ کر شہر چلے گئے تاکہ بچوں کی پڑھائی آسانی سے مکمل ہو جائے ان دیہات میں تو صرف ایک ہی ہائی اسکول تھا اور وہ بھی کم از کم دیڑھ دو میل کے فاصلے پہ تھا جس طرح کا ماحول اور رہن سہن ان ٹھاکروں کے زیر ِاثرفروغ پا چکا تھا اسے بدلنا آسان نہیں تھا۔ وہ لوگ تو بچوں کے اسکول داخلے کےہی خلاف تھے جو بچے اسکول پڑھتے تھے وہ بھی اسکول جائیں یا نہ جس دن ٹھاکروں کے گھر سے حکم آجاتا انہیں اپنے امتحانات بھی چھوڑ کے جانا پڑتا۔

اسی لئے تایا چاہتے تھے کہ بچے یہاں کے ٹھاکروں سے ذرا دور لے جا کر تعلیم حاصل کر لیں اگر چہ شہر بھی انہی لو گوں کے تعلقات اکثر آڑے آجاتے تھے پر پھر بھی کم از کم سانس تو اپنی مرضی سے لینے کی فرصت مل جاتی۔ تایا نے تو نازش کے ابا سے بھی کہا تھا کہ چلے اور چھوڑے یہ غلامی پر پتہ نہیں نازش کے ابا کو اپنے پرکھوں کی زمین سے پیار تھا اسی لئے انہوں نے تایا کی زمین بھی اماں کے زیور بیچ کر اور جو تھوڑی جمع پو نجی تھی دے کر اور کچھ آہستہ آہستہ دینے کا وعدہ کرکے رکھ لی تھی نازش بڑی تھی اور پیچھے دو بہن بھائی تھے جو ابھی چھوٹے تھے اور اپنے ہی گاؤں میں چھوٹی کلاسز میں پڑھ رہے تھے نازش کو رحمان کی کمی اس لئے بھی محسوس ہوتی کہ بچپن اکٹھے گذرنے کی وجہ سے دونوں میں کافی انسیت بڑھ چکی تھی وہ بھی جب جی چاہے شہر سے ایک بھی چھٹی آتی تو دوڑا چلا آتا وہ انٹر میں پہنچا تو نازش میٹرک کے امتحان سے فارغ ہو چکی تھی کہ تایا ملنے آئے تو اسے بھی شہر لے آئے کہ فارغ کیوں رہنا ہےادھر اچھے سلائی اسکول ہیں سینا پرونا اچھے سے سیکھ لے گی۔ ابا نے بھی جانے دیا۔ تین مہینے میں رزلٹ آیا تو تایا نے رحمان کو بھیجا کہ نازش کے پاس ہونے کی خبر کرے اور ان سب کو بھی ساتھ لے آئیں رحمان گیا اور یہ خوشی کی خبر سنا چاچا کو بھی ساتھ لے آیا۔ دو دن ادھر ہی ٹھہرے تایا نے بہانے سے نازش کو روک لیا اور منتوں سے بھائی کو منا بھی لیا کہ ادھر کالج ہے ادھر ہی دا خل ہو جائے گی دو نوں میاں بیوی بڑے بھائی کے آگے کیا بولتے سمجھ رہے تھے کہ بھائی تو بھائی ہے بھاوج بھی کیوں اتنا اپنائیت کا اظہار کر رہی ہے خیر وہ اسے چھوڑ کے آ گئے کہ کونسا بیگانہ ہے اپنا سگا تایا ہے کوئی بات نہیں دوسال گزر گئے۔

رحمان نے بی اے کر لیا تو نازش نےایف۔ اے ان دو سالوں میں نازش چند بار ہی گاؤں گئی تھی اور اسے اسی صورتِ حال سے گذرنا پڑا. پتہ نہیں کیسے ٹھاکر کے بیٹے کو پتہ چل گیا وہ عین رستے کی بیچوں بیچ اپنی گاڑی پہ کھڑ اتھا کہا کچھ نہیں بس گاڑی اسکے تانگے کے پیچھے لگادی اور گاؤں کے موڑ تک پیچھے لے کر آیا نازش نے ابا کو کچھ نہیں بتا یا ہاں محتاط ہی رہی حتیٰ کہ جی چاہتے ہوئے بھی کسی سہیلی سے بھی نہ ملنے گئی۔ دو تین بار اس نے دیکھا بھی کہ اب چھوٹا ٹھاکر بہانے بہانے سے انکے گھر کے گرد منڈلاتا بھی ہے. وہ شہر گئی تو اس نے رحمان کو سارا معاملہ بتا دیا- وہ بھی پریشان ہوا پر تایا اور اماں ابا نے مل کر ایک ایسا فیصلہ لے لیا کہ ساری پریشانی خوشی میں بدل گئی ابا تو شادی گاؤں جا کر کرنا چاہتے تھے پر رحمان جانتا تھا کہ چھوٹا ٹھاکر ضرور کوئی مسئلہ کھڑا کرے گا اس لئے بہانے بنا کر ادھر ہی شادی کروالی گھر سے بارات نکلی تو باہر بڑی گلی میں ٹینٹ لگوائے تھے ادھر سے ڈولی اٹھ کر واپس گھر ہی آگئی. سب بخیریت ہو گیا۔ لیکن خیریت تو نہ رہی تب جب. ٹھاکر کے بیٹے تک یہ خبر پہنچی۔ رحمان کی شادی کے ہفتہ بعد وہ بپھرا، غرایا لیکن اپنے چیلوں کے سامنے۔

وہ سب بھی اسے نازش کے ابا کی سازش قرار دے رہے تھے۔ اب مسئلہ تھا کہ نازش میکے کیسے ملنے آئے جس کو بھی پتہ چلا اس نے حیرانگی کا اظہار کیا غریبوں کی یہی تو خوشیاں ہوتی ہیں جن کو وہ مل بانٹ لیتے ہیں لیکن نازش کی شادی سب نے جو منہ میں آیا بولا… کہا… قیاس آرائیاں بھی کیں، لیکن اصل پریشانی تو رحمان کو تھی جو یہ سوچ سوچ کے ھلکان ہو رہا تھا کہ، کہیں ملنے جانے پہ ٹھاکر کوئی بکھیڑا نہ کھڑا کردے۔ بہرحال جانا تو تھا خیر اس نے بھی ایک ترکیب نکالی اچانک شام کو نازش کو لے کر گیا اور صبح ہوتے ہی بہانہ بناکر لےآیا. اسے پتہ تھا کہ ٹھاکر کو علم ہوتے ہی ضرور غصہ آیا ہوگا۔ اس نے اپنے ایک دوست سے بھی کہ دیا تھاکہ ذرا سن گن رکھے۔ لیکن اس نے بتایا کہ بظاہر کوئی خاص واقعہ رو نما نہیں ہوا رحمان مطمئین ہو گیا _ دو سال بہت اچھے اور خوشگوار گذر گئے خدا نے ان کو چاند سے بیٹے بھی نوازا – لیکن لگتا تھا کہ محبت ان کو ہی راس نہیں آئی تھی جس دفتر میں رحمان کام کرتا تھا اس میں اچانک آگ لگ گئی اور اس طرح پھیلی کہ جو دوڑ کر نکل سکتے تھے نکل آئے جو اوپر والے فلور میں تھے ان میں سے دس لوگ بری طرح جھلس گئے ان میں رحمان بھی تھا۔

کتنے گھروں کے کمانے والے کتنی آنکھوں کے تارے جل کر بھسم ہو گئے اور تو اور نازش نے تو ابھی زندگی شروع ہی کی تھی۔ ماں ابا کی جو حالت تھی وہ الگ لیکن تایا اور تائی تو جیسے زندہ درگور ہو گئے تھے عدت پوری ہونے تک وہ وہیں رہی دل و جان سے تایا تائی کی خدمت کی۔ بظاہر تایا تائی بھی پہلے سے نارمل تھے لیکن جب ابا عدت پری ہونے پہ اسے ملنے کے لئے آئے اور اسے ساتھ لے جانے کا پوچھا تو تائی تو آگ بگولہ ہو گئیں انکے سینے میں دفن ساری کدورتیں جاہلیت بن کر باہرآگئیں۔ صاف کہ دیا کہ بچے کو نہیں لے جاسکتی اور چلی جائے ویسے بھی یہ ابھی جوان ہے اسکی کسی دوسری جگہ شادی کر دیں تایا بھی بیوی کا منہ دیکھتے رہ گئے۔ اور نازش تو مانو بدن سے کسی نے جان نچوڑ لی ہو مری ہوئی آواز میں ہاتھ جوڑ کے کھڑی ہوگئی ‘آپ میری ماں ہو مجھے میرے بیٹے سے جدا نہ کریں میں نے کوئی دوسری شادی نہیں کرنی۔ مجھے اپنے بیٹے کے ساتھ اپنے قدموں میں رہنے دیں، لیکن تائی ٹس سے مس نہ ہوئیں اور اسے جاہلوں کی طرح اپنے بیٹے کے لئے منحوس قرار دے دیا۔

وہ حیران رہ گئی ٓ کہ کیا ایک بیوی اپنے خاوند کی موت کی ذمہ دار بھی ہو سکتی ہے۔ اس نے کس طرح جب سے شہر آئی تھی تائی اور تایا کی خدمت کی تھی اس نے مڑ کے اپنے چھوٹے کزنز کی طرف دیکھا کسی نے بھی اس کی حمایت نہ کی تھی۔ جب تایا ہی بیوی کے ظلم پہ نہیں بولا تو پھر کسی سے کیا گلہ ہاں تایا نے اتنا رحم کیا کہ حکم صادر کردیا کہ…،، چلو جب تک دوسری شادی نہیں کرتی بیٹے کو ساتھ رکھ لے لیکن جلدی شادی کرے اور اسے واپس ہمیں سونپ دے۔ اس نے بڑھ کے جلدی سے اپنے بیٹے اپنے رحمان کی نشانی کو گلے سے لگا لیا جودادی گود میں ڈالے ایسے بیٹھیں تھیں جیسے اس س اس کا کوئی رشتہ ہی نہیں تھا۔ ابا اور بھی پریشانی میں اسے ساتھ لیےواپس آگئے- جو بھی ملا ہر کوئی اسکی بھری جوانی میں بیوگی پہ افسردہ تھا پر کیا ہو سکتا تھا _

اس نے سلائی کا ڈپلو مہ لیا تھا ساتھ والے گاؤں کے سکول میں ڈپلومہ لے کر چلی گئی اور وہاں لیڈی انسٹرکٹر کو دکھا یا۔ انہوں نے عارضی طور پہ رکھ لی کہ چلو اگر لڑکیوں کی تعداد بڑھ گئی تو مستقل ورنہ دو مہینے میں چھٹی۔ اس نے منظور کر لیا اور اس طرح اس کا دل بھی بہل گیا اور کام بھی مل گیا بیٹے کو بھی وہ کبھی ساتھ لے آتی اور کبھی اماں کے پاس چھوڑ دیتی۔ اس ساری مصیبت میں وہ بڑی مصیبت ٹھاکر کے بیٹے کو یکسر فرانوش کر بیٹھی تھی۔ اور یہی اسکی سب سے بڑی غلطی تھی اس کا ندازہ اسے ایک دن اسکول سے واپسی پر ہوا گو کہ اس کے ساتھ دو لڑکیاں اور بھی تھیں پر رستے میں پیچھے سے آتی ہوئی گاڑی تیزی سے آگے بڑھی اور کچھ دور جاکر رک گئی گاڑی کے بیک مرر سے اس کا چہرہ دیکھ کر اس کے قدم جیسے زمین میں ہی گڑھ گئے دونوں لڑکیاں بھی کچھ ڈر گئیں وہ بھی تو ان ٹھاکروں سے واقف تھیں۔ لیکن کچھ دیربعد گاڑی کھڑی کر کے اس کے سراپے کا بغور جائزہ لیتا رہا پھر اونچی آواز میں عشقیہ گانے بجاتا ہوا چل دیا۔ نازش کی سانس میں سانس آئی اور پھر تیزی سےگھر آگئی اگلے دودن وہ اسکول بھی نہ گئی لیکن پھر وہاں سے پیغام آگیا انہی دو بچیوں کے ہاتھ،، چل نازش کب تک اس آدم بو، سے ڈرتی رہے گی گاڑی کھڑی کرے یا دوڑائے بس تو درود پڑھ کے چلتی جایا کر، اس نے اپنے آپ کو دلاسہ دیا۔ اور اس نے اس پہ عمل بھی کیا وہ نہ صرف جاتے ہوئے اسکے رستے میں کھڑا تھا بلکہ آتی دفعہ بھی ایسے ہی منتظر تھا اس نے نظر انداز کیا اور آیتیں پڑھتی گذر گئی۔ چھوٹا ٹھاکر بھی قدرے حیران ہوا تھا ‘ اسی لئے اس نے اپنے چیلوں سے رات باہر باغ میں بیٹھے اس بات کا ذکر کر دیا وہ پہلے تو ہنسے مذاق کئے ٹھاکر… اب چھوڑی چیز پہ ہاتھ صاف کرےگا کیا؟

کنواریاں مرگئی ہیں؟ پر جب ٹھاکر نے غصے سے دیکھا اور صرف وہ تو بس وہ،۔ کا نعرہ لگایا تو چپ سے ہو گئے سمجھ گئے کہ ٹھاکر کا دل ابھی بھی وہیں اٹکا ہے، جس دن سے ٹھاکر نے اسے دیکھ لیا تھا اس دن سے زیادہ باغ میں ہی ڈیر ہ ڈال لیا تھا ورنہ جب وہ شہر چلی گئی تھی اور پھر شادی کا سنا تھا تو سارادن گھر میں پڑا رہتا تھا اب تو با قاعدہ پھر سے باغ سے ملحقہ دو کمروں کی رہائش صاف ہوگئی تھی اور رونق رہنے لگی تھی۔ کہتے ہیں ناں یہ دوست ہی بناتے اور یہ دوست ہی ہوتے ہیں جو بگاڑتے بھی ہیں _ انسان اپنی دوستی سے اسی لئے پہچانا جاتا ہے۔ لیکن ان امیرزادوں کے دوست صرف کھانے پینے کے ہوتے ہیں جب ان چیلوں نے دیکھا کہ یہ معا ملہ رفع دفع نہیں ہوگا تو ایک عجیب مشورہ دے دیا پہلے تو چھوٹا ٹھاکر نہیں نہیں کرتا رہ گیا پر ان سب کے سمجھانے پر دل سے بھی مجبور ہوا کہ واقعی ایسا کرنے سے اگر وہ مان جائے تو کیا مضا ئقہ ہے۔ سوچتے ہوئے بھی اس کا دل و دماغ اسکے دل کا ساتھ دے رہے تھے اور پھر یہ دوست بھی تو پیٹھ تھپتھپا رہے تھے… یار تمہارا مقصد کوئی غلط تھوڑی ہے منانا ہی تو ہے۔ خیر اس نے بھی اپنے ضمیر اور دماغ کے آگے ہتھیا ر ڈال دئیے۔ اسکول سے واپس آتی نازش کو ایک دن اکیلا دیکھ کر گاڑی میں ڈال کر باغ والی رہائش پہ لے آیا تھا باہر دوستوں کو ذرا فاصلے پہ رکھوالی پہ بٹھا دیا۔ دوروز سے وہ اسکی منتیں کر رہا تھا اسے اپنی محبت کا یقین دلا دلا کر تھک گیا ادھر گاؤں میں بھی اسکے غائب ہونے کی خبر گرم ہوچکی تھی۔ تیسرا دن ہو گیا وہ اپنی سی ہر ممکن کوشش کر کر کے تنگ آگیا تھا۔

اس نے اسے عزت سے شادی پہ رضامند کرنے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن اسکا انکار ہاں میں نہ بدل سکا۔ اب کیا کرے؟ پھر اسکے چیلوں کا مشورہ مل گیا تھا ؛، کیا؟ وہ ماننے پہ تیار نہیں تھا یہ ٹھیک ہے ٹھاکروں اور برے لوگوں میں یہ کوئی بڑی بات نہ تھی لیکن یہ محبت کامعاملہ تھا وہ اس طرح اپنی ہی نظروں میں گرنا نہیں چاہتا تھا۔ پر چیلوں کے بہکاوے بڑھتے گئے ؛ دیکھ ٹھاکر جب تک چڑیا کے پر نہ کٹیں یہ ایسے ہی تیرے آگے اڑتی رہے گی، اور ساتھ ہی ڈرنک بنا دیا دل و دماغ ویسے ہی منتشر اپنی ناکامی اور اپنی ہتک کا غصہ اور کچھ جلتی پہ تیل اسکے مشیر سب کچھ طے تو نہیں تھا۔ پر اپنی جوانی کے جوش میں چڑیا کے پر کاٹنے چل دیا وہ بہت روئی چیخی چلائی بد دعائیں دیں پر محبت اور جنگ میں سب جائز ہو چکا تھا وہ ناجائز کو جائز سمجھ کر حد پار کر گیا جوانی کے نشے میں محبت کی بے خودی میں اسکی منتیں اورآوازیں بھی اسے منع نہ کر پائیں اور اس نے اڑتی چڑیا کے پر کاٹ دئے تھے۔ اپنی مردانگی کی بندوق سے۔ اور پھر اس طرح میٹھی نیند سویا کہ اپنی فتح کاجشن بھی نہ مناسکا صبح جب آنکھ کھلی تو وہ ڈیرے پہ نہیں تھی۔ دوسرے کمرے میں جھانکا وہ وہاں بھی نہیں تھی۔ بغیر چپل پہنے ہی باہر کو دوڑا اسکے چیلے بھی شاید اسے مشورہ دے کر کہیں روپوش ہو گئے تھے آوازیں دیتے دیتے اس نے پریشانی میں گاڑی نکال لی اور کچے راستے سے دوڑا تا ہوا پکی سڑک پہ آگیا تھا۔ اتنی جلدی کہاں چلی گئی تھی؟ وہ تیزی سے گاڑی دوڑاتا ہوا آ رہا تھا کہ اچانک سڑک پہ ایک دو گاڑیاں کھڑی دیکھیں اور لوگ نکل کے کھڑے کسی پہ جھکے ہوئے تھے شاید کوئی حادثہ ہوا ہے؟

بریک لگا کر جلدی سے اس طرف بڑھا۔ نجانے کیوں دل زور سے دھڑکا تھا۔ ہجوم کو چیرتا ہوا آگے بڑھا۔ کسی نو جوان لڑکی کی لاش تھی اس نے جلدی سے چہرے کی طرف دیکھا اور پھر بدن لرزنے لگا۔ وہ زمین پہ بے سدھ پڑی تھی اس کی لاش اسکی مردانگی کا منہ چڑا رہی تھی۔ اس نے محبت اور جنگ میں ناجائز کو جائز کیا تھا تو وہ کیوں پیچھے رہتی اس نے بھی اپنی جان فرض پہ قربان کردی تھی اور کسی طاقت ور کے آگے فرض کاسر نہیں جھکنے دیا تھا _ اپنے شوہر سے وفاداری کا فرض.، اپنے بیٹے کو ایک عزت دار ماں دینے کا فرض ؛ کیا ٹھاکر صرف اس لئے طاقتور بنائے گئے ہیں کہ وہ اپنے دل اپنے جسم کی خوشی پہ اپنی رعایا کی عزت اور خوشی کو قربان کرتے رہیں انکے حقوق کی پامالی کرتے رہیں۔ کیا وہ طاقت ور اپنے سے کمزور کے حقوق کی ادائیگی پہ ذمہ دار نہیں۔ کیا شریعیت نے امیر پہ غریب کی عزت مال اور جان حرام قرار نہیں دیئے؟ لیکن نہیں یہ دولت کا نشہ ہو تا ہی ایسا ہے کہ انسان فرعون اور دجال کے عہدے پر ترقی پالیتا ہے وہ بھی توا نسان ہی تھے یہ سب کیا ہوا تھا؟ وہ اتنی دلیر اور بہادر کیسے ہو گئی تھی کہ اپنی عزت پہ لگا داغ موت. اپنی موت سے دھو گئی تھی اور وہ کس قدر کمزور تھا آگے بڑھ کر یہ بھی نہیں کہ سکتا تھا کہ وہ اسے جانتا ہے؟

WhatsApp Group Join Now

admin

An online Urdu Magazine for women.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *